گل سُن ڈھولنا۔

(Ajmal Malik, faisalabad)
ہم سماجی اور اخلاقی بندشوں کے معاشرے میں زندہ ہیں۔اسی لئے محبت چھپ کرکی جاتی ہے۔یہاں محبت آف شور کمپنی کی طرح ناجائز اثاثہ ہے۔ محبوب کو اسیر بنا کر رکھا جاتا ہے۔یہاں عاشقوں کو دیکھ کر معاشرہ اجتماعی بدہضمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن یورپی معاشرےکوقبض ہو چکی ہے۔ مرید تو کہتا ہے کہ یورپ میں تو اپنے محبوب سے شادی کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے وہاں شادی ہمیشہ دوسرے کے محبوب سے ہوتی ہے۔ بلکہ یورپی تو اس قدر آگے ہیں۔کہ ہم بچوں کے بعد طلاق کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ بچوں کے بعد شادی کا فیصلہ کر تے ہیں‘‘۔

حمیرا ارشد اور احمد بٹ کی ایک فائل فوٹو

ہمارے ہاں تفریح کے مواقعے کم ہیں۔ اسی لئے بچوں کی پیدائش کی شرح زیادہ ہے۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تفریح کے محدودمواقعوں کی وجہ سے ۔ اکثر ازدواجی لڑائیاں صلح پر ختم ہوتی ہیں۔یوں بچوں کی پیدائش کی شرح بڑھ جاتی ہے۔مرد شادی اس لئے کرتا ہے کیونکہ گھرپہنچتے ہی تنہائی کاٹ کھاتی ہے اور شادی کے بعد یہی کام بیوی بھی کرنے لگتی ہے۔شادی کے ابتدائی دنوں میں جو شوہر بھاگم بھاگ بیوی کی ہر فرمائش پوری کرتے ہیں ۔ وہ جلد ہی فرمائش سن کر بھاگنے لگتے ہیں۔یوں لڑائی وٹ پر پڑی ہوتی ہے۔ لیکن میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ میاں بیوی جتنے زیادہ لڑاکے ہوں گے ان کے بچے اتنے ہی زیادہ ہوں گے کیونکہ وہاں صلح کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ازدواجی لڑائیوں کی صلح آئندہ کئی مہینوں کے لئے ’’سیز فائر ‘‘کو جنم دیتی ہے۔ اوربچے خانگی جنگوں میں سب سے بڑی ڈھال بن جاتے ہیں۔
جج :طلاق کی صورت میں جائیداد اورگھر کا سارا سامان آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔بچے تین ہیں ان کا فیصلہ آپ خود کر لیں۔
خاتون :’’منے کے ابا گھر چلو ہم اگلے سال آ ئیں گے‘‘۔
بچوں نے ایک سال کے لئے طلاق موخر کروا دی تھی۔بلکہ یہ لڑائی اُس صلح میں بدل گئی تھی۔ جس کا جشن تفریح کے محدود مواقعے کی وجہ سے منایا جا تا ہے۔بچے لڑائی میں ڈھال بن گئے تھے۔’’کم بچے خوشحال گھرانہ‘‘ کا دعوی سچاثابت ہو چکا تھا۔وہ دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے تھے۔حالانکہ میاں بیوی ایک دوسر ے سے عمران خان ۔اور نواز شریف جتنی نفرت کرتے ہیں۔ اچانک وہ ایک دوسرے کو ویسے ہی چاہنے لگے جیسے عمران خان ۔نواز شریف کا استعفی چاہتے ہیں۔لیکن شیخ مرید کہتا ہے کہ میاں بیوی میں اگلے سال بھی طلاق کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔ کیونکہ اگلے سال ان کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہونے کا امکان ہے ۔وہ تو کہتا ہے طلاق سے بچنا ہے تو بچےجفت کے بجائے تعداد میں طاق ہونے چاہیں۔ معروف گلوکارہ حمیرا ارشد اور ایکٹر احمدبٹ کی شادی بھی اسی لئے بچ گئی ہے-

شوبز کے ان ستاروں کا ملن 2004 میں ہوا ۔حمیرا ارشد نے ایک بار کہا تھا کہ وہ اپنے لباس ، کھانے اور فٹنس پر کافی توجہ دیتی ہیں ۔ اسی لئے ماں بننے کے باوجود بھی پر کشش نظر آتی ہیں۔مرید کہتا ہے کہ یہ سچ ہے اسی لئے لوگ حمیرا ارشد کے گانے سننے کے بجائے دیکھتے زیادہ ہیں۔ حمیرا ۔ اور احمد12 برس تک رشتہ ازدواج سے منسلک رہے ۔علی ان کی اکلوتی اولاد ہے۔ اچانک ایک روز خبر آئی کہ دونوں میں اختلافات ہو گئے ہیں۔میڈیا نے ان اختلافات کو تقریبا’’ آف شور کمپنی‘‘جتنا بھڑکایا۔بات آپ سے اوئے تک جا پہنچی تھی۔ نجی چینلز الزامات بھری نجی زندگی کو لائیونشر کر رہے تھے۔
شوہر دفتر سے اچانک گھر آگیا تو دیکھا بیوی کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھی ہے
بیوی: آج آپ جلدی گھر کیسے آگئے ۔؟
شوہر:تم بتاؤ۔یہ کون ہے۔ ؟
بیوی:ٹاپک بدلنے کی کوشش مت کرو ۔
احمد بٹ اور حمیرا ارشد نے میڈیا کے سامنےایک دوسرے پر ’’ٹاپک بدلنے والے‘‘ الزامات لگائے تھے۔نوبت طلاق تک اور معاملہ عدالت تک چلا گیا ۔احمد بٹ نے کہا ’’ حمیرا منشیات استعمال کرتی ہیں۔ گھر میں شراب اور سگریٹ نوشی کی بہتات ہے۔اس نے شراب نوشی ترک کرنے کا حلف دیا تھا مگر مکر گئی‘‘۔اور حمیرا ارشد نےجواب دیا کہ ’’ یہ جھوٹ ہے وہ 12برس چپ کیوں رہا۔احمد کو کئی بار پیسے دئیے۔ بیوی ہونے کے باوجود مجھے بلیک میل کیا گیا۔ڈرتی تھی کہ دنیا میں تماشہ نہ بن جاؤں‘‘۔پھر دوسری خبر آئی کہ سٹار جوڑی ٹوٹ گئی۔ ستارے دم دار ستاروں کی طرح دم دبا کر نکل بھاگے تھے ۔علی کی حوالگی دونوں کے مابین رابطے کا اکلوتا ذریعہ تھی۔

حمیرا اور احمد نے محبت کی شادی کی ہے۔لو میرج پہلی نظر میں ہونے والے پیار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ہم سماجی اور اخلاقی بندشوں کے معاشرے میں زندہ ہیں۔اسی لئے محبت چھپ کرکی جاتی ہے۔یہاں محبت آف شور کمپنی کی طرح ناجائز اثاثہ ہے۔ محبوب کو اسیر بنا کر رکھا جاتا ہے۔یہاں عاشقوں کو دیکھ کر معاشرہ اجتماعی بدہضمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن یورپی معاشرےکوقبض ہو چکی ہے۔اب وہاں پہلی نظر کاپیار بے معنی ہو چکا ہے۔ عاشق ظاہری حسن سے زیادہ پوشیدہ اوصاف دیکھ شادی کرتے ہیں۔ مرید تو کہتا ہے کہ یورپ میں تو اپنے محبوب سے شادی کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے وہاں شادی ہمیشہ دوسرے کے محبوب سے ہوتی ہے۔ بلکہ یورپی تو اس قدر آگے ہیں۔کہ ہم بچوں کے بعد طلاق کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ بچوں کے بعد شادی کا فیصلہ کر تے ہیں‘‘۔

پہلی نظر میں پیار کا محاورہ ہم نے کئی بار سنا ۔ لیکن پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شخص نے پہلی ہی نظر میں بیوی کو طلاق دے دی ۔ شادی کی تقریب کے دوران ہی دولہے نے گھونگھٹ اٹھایا اورپہلی نظر میں طلاق دے دی اور کہا کہ ’’یہ وہ خاتون نہیں ہے جس کی مجھے تلاش تھی‘‘۔تلاش انسان کو کھجل کرچھوڑتی ہے۔ لیکن عمران خان آج کل تلاش کے بجائے’’تلاشی‘‘ کے لئے اصرار کر رہے ہیں۔ انہوں نے تلاشی لینے کے لئےدس لاکھ لوگ اسلام آباد بلائے تھے۔سب سے بڑی رسد پٹھانوں سےآنے کا امکان تھا۔ لیکن پولیس نے شیلنگ کرکے پٹھان واپس بھجوا دئیے ۔جس پر را نا ثناا للہ کا کہنا تھا کہ ’’آج پٹھا نوں کو پنجاب سے سیا سی طلاق ہو گئی ہے‘‘۔

حمیرا ارشد اور احمد بٹ کے طلاق بھی سیاسی ثابت ہو ئی۔ اچانک احمد بٹ بولے کہ ہمارے اختلافات ختم ہو گئے ہیں بچے کی خاطر ہم نے پکی صلح کر لی ہے۔اب میں قیامت تک حمیرا کا شوہر رہوں گا۔ طلاق دینے پر شرمندہ ہوں اور حمیرا سے معافی مانگتا ہوں۔صلح میں سٹیج پروڈیوسر سخی سرور بٹ نے اہم کردار ادا کیا۔مرید کہتاہے کہ صلح ہوجانا اچھی بات ہے لیکن یہ دل کا نہیں دین کا معاملہ ہے۔

جج طلاق کا فیصلہ سناتے ہوئے:’’چھوٹے بچے‘‘ کی کفالت تم کروگے ۔ بیوی کو ماہانہ 25ہزار روپےدو گے۔اور وہ اپنازیور ۔و جہیزلے جانے کی مجاز بھی ہے۔
شوہر: جناب والا !سارے اخراجات میرے ذمے ہیں تو پھر طلاق کا فائدہ۔ میں مقدمہ واپس لیتا ہوں۔

بچپن میں ہم نے اکثر بادشاہ ملکہ ، جن اور پری کی ایسی کہانیاں پڑھی ہیں۔جن کا انجام اس جملے سے ہوتا تھا ۔’’پھر وہ ہنسی خوشی رہنے لگے‘‘۔ مجھے یاد ہے۔ ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اور بے اولاد بھی ہوتا تھا۔ پھر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا۔سلطنت میں کئی روز جشن ہوتا ۔شہزاد ے کانام گلفام رکھا جاتا۔ گلفام کو کسی پری سے عشق ہوجاتا ۔ پری کسی جن کے جادوئی اثر میں ہوتی ۔ جن کی جان ایک طوطے میں ہوتی۔ طوطا ایک پنجرے میں ہوتا ۔ پنجرہ کوہ قاف میں ہوتا ۔ گلفام وہاں اڑن قالین پر بیٹھ کر پہنچتا ۔ چابی ڈھونڈھتا۔تالہ کھول کر طوطے کی گردن مروڑتا ۔ جن مر جاتا تھا۔یوں حمیرا ارشد اور اسد بٹ ہنسی خوشی رہنے لگے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 76 Articles with 51601 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2016 Views: 771

Comments

آپ کی رائے