پرویز خٹک کی دھمکیاں

(Riaz Aajiz, Karachi)
خیبر پختونخوا کے وزیراعلی پرویز خٹک نے اتوار کو ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیں باغی بننے پرمجبور نہ کرے اگر ہم باغی بن گئے تو پاکستان کو تہس نہس کر دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے ورنہ ہم کوئی اور ہی نعرہ نہ لگا دیں۔پرویز خٹک نے مزید کہا کہ اگر ہم باغی بن گئے تو پھر ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ پٹھانوں کو نہ چھیڑا جائے ورنہ صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی۔ میں ان جملوں کی تشریح نہیں کرنا چاہتا کہ پاکستان کو تہس نہس کرنے کا کیا مطلب ہے یا کوئی اور نعرہ لگانے کا کیا مقصد ہے۔ اس کی تشریح پاکستان کے مقتدر حلقوں کو خود کرنی چاہیے۔ حیران کن بات ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلی ملک کی سالمیت کو کھلا چیلنج کر رہاہے ۔وہ کہہ رہا ہے کہ اگر پٹھان باغی بن گیا تو پاکستان کو تہس نہس کر دے گا۔ دو سال قبل شیخ رشید دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو آگ لگانے کی بات کرچکے ہیں۔خود عمران خان اسی دھرنے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ہنڈی حوالہ کے ذریعے پیسے بھیجنے کی اپیل کر چلے ہیں اور پاکستان کی فوج کے خلاف نہایت نا زیبا زبان استعمال کر چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین ایم کیو ایم کے کارکنوں پر مظالم روکنے کے لئے بھارت کی خفیہ ایجنسی را سمیت اسرائیل اور روسی خفیہ ایجنسی موساد سے مدد مانگ چکے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگا چکے ہیں جسے بعد میں آصف علی زرداری کو صدارت کی یقین دھانیاں کروا کے پاکستان کھپے کے نعرے میں تبدیل کیا گیا۔ بلوچستان میں پاکستان کے خلاف پہلے ہی ایک طویل عرصے سے بڑی بڑی سازشیں جاری ہیں اور آج بھی بلوچ رہنماؤں کی قابل ذکر تعداد بلوچستان کو پاکستان سے آزاد کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ خود میاں محمد نواز شریف نے نوے کی دھائی میں جاگ پنجابی پنجابی جاگ تیری پگ نو لگ گیا داغ کا نعرہ لگایا۔ عوامی نیشنل پارٹی پر بھی پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کرنے کا الزام ہے جبکہ اس سے قبل نیپ پر بھی اسی قسم کا الزام تھا۔ گویا تقریبا ً تمام ہی بڑے سیاستدانوں نے اپنے اپنے وقت پر پاکستان کو کمزور کرنے اور وفاقی وحدت کے خلاف بات کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کی وحدت کے خلاف نواز شریف یعنی مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کے رہنما، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ، بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی محمود اچکزئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما، سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کرتی رہی ہیں تو پھر اس جرم کی سب سے بڑی سزا ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین ہی کو کیوں دی جارہی ہے۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما ؤں کا یہ حال ہے کہ جب تک انھیں پاکستان سے مفادات حاصل ہو رہے ہوتے ہیں او ر وہ حکمرانی کے مزے لوٹتے رہتے ہیں بس اس وقت تک انھیں پاکستان میں سب کچھ اچھا لگتا ہے لیکن جب ان پر کوئی مشکل وقت آتا ہے یا ان سے اقتدار چھین لیا جاتا ہے یا ان کی مرضی کے خلاف پالیسیاں اپنائی جانے لگتی ہیں تو پھر یہ پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ باغی بننے کا اعلان کرنے لگتے ہیں۔ یہ آئین پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف تقریریں شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دنیا کے کس ملک میں ہوتا ہے۔ کہاں ایسا کیا جاتا ہے کہ کوئی ملک سیاسی رہنماؤں کے لئے اس وقت تک اپنا ہوتا ہے کہ جب تک ان کی مرضی کے معاملات چلتے رہتے ہیں اور جہاں ان کی مرضی و منشا کے خلاف بات ہوتی ہے تو یہ اس ملک کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں فوجی راج قائم ہوا تو فوجی حکمرانوں نے بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے ایسے سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا کہ پاکستان کی سالمیت اور وحدت کے خلاف اپنے عزائم دکھا چکے ہیں۔ گویا ہمارے ملک میں سب ہی اپنی اپنی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ کیا یہ درست طرز عمل اور طرز سیاست ہے۔ کیا اب یہ طے نہیں ہو جانا چاہیے کہ جو بھی پاکستان کے خلاف بات کرے یا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی دھمکی دے اس کے خلاف بلاامتیاز سخت ترین قانونی کارروائی ہو اور اسے عوام اور ملک کے مقتدر حلقے ہمیشہ کے لئے مسترد کر دیں۔ اب پاکستان کے عوام اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کو یہ طے کر لینا چاہیے کہ انھیں پاکستان کو کہاں لے جانا ہے اور اگر یہ سب کچھ نہیں کیا جا سکتا تو پھر صرف الطاف حسین کو سنگل آوٹ کر کے پاکستان مخالف نعرہ لگانے کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ پھر الطاف حسین کو بھی دوسروں طرح معافی دے کر پاکستان میں ایک مرتبہ پھر بھر پور سیاست کرنے کی اجازت ملی چاہئیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے