نوٹ کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے

(Dr Saleem Khan, India)
مغربی جمہوریت میں رشوت ستانی سیاستدانوں کی مجبوری ہے لیکن ایک ایسے وقت میں جبکہ وزیراعظم نےکالے دھن کے خلاف دھرم یدھ چھیڑرکھا ہے ۔مودی جی کی ناک کے نیچے دہلی میں اروند کیجریوال ان پر برلا گروپ سے ۲۵ کروڈ رشوت لینے کےشواہد پیش کر رہے تھے ۔ سہارا گروپ سے رشوت لینے کا سنگین الزام بھی مودی پرلگایا گیا اور اس کے ثبوت جلد ہی طشت ازبام کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ الزامات موجودہ ماحول میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں اس لئے کہ فی زمانہ دیش بھکتی کے مرگھٹ پر عوام کو بلی کا بکرہ بنایا جارہا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق نوٹ تبدیلی فیصلے کے بعد ۳۳ لوگ ایک ہفتہ کے اندر اس کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں ہے۔ اخبار نے مہلوکین کے نام اور علاقہ کے علاوہ موت کی تفصیل بھی درج کردی ہے کہ کس کی موت حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب ہوئی ، کس نے مایوسی کے عالم میں خودکشی کرلی اور کون قطار میں کھڑے کھڑے پرلوک سدھار گیا۔

ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں ذرائع ابلاغ کی رسائی بڑے شہروں اور ان کے قرب و جوار تک محدود ہے اور یہ لوگ انہیں علاقوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دوردراز کےعلاقوں میں غربت اور سہولیات کی کمی کے باعث حالات بہت خراب ہیں ۔ دیہاتوں میں اس فتنے کا شکار ہونے والوں کی کمیت اور کیفیت کا اندازہ لگانا بے حد مشکل ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں کو عوام کے مسائل کی نہیں بلکہ اپنی کرسی کی پڑی ہوئی ہے۔ بقول شاعر ؎
نوٹ کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
ووٹ کھو دینے کا افسوس و غم باقی ہے

مودی جی کی گوا والی ہیجانی تقریر کے بارے میں راہل گاندھی نے کہا کہ کل تک جو صاحب ہنستے تھے آج وہ رورہے ہیں ۔ مودی جی کے رونے پر کسی کو افسوس نہیں ہے اس لئے کہ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے لیکن فی الحال تو سارا ملک رورہا ہے ۔ عام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور بڑے سرمایہ داروں کے ہونٹوں پر ہنسی ہے جن کا۷ ہزار کروڈ کا قرض اسٹیٹ بنک آف انڈیا نے چپکے سےمعاف کردیا۔ ان خوش نصیب لوگوں میں وجئے ملیا بھی شامل ہے جس کا ایک ہزار ۲۰ کروڈ کا بھلا ہوگیا ۔ یہ وہی وجئے ملیا ہے جو بی جے پی کی مدد سے راجیہ سبھا کا رکن بنا۔ جو وارنٹ کے باوجوددن دہاڑے دہلی سے لندن فرار ہوگیا اور کھلے عام عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرتاہے لیکن سرکار اسے واپس لاکر ملزمین کی قطار میں کھڑا کرنے کی جرأت نہیں رکھتی ۔ سرمایہ داروں پر نظر کرم کا یہ سلسلہ پرانا ہے ۲۰۱۳ ؁ سے ۲۰۱۵؁ کے درمیان ۲۹ سرکاری بنکوں نے ایک لاکھ ۱۴ ہزار کروڈعمداً واپس نہ ہونے والوں کے قرضہ جات معاف کردیئے۔ اس اقدام کو سپریم کورٹ نے بہت بڑا فراڈ قرار دیا اس کے باوجود کسی کا بال بیکا نہیں ہوا۔

ایک طرف نوٹوں کی تبدیلی سے عوام پریشان ہیں دوسری جانب کالے دھن پر قابو پانے کادعویٰ کرنے والی بی جے پی کے رہنما جناردھن ریڈی کی بیٹی کی شادی اس دعویٰ کومنہ چڑھا رہی ہے۔ اس شادی پر خرچ کا تخمینہ ۵۵۰ کروڈ روپئے ہے جس میں سے ۵ کروڈ تو صرف دعوت دینے پر خرچ کئے گئے ۔ کیا یہ ساری رقم ٹیکس ادا کرنے بعد بچائی گئی ہے ؟ اگر یہ کالا دھن ہے تو اس کے خلاف لڑنے والی سرکار کے دیش بھکت جماعت کے سابق وزارائے اعلیٰ یدورپاّ اور شطاران ۵۰ ہزار مہمانوں میں کیوں شامل ہیں جن کی تفریح کیلئے برازیل سے ناچنے گانے والیوں کو بلایا گیا ہے۔ سی بی آئی نے غیر قانونی کان کنی کرنے والےسابق بی جے پی ایم ایل اے کے کالے دھن کا اندازہ ۵ ہزار کروڈ لگایا تھا۔ اس کی زیادہ تر املاک کو ضبط کرلیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ۴۰ ماہ جیل میں رہنے کے باوجود اس کے پاس اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کرنے کیلئے ایسی خطیر رقم کہاں سے آگئی؟ کیا ریڈی کے گھر کا چکر لگانے والے وزیرخزانہ ارون جیٹلی ان سے یہ سوال کرسکتے ہیں؟ یا ان کی خاص معتمد سشما سوراج اس کا جواب دے سکتی ہیں؟ کالا دھن ختم کرنے والی سرکار کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے؟ بی جے پی کے مرکزی وزیر سدانند گوڑا بھی اپنے بیٹے کی شادی پر ایک کروڈ ۳۰ لاکھ خرچ کرچکے ہیں کیا وہ جائز کمائی تھی؟

نوٹوں کی تبدیلی سے رشوت خوری میں کمی کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے اس کی حقیقت مودی جی کی اپنی کرم بھومی احمدآباد کے اندر منظر عام پر آنے والے ایک واقعہ کی روشنی میں دیکھیں ۔ کانڈلا پورٹ کے ایک افسر نے کسی کمپنی سے بجلی کے بل کی ادائیگی کے عوض ۴ لاکھ ۴ ہزار روپئے رشوت طلب کی۔ اس میں سے ۲ لاکھ ۹۰ ہزار کی رقم ۲ ہزار کے نوٹوں کی شکل میں ادا کی گئی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک کھاتے سے ایک ہفتہ کے اندر صرف ۲۴ ہزار نکالے جاسکتے ہیں تو رشوت دینے کیلئے یہ رقم کیسے مہیا ہوگئی ؟ اس کا مطلب صاف ہے بنکوں کے دروازے پر عوام لائن لگا کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان کیلئے وقتاً فوقتاً نئے نوٹختم ہوجاتے ہیں مگر پچھلے دروازے سے یہ ۲۰۰۰ کے نوٹ رشوت دینے والوں کے ذریعہ لینے والوں تک پہنچا دئیے جاتے ہیں ۔ کیا یہی وہ بدعنوانی کا خاتمہ ہے جس کیلئے عوام کو قربانی دینے پر ابھارا جارہا ہے؟ پہلے رشوت لینے والوں کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں یہ نوٹ نقلی نہ ہوں لیکن چونکہ ۲۰۰۰ نوٹوں کی نقل اتارنا مشکل ہے اس لئے وہ بلا خوف و خطر اطمینان کے ساتھ رشوت کا لین دین کرتے ہیں ۔

اروند کیجریوال نے دہلی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں یہاں تک کہہ دیا کہ مودی جی نے اپنی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کے سبب ۸۰ سالہ ماں ہیرا بین کو لائن میں لگوادیا اور انہیں اپنے خوشحال ہونے کا احساس دلا دیا ۔ آج کل کی حکومت حقیقت میں کچھ نہیں کرتی صرف لوگوں کوخالی خولی احساس دلاتی ہیں مثلاً اچھے دنوں کے آنے کا نقلی گمان اور مہنگائی کے کم ہونے کی جعلی اشتہار بازی وغیر ہ ۔ مودی جی پر ماں کی ممتا کے استحصال کا الزام کئی بار لگ چکا ہے۔ وہ اپنی سالگرہ کے دن جب گاوں میں والدہ کا آشیرواد لینے کیلئے جاتے ہیں تو کیمرے کی جانب زیادہ دیکھتے ہیں۔ کیجریوال نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مودی کی جگہ وہ خود ہوتے تو اپنی ماں کے قطار میں جانے سے قبل خود جاکر کھڑے ہوجاتے۔

ہیرا بین کو نوٹ بدلوا نے کی خاطر بنک میں لے جاکر اور ان کی تصاویر کی تشہیر کے ذریعہ جو دیش بھکتی کا تمغہ دینے کی اوچھی حرکت کی گئی اس پر سب اچھا تبصرہ راہل گاندھی نے کیا ۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ جو بات مودی جی نے میری ماں کے بارے میں کہی میں ان کی والدہ کے بارے میں نہیں کہوں گا۔ اس طرح گویا راہل نے کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ دیا۔ مودی جی نے راہل پر چوٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی ماں کی کالی دولت کو سفید بنانے کیلئے وہ بنک کی قطار میں کھڑے ہیں ۔ مودی جی نہیں جانتے تھے کل جب خود ان کی اپنی ماں قطار میں کھڑی ہوگی تو یہ جملہ ان کے گلےکی ہڈی بن جائیگا اس لئے کہ ماں کی دولت کیلئے بیٹے کے لائن میں لگنے سے بدتر یہ ہے کہ بیٹے کی خاطر خود ماں کو قطار میں کھڑا ہونا پڑے اور اس ماں کو جس کا بیٹا گائے کو تک ماں کا درجہ دیتا ہے اور دھرتی کو ماتا کہتا ہے ۔ منور رانا نے شاید یہ شعر ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے؎
سر پھرے لوگ ہمیں دشمن جاں کہتے ہیں
ہم جو اس ملک کی مٹی کو بھی ماں کہتے ہیں
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1201 Articles with 435580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Nov, 2016 Views: 249

Comments

آپ کی رائے