ہمارا جسم اور اسلام

(Shahid Raza, )
’’اور تم اﷲ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘اﷲ نے تمہیں دیکھنے کو آنکھیں دیں سننے کو کان دئیے ،بولنے کو زبان دی،چلنے کوپاؤں دئیے ،اور ناشکرا ہے وہ انسان جو اﷲ کا شکر ادا نہیں کرتا اُس خدا کی عبادت نہیں کرتا جو واقعاً لائق عبادت ہے ،آپ دن رات نہ جانے کیا کیا سوچتے ہیں کبھی کسی کو پیسے دینے کے بارے میں کبھی کسی سے پیسے لینے کے بارے میں ،کبھی کسی نا محرم لڑکی کے بارے میں ،کبھی اپنے بیوی بچوں کے بارے میں،کبھی اپنی دولت و شہرت کے بارے میں کبھی اپنے لئے بہترین محل کھڑا کرنے کے بارے میں اے کاش کبھی یہ بھی سوچیں کے اﷲ کے پاس جانا ہے زندگی مختصر ہے یہ جو نعمتیں اﷲ نے ہمیں دیں ہیں وہ اس قابل ہیں کے اﷲ اور رسول ؐ کی خدمت میں جا کر سر خرو ہو سکیں یہ آنکھ اس قابل ہے کہیں اس سے ہم نے نا محرم کو تو نہیں دیکھا،یہ کان اس قابل ہیں کہیں ہم نے اس سے گانے تو نہیں سنے،یہ ہاتھ اس قابل ہیں کہیں ہم نے ان ہاتھوں سے کسی مومن کو تکلیف تو نہیں دی یہ قدم اس قابل ہیں کہیں ہم نے ان قدموں کودنیا میں حرام راہ پر تو نہیں لگایا انسان سوچے ،اگر انسان کو اپنی آنکھ،کان،زبان،قدم کہیں بھی کوئی ایسا فعل نظر آئے تو ابھی وقت ہے خدا رحمن اور رحیم ہے خدا سے معافی مانگ لیں بے شک اﷲ معاف کر دے گا کہیں یہ نہ ہو موت جیت جائے اور آپ ہار جائیں ،اور اگر کہیں ایسا ہو گیا تو خدا کو کیا منہ دکھائیں گے کس زبان سے اﷲ سے کلام کریں گے،کس ہاتھ سے رسول ؐ کو سلام کریں گے،کس آنکھ سے رسول ؐ کی زیارت کریں گے ،کن قدموں سے اﷲ کی جانب جائیں گے ،فکریں انسان بہت کرتا ہے لیکن کبھی اس طرح نہیں سوچتا ،خدارا اﷲ کو پہچانیں جس نے زمین کا فرش آپ کے لئے بچھایا،آسمان کا شامیانہ آپ کے لئے لگایا،دریا کی سبیلیں آپ کے لئے لگائی گئیں،کشتی بنائی تا کہ آپ سفر کر سکیں ،درخت بنائے تا کہ آپ تازہ ہوا لے سکیں،سورج بنایا تا کے آپ زندہ رہ سکیں،چاند بنایا تا کے رات کے اندھیرے میں آپ کہیں گر نہ جائیں،جانور بنائے تا کہ آپ کو فائدہ ہو،علم جیسی نعمت دی،۱۲۴۰۰۰ نبی بھیجے تا کہ آپ گمراہ نہ ہوں اور جنت میں جا سکیں،رسول ؐ جیسے نبی بھیجے تا کے آپ کردار ِرسول ؐ کو اپنا کر کامیاب ہو سکیں اﷲ جو آپ کے لئے کر سکتا تھا کیا اب آپ کی باری ہے اﷲ کی ان نعمتوں کا جواب کس انداز میں دینا ہے ،رشوت کھا کر دینا ہے،چوری کر کے دینا ہے،فراڈ کر کے دینا ہے،اپنے بینک بیلنس بھر کر دینا ہے،دوسروں کا مال اپنا مال سمجھ کر دینا ہے،دوسروں کی اولاد کو قتل کر کے دینا ہے،نمازیوں کو مسجد میں شہید کر کے دینا ہے،مجالس و جلوس میں دہشت پھیلا کر دینا ہے ،جھوٹ بول کر دینا ہے،امانت میں خیانت کر کے دینا ہے ،کرسی کی خاطر معصوم شہریوں کی جان لے کر دینا ہے ،عوام کو بیوقوف بنا کر دینا ہے یا ایک نیک اور اچھے انسان کی طرح اﷲ کی نعمتوں کا جواب صبر و شکر کے ساتھ دینا ہے،اپنے مال کو غریبوں پر خرچ کر کے دینا ہے،مسلمان بھائی کے کام آ کر دینا ہے،اب سوچ لیں کون سا راستہ اپنانا ہے زندگی بہت مختصر ہے موت کے بعد ہمیشہ اﷲ کے پاس ہی رہنا ہے دنیا میں جتنا بھی مال کما لو جاتے وقت تو ۲ گز کی زمین ہو گی ایک کفن ہو گا جس میں جیب بھی نہیں ہوتی کے اپنا مال ساتھ لے جاؤ،اور ایک نامہ اعمال ہو گا باقی سب تو تم دوسروں کے لئے دنیا میں چھوڑ کر چلے جاؤ گے اب پتا نہیں آپ کے مرنے کے بعد کوئی آپ کو یاد رکھے یا نہ رکھے اس لئے جو کرنا ہے آپ کو کرنا ہے جو سوچنا ہے آپ کو سوچنا ہے اب آپ فیصلہ کریں کے کون سا راستہ آپ کی نظر میں صحیح ہے اور کون سا غلط۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 152014 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2016 Views: 654

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ