ہمیں چیخیں پکار رہی ہیں

(Sana Ghori, Karachi)

کیاآپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑاایشو کیا ہے؟

وہ کون سا واقعہ ہے جو ابھی ہوا بھی نہیں لیکن اس پر بات کرنا، اس کے بارے میں سوچ بچار کرنا اور اس پر رائے زنی کرنا بہت ضروری ہے، کیوں کہ بھئی یہ قومی مسئلہ ہے، اہم ترین قومی مسئلہ، یہ مسئلہ ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو کی شادی کا۔۔۔۔۔۔

آپ کو حیرت ہوئی، میں بھی حیران ہوں، کیوں کہ ایک بڑے ٹی وی چینل کی نشریات دیکھ کر یہی لگ رہا ہے، جس پر بڑے تسلسل کے ساتھ یہ معاملہ زیربحث رہا کہ بلاول کس سے شادی کرے گا، کہاں شادی کرے گا۔

اس سے پہلے تک میڈیا پر دھرنے کا شور تھا، کیا ہوگا، کیا نہیں ہوگا، کی بحث جاری تھی․․․

بلاول کی شادی نہ جانے کب ہوگی اوردھرنا ہو نہیں سکا، مگر ان سب کے درمیان ایک واقعہ ہوتا رہا، ایک المیہ سلگتا رہا، ایک سانحہ چیخ چٰیخ کر ہم سب کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا، لیکن اس واقعے کو میڈیا پر بس رسمی طور پر نبھادیا گیا۔

جس وقت دھرنے کا شور مچا ہوا تھا عین ان ہی دنوں میں بلوچستان کے گڈانی کے ساحل کے قریب ایک جہاز جل رہا تھا، جس میں کتنے ہی مزدور جان کی بازی ہار چکے تھے اور ہار رہے تھے۔

یہ سانحۃ کیسے ہوا؟ کون مزدوروں کی اس ہول ناک موت کا ذمے دار ہے؟ ان سوالوں کا جواب تو حقیقی معنوں میں ہونے والی تحقیقات سے مل سکتا ہے، لیکن اس سانحے کے ساتھ شپ بریکنگ کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت کا سُن کر دل بھر آیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔ میں سوچنے لگی کہ علامہ اقبال نے کہا تھا ’’ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات‘‘ وہ آج ہوتے تو ظلم کی چکی میں پستے ان محنت کشوں کے حال پر جانے کیا کہتے، یہ مزدور تو اس ملک میں ستم کا شکار ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔

مختلف خبروں اور رپورٹس کے مطابق سانحے کا شکار ہونے والے جو محنت کش ایک آئل ٹینکر کو ڈس مینٹل کرنے کے لیے اس میں گئے تھے، ان کے بارے میں معلومات کا حصول اس لیے مشکل ہے کہ شپ بریکنگ کی صنعت میں رائج ظالمانہ ٹھیکے داری نظام کے تحت ڈس مینٹل ہونے کے لیے آنے والے کسی جہاز پر جانے والے مزدوروں کے نام کا اندراج کام شروع ہونے سے پہلے کرنے کے بہ جائے کم ختم ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کسی حادثے کا شکار ہونے والے مزدوروں کو ملنے والی زرتلافی کی رقم بھی ڈکار لی جاتی ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں اور رپورٹس مزید بتاتی ہیں کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جہاز کو ڈس مینٹل کرنے والے مزدوروں کو کسی قسم کے ذاتی حفاظتی آلات فراہم نہیں کیے جاتے۔ اس کے علاوہ جہازوں سے نکلنے والے خطرناک کیمیکلز کی وجہ سے مزدور دمے اور جلدی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان مزدوروں کے لیے صرف ایک ایمبولینس دست یاب ہے، جب کہ قریب ترین اسپتال بھی تقریباً 50کلومیٹر دور کراچی میں ہے۔ مزدوروں کو رہنے کے لیے مناسب جگہ تک میسر نہیں، نہ ہی انھیں میٹھا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

اس سانحے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ’’تیل اور دیگر آتش گیر مادوں کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر ہی کٹائی کا کام شروع کردیا گیا، چناں چہ گیس ویلڈنگ کے شعلوں نے چند ہی لمحوں میں درجنوں انسانوں کو راکھ میں تبدیل کردیا۔‘‘

یہ حادثہ شپ بریکنگ کی صنعت کو خون پسینے سے فروغ دینے والے مزدوروں کے حالات سے پردہ اٹھا گیا ہے۔ حفاظتی جوتے اور کپڑے انھیں اپنی جیب سے خریدنے پڑتے ہیں، جب کہ اپنی رہائش کے لیے جہازوں سے نکلنے والے ناقابل استعمال سامان سے جھگیاں بنا کر رہتے ہیں۔ سخت محنت اور دن رات مشقت کرکے روزی کمانے والے یہ مزدور کیمیکلز سے لتھڑی فضا میں سانس لیتے ہیں اور ان میں سے بہت سے سرطان جیسے موذی مرض سمیت مہلک بیماریوں کا شکار ہوکر جان سے جاتے ہیں۔ جان سے جانے والے مزدوروں کی اوسط شرح ہر ماہ تین چار ہے۔

یہ سانحہ نہ ہوتا تو شاید ان مزدوروں کے روزوشب کے بارے میں یہ تلخ اور تکلیف دہ حقائق بھی سامنے نہ آتے۔ اور ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد بھی کیا ہوا؟ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق انسان دوستی اور مزدور کی عظمت جیسی اقدار کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس سانحے اور شپ بریکنگ کے مزدوروں کی حالت زار کی بابت حقیقت سامنے آنے کے بعد پورے ملک میں طوفان آجاتا، سیاسی جماعتیں ان مظلوم مزدوروں کے حق میں مظاہرے کرتیں، کچھ نہیں تو ملک بھر کی مزدور تنظیمیں ہی ان کے حق میں باہر نکلتیں، کوئی راہ نما اس سانحے کی تحقیقات اور مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے بھی دھرنا دیتا، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مذمت کی قراردادیں آتیں، مذہبی جماعتیں اور علمائے دین ان مزدوروں سے ہونے والے ظالمانہ سلوک کو غیراسلامی اور قرآن وسنت کے خلاف قرار دے کر احتجاج کرتے، میڈیا اس ظلم وستم کے خلاف اور اس انسانی المیے کے مختلف پہلو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور انداز میں اور تواتروتسلسل کے ساتھ مہم چلاتا․․․․․مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ ایک بہت بڑا انسانی المیہ رونما ہوکر دھواں ہوگیا، مگر ہر طرف خاموشی رہی۔

اس خاموشی کو ٹوٹنا چاہیے، آگ میں جلتے جھلستے اور دھواں ہوتے مزدوروں کی چیخیں ہمیں پکار رہی ہیں، وہ ہم سے کہہ رہی ہیں کہ مدد کا وقت تو گزر چکا اب کم ازکم ہمیں انصاف تو دلادو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 183651 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Nov, 2016 Views: 367

Comments

آپ کی رائے