جادو جنات اور علاج قسط نمبر23A

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
سحر اَمراض
علامات:
1۔ کسی ایک عضو میں دائمی درد
2۔ مرگی کا دورہ
3۔ اعضائے جسم میں سے کسی ایک عضو کا بے حرکت ہو جانا
4۔ پورے جسم کا بے حرکت ہو جانا
5۔ حواسِ خمسہ میں سے کسی ایک کا بے عمل ہو جانا
یہاں ایک تنبیہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ علامات چند جسمانی بیماریوں کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ جادو اور جسمانی بیماری میں فرق اس طرح ہو گا کہ مریض پر دم کر کے دیکھیں، اگر دورانِ قراءت اس کے جسم میں کوئی تبدیلی رونما ہو مثلاً سر چکرانا، سردرد، ہاتھ پاؤں کا سن ہو جانا یا کانپنا، تو یقینی طور پر اس پر جادو کا اثر ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو اسے جسمانی بیماری ہے، جس کے علاج کےلئے اسے ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہئے۔
سحرِ امراض کیسے ہو جاتا ہے؟
یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ دماغ جسم کا حکمران ہوتا ہے، چنانچہ انسان کے حواس میں سے ہر ایک کا دماغ میں ایک مرکز ہوتا ہے جہاں سے اسے تعلیمات ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنی انگلی آگ کے قریب کریں تو فوری طور پر انگلی دماغ میں اپنے مرکز اِحساس کو سگنل دے گی، پھر یہ مرکز اسے حکم دے گا کہ فوراً آگ سے دور ہو جاؤ کیونکہ اس کا قرب خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تو وہ انگلی اپنے حکمران کے مطابق فوراً آگ سے دور ہو جاتی ہے، اور یہ سب کچھ لمحہ بھر کے اندر مکمل ہو جاتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
﴿ ھٰذَا خَلْقُ اللہِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِہٖ ﴾ (لقمان:11)
“یہ اللہ کی مخلوق ہے، سو مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے علاوہ دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟”
جادوگر نے جب کسی انسان پر “سحر امراض” کرنا ہوتا ہے تو جن اس کے دماغ کے اُس مرکز پر مورچہ بند ہو جاتا ہے جس کی ڈیوٹی جادوگر لگاتا ہے، مثلاً کان کا مرکزِ احساس، یا آنکھ یا ہاتھ پاؤں کا مرکزِ احساس، اس کے بعد اُس کی عضو کی تین حالتوں میں سے ایک حالت رونما ہو سکتی ہے:
1۔ جن یا تو عضو اور اس کے مرکزِ احساس کے درمیان سگنل کا تبادلہ (اللہ کی قدرت سے) روک دیتا ہے، جس سے وہ عضو بے عمل ہوجاتا ہےاور مریض بہرہ یا اندھا یا گونگا ہو جاتا ہے، یا عضو بے حرکت ہوجاتا ہے۔
2۔ یا وہ کبھی سگنل کے تبادلے کو روک لیتا ہے (اللہ کی قدرت سے) اور کبھی چھوڑ دیتا ہے، جس سے وہ عضو کبھی بے عمل ہوجاتا ہے اور کبھی کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔
3۔ یا جن عضو اور اس کے مرکز احساس کے درمیان بغیر اسباب کے لگاتار اور انتہائی تیز سگنلز کا تبادلہ کرتا ہے، جس سے وہ عضو سخت بن جاتا ہے، اور اگر مکمل طور پر بےکار نہیں ہوجاتا تو کم از کم بے حرکت ضرور ہوجاتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿ وَمَا ھُمْ بِضَارِّينَ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّہِ ﴾ (البقرۃ:102)
“اور وہ کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر نقصان نہیں پہنچاسکتے۔”
اس آیت سے ثابت ہوا کہ جادوگر اللہ کے حکم سے نقصان پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ بہت سارے ڈاکٹرز پہلے اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے تھے لیکن انہوں نے جب اپنی آنکھوں سے چند کیس دیکھے تو اسے تسلیم کرنے کے علاوہ ان کےلئے اور چارہ کار نہ تھا۔
میرے پاس ایک داکٹر آیا اور آتے ہی کہنے لگا:
“میں ایک ایسے معاملے کی وجہ سے آیا ہوں جس نے مجھے دہشت زدہ کر دیا ہے”
میں نے کہا: خیر تو ہے، کیا ہوا؟
اس نے کہا: میرے پاس ایک آدمی اپنے فالج زدہ بیٹے کو لے کر آیا جو حرکت کرنے کے قابل نہیں تھا، میں نے اس کا معائنہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کی پیٹھ کی ہڈیوں میں ایسی بیماری ہے جس کا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں، نہ آپریشن سے نہ کسی اور طریقے سے، چند ہفتے گزرنے کے بعد وہ آدمی دوبارہ میرےپاس آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے فالج زدہ بیٹے کا کیا حال ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اب وہ ٹھیک ہے، بیٹھ بھی سکتا ہے اور چل بھی لیتا ہے، میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے اس کا علاج کس کے پاس کیا؟ تو اس نے بتایا کی وحید (صاحبِ کتاب) کے پاس، چنانچہ میں آپ کے پاس یہ جاننے کےلئے آیا ہوں کہ آپ نے اس بچے کا علاج کس طرح سے کیا؟
میں نے اسے بتایا کہ اس پر میں نے قرآنی آیات پڑھی تھیں، اور کلونجی کے تیل پر دم کر کے دیا تھا جسے فالج زدہ اعضاء پر ملنا تھا، اس کے بعد الحمدللہ وہ شفایاب ہو گیا۔
سحرِ اَمراض کا علاج
1۔ اس پر 'سحر تفریق' والا دم کریں، اگر اسے مرگی کا دورہ شروع ہو جائے تو بیان کئے گئے طریقے سے اس جن کے ساتھ نمٹیں۔
2۔ اگر مرگی کا دورہ شروع نہ ہو اور اس میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوں تو اسے مندرجہ ذیل تعلیمات دیں:
٭ ایک کیسٹ میں درج ذیل سورتیں ریکارڈ کر کے مریض کو دے دیں جسے وہ روزانہ تین بار سنے: الفاتحہ، آیت الکرسی، الدخان، الجن، قصار السور (آخری پارے کی چھوٹی سورتیں معوذات سمیت)
٭ درج ذیل دم کلونجی کے تیل پر کریں جسے وہ صبح و شام اپنی پیشانی اور متاثرہ عضو پر ملتا رہے : الفاتحہ، المعوذات اور یہ آیت:
﴿ وَنُنَزِّ لُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَاءٌ وَّ رَھْمَۃٌ لِّلْمُؤْ مِنِیْنَ ﴾
“اور ہم قرآن میں وہ کچھ نازل فرماتے ہیں جو مؤ منوں کےلئے رحمت اور شفا ہے”؎
نیز یہ دعا :
﴿ بِسْمِ اللہِ اَرَقِیْکَ وَللہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُؤْ ذِیْکَ، وَمِنْ کُلِّ نَفْسٍ،
اَوْ عَیْنٍ حَا سِدٍ اللہُ یشْفِیْکَ ﴾
“میں اللہ کے نام سے تجھے دَم کرتا ہوں اور اللہ تجھے ہر تکلیف دِہ بیماری اور ہر روحِ بد یا
حسد کرنے والی آنکھ کی برائی سے شفا دے گا۔”
اسی طرح یہ دعا:
﴿ اللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْھِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ
لاَ شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا﴾
“اے اللہ! تو لوگوں کا پروردگار ہے، تکلیف دور فرما اور شفا بخش کیونکہ تو شفا بخشنے والا ہے۔ تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو جڑ سے اکھاڑ دے۔”
مریض ان تعلیمات پر ساٹھ دن تک مسلسل عمل کرتا رہے، اگر مرض ختم ہو جائے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ اس پر دم کریں اور کلونجی کے تیل پر دم کر کے دیں۔
سحر امراض کے علاج کے عملی نمونے
پہلا نمونہ: ایک خاتون کو اس کا باپ اور بھائی میرے پاس لے کر آئے، وہ خاموش تھی، بات نہیں کر سکتی تھی، بلکہ منہ بھی نہیں کھول سکتی تھی حتٰی کہ کھانے کےلئے بھی، الا یہ کہ وہ اس کا منہ زبردستی کھول دیں اور اسے جوس اور دودھ وغیرہ پلا دیں، اس کی یہ حالت 35 دن سے اس طرح تھی، میں نے اس پر دم کیا تو بولنے لگ گئی۔ الحمدللہ
دوسرا نمونہ: ایک خاتون نے بتایا کہ اسے ٹانگ میں شدید درد محسوس ہوتا ہے، میں نے کہا: شاید اسے کوئی جسمانی بیماری ہو گی، لیکن چونکہ وہ بمشکل چل سکتی تھی، اس لئے میں نے اس پر دم کرنا شروع کیا۔ ابھی اس نے سورۂ فاتحہ کو ہی سنا تھا کہ اس پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور اس کی زبان سے جن بولنے لگ گیا، اس نے بتایا کہ وہی ہے جس نے اس کی ٹانگ پکڑ رکھی ہے، سو میں نے اسے نکل جانے کا حکم دیا، وہ نکل کیا تو عورت اپنے فطری انداز سے چلنے کے قابل ہو گئی۔ والحمد للہ ربّ العالمین
تیسرا نمونہ: ایک شخص میرے پاس آیا جس کا منہ دائیں طرف واضح طور پر مڑا ہوا تھا، میں نے اس پر دم کیا تو اس کی زبان پر جن بولنے لگا، اس نے کہا کہ اس شخص نے مجھے ایذا پہنچائی تھی، میں نے جن کو سمجھایا کہ یقیناً اس نے تمہیں نہیں دیکھا ہوگا، اور تم پر یہ بات حرام ہے کہ تم کسی مسلمان کو ایذا پہنچاؤ، جن نے میری بات مان لی اور اس سے نکل گیا، جس کے بعد اس کا منہ بالکل سیدھا ہو گیا۔ الحمد للہ
چوتھا نمونہ: میرے پاس ایک لڑکی کا والد آیا اور اس نے اپنی بیٹی کی حالت یوں بیان کی: میری بیٹی ایک اندوہناک حادثے سے دوچار ہو گئی ہے اور دو ماہ سے بےہوش پڑی ہے، اب سن تو لیتی ہے مگر بول نہیں سکتی، اس کے جسم کا کوئی حصہ حرکت نہیں کرتا، اور کچھ کھا بھی نہیں سکتی، اور اس وقت اَبھا شہر کے عَسیر ہسپتال میں پڑی ہے جہاں ڈاکٹروں نے اسے نیند آور گولیاں کھلا کر سلا دیا ہے، اور ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے سارے ٹیسٹ بالکل درست ہیں، اور انہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اسے کیا ہوا ہے؟ البتہ انہوں نے اس کے نرخرے میں ایک سوراخ کر دیا ہے تاکہ وہ سانس لے سکے، اور ناک سے ایک پائپ داخل کر دیا ہے تاکہ اسے غذا دی جاسکے، وہ اپنی زندگی کے باقی ایام اسی حالت میں اور اسی چارپائی پر گزار دے گی۔
میں نے اس لڑکی کا قصہ سنا، اور اگر شیخ سعید بن مِسفر قحطانی حفظاللہ کی خصوصی سفارش نہ ہوتی تو میں اس کا علاج کرنے کےلئے خود چل کے اس کے پاس نہ جاتا کیونکہ یہ میری عادت نہیں۔ سو مجھے مجبوراً جانا پڑا، ہسپتال سے خصوصی طور پر میرے لئے اجازت نامہ لیا گیا کہ میں ملاقات کے اوقات کے علاوہ دوسرے وقت میں جا کر مریضہ کا علاج کر سکوں۔میں گیا تو واقعتاً اس کی حالت وہی تھی جو اس کے والد نے بیان کی تھی، انتہائی کمزور ہو چکی تھی البتہ بولتی نہیں تھی۔ میں نے اس سے جادو کی کچھ علامات کے متعلق سوال کیا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا اور مجھے کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ اسے کیا ہے۔ اس دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ چنانچہ میں نے نماز میں اس کےلئے دعا کی، پھر واپس لوٹے اور سورۃ الفلق کو اس پر پڑھا، نیز یہ دعا بھی پڑھی:
﴿ اللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْھِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ
لاَ شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا﴾
وہ لڑکی اللہ کے فضل و کرم سے بولنے لگ گئی، اس کا باپ اور بھائی خوشی کے مارے رونے لگ گئے۔ اور اس کا باپ میرے سر کا بوسہ لینے کےلئے اٹھا، میں نے اسے سمجھایا کہ کسی شخص کے متعلق یہ عقیدہ نہ رکھو کہ وہ شفا دے سکتا ہے کیونکہ شفا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اسی نے یہ لکھ رکھا تھا کہ تمہاری بیٹی کو میرے ہاتھوں اور اس گھڑی میں شفا نصیب ہو گی، لہٰذا اللہ کا شکر ادا کرو !!
اس لڑکی نے اللہ کا شکرادا کیا اور کہنے لگی: اب میں ہسپتال سے جانا چاہتی ہوں۔ اس کے بعد ایک مدت گزر گئی، پھر اس کا بھائی آیا اور اس نے خوشخبری دی کہ اب وہ لڑکی خیریت سے ہے اور وہ مجھے دعوت دینے آیا ہے،میں نے اس خدشہ کی بنا پر اس سے انکار کر دیا کہ کہیں یہ دعوت میرا معاوضہ نہ بن جائے۔
پانچواں نمونہ: ایک نوجوان مرض کی حالت میں میرے پاس آیا، میں نے اس پر قرآن مجید کو پڑھا تو اس کی زبان پر جن بولنے لگ گیا، اس نے بتایا کہ فلاں جادوگر نے اس نوجوان پر جادو کرنے کےلئے میری ڈیوٹی لگائی ہے اور اس پر جو جادو کیا گیا ہے وہ اس کے گھر کی دہلیز میں پڑا ہوا ہے۔ میں نے اسے اس سے نکل جانے کا حکم دیا تو وہ نکل گیا، پھر اس کے گھر والے گھر میں گئے اور گھر کی دہلیز کو کھودا تو واقعتاً وہاں پر کچھ کاغذات ملے جن پر کچھ حروف لکھے ہوئے تھے، انہوں نے وہ کاغذات پانی میں بھگو دیئے، جس سے اس پر کیا گیا جادو ٹوٹ گیا۔
جاری ہے.....
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 22301 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ