عالمِ اسلام سے بچی کچی دولت ہڑپنے ٹرمپ کی نئی چال ۔؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
نومنتخبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے سے قبل انتخابی تقاریر میں مسلمانوں کے خلاف جو نسل پرستی اورتعصب پرستی پر مبنی بیانات دیئے تھے اس سے انحراف کرتے ہوئے تمام امریکیوں کو اتحاد کے ساتھ امریکہ کو عظیم بنانے کی بات کررہے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنوری میں اپنے عہدے صدارت پر فائز ہونے کے بعد مشرقِ وسطی کے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کریں گے یا پھرسابقہ امریکی صدور و دیگر مغربی یوروپی ممالک کے حکمرانوں کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے خطے کے حالات کو یوں ہی چھوڑ دیں گے تاکہ امریکہ اپنی اجارہ داری جاری رکھتے ہوئے عالمی سطح پر مضبوط ومستحکم دکھائی دینے کے لئے عالمِ عرب کی بچی کچی معیشت کو بھی ہڑپ کر انہیں کنگال کردے۔ امریکہ کی پالیسی سے متعلق ہر کوئی ذی شعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ اپنے مفاد کی خاطر ہر ممکنہ اقدامات کرتا ہے اور جب اسے اپنے مفاد میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو اس کا ساتھ دینے والے کوہی نظرانداز کردیتا بلکہ وہ اسکا ساتھ دینے والے کو کسی قابل نہیں رہنے دیتا۔ ماضی میں مردِ آہن ِصدام حسین، اسامہ بن لادن وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں۔ امریکہ کی ایما پر عراق نے ایران سے دس سال تک جنگ لڑتا رہا یہ جنگ ستمبر1980سے اگسٹ1988ء تک جاری رہی اور کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی۔ دس سال جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں ممالک کا کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔
 
1990ء میں عراقی صدرصدام حسین نے کویت میں اپنی فوجیں اتار کرکویت پر قبضہ کرلیا ، کویتی حکمراں صباح الجابر الصباح راتوں رات سعودی عرب پہنچ گئے۔ عراق کا الزام تھا کہ کویت اس کا تیل چوری کررہا ہے،ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے سے پہلے امریکی سفیر نے صدام حسین کو یقین دلایا تھا کہ عرب تنازعات میں امریکہ نہیں پڑے گا ، سقوط کے بعد امریکی صدر جارج بش سینئر نے سعودی عرب میں اپنی فوجیں جمع کیں اور عراق پر حملہ کرکے کویت کو عراق سے آزادی دلائی۔ امریکی قیادت میں 34ممالک کے اتحاد نے عراق پر خطرناک فضائی حملے کرکے عراق کو تباہ و برباد کردیا اور عراق کی عظیم تاریخی عمارتوں اور تاریخ کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی۔ عراق کا دورہ کرنے والے صحفیہ نگاروں کے مطابق صدرام حسین نے آگلے دس برسوں میں عراقی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ،امریکی اتحاد نے جس طرح عراق کو تباہ و برباد کیا تھا اس تباہی و بربادی کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے صدام حسین نے عراق کو پھر سے ایک جہت دیتے ہوئے شاندار عمارتوں کی تعمیر و ترقی کی راہیں فراہم کیں اور ایک نیا عراق دکھائی دینے لگا۔ صدر عراق صدام حسین کی بہترین کارکردگی امریکہ اور اسکے حلیف ممالک کیلئے دوبارہ کھٹکنے لگی۔ عراق پر الزامات عائد کرکے پھر سے ایک مرتبہ 2003میں امریکہ نے خطرناک فضائی کارروائی کا آغاز کیا اور یہ جنگ 2011تک جاری رہی ۔ اس جنگ میں چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ کروڑوں کی املاک تباہ و برباد ہوئیں ۔ عراقی معیشت مکمل تباہ و برباد ہوگئی۔ اس جنگ کی وجہ سے عراق اور مشرقِ وسطی میں مظلوم مسلمانوں میں امریکہ، مغربی و یوروپی ممالک اور دشمنانِ اسلام کے خلاف جہاد کا جذبہ جاگ اٹھا۔ مختلف ناموں سے جہادی تنظیمیں جنم لینے لگیں ان ہی میں بعض شدت پسند تحریکیں بھی اپنا اثر دکھانے لگیں ۔ شدت پسند مختلف مقامات پر خودکش حملے، فائرنگ، بم دھماکے وغیرہ کرکے عام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنے لگے۔امریکہ اور دیگر مغربی و یوروپی ممالک عراق میں شیعہ سنیوں کے درمیان دشمنی کو ہوا دینے لگے اور آج عراق میں شیعہ سنیوں کے درمیان آئے دن ایک دوسرے پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ 1990اور 2003کی جنگوں نے عراق ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کو متزلزل کرکے رکھدیا ہے۔ آج ملک شام میں صدر بشارالاسد کی فوجیں جس طرح اپوزیشن اور شدت پسند تحریکوں کو ختم کرنے کے نام پر عام سنی مسلمانوں کا قتلِ عام کررہی ہے اس کا مشاہدہ عالمی سطح پر کیا جارہا ہے۔ بشارالاسد کے خلاف ایک طرف سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک امریکہ اور مغربی ویوروپی طاقتوں پر زور ڈال رہے ہیں تو دوسری جانب روس اور ایران کی جانب سے بشارالاسد کو مکمل فوجی ساز و سامان اور ہتھیارہی نہیں بلکہ فوج کا تعاون بھی حاصل ہے۔ شام میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے کئی علاقوں پر قبضہ کی ہوئی ہے۔ عراقی شہروں پر قابض ہونے والی داعش جس نے موصل میں اپنی خلافت کا اعلان کیا اور چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کرلیا۔ آج پاکستان، عراق، شام،افغانستان، مصر، ترکی، یمن ، سعودی عرب وغیرہ میں داعش کسی نہ کسی طرح دہشت گردانہ حملوں کے ذریعہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ عراق کے شہر موصل میں عراقی فوج گذشتہ ایک ماہ سے صرف موصل کوچند گھنٹوں میں حاصل کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن ایک ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل کوعراقی فوج حاصل نہ کرسکی، ہوسکتا ہے کہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں داعش سے عراقی فوج موصل کو حاصل کرلے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا داعش سے موصل حاصل کرنے کے بعد موصل میں امن و آمان قائم ہوجائے گا۔؟ دیگر شہروں بشمول نمرودمیں بھی عراقی فوج قبضہ کرنے کی میڈیا کے ذریعہ اطلاعات پہنچ رہی ہے ۔ ادھر شام میں بھی شامی، روسی، فوج اور شیعہ ملیشیاء داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو پیچھے ڈھکلنے کی خبریں ہیں لیکن ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد تجزیہ نگار اور خود امریکی و برطانوی افسروں اور حکمرانوں کا کہنا ہیکہ داعش سے چھٹکارہ پانا اتنا جلد ممکن نہیں جتنا کہ وہ سمجھ رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مباحث کے دوران جس طرح مسلمانوں کے خلاف بیانات دے رہے تھے اور امریکہ سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے یا امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے کو بند کرنے کی بات کررہے تھے وہ کامیابی کے بعد بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں انکے بیانات میں وہ مخالفت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ اس سے بعض لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے اندر شاید کچھ بدلاؤ ہوا ہے ، شاید ایسا کچھ نہیں کیونکہ اگر ٹرمپ صدارت کے دوران امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس کے اثرات عالمِ عرب کی وجہ سے امریکی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔ آج سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، کویت، قطر وغیرہ کروڑوں ڈالرز سے فوجی ساز و سامان اور فوجی تعاون امریکہ اور دیگر مغربی و یوروپی ممالک سے حاصل کررہے ہیں۔ اگر جنوری میں عہدہ کا جائزہ لینے والے امریکی صدر اپنے تعصب پرستی، نسل پرستی پر مبنی بیانات پر قائم رہے تو اس سے امریکی معیشت بُری طرح متاثر ہوگی جس کا علم ڈونلڈ ٹرمپ کو ہوچکا ہے یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستی اور تعصب پرستی پر مبنی بیانات کوسوشل میڈیا سے ہٹالیا گیا ہو۔ٹرمپ روس کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹین کی انتخابات سے قبل تعریف بھی کی اور اب ان سے فون پر بات چیت کا آغاز بھی کرچکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی صدارتی انتخابات کے دوران بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی بار بات چیت ہوچکی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی عبوری ٹیم کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور روس کو درپیش مشترکہ خطرات اور چیلنجوں پر گفتگو کی۔گفتگو میں ا سٹریٹجک اقتصادی امور اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ روسی حکام کے مطابق ولادیمیر پوٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی اور نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تمام معاملات گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کا تیقن دیا۔دونوں رہنماؤں نے عنقریب بالمشافہ ملاقات سے بھی اتفاق ظاہر کیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں رہنماؤں اور ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کا اثر مشرقِ وسطی پر بھی پڑسکتاہے۔ امریکہ ایک طرف سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرتا دکھائی دے رہا ہے تو دوسری جانب روس شام میں بشارالاسد کا ساتھ دے رہاہے ۔ یمن میں سعودی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کو امریکی سرپرستی حاصل ہے جبکہ شام میں داعش کے خلاف امریکی اتحاد کے ذریعہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اگر ٹرمپ اور پوٹین کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات عالمِ اسلام پر پڑسکتے ہیں ۔ لیکن یہ اثرات عالم اسلام پر مثبت نہیں بلکہ منفی پڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ عالمی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ عالمِ اسلام میں امن و آمان قائم ہو۔ اگر عالمِ اسلام کے ان ممالک میں امن و آمان قائم ہوجاتا ہے تو پھر ان عالمی طاقتوں کے کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار لینے والا کون ہوگا۔؟ ایک طرف ایران پر سے معاشی تحدیدات ختم کرکے عالمی طاقتوں نے اسے کچھ مواقع فراہم کئے ہیں تو دوسری جانب یمن کی جنگ مسلط کرکے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی معیشت کو تباہ و تاراج کرنے کی کوشش کی گئی جس میں دشمنانِ اسلام کامیابی حاصل کررہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ بھی جنوری 2017میں امریکہ کے صدر کے عہدہ کا حلف لیں گے جیسا کہ ماضی میں جارج ایچ ڈبلیو بش، جارج ڈبلیو بش، بل کلنٹن او راوباما نے لیا تھا۔ ان امریکی صدور کے دورِ حکمرانی میں جس طرح عالم اسلام کو تباہ و برباد ہوتے دنیا نے دیکھا ہے شاید ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں بھی اس سلسلہ کو جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔ مظلوم انسانیت کی آہیں رائیگاں نہیں جائیں گی ، امید ہے کہ ظلم و بربریت کا یہ دور جلد یا دیر ختم ہوجائے ، ان معصوم ، بے قصور بچوں، مرد و خواتین اور ضعیفوں کی دعائیں کارگر ثابت ہونگی اور عنقریب اسلام کی حقانیت اور صداقت کا مینارہ نور روشن و جاویداں بن کر بین الاقوامی سطح پر جگمگا اٹھے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100285 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2016 Views: 653

Comments

آپ کی رائے