عادت سے مجبور

(jahangir jahejo, Hyderabad)
اج صبع گھر سے جلدی نکلنا ہوا گھر سے تھوڑی دور جا کر روڈ پر ایک ٹریفک سنگل پر پہنچا تو کچھ بچے کپڑے جس سے گاڑی صاف کی جاتی ہے فروخت کر رہے تھے کچھ فقیر مانگ رہے تھے ایک عدد پولیس ٹریفک کا حوالدار اپنی موجودگی کا احساس کچھ اس طرح دلوا رہا تھا بڑی گاڑی کو سلام اور فقیروں اور کپڑے بیچنے والے بحچو کو دور کر کے گاڑی کا راستہ بنا تھا جب گاڑی کو راستہ مل جاتا تو ایک سیٹی مار کے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا بول تھا ابھی یہ سب دیکھ ہی رہا تھا حولدار کی ایک اور سیٹی کی آواز میرے کانوں میں گونجی ایک موٹرسائیکل سوار کا گزار ہو رہا تھا اس کو سائیڈ پر روکنے کا اشارہ ہوا حوالدار صاحب اس پر چڑھ دوڑے وہ جناب کچھ کم نہیں تھے اتنی دیر میں ایک انڈے والا اپنا سازو سامان لے کر گزر رہا تھا حولدار صاحب نے اس کو اپنے حساب سے اشارہ کیا جس کو پہلے اشارہ کیا ان جناب نے کچھ جیب میں ڈال دیا حولدار نے ایک مسکراہٹ دی اس نے سلام کیا چلتا بنا انڈے والے پر حوالدار صاحب چڑھ دوڑے اس نے موٹرسائیکل کے کاغذ نکال کر دیے مگر حوالدار صاحب میں نہ مانوں کی رٹ پر تھے میں نے سوچا پتا کرو کیا ماجرہ ہے لہذا میں نے گاڑی سائیڈ کی جا کر پتہ کیا ماجرا کیا ہے انڈے والا پہلے تو گبھرا گیا جب میں نے اس کو سمجھایا کے بھائی میں نہ نیوز والا ہو نہ پولیس والا عام سا انسان ہوں گزر رہا تھا دیکھا سارہ ماجرا سوچا پتہ کرو کیا مسئلہ ہے میرے اسرار پر انڈے والے نے بتایا جناب میرے پاس کاغذ تو ہیں مگر لائسنس نہیں ہے اور اج جو حولدار ہیں وہ مجھے نہیں جانتے ان کی ڈیوٹی اج لگی ہے جو روز ہو تے ہیں وہ مجھے جانتے ہیں شام کو گھر جانے سے پہلے ان کا حساب کر کے جاتا ہو ں میں ایک غریب ادمی ہوں انڈے دکان پر دو گا تو
پسے ملے گے بس حولدار صاحب مان نہیں رہے

صبح کا ٹائم ہے انڈے اپنے ٹائم سے نہ پہنچے دوکاندار سے سننا پڑ جائے گی مالک الگ ناراض ہوگا میں نے پوچھا اتنی پریشانی ہوتی ہے لائسنس بنوا کیوں نہیں لے تھے انڈے والا بولا جنا ب تین سو روز کا ملتا ہے جس میں سے پچاس روپے روز کا حولدار صاحب کا روز کا بتہ ہے ڈھائی سو روپے میں اپنا گزر سفر کرتا ہوں میں نے سوچا حولدار سے پوچھ ؐؐلوں کیوں تنگ کر رہے ہو جانے دو غریب کو میں ابھی بولنے لگا تھا کے حولدار ایک اور موٹرسائیکل والے کے ساتھ بزی ہو گئے جب فارغ ہو گئے میں نے ان کی خدمت میں اپنی درخواست رکھی غریب بندہ ہے شام کو واپسی پر اپ کا جو حساب بنتا ہے وہ دے کر جائے گا حولدار صاحب مجھے قانون بتانے لگ گئے اور فرمان جاری کردیا اپ کو اتنی پریشانی ہے اپ دے دو ہم کو بھی اوپر جواب دے نہ ہوتا ہے حساب میں نے بہت ہی حیرت سے پوچھا اوپر کا کیا مطلب حولدار نے کہا جائے جناب اپنا کام کریں یہ پاکستان ہے ادر سب کچھ اس طرح ہی چلتا ہے میں نے ادر ڈیوٹی لگوانے کے لئے کچھ دیا ہے شام کو حساب سی سے نہ کیا کل مجھے کہی اور ڈیوٹی کرنی پڑ جائے گئی میں اج پورا دن اس بارے میں ہی سوچتا رہا اس ملک میں اتنی کریپشن ہے اگر ہم نہ کریں تو وہ دن ہمارے لئے عجیب ہو گا اور کریپشن پاکستان میں اب مجبوراً نہیں عادتن بھی ہو تی ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: jahangir jahejo

Read More Articles by jahangir jahejo: 8 Articles with 5695 views »
writer.columnist
.. View More
20 Nov, 2016 Views: 1363

Comments

آپ کی رائے