عمران خان اور مصطفی کمال کا سیاسی و انتخابی اتحاد وقت کی ضرورت ہے !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
 عمران خان اور مصطفی کمال سے کون واقف نہیں ان دونوں بے مثال شخصیات کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے کہ ان دونوں کا بنیادی حوالہ ان کی ذاتی قابلیت ،خصوصیات اور ناقابل فراموش خدمات ہیں جن کی وجہ سے آج ان دونوں قابل سیاست دانوں کو ملک اور بیرون ملک عزت کی نگا ہ سے دیکھا جاتاہے اور کیوں نہ دیکھا جائے کہ ان جیسے گوہر نایاب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں تک یاد رکھے جاتے ہیں ۔پاکستان کے مفاد پرست معاشرے میں ابن الوقت اور مصلحت پسند سیاستدانوں کی بھیڑ میں عمران خان اور مصطفی کمال وہ قابل فخر پاکستانی سیاست دان ہیں جنہیں ہم بلاشبہ اپنے پیارے ملک پاکستا ن کی آبرو قرار دے سکتے ہیں ورنہ تو گزشتہ 8 سالوں کے دوران برسراقتدار رہنے والے سیاست دانوں نے کرپشن ،مفاد پرستی ،بے شرمی اور عوامی مسائل سے لاتعلقی کے وہ شرمناک مظاہرے پیش کیے ہیں کہ شاید ہی پاکستان میں اس سے قبل اتنا برا دور سیاست گزرا ہو۔

سچائی ،بہادری ،عزم ،حوصلے اور پاکستانی عوام کی خیرخواہی کے حوالے سے ہم عمران خان اور مصطفی کمال کو ایک ہی کشتی کے سوار قرار دے سکتے ہیں کہ ان دونوں میں کئی مشترک باتوں کے علاوہ حب الوطنی کے جذبے کی شدت نے انہیں عوا م الناس میں بہت تیزی کے ساتھ مقبول بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔عمران خان کی اصل وجہ شہرت ایک کرکٹر کی تھی اور انہوں نے پاکستان کے ایک کامیاب ترین آل راؤنڈر کرکٹر کی حیثیت سے جو شاندار کارکردگی پیش کی اسے آج بھی بطور مثال پیش کیا جاتا ہے جبکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے عمران خان نے مختلف ملکوں کے خلاف کرکٹ میچوں میں قابل فخر فتوحات کو جو نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا تھا وہ بالآخر 1992 میں کرکٹ کا عالمی کپ جیت کر پاکستان کو کرکٹ کا ورلڈ چیمپئن بنانے پر جا کر ختم ہوا ،یہ تاریخ ساز فتح بھی عمران خان کی قائدانہ صلاحیت ،انتھک محنت ،بہترین ٹیم ورک اور شاندار کپتانی کی وجہ سے ممکن ہوئی جس کا سہرا بجا طور پر عمران خان کے سر باندھا جاتا ہے کہ 1992 کے بعد پاکستان آج تک پھر دوبارہ کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

پاکستان کے لیئے کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کے تاریخی کارنامے کے بعد عمران خان نے کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرکے فلاحی سرگرمیوں کا آغاز ’’شوکت خانم کینسر ہسپتال‘‘ بنا کر کیا جو کہ پاکستان میں کینسر جیسے موضی مرض کے مہنگے ترین علاج کی سہولت فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے جہاں غریبوں کو کیسنر کے مفت علاج کی سہولتیں اعلی معیار کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں،یہ وہ شاندار کارنامہ تھا جس نے عمران خان کو راتوں رات پاکستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن بنا ڈالا جس کے بعد عمران خان نے بین الاقوامی معیار کی تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے والا ادارہ ’’نمل یونیورسٹی ‘‘ قائم کیا جس سے عمران خان کی ساکھ میں مزید اضافہ ہوا اور پھر آخر کار عمران خان نے ایک نئی سیاسی جماعت ’’ پاکستان تحریک انصاف ‘‘ کے نام سے قائم کرکے میدان سیاست میں بڑے زور وشور کے ساتھ قدم رکھا اور اس میدان میں بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قائم کردہ سیاسی پارٹی تحریک انصاف نے ملک گیر سطح پر شہرت اور کامیابی حاصل کرکے پاکستان پر کئی عشروں سے حکومت کرنے والی دو بڑی سیاسی جماعتو ں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کے لیئے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔

عمران خان نے اپنی قائدانہ صلاحیت ،قابلیت،انتھک محنت اور جذبے کی شدت کی وجہ سے کھیل کی طرح سیاست میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی اور تحریک انصاف کو پاکستان کی تیسری سیاسی قوت بنانے میں کامیاب ہوگئے یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باجود تاحال وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے میں ناکام نظرآتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کی قدرومنزلت موجودہ دورحکومت کے وزیراعظم سے کہیں زیادہ ہے اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔عمران خان کی سیاست ابتدا سے لے کر آج تک سچائی ،بہادری ۔ حب الوطنی اور کرپشن کے خلاف اعلانیہ جہاد کے گرد گھومتی رہی ہے اور آج بھی عمران خان اقتدار کے مراکز پرکنٹرول رکھنے والے کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ برسر پیکار نظر آتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی قسمت بدلنے اور ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہیں،چاہے ان کی جان کو کتنے بھی خطرات لاحق ہوں پر وہ سچائی ،حق گوئی اور انصاف کے حصول کا راستہ چھوڑنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہونگے ۔

مصطفی کمال بھی عمران خان کی طرح ایک قابل ،باصلاحیت ،فعال ،بہادر ،سچے اور محب وطن سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے 3 مارچ 2016 کو کراچی واپس آکر جس طرح نہایت دلیری کے ساتھ کراچی کی سیاست پر قابض’’الطاف حسین ‘‘ نامی فرعون کو للکارتے ہوئے اس کی منافقانہ اور ملک دشمن سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا وہ ان سے قبل کوئی بھی اردو بولنے والا دوسرا سیاست دان نہ کرسکا ۔مصطفی کمال کی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف کی گئی باتوں کو کراچی بلکہ پورے پاکستان کے عوام نے نہایت غور سے سنا کہ یہ باتیں کوئی اور نہیں ماضی میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہنے والا ایک نیک نام سیاسی لیڈرمصطفی کمال کر رہا تھا جس نے پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کی جانب سے سٹی ناظم بنائے جانے کے بعد جس قابلیت،صلاحیت ،محنت ،خلوص ،جذبے اور لسانی و سیاسی تعصب سے بالا تر ہوکر انتھک محنت کرکے کراچی کی تعمیر وترقی میں جو زبردست کردار ادا کیا اسے لوگ آج بھی فراموش نہیں کر پائے کہ مصطفی کمال سے پہلے یا بعد آج تک کراچی کو مصطفی کمال جیسا فعال ،مخلص اور قابل مئیر نہیں مل سکا جس نے نہایت کم وقت میں کراچی کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی اور بڑی بات یہ ہے کہ کراچی کو سنوارنے کے لیئے ملنے والی 300 ،ارب روپوں کی خطیر رقم کو انہو ں نے اتنی ایمانداری سے استعمال کیا کہ آج تک ان کے بدترین مخالفین کی جانب سے ان پر کرپشن کا کوئی الزام تک نہیں لگایاگیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی کے مئیر کے طور پر مصطفی کمال نے نہایت دیانت داری اور جانفشانی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے اعلانیہ بغاوت کرتے ہوئے اپنی نئی سیاسی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی ‘‘ قائم کی تو انہیں پورے ملک سے بہت اچھا ریسپونس ملا اور نہایت کم وقت میں انہوں نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان لیول پر اپنی نومولود پارٹی کی علیحدہ شناخت قائم کرلی ۔

مصطفی کمال کی برق رفتار سیاست نے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں اور پہلوانوں کو چونکا کر رکھ دیا کہ کراچی میں رہ کر کراچی پر حکومت کرنے والے بے تاج بادشاہ الطاف حسین کو سرعام’’ را ‘کا ایجنٹ قرار دے کر ان کی شراب نوشی ،منی لانڈرنگ اور دیگر اندرونی رازوں کا سر عام پردہ چاک کرکے مصطفی کمال نے اپنی بے خوفی ،حب الوطنی اور قائدانہ صلاحیتوں کا جو شاندار مظاہرہ پیش کیا اس نے انہیں راتوں رات وہ مقبولیت اور کامیابی فراہم کردی جو بعض سیاست دانوں کو طویل عرصہ کی جدوجہد کے باوجود آج تک نہیں ملی ۔شروع میں مصطفی کمال کو پاکستانی ایجنسیوں کا آدمی قرار دینے والے لوگ بھی رفتہ رفتہ خاموش ہوتے چلے گئے کے مصطفی کمال کا قول وفعل اس بات کی کھلی گواہی دے رہا تھا کہ مصطفی کمال کسی ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خوف خدا کے جذبے سے سرشار ہوکر گمراہی کا راستہ چھوڑ کرسچائی کے راستے پر اس ثابت قدمی اور حوصلے سے گامزن ہوئے کہ اب انہیں اپنی جان کا خوف نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے مسائل کی فکر لاحق ہے جسے وہ حل کرنا چاہتے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیئے وہ باقاعدہ اپنا ایک نظریہ اور پلان رکھتے ہیں جس پر وہ اقتدار میں آنے کے بعد ہی عمل پیرا ہوسکیں گے ۔

فی الوقت مصطفی کمال اقتدار کی گردشوں میں رکھی ہوئی کسی بھی کرسی پر برآجمان نہیں ہیں لیکن ان کی عزت وتوقیر بڑے سے بڑے وزیر سے کہیں زیادہ ہے ،وہ عوام میں جاتے وقت نہ تو بلٹ پرو ف جیکٹ پہنتے ہیں اور نہ ہی ان کے گارڈوں کی فوج ظفر موج ان کے ساتھ ہوتی ہے وہ عوامی اجتماعات ،جلسوں اور جلوسوں میں بلاخوف وخطر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور کھل کر ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کی منافقانہ سیاست کا پردہ چاک کرتے ہیں تو کراچی والے ان کو انڈے ،ٹماٹر یا پتھر مارنے کی بجائے پھول برساتے ہیں ۔کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ کہ اس سے قبل تو جس نے الطاف حسین سے غداری کی وہ اپنی جان سے گیا پھر یہ مصطفی کمال میں ایسا کون سا کمال ہے کہ وہ کراچی کی سڑکوں ،گلیوں اور محلوں میں الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف بہت کچھ بولتا پھر رہا ہے اور اسے خراش تک نہیں آئی۔

بات دراصل یہ ہے کہ مصطفی کمال کے دل سے خوف خدا کے علاوہ ہر خوف نکل چکا ہے اور سچائی کو اس نے اپنا شعار بنالیا ہے اور جو لوگ سچ بولتے ہیں ان کی سچی اورکھری باتیں براہ راست دلوں پر اثر کرتی ہیں اور جو دلوں کو فتح کرلے وہ ہی فاتحہ زمانہ ۔۔۔

عمران خان ہو یا مصطفی کمال دونوں ہی سچے اور کھرے انسان ہیں ،دونوں خدا کے علاوہ کسی دنیاوی طاقت سے نہیں ڈرتے ،دونوں محب وطن اور بہادر سیاسی رہنما ہیں ،دونوں پاکستانی عوام کو کرپشن اور دہشت گردی سے نجات دلا کر سڑکوں ،گلیوں اور محلوں کی سطح پر عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیئے اخیتارات کا حصول چاہتے ہیں۔دونو ں قابل ،باصلاحیت ،فعال اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار سیاسی رہنما ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیئے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے حقوق کی پاسداری کے لیئے سیاست کے میدان میں آئے ہیں۔دونوں کے پیچھے ان کا شاندار کام ہے جو انہوں نے اپنی اپنی فیلڈز میں انجام دیا ہے اور دونوں ہی پاکستانی عوام کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہونے کا اعزا ز رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عمران خان اور مصطفی کمال جیسے بے مثال سیاسی رہنماؤں کا مقصد ومحور اور طریقہ کار ایک ہی ہے تو پھر یہ دونوں اب تک کسی بھی مقام پر ایک ساتھ کیوں نظر نہیں آئے ؟ یا یہ دونوں عوامی مسائل کے حل کے لیئے اب تک مشترکہ جدوجہد کے راستے کو اپنانے سے کیوں اجتناب برت رہے ہیں ؟ اگر پاکستانی سیاست میں بدی کی قوتیں ایک جگہ جمع ہوکر کرپشن اور دیگر جرائم میں ملوث سیاستدانوں کے اقتدار کو بچانے کے لیئے ایک ہوسکتی ہیں تو نیکی اور سچائی کے راستے پر گامزن سیاست دان کیوں ایک نہیں ہوسکتے ؟ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو قائم رکھتے ہوئے ،اپنی اپنی سیاسی حیثیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے بھی تو کسی بڑے مقصد کے لیئے ایک ہوا جاسکتا ہے ۔ کون کتنا بڑا اور سینئر سیاستدان ہے ،کون عوام میں کتنی مقبولیت رکھتا ہے اور کون کس کے نیچے کام نہیں کرے گا جیسے فروعی معاملات کو نظرانداز کرتے ہوئے اگر صرف اس نکتے پر اتفاق کیا جائے کہ پاکستان سے کرپشن ،لسانی سیاست اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیئے متحد ہوکر باطل سیاسی قوتوں کو سیاسی میدان میں شکست دے کرپاکستانی عوام کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیئے سیاسی اور انتخابی اتحاد کرکے ملک دشمن ،علیحدگی پسند ،لسانی اور علاقائی جماعتوں اور کرپشن میں ملوث سیاسی رہنماؤں کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیئے ہر اس سیاسی رہنما اور سیاسی جماعت سے اتحاد کیا جائے گا جو پاکستان اور پاکستانی جھنڈے کی عزت اور احترام کرتی ہو اور جو پاکستان میں حقیقی تبدیلی لاکر یہاں کے عوام کی حالت بدلنا چاہتی ہو۔اگر بدی کی قوتوں کی طرح نیکی اور سچائی کی قوتیں بھی پاکستانی سیاست میں اتحاد کرلیں تو اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو ان روایتی سیاست دانوں کے چنگل سے آزاد کیاجاسکے جنہوں نے پاکستانی عوام کو درحقیقت اپنا غلام بنایا ہوا ہے اور وہ اقتدار کے مراکز پر اپنا ہولڈ قائم رکھنے کی وجہ ہر بار بڑی آسانی کے ساتھ برسراقتدار آجاتے ہیں ،دو پارٹیاں کئی عشروں سے باریاں لے کر اقتدار میں آرہی ہیں لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں اپنی جگہ موجود ہیں اس لیئے اس بار عوام کو بھی ووٹ دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کہ اگر2018 کے انتخابات میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو پھر شاید کبھی بھی نہ آئے کہ سچے اور اچھے سیاست دانوں کے لیئے جیسے آئیڈیل حالات اس وقت کراچی اور پورے پاکستان کے ہیں وہ پھر شاید ہی کبھی ہوسکیں ۔

پاکستانی عوام ہوں یا پاکستانی عوام کی تقدیر بدلنے اور نیا پاکستان بنانے کی باتیں کرنے والے سیاست دان ہوں یہ شاید سب کے لیئے آخری موقع ہے کہ وہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنانے کی بجائے ملک دشمن ،کرپٹ اور مفاد پرست سیاست دانوں کے خلاف اکٹھے ہوجائیں کہ یہ وقت کی آواز ہے اور جو قوم یا رہنما وقت کی آواز کو نظر انداز کرتے ہیں وقت بھی انہیں نظر انداز کرکے آگے نکل جاتا ہے اور پھر لوگ باگ اقتدار میں آنے کے بس خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں عمران خان ،مصطفی کمال اور ان جیسی سوچ رکھنے والے دیگر تمام سیاستدانوں کو اپنا ایک مظبوط سیاسی اور انتخابی اتحاد بنانا ہوگا تب ہی کوئی تبدیلی آسکے گی ورنہ ’’سولو فلائٹ ‘‘ بھرنے سے واہ واہ کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔لہذا ہمارا عمران خان کووہ مصطفی کمال سے رابط کرکے انہیں اپنے ساتھ کرپشن کے خلاف ہونے والے ہر جلسے اور جلوس میں شرکت کی دعوت دیں کہ مصطفی کمال بھی عمران خان ہی کی طرح محب وطن ،قابل ،باصلاحیت ،مخلص اورفعال سیاسی رہنما ہیں اور اسی طرح مصطفی کمال کو بھی چاہیئے کہ اگر ان کو عمران خان یا تحریک انصاف کی جانب سے ہونے والے کسی بھی عوامی مظاہرے میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جائے تو وہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی وغیر سیاسی مصلحتیں بالائے طاق رکھ کرعمران خان کے جلسے جلوسوں میں شریک ہوکر محب وطن سیاسی قوتوں کے ہاتھ مظبوط کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں کہ اس طرح عمران خان اور مصطفی کمال جیسے سچے محب وطن سیاسی رہنما قریب آکرمستقبل میں سیاسی اور انتخابی اتحاد کے ذریعے پاکستانی عوام کو مفاد پرستوں کے چنگل سے آزاد کرواکر پاکستان میں تبدیلی لانے کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
عمران خان اور مصطفی کمال کا سیاسی و انتخابی اتحاد وقت کی ضرورت ہے ! برائے اشاعت سیاسی کالم
تحریر: فرید اشرف غازی ۔ کراچی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71913 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
14 Nov, 2016 Views: 323

Comments

آپ کی رائے