شکریہ راحیل شریف

(faisaljanjua, Rawalpindi)
جنرل راحیل شریف 16جون1956کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں پیدا ہوے۔آپ کا تعلق ایک ممتاز فوجی گھرانے سے ہے۔آپ میجر شبیر شریف شہیدکے بھائی ہیں اور میجر عزیزبھٹی شہیدکے بھانجے ہیں۔آپ نے گریجویشن کے بعدفرنٹیئرفورس رجمنٹ ،کی 6thبٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔نوجوان افسرکی حیثیت سے انفنٹری بریگیڈمیں گلگت میں فرائض سر انجام دییئے۔ایک بریگیڈیئرکے طور پردوانفنٹری بریگیڈز کی کمانڈکی۔آپ ایک انفنٹری ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ آفیسراورپاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ آفیسربھی رہے۔آپ کی ان سب خدمات کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے 27نومبر2013کودو سینئرجرنیلوں پر فوقیت دے کر فوج کا سپہ سالار مقرر کیا۔جس وقت جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں دہشتگردی عروج پر تھی ۔لیکن آپ نے سپہ سالار بنتے ہی سول حکومت کے ساتھ مل کرآپریشن ضرب عضب کا آغاز کیااور دنیا کو یہ باور کروایا کے پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔پھر کراچی کے امن کا مسئلہ بھی د رپیش تھا۔تو جنرل صاحب کراچی والوں کی توقعات پر پورا اترے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کا امن واپس بحال ھو رہاہے اور کراچی کی روشنیاں دوبارہ لوٹ رہیں ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ گزشتہ عیدوں پے ریکارڈ بزنس کیا گیا۔دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔بلوچستان جو کافی عرصے سے اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار تھا۔جہاں علیحدگی کی تحریکیں زوروں پر تھیں۔جنرل صاحب نے آتے ہی سول حکومت کے ساتھ مل کر کمال حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوے دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا۔جہاں پاکستان کا نام لینے پر مارا جاتا تھا۔وہاں پاکستان زندہ باد ریلیاں نکالی جانے لگیں۔پھر آپ کو نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔پھر میاں صاحب کی حکومت نے چائنہ کے ساتھ پاک چائنہ اکنامک کاریڈور شروع کیا۔لیکن یہاں پر سی پیک کی سکیورٹی کا مسئلہ درپیش تھا۔پھر جنرل راحیل شریف صاحب نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔یہ جو اتنے کم عرصے میں سی پیک اپنی کامیابی کی طرف رواں دواں ہے ۔یہ سول ملٹری تعاون کا ہی نتیجہ ہے۔جنرل صاحب نے میاں صاحب کے ہمراہ سعودیہ اور ایران کی کشیدگی کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔جس کا اقرار پوری دنیا نے کیا۔جنرل صاحب کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ آپ نے آرمی کا وہ وقار جو مشرف دور میں کھو گیا تھا۔اس کو بحال کیا۔جنرل راحیل شریف صاحب نے پھر کرپشن کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیاتو کئی مگرمچھ پکڑے گئے ۔لیکن یہ کچھ لوگوں کو ناگوار گزرا ۔تو انھوں نے ایک تقریر میں دل کی خوب بھڑاس نکالی اور اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کر دی ۔لیکن بھر جلد ہی وہ غائب بھی ھو گئے اور جا کر دوبئی سے نمودار ہوے۔سنا ہے آج کل وہ واپسی کی باتیں کر رہے ہیں۔کیونکہ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ قریب ہے ۔لگتا ہے جس دن جنرل راحیل شریف صاحب ریٹائر ھوں گیں ۔انھوں نے ٹکٹ بھی اسی دن کی کروائی ہو گی۔جنرل راحیل شریف صاحب ویسے تو پاک فوج کے پندرھویں سپہ سالار بنے ۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جتنا پیار آپ کو عوام نے دیا ۔اتنا اور کسی کے حصے میں نہیں آیا۔حالانکہ برطانیہ کے چیف آف آرمی سٹاف بھی جنرل راحیل شریف صاحب کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔دل کی بات زباں پر لے آئے اور کہہ دیا کہ جنرل راحیل شریف دنیا کے بیسٹ سپہ سالار ہیں۔جب سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 34ممالک کا اتحاد بنایاتو اسکی سربراہی کی پیشکش بھی جنرل صاحب کو کر ڈالی ۔جنرل راحیل شریف صاحب نے ایک پروفیشنل ادارے کے سربراہ کے طور پر کبھی بھی سیاست میں مداخلت کا نہیں سوچا۔حالانکہ دھرنے کے دنوں میں مواقع ملنے کے باوجود جنرل صاحب نے خود کو سیاست سے الگ رکھا۔جب کچھ لوگوں نے ایکسٹینشن کا کہا تو جنرل صاحب نے انکار کر دیا۔کچھ لوگوں نے کافی کوشش کی کہ جنرل راحیل شریف صاحب حکومت کا تختہ الٹ دیں اور وہ اقتدار میں آنے کے لیے شارٹ کٹ استعمال کر سکیں۔لیکن ان تمام عناصر کی امیدوں پر پانی جنرل صاحب نے پانی پھیر دیا۔کچھ چینلز پر بیٹھے بوٹ پالشییوں نے بھی بہت زور لگایاکہ اس حکومت کا ٹختہ الٹ دیں۔یہ کرپٹ ہیں۔فلاں ہیں فلاں ہیں۔لیکن جنرل صاحب نے وہی کیا جو ایک پروفیشنل فوجی کو کرنا چاھیے تھا۔وہی بوٹ پالشییا طبقہ آج کل جنرل راحیل شریف صاحب کو برا بھلا کہہ رہاہے۔کچھ نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ’’ایک آرمی چیف کو اس کی عوام نے اتنی محبت اور طاقت دی لیکن وہ کرپٹ مافیا کے خلاف کچھ نا کر سکا‘‘۔یہاں پر میں ان مفاد پرست لوگوں کو یہ بتانا چاھوں گا کہ جنرل راحیل شریف صاحب نے وہ سب کچھ کیاجو اس ملک کے لیے بہتر تھا۔یہاں میں یہ ا مید کرتا ہوں کہ جو بھی نیا آرمی چیف آئے گا وہ جنرل راحیل شریف صاحب کے نقش قدم پر چلے گا۔یہاں پر میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ’’شکریہ راحیل شریف‘‘۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: faisaljanjua
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2016 Views: 346

Comments

آپ کی رائے