سفارتکاروں کے روپ میں جاسوس…… بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

(عابد محمود عزام, Lahore)
بھارت کی جانب سے کی جانے والی پاکستان مخالف سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ بھارت نے کبھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے لے کر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی و بدامنی کو فروغ دینے تک بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ بھارت نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں اپنے ایجنٹوں کی مدد سے قتل و گارت گری اور بم، دھماکے کروا کر ہر موڑ پر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ تنظیم ’’را‘‘ کی جانب سے پاکستان کے سادہ لوح عوام کو مذہبی، سیاسی اور لسانی عصبیت کی بنا پر آپس میں لڑا کر بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارتی ایجنٹوں کی جانب سے ایک عرصے سے علیحدگی پسندوں کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کو پاکستان سے توڑنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ ’’را‘‘ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں سرگرم عمل ہے اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی نہ صرف صوبے میں بھرپور معاونت کرتی ہے، بلکہ انہیں بے تحاشہ فنڈنگ کرنا، اسلحہ پہنچانا اور دوسرے ممالک کے ویزے فراہم کرنے کا سارا انتظام ’’را‘‘ کرتی ہے۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر کئی علاقوں سے ’’را‘‘ کے ایجنٹس پکڑے جانے کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں بھارتی اسلحہ بھی متعدد بار پکڑا جاتا رہا ہے۔ اب بھارت نے پاکستان دشمنی میں عالمی قوانین کی بھی دھجیاں بھی بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ سفارتکار کسی بھی ملک کے چہرے کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی ذمہ داری دوسرے ملک میں جاکر پرامن طریقے سے سفارتی ذمہ داریاں نبھانا ہوتا ہے، لیکن بھارت نے سفارتی اصولوں کو بھی پامال کرتے ہوئے سفارتکاروں کے روپ میں ’’را‘‘ اور آئی بی کے جاسوسوں اور دہشتگردوں کو پاکستان میں متعین کیا۔ پاکستان نے کل بھوشن یادیو کے بعد گزشتہ روز بھارت کا ایک اور بڑا جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی سفارت خانے کے آٹھ اہلکار دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور یہ تمام اہلکار مبیّنہ طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) اور انٹیلی جنس بیورو( آئی بی) کے ارکان ہیں۔بلبیرسنگھ فرسٹ سیکرٹری پریس اینڈ کلچر، راجیش کمار اگنی ہوتری کمرشل قونصلر، مادھون نندا کمار ویزا اسسٹنٹ، جیابالن سینتھل اسسٹنٹ پرسنل ویلفیئرآفس، انوراگ سنگھ فرسٹ سیکرٹری کمرشل اور امر دیپ سنگھ بھٹی ویزا اتاشی کے طور پر کام کر رہے تھے، اس کے علاوہ دھرمیندرا اور وجے کمار ورما بھی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹس ہیں۔ یہ تمام لوگ سی پیک کے حوالے سے کئی سطح پر کام کر رہے تھے، جن میں چین اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور کراچی، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں سرگرم تھے۔ بلوچستان اور سندھ خاص طور پر کراچی میں جاسوسی، تخریبی، دہشت گردی اور عدم استحکام کی سرگرمیوں کی حمایت، چین، پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنا، گلگت اور بلوچستان میں بد امنی پھیلانا، تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں اپنے ایجنٹوں اور آلہ کاروں کے نیٹ ورک میں توسیع، مختلف سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا، سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھارتی ایجنٹوں کی دراندازی تاکہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے انھیں پروپیگنڈا کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کے لیے من گھڑت شواہد پیش کرنا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں سے معاملہ کاری، ملک کی مذہبی اقلیتوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں پر اکسانا، فرقہ واریت کو ہوا دینا، انسانی حقوق سے متعلق امور پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، آزاد جموں وکشمیر میں ایسی تخریبی کارروائیوں کا فروغ دینا جن سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ سکے، مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنا وغیرہ ان بھارتی ایجنٹوں کے مقاصد میں شامل تھا۔ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے خلاف بھارتی سازشوں کے ثبوت موجود ہیں اور یہ بھارتی جاسوس، پاکستان چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے، صوبوں میں عدم استحکام پیدا کرنے، گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلانے اور تجارتی سرگرمیوں کے بھیس میں اپنے کارندوں اور ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو توسیع دینے کا کام کرتے رہے۔ وہ سفارتکار کے طور پر اپنی حثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خفیہ معلومات کے حصول کے لیے با اثر حلقوں میں داخل ہوتے رہے۔

پاکستان سے سفارتکاروں کے روپ میں بھارتی جاسوسوں کے گرفتار ہونے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے فروغ اور دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے میں ملوث پایا گیا ہے، بلکہ بھارت، دو خودمختار ممالک کے درمیان تعلقات برقرار رکھنے کے حوالے سے سفارتی آداب اور طریقہ کار کی خلاف روزی کا بھی مرتکب ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے پاکستان میں جاسوسی کرنے والے بھارتی سفارت کاروں کے معاملے پرعالمی برادری کومودی کے ایجنڈے سے آگاہ کرنے کے لیے موثر سفارتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے حکام نے سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکا، چین اور دیگر اہم ممالک کو اس صورت حال سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستان اور چین سی پیک کے خلاف بھارتی سازشوں کا معاملہ جلد باہمی مشاورت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائیں گے اور بھارت کے خلاف عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پابندیاں عاید کرنے کے حوالے سے قراردادپیش کی جاسکتی ہے۔ وفاقی حکومت کے ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان ممالک کو کہا ہے کہ پاکستان کوعدم استحکام کرنے کے حوالے سے مودی حکومت مسلسل سازشوں میں مصروف ہے، اس صورت حال کے سبب خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے جس کا ذمے دار بھارت ہوگا۔ ان ممالک نے پاکستان کوعندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بھارت سے بات کریں گے اورسفارتی محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ وفاقی حکومت کے اہم ذرایع کے مطابق پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازشوں سے چینی حکام کو آگاہ کردیا ہے۔ چین نے مودی حکومت کوسخت سفارتی پیغام بھیجا ہے کہ بھارت سی پیک منصوبے کے خلاف اپنی سازشیں بند کردے بصورت دیگر یہ معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا، اگر بھارت باز نہ آیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین نے سی پیک کے خلاف بھارتی سازشوں کو ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی، سی پیک کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے بھارتی تخریبی کارروائیوں میں سفارتکاروں کے ملوث ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا بھارت نے کشمیر اور سیالکوٹ پر معاہدوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر جاسوسی کرکے دہشتگردی کے سارے ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ کلبھوش سرجیت کے بعد بلبیر سنگھ بھی پاکستان میں جاسوسی کرنے میں ملوث نکلا لیکن بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا ہے، جو ’چور الٹا کوتوال کو ڈانٹے‘ کے متراف ہے۔ بھارتی کی جانب سے تخریبی کارروائیوں اور سرگرمیوں کے باوجود ہماری حکومت کی خاموشی اور موثر جواب نہ دینا نہ سمجھ سے بالاتر ہے، بلکہ حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق قوی امکان ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتکاری کا لبادہ اوڑھے مزید جاسوسوں کا بھانڈا بھی جلد پھوٹ جائے گا، کیونکہ پاکستان کے خلاف سازشیں بننا بھارت کا وطیرہ ہے اور بھارت اپنے جاسوسوں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچاتا رہا ہے، ابھی تو سفارتکاروں کے بھیس میں چند جاسوس ہی بے نقاب ہوئے ہیں، خدا جانے ابھی کتنے بھارتی جاسوس مزید چھپے ہوئے ہوں گے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سازشوں کا معاملہ نیا نہیں ہے، آئے روز پاکستان میں بھارت کے ایجنٹ اور دہشتگرد پاکستانی سیکورٹی کے ہاتھوں گرفتار ہوتے رہتے ہیں۔روز اول سے بھارت پاکستا ن کے خلاف سازشیں بنتا رہا ہے۔ بھارتی دہشتگرد پاکستان کے مختلف شہروں میں تخریبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک میں آئے روز دہشتگردی کی وارداتوں کے پیچھے بھارت ہی ہوتا ہے۔ کئی بار اس کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ کل بھوشن یادیو نے بھی پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا۔ بلوچستان میں بھارتی کی تخریبی کارروائیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ نشاندہی کی جاتی رہی ہے کہ فاٹا، بلوچستان اور کراچی انڈین انٹیلجنس ایجنسی کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ثبوت سیاسی و عسکری قیادت کے پاس موجود ہیں، جنہیں امریکا کے سامنے پیش کرنے کے بیانات بھی آتے رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی طرف سے بلوچستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت کی بات کی جاتی رہی ہے۔ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ تنظیم ’’را‘‘ کا تو نصب العین ہی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ اس کے لیے ’’را‘‘ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتیں کراتی ہے، بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہی ہے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پاکستان میں ’’را‘‘ کے بے نام اور بے پہچان ایجنٹ اور ان کے سہولت کار موجود ہیں، ان تک پہنچنے کی کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔’’را‘‘ اپنے دہشت گردوں، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کو افغانستان، دبئی اور دیگر ممالک سے بھی مالی، افرادی اور دیگر مدد فراہم کرتی ہے۔ ذرایع کے مطابق پکڑے گئے بھارتی ایجنٹ اور دہشت گردوں میں سے بیشتر نے تو اسلامی نام بھی رکھے ہوتے ہیں۔ کشمیر سنگھ، سربجیت سنگھ اور سرجیت سنگھ ’’را‘‘ کے ایسے ہی ایجنٹ تھے، جن کو آئی ایس آئی نے مہارت سے پکڑا۔ ان کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں سے تخریبی کارروائیوں میں ملوث دہشتگرد مختلف اوقات میں پکڑے جاتے رہے ہیں۔ بھارتی سفارتکاروں کے روپ میں بھارتی جاسوسوں کا پکڑا جانا جہاں ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کامیابی ہے، وہیں یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ بھارت کے نزدیک نہ تو عالمی قوانین کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی اس کے نزدیک اس کے کچھ اپنے قوانین ہیں۔ اس کا کام صرف پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان حکومت اور پوری قوم کو بھارت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرنا ہوگا، بصورت دیگر بھارت اسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچاتا رہے گا۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417434 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2016 Views: 419

Comments

آپ کی رائے