مقبوضہ کشمیر کے شہیدوں کا لہو سیاسی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویہ کیلئے سوالیہ نشان ہے؟

(Sardar Asghar Ali Abbasi, )
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ماضی میں پیلٹ گن اور پاواشیل کے استعمال پر عالمی برداری تو نہیں مگر چند سنجیدہ حلقوں نے شدید تشویش کااظہار کیا تھا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ حریت رہنماؤں پر بد ترین تشدد اور یاسین ملک پر اتنا تشدد کے انکی طبیعت بگڑ گئی پر کسی کو توفیق نہیں ہو سکی ماسوائے چند شخصیات کہ اس پر اپنی لب کشائی کر سکیں مگر یہ سلسلہ تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا بھارت ہر آنے والے دن کے ساتھ کشمیریوں پر اپنی بربریت کی انتہاکر رہا ہے حال ہی میں اس نے بجلی کا جھٹکا دینے والے ہتھیار’’لارڈ‘‘ کا استعمال بھی شروع کر دیا یہ ہتھیار ہائی وولٹیج بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ مہلک ہتھیار بہت سارے معصوم کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرے سے دو چار کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کشمیری ماؤں ،بہنوں ،بیٹوں ،بیٹیوں اوربزرگوں کا شدید تکلیف سے دو چار کر سکتا ہے جن کو دل کا مرض لاحق ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک عالمی تنظیم کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس ہتھیار کے استعمال سے اب تک500سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔یہ ہتھیار نہ صرف دل بلکہ آنکھوں میں زخم کا باعث بھی بنتا ہے اسکے ساتھ ساتھ اس سے پیدا ہونیوالے کرنٹ کے باعث پھیپھڑوں کا بند ہونا اورسر پر چوٹیں بھی آتی ہیں ۔

قارئین یہ ایک چھوٹی سی تصویر کشی تھی بھارتی بربریت کی اس سے قبل بھی میں متعدد تحریروں میں بھارتی بربریت کو آپکے گوش گزار کر چکا ہوں مگر آج تک کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بس بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اس بربریت کیخلاف مزاحمت کا انداز بدلتا جا رہا ہے ۔

بھارت اس بار وکٹ کے دونوں طرف انتہائی دیدہ دلیری سے کھیلتا نظر آرہا ہے ماضی میں بھارتی فوج کی پتلونیں پانی پانی ہو جاتی تھی جب سرحدی کشیدگی بڑھتی تھی مگر اب یہی بزدل دشمن بزدلانہ حرکتوں سے اجتناب نہیں کرتا -

قارئین……!! سوچنا یہ ہے کہ بھارت کے اند یہ اتنی دیدہ دلیری کیوں اور کس طرح آئی ہے کہ ایسا ملک جسے اپنے ملک میں موجود مسائل سے ہی فرصت نہیں کس طرح اب ایک جانب معصوم کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کرنے اور دوسری جانب وطن عزیز پاکستان کی سرحدوں پر موجود پاک فوج کے جوانوں پر چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کی مدد سے فائرنگ کر کے سرحدی خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے ۔اگر ہم بغور دیکھیں تو بھارت جب سے معرض وجود میں آیا ہے تب سے لے کر اب تک وہاں اپوزیشن اور حکومت اپنے اپنے حصار میں رہ کر کام کرتی نظر آئی ہے اور یہی جمہوری رویہ ہے جس کے باعث آج بھارت جو ایک بزدل اور مکار دشمن ہے سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ رویوں کے باعث ایک نئی پوزیشن پر کھڑا ہو گیا ہے ہم چاہے اس پر جیسے مرضی تجزیئے کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں موجود سیاسی جماعتوں کے جمہوری رویئے نے بھارت کو فائدہ دیا ہے ۔اب دوسری جانب وطن عزیز میں موجود جمہوری کلچر کا حال اگر دیکھیں تو چھوٹا سا بچہ بھی آگ بگولہ نظر آتا ہے قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاستدان ہر آ نے والے دن کے ساتھ غیر سنجیدہ رویئے کے مرتکب نظر آتے ہیں اور آمر پر تنقیدی وار کرنے والے سیاستدانوں کے اپنے اندر جمہوری رویئے کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آتی چند ایک سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے جمہوری کلچر پر ذرا غور کریں کیا پیپلز پارٹی میں بھٹو خاندان کے علاوہ کسی اور کو پارٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے نامزد کیا جا سکتا ہے یا پھر تحریک انصاف میں عمران خان کی جگہ کوئی اور پارٹی چیئرمین ہو سکتا ہے یا پھر مسلم لیگ(ن) میں نوازشریف یا شہبازشریف کی جگہ کوئی اور پارٹی چیئرمین بن سکتا ہے تو یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگااسی طرح دیگر جماعتوں کا حال ہے سبھی کا نام اس لئے نہیں لینا چاہتا ہے کہ مختصر مفہوم اختصار میں بدل جائے گاصرف پاکستان نہیں اگر آپ آزاد کشمیر میں موجود سیاسی جماعتوں پر بھی نظر دوڑائیں تو وہ سیاسی نہیں بلکہ شخصی جماعتوں کے طور پر نمایاں نظر آتی ہیں اور ہر جماعت کسی ایک شخصیت کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے ۔

قارئین…………!! جس ملک میں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر نہیں لا سکتیں اور جن سیاسی جماعتوں میں چیئرمین شپ کیلئے یا پارٹی سربراہ ہونے کیلئے کسی انٹر اپارٹی الیکشن یا کسی میرٹ یا کسی قابلیت کا ہونا ضرور ی نہیں ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمہوریت ہی بہترین راستہ ہے کا بار بار درس دینا دراصل جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہے یہ تو بس الفاظی جنگ ہے حقیقت میں یہ تمام جماعتیں دراصل پارٹی کے اندر کسی انٹر ا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی حقیقی جمہوریت کو پارٹی کے اندر دیکھنا چاہتی ہیں تو پھر یہ کس جمہوریت کی بات کرتی ہیں اگر ان میں سے چند پارٹیاں انٹر پارٹی الیکشن کی بات کرتی ہیں تو وہ بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے بلکہ وہ تو انٹر پارٹی الیکشن کا مذاق ہے ۔

جس ملک میں اس طرح کی غیر سنجیدہ سیاسی جماعتیں ہوں جو نہ تو داخلی محاذ پر اکھٹی نظر آئیں اور نہ ہی خارجی محاذ پر بلکہ صرف اور صرف اکٹھی نظر آتی ہیں جب اسمبلی کے اندر ان سیاسی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہو یا پھر دیگر الاؤنسز کی بات اس موقع پر سب جماعتیں متحد نظر آتی ہیں تو پھر اس کا بخوبی اندازہ سبھی لگا سکتے ہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں وطن عزیز کو استحکام کی شاہراہ پر چڑھا رہی ہیں یا پھر اپنی ہی حوص اقتدار کیلئے ایک دوسرے پر چڑھائی میں مصروف ہیں ۔

قارئین ……!! میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم بد قسمت قوم ہے یا پھر بیوقف قوم جو ایسی جماعتوں کو اقتدار میں لانے کیلئے ہر بار تیار ہو جاتی ہے جن جماعتوں کے قائدین سر عام جھوٹ اور منافقت پر مبنی سیاسی منشور کے زیر سایہ اپنے ایجنڈوں کی تکمیل میں کوششاں نظر آتے ہیں ۔وطن عزیز میں کوئی ایک جماعت بھی نظر نہیں آتی جس کے بارے میں کہا جائے کہ اس کے قائدین جھوٹ سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں ایسے ایسے جھوٹ وطن عزیز کے بڑے بڑے قد آور قائدین کے لبوں سے ہماری حس سماعت تک پہنچتے ہیں کہ شرم کے مارے ڈوب مرنے کو دل چاہتا ہے مگر عوام بھی کیا کریں جس ریاست میں وہ رہتے ہیں وہ ریاست اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی اور اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے اس لئے بیچارے عوام شرم سے ڈوب مر بھی نہیں سکتے اور عوام کی یہ سوچ سیاسی جماعتوں میں باہم عیاں ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں جھوٹ کا کلچر عام ہو چکا ہے وطن عزیز میں موجود چند سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جہاں پر جھوٹ کی شرح کم ہے مگر جھوٹ کا مکمل خاتمہ کہیں بھی نہیں ۔

قارئین…………!! اب بھارتی جارحیت ہو یا پھر کشمیری عوام پر ظلم و ستم یا وطن عزیز میں دہشتگردی یا پھر انتشاری ماحول کسی کو اس سے کیا لینا دینا یہاں تو سب ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔اب بات ہے مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی پرچم سینے پر سجا کر جان دینے والے کشمیریوں کی کہ وہ پاکستانی پرچم سے اتنی والہانہ محبت کیوں کرتے ہیں اسکی وجہ یہ جماعتیں نہیں بلکہ اس کی وجہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا وژن ہے اگر موجودہ سیاسی کلچر کو کشمیری عوام حقیقت پسندی کی عینک سے جان لیں تو وہ توبہ توبہ کرتے بھاگ جائیں ۔یہ اتنی غیر سنجیدہ جماعتیں ہیں کہ اگر کسی دہشتگردانہ کارروائی کے بعد جائے وقوعہ پر جائیں تو وہاں بھی سیاسی بیان بازیاں کرکے قوم کو تقسیم کرنے کے درپے نظر آتی ہیں آخر یہ سیاسی جماعتیں کیا چاہتی ہیں ۔…………عوام کویہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ عوام ان غیر سنجیدہ سیاسی جماعتوں کے رویئے کے بعد اپنا رد عمل2018ء کے انتخابات میں ووٹ کی طاقت سے دیں اور تمام ایسی سیاسی جماعتوں کو شرمندگی سے دو چار کریں ۔

قارئین……!!دوسری جانب بھارتی جارحیت کیو جہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ناکام سفارتکار ی ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی اگر یونہی رہی اور اس میں تبدیلی نہ کی گئی اور بھارت کو سمجھداری سے سفارتی محاذپر جواب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے بھارت نے اس وقت افغانستان کو پرو انڈیا افغانستان بنا رکھا ہے جس کے اثرات ہم آئے روز مختلف جگہوں پر دہشتگردی کی صورت میں دیکھتے آرہے ہیں بھارت نے انتہائی چالاکی کے ساتھ اپنے سفارتی محاذ کو اور خارجہ پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے ہمارے ہی تیار کئے گئے مجاہدین کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور یوں آج پاکستان کو خارجی محاذ اور سفارتی محاذ پر ناکامی سے دو چار کرنے کے بعد ہمارے تیار کئے گئے طالبان کو ہم پر حملہ آور کروا رہا ہے۔اور امریکی انتخابات کے بعد بھارت مزید تیزی سے سفارتی اور خارجی محاذ پر اپنی پالیسیاں از سر نو ترتیب دے رہا ہے پاکستان کو بھی چاہئے کہ جلد ازجلد اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتی محٓاذوں پر نئی حکمت عملی ترتیب دے اور دنیا بھر میں بھارتی جارحیت اورکنٹرول لائن کی خلاف ورزی کو فلیش کرے وگرنہ ایک بد معاش،دہشتگرد ریاست بھارت معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کیخلاف مکارانہ چالوں میں کامیابی حاصل کرسکتاہے۔ہمیں گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاح کے خاتمے کیساتھ ساتھ دہشتگردی کیخلاف ون ونڈو آپریشن تیزکرنا ہوگا اور نومنتخب امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے تک اپنی خارجہ پالیسی کو مؤثر بنا کر ٹرمپ تک پہنچانا ہوگا ۔

قارئین……!! کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ جو کشمیری پاکستانی پرچم میں اپنی نعشوں کو لپیٹ کر پاکستان سے محبت کا دم بھر رہے ہیں انکی لاکھوں قربانیوں اور بھارتی بربریت کا پردہ فاش کرنے کی بجائے ہمارے سیاستدان آج مختلف لیکس پر متوجہ ہیں اور کشمیریوں کی خون میں لت پت پاکستان پرچم میں لپٹی نعشیں ان سیاستدانوں سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ کیا پاکستان سے محبت کرنے اور اس سبز پرچم کو اپنے خون سے لہو رنگ کرنے کی ہماری قربانیوں کا ثمر یہ ہے کہ آپ ہمارے اس خون اور بھارتی درندگی کیخلاف سب اکھٹے ہو کر دنیا بھر میں ہمار مقدمہ لڑیں یا پھر ایک دوسرے کیخلاف سیاسی بیان بازیاں کریں ۔ہماری حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے ۔بے گناہ کشمیریوں کا خون ہر روزباقاعدگی سے مقبوضہ کشمیر کی گلیوں اور بازاروں میں ٹپک رہا ہے اور خون کا ہر قطرہ پاکستانی حکمرانوں ،پاکستانی سیاسی جماعتوں کے سامنے حیرت کی تصویر بنا نظر آرہا ہے ۔حکمران اور اپوزیشن بچیں اس وقت سے کہ جب کوئی ٹرمپ جیسا شخص خاموشی سے ان کی کرسی اقتدار کو اٹھا کر لے جائے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Asghar Ali Abbasi

Read More Articles by Sardar Asghar Ali Abbasi: 26 Articles with 10737 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2016 Views: 244

Comments

آپ کی رائے