ہم جو درود وسلام پڑھتے ہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سنتے ہیں

(Kashif Akram, Kuwait)
اسلام و علیکم

سوال: میرے ایک ساتھی نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم جو درود وسلام پڑھتے ہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سنتے ہیں، براہ کرم جواب عنایت فرمائیں ونیز اس حدیث مبارک کا حوالہ بیان فرمائیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری خدمت میں ایک ایسا فرشتہ رہتا ہے جو میرے امتیوں کے درود وسلام میرے پاس پیش کرتا ہے-

براہ کرم جواب عنایت فرمائیں تو مؤجب تشکر ہوگا-

جواب: مسند بزار، جامع الاحاديث والمراسیل، ،جمع الجوامع، مجمع الزوائد، اور كنز العمال میں حدیث مبارک ہے،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يا عمار إن لله ملكا أعطاه الله أسماع الخلائق وهو قائم على قبري إذا مت إلى يوم القيامة فليس أحد من أمتي يصلي علي صلاة إلا سمى باسمه واسم أبيه قال: يا محمد صلى فلان عليك كذا وكذا، فيصلي الرب على ذلك الرجل بكل واحدة عشرا" . (طب عن عمار).

ترجمہ: اے عمار!اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا فرشتہ پیدا کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کی سماعت عطا فرمائی(بیک وقت ساری مخلوق کی آواز کو سنتا ہے) وہ میرے وصال کے بعد میری مزار (مبارک) پر کھڑا رہے گا اور جب کبھی میرا کوئی امتی مجھ پر نذرانہ درود پیش کرتا ہے تو وہ فرشتہ عرض کرتا ہے کہ فلاں ابن فلاں نے آپ کی خدمت میں یہ درود پیش کیا ہے-اور ہر درود کے بدلے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرماتا ہے-
(مسند البزار، مسند عمار بن ياسر، حدیث نمبر: 1425-كنز العمال،حدیث نمبر: 2227-جامع الأحاديث، حدیث نمبر: 26184-
جمع الجوامع، حدیث نمبر: 1113- مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 17291-)

اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے فرشتے بھی پیدا فرمائے ہیں جو آن واحد میں ہر شخص کی آواز سنتے ہیں، دور ونزدیک کی آواز، ان کے لئے یکساں ہے– جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدام کی سماعت کی یہ شان ہے تو پھر امام الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قوت سماعت کا کون اندازہ کرسکتا ہے- اس کی تصریح اس حدیث مبارک سے ہوتی ہے جو دلائل الخیرات میں منقول ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا گیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں ان حضرات کے متعلق خبر دیجئے جو آپ کے وصال مبارک کے بعد آپ کی خدمت اقدس میں صلوۃ وسلام پیش کرینگے- حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اسمع صلوۃ اہل محبتی و اعرفہم وتعرض علی صلو‏ۃ غیرہم عرضا- اہل محبت کے درود کو میں خود ہی سنتا ہوں اور انہيں پہچانتا ہوں، اور ان کے علاوہ دیگر افراد کے درود پیش کئے جاتے ہیں-
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kashif Akram Warsi

Read More Articles by Kashif Akram Warsi: 12 Articles with 41036 views »
Simple and friendly... View More
19 Aug, 2010 Views: 5321

Comments

آپ کی رائے
@ Shamim Ahmed plz send us ur email id.
By: Kashif Akram, Kuwait on Oct, 22 2010
Reply Reply
0 Like
Kindly mail me this page.
By: Shamim Ahmed, Karachi on Oct, 21 2010
Reply Reply
0 Like
salam to all muslims,mery nuzdeek Hazrat Muhammad(P.B.U.H) her muslim ka darood paak khud suntay hain,aur baki bat rahi muslik aur muktab fiker ki,to her wo muslim jo apnay ko kisi bhi muslik aur muktub fiker main mut'maeen sumjta hai,usko us muktub fiker main rehna chaye,baki jo islam k bunyadi asool hain,un per kaim rehye,baki hadees main ak'tilaf ya riwayet main akh'tilaf ta kiamet tuk jari rahay ga.isko khatum kerna behud mushkel hai,kio k ab tamam hadees aur rawayat apni aik esi na totnay wali amaret bna chuki hain,jis ki bunyadian 1400 saal purani mager muzboot hain.
By: Syed Sheraz Abbas Bukhari, multan on Oct, 18 2010
Reply Reply
0 Like
والسلام بھائی محمد فاروق، بھائی فرقہ واریت بھی ہم لوگوں کی ہی ایجاد ہے۔ لہٰذا ان سب فرقہ سے پرہیز ہیں کریں۔ ٥ وقت کی نماز اور اپنے والدین کی خدمت اور اگر شادی شدہ ھے تو رزق حلال سے اپنی بیوی بچوں کی پرویش کریں۔
نبی کریم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجے کیوں کہ یہ کام اللہ عزوجل خود بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ فرشتے بھی کرتے ھیں۔ اور رہ گئی بات بعد از نماز صلوہُ و سلام کی تو کچھ مسلک والے نہیں بھجتے اور کچھ والے بعد از نماز درور و سلام بھجتے ھیں۔ مگر آپ کوشش کیا کریں کہ بعد از نماز درود و سلام بھیجا کریں کیوں کہ قرآن و حدیث میں اس چیز کی کہیں ممانت نہیں کی گی۔ اور اچھائی کا بدلہ اللہ کے ہاں اچھائی ہی ہے۔
اللہ پاک آپ کو استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
By: Kashif Akram, Kuwait on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
آصف صاحب آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا۔ جزاک الله خیر ۔ الله اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع ہی ہم مسلمانوں کے لئے جائے نجات ہے۔ ہم صرف مسلمان ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھیں تو یہی کافی ہے۔ لیکن جب تک خرافات کو ترک نہیں کریں گے انسان مسلمان نہیں بن سکتا ہے کو بھی سمجھنے کے لئے اسے جہاد بلنفس کرنا ہوگا۔ دشوار گزار راستوں پر ہی چل کر خوبصوت و شاندار منزل کی طرف بڑھنا بھی عبادت ہے۔ لیکن اس کے لئے صحیح راہ پر ڈالنا کمال کے ساتھ یہ بھی فن عبادت ہے۔ سیدھے سادے دین کو مختلف اقسام کے فرقوں نے بڑا پیچیدہ بنا کر عوام الناس تک پہنچا دیا ہے۔ پھر المیہ یہ ہے کہ جب اصل دین کی حقائق کو لوگوں تک جب پہنچایا جاتا ہے تو اس کو وہ لوگ غلط اور خارج الدین سمجھتے ہیں یا جو شخص صحیح عقائد کے ساتھ مدلل گفتگو کر رہا ہوتا ہے اس کو غلط سمجھتے ہیں۔
By: Sheikh Mohammad Danish, Karachi on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
بھائی آصف انصاری صاحب ہماری اصل مشکل ہی فرقہ بازی ہے جو ہمیں تحقیق کی توفیق ہی نہیں دیتی۔ الله ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور صحیح دین کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے آمین
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
والسلام بھائی محمد فاروق،
جناب، مسلک یا فرقہ تو کوئی بھی ٹھیک نھیں اللہ فرماتے ہیں،
سُوۡرَةُ الحَجّ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
(اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اُسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے ) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں۔ اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو اور خدا کے دین کی (رسی کو) پکڑے رہو۔ وہی تمہارا دوست ہے۔ اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے (۷۸)۔

سُوۡرَةُ الاٴنعَام

اے نبی) جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا (۱۵۹) اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا (۱۶۰) کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے (۱۶۱)۔

سُوۡرَةُ الرُّوم
۔ (مومنو) اُسی (خدا )کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا (۳۱) (اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے (۳۲)

یعنی فرقہ پرستی شرک ھے،

سُوۡرَةُ البَقَرَة
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے) (۱۷۰)۔

مزید آپ نے بعد از نماز سلام کا پوچھا ھے تو، یہ کہیں سے بھی ثابت نھیں ھے،
درود شریف کے بارے میں تو آپ پڑھ ھی چکے ھیں، کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں جاتا ھے،
محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے دعا بن کر،
تو پھر بعد از نماز سلام کیوں،
دراصل یہ تمام، بدعات صرف فرقہ پرستوں میں پائی جاتی ھیں، کہ جو مفتوں میں اسقدر مشغول ھو چکے ہیں کے انہیں دین میں تحقیق کی فرصت ھی نھیں ھے۔
دعا ھے کہ اللہ ھمیں دین کو خرافات سے خالص کرنے، قرآن کو سمجھنے، عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین،
مزید کے لیے اپنا ای میل دے دیجیے گا۔
By: Asif Ali Ansari, karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
Aslam o alikum janab main ap se ye poochna chata hun kon sa maslak theek hai kis par amal karin deoband ya koi or is ki samj nahin ate ap behtar mashwara den muj ko acha namaz ke baad salat parna chaiye deoband main nahin parte is ka mashwara de kya karna chaiye
By: muhammad farooq, lahore on Oct, 13 2010
Reply Reply
0 Like
کمنٹ نمبر ١٩ میں جناب جبران بیگ نے بہت ہی اچھے پوائنٹ پہ بات کی ہے کہ ہر درود کی ابتدا ہی
اللھم سے ہوتی ہے تو یہ اللہ سے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی، محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، نہ کہ اس دعا میں ہم نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اب ہر گروہ اور فرقہ کا اپنا ہی عقیدہ ہے، اللہ ہم سب کو قرآن سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے، آمین
By: Asif Ali Ansari, karachi on Oct, 10 2010
Reply Reply
0 Like
بے حد محترم جناب کا شف صاحب۔ اسلام علیکم کاشف صاحب یہ دیکھ کر بہت ہی افسوس ہوا ہے کہ لوگ بے پنہاں شانوں والے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں درود پاک جیسی عظیم ترین عبادت پر بھی بحث و تکرار کر رہے ہیں کہ یہ وہ کام ہے کہ الله کریم نے فرمایا کہ میں خود اور میرے فرشتے نبی ( صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی نبی ( صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ کاشف صاحب یہ اپنا اصل چہرا ظاہر کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ خالی درود پر اتفاق نا کرو یہ کبھی جان ہی نہیں سکتے درود پاک کی اہمیت کو یہ سب اعتراض کرنے والے لوگ جان ہی نہیں سکتے جہاں رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کی بات آئے تو یہ محتلف طریقوں سے اسکی نفی کرنے میں تلے رہتے ہیں ۔
الله تعالیٰ نے جہاں ہمیں درود پاک کا حکم دیا وہاں ہی ہمیں سلام کا حکم بھی دیا ۔ سلام کس کو کہا جاتا ہے ہر عقل رکھنے والا یہ جانتا ہے اسے سلام کہتے ہیں جو سن سکے۔ اب دیکھیے نہ فرض کریں کہ تین کلومیٹر رقبے پر ایک قبرستان ہے ہم وہاں جا کر ایک دفعہ ہی کہتے ہیں اسلام علیکم یا اھلل قبور تو یہ سلام اس تین کلو میٹر میں جتنے بھی دفن شدہ ایک کونے سے دوسرے تک سب سن لیں سبکو ہماری آواز پہنچے اور وہ سب سلام کا جواب بھی دیں یہ تو عام قبرستان جہاں مومن بھی ہوں گے اور عام مسلمان بھی وہ سب سن لیں لیکن جب ہمارے بے پنہاں شانوں والے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں درود پاک اور سلام کی باری آئے تو اس پر بحث شروع کر دیں دلیل مانگنا شروع کر دیں افسوس بے حد افسوس یہ تو سب الله کریم کی نوازشات ہیں جسے چاہے نواز دے ایک بظاہر زندہ انسان ہے اس کے کان بھی سلامت ہیں پر الله نے اسے سننے کی قوت سے محروم کیا ہے اور وہ سن نہیں سکتا کسی کو قبر کے اندر سنا دے یہ تو الله کریم ہی کا کام ہے نا بات ختم کروں گا کاشف صاحب اب ان عتراض کرنے والوں کو چاہئے جتنی مرضی دلیلیں دیں یہ کبھی نہیں مانیں گے

دعا کا طالب وہ سن نہیں سکتا
By: Muhammad Qasim Ali, Islamabad on Oct, 04 2010
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم محترم ۔۔
میں پھر کہتا ہوں اتباع رسول صلی الله و علیہ وسلم ہی نجات کا آخر سہارا ہے۔ رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرو۔ خرافات سے اجتناب کرو۔ الله ذوالجلال کے قہر سے بچ جاؤ گے
By: Sheikh Mohammad Danish, Karachi on Oct, 04 2010
Reply Reply
0 Like
رضا صاحب جس مکتبہ فکر سے آپ کا تعلق ہے وہ کم از کم مسلک دیو بندی سے ہر گز مختلف ہے۔ دیو بندی مسلک میں شرک و بدعت کی صریحاً کوئی گنجائش نہیں ۔ الم تر اس بات کو ہرگز ظاہر نہیں کرتا کہ واقع پر محبوب صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے یہی غلط نظریہ ہے اور یہی گمراہی ہے۔

دانش صاحب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ لاعلمی کا اظہار بھی آدھا علم ہے، نا کہ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کیلئے زبردستی مفروضے گھڑنا جو کہ آپ ہمیشہ سے کرتے ہیں اپنی جانب سے قرآن کا ترجمہ کرنے سے بہتر ہے بندہ خاموش رہے نا کہ اپنی بڑائی کی خاطر نت نئے ترجمے کرنا یہ دنیا عارضی ہے بات کرتے ہوئے سوچ لیا کریں کہ کہیں گستاخی کے مرتکب تو نہیں ہورہے
By: raza un nabi, karachi on Sep, 30 2010
Reply Reply
0 Like
درود مصطفیٰ صلی الله و علیہ وسلم پر جتنے بھی بھیجے جائیں کم ہیں لیکن کیا ایک طرف درود بھیجے جائیں مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم پر اور دوسری طرف محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر نا چلا جائے اور غیر شرعی کام کریں تو کیا وہ آخرت میں مصطفی ٰ صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرآور ہو سکتا ہے۔ اتباع رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہی ہے جنت کے راستے جس سے الله تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی نا فرمانی گویا الله کی نا فرمانی۔
By: Sheikh Mohammad Danish, Karachi on Sep, 29 2010
Reply Reply
0 Like
جناب کاشف صاحب صرف درود پر ہی اکتفا نا کریں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دراصل اتباع ہی آخرت میں سرخرو ہونے کی دلیل ہے۔ انسان رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا رہے اور اپنے عقیدے کی روشنی میں الله اور اس کے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا جائے اور حق بات کی پزیرائی کے بجائے بے بنیاد اور فرسودہ من گھڑت خیالات کے تحت جو عقیدہ نظام تجویز کیا ہے اس پر عمل کر کے کیا کوئی آخرت سنوار سکتا ہے؟

محترم بابر صاحب صرف درود پر اکتفا کرنے کے لیے بھی ایک بڑا مقام و منزل درکار ہوتی ہے۔ لاکھوں مسلمان ہیں دنیا میں ان میں سے کتنے ہوں گے جو ہر وقت صلی اللہُ علی النبی الامی وآلہ واصحابہ وبارک وسلم پر درود بھیجتے ہوں گے۔ صرف وہی جن کو اللہ عزوجل ہدایت عطا فرماتا ہے۔ اور بیشک جن کو ہدایت ملتی ہے وہی درود کی قدرو قیمت جانتے ہیں۔ مییرے بھائی دن میں ٥ وقت ہی نمازیں پڑھتے ہو نا آلحمد اللہ سب ہی پڑھتے ہیں۔ جسکو اللہ نے ہدایت دی وہ وہ پڑھتا ہے۔ لیکن قرآن میں اللہ عزوجل نے خود فرمایا ہے کہ تم میں اور میرے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں تو تم بھی نبی کریم پر درود بھیجو۔ سوچیں ذرا دنیا کے مٹھی بھر مسلمانان زیادہ ہیں کہ فرشتے۔ اور ایک اور بات نبی کریم کا اپنایا ہوا کام اگر ہم کریں تو سنت نبوی ٤٠ شہیدوں کو ثواب اور اگر جو کام میرا رب اللہ ہر وقت کرتا ہو وہ ہم بھی کریں تو کتنا اجر۔ حساب کرنا آج رات تو۔ اللہ آپ کو صراط مستقیم عطا فرمائے۔ لکھنے کو ہزاروں صفحے لکھ ڈالوں اپنے پیارے نبی کی شان و درود میں لیکن آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
By: Kashif, Kuwait on Sep, 27 2010
Reply Reply
0 Like
رضا صاحب جس مکتبہ فکر سے آپ کا تعلق ہے وہ کم از کم مسلک دیو بندی سے ہر گز مختلف ہے۔ دیو بندی مسلک میں شرک و بدعت کی صریحاً کوئی گنجائش نہیں ۔ الم تر اس بات کو ہرگز ظاہر نہیں کرتا کہ واقع پر محبوب صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے یہی غلط نظریہ ہے اور یہی گمراہی ہے۔
By: Sheikh Mohammad Danish, Karachi on Sep, 27 2010
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ