پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہراقائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہیدکے سر ہے !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
 جن پاکستانیوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام،پاکستان اور پاکستانی عوام کی سربلندی، آزادی اور تحفظ کی خاطر اپنی جان اور مال کی پرواہ کیئے بغیراپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہوئے قربانیاں دیں اور جام شہادت نوش کیا وہ بلاشبہ ہمارا قیمتی اثاثہ تھے جنہیں جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک اور قوم کی خاطربے شمار کارنامے انجام دیے حتیٰ کہاپنی جان تک انہوں نے پاکستان پر قربان کردی۔ گو کہ ہم ذوالفقارعلی بھٹو جیسے عظیم رہنما کوکھوچکے ہیں لیکن ان کی سوچ،نظریے،خدمات اور کردارنے ان کوزندہ جاوید بنا دیا ہے اور وہ مرنے کے 38 برس بعد بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آج بھی4 ،اپریل کو بھٹو صاحب کی برسی بہت اہتمام کے ساتھ منائی جاتی ہے ۔28 مئی کوپاکستان نے چاغی کے مقام پر اٹیمی دھماکے کرکے عالم اسلام کا پہلاایٹمی ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیاجس کی یاد میں ملک بھر میں گزشتہ دنوں’یوم تکبیر‘‘ بھرپور انداز میں منایاگیااورملک بھر میں اس حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد ہو اجبکہ اخبارات و رسائل نے اس یادگار دن کی مناسبت سے خصوصی مضامین اور ایڈیشن شائع کرکے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور پاکستان کے قابل فخر سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کوبھرپور انداز میں خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کیا ۔
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انڈیا کی جانب سے کیئے گئے اٹیمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کانہ صرف خواب دیکھا بلکہ اپنے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے تاریخی بیان دیا کہ ’’ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ایٹمی دھماکے کرکے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم بھی پاکستان کو ایٹمی طاقت بنائیں گوکہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں لیکن ہمیں اپنے ملک کو ہر صورت میں ایٹمی طاقت بنانا ہے خواہ اس کے لیئے ہمیں ایک ہزار سال تک گھاس کھانا پڑے تو ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بن بنائیں گے‘‘۔حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ایک حوصلہ مند اور بہادر عوامی رہنما نے اپنے کہے گئے ان الفاظ کی لاج رکھنے کے لیئے دن رات انتھک محنت اور جدوجہد کی اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے محب وطن اورماہر فن سائنسدان کا انتخاب کیا اور پھر ان دونوں بے مثال شخصیتوں کی شب وروز محنت کی بدولت پاکستان اس قابل ہوا کہ ایٹم بن بنا سکے لیکن بھٹو صاحب کی یہ مخلصانہ اور دلیرانہ کوشش امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھائی اوراس نے ذوالفقار علی بھٹو کو عبرت کی مثال بنادینے کی دھمکی دی لیکن بھٹو صاحب نے اپنا مشن جاری رکھا اور اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوسونپ دی جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لیئے اپنا سکھ چین آرام سب ایک طرف رکھ کر صرف ایٹم بم بنانے کے لیئے شب وروز ایک کردیے جس کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان امریکہ اور بھارت کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے اورآخر کار امریکی سازش کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرلیا اور پھر امریکی اشارے پرفوجی آمر جنرل ضیاالحق نے بھٹو صاحب کو ایک منتازعہ مقدمہ قتل میں ملوث کرکے گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا اورآخر کار اس وقت کی عدلیہ نے حاکم وقت کے دباؤ میں آکر بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنادی اورآخر کار 4 ۔اپریل کو رات کے اندھیرے میں عالم اسلام کے عظیم رہنما ،پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ،قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کوخاموشی سے پھانسی دے کرشہید کردیا گیااور پھر دنیا نے دیکھا کہ ان کو مارنے والے خود مرگئے لیکن بھٹو کا نام اور کام پاکستانی عوام کے دل ودماغ سے نہ نکال سکے۔مردہ بھٹو زندہ بھٹو سے زیادہ اثر انگیز ثابت ہوا یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہر سال ان کی برسی کے موقع پر ان کے کروڑوں عقیدت مند تعزیتی اجتماعات منعقد کرکے بھٹو صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور آج بھی عام انتخابات میں سب سے زیادعہ ووٹ بھٹو صاحب کے نام پر ہی پڑتا ہے جس سے پاکستانی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی اہمیت اور شہرت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایسی دیوانہ وار محبت اور عقیدت قائداعظم کے بعد شاید ہی کسی اور سیاستدان کے حصے میں آئی ہو جوبھٹو صاحب کو ملی ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ، بڑی مشکل سے ہوتاہے ، چمن میں دیدہ ورپیدا

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو اپنے قیام کے 25سال بعد یعنی1973میں ایک ایسا منظم اور مربوط دستور دیاکہ یہ دستور آج بھی پورے پاکستان کی لاج ہے اور اِس کی روشنی میں ملک و ملت کے ترقی و خوشحالی کی راہیں متعین کی جاتی ہیں اور اِسی دستور نے آج پورے پاکستان یعنی وفاق سمیت صوبوں کو ایک اکائی کے طورپر متحدکر رکھاہے اور اِس کے ساتھ ساتھ شہیدذوالفقارعلی بھٹو کا جودوسرا اور بڑا عظیم کارنامہ تھا وہ یہ کہ انہوں نے پاکستان سے کئی گنابڑے اور جارحیت پسنداپنے پڑوسی ملک بھارت کو لگام ڈالنے کے لئے اپنی اولین ترجیحات میں پاکستان کو ایک ایٹمی ملک بنانے کی داغ بیل ڈالی اور بالآخر یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کاہی منصوبہ تھا اور اِن کی ہی انتھک محنت کا ثمر تھا کہ پاکستان 28 مئی 1998میں چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ایک ایٹمی ملک کا درجہ دلوانے میں کامیاب ہواجس سے بھارت کو یہ انتباہ کیا گیا کہ خبردار اگر اْس نے پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھاتو اِس کی آنکھیں نکال لی جائیں گیں۔اوریہی شہید ذوالفقار علی بھٹو تو تھے کہ جنہوں نے ملک میں پہلی بار شراب کی پابندی لگانے اور قادیانیوں کو غیر مسلم کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں جمعہ کے دن مکمل طور پر عام تعطیل کا اعلان بھی کیا یوں اِن کے اِن اقدامات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ ایک اﷲ ، ایک رسول صلی اﷲ علیہ وال وسلم اور ایک قرآن کو ماننے والے پکے اورسچے مسلمان بھی تھے۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم قائد عوام ذوالفقارعلی بھٹو شہید کی شخصیت اتنی پہلودارہے اور ملک و قوم او رعالم اسلام کے حوالے سے ان کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ کسی ایک کالم میں کرنا ممکن ہی نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جنہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور جن کے نام پر آج تک ووٹ دیا جاتا ہے۔بھٹو کے دور میں ہی سب سے پہلے قومی شناختی کارڈز کا اجرا شروع کیا گیا،عالم اسلام کو بھٹو صاحب نے ہی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور لاہور میں عالم اسلام کے رہنماؤں کی پہلی سربراہ کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا،بھٹو صاحب کے دور میں پہلی بار زرعی اصلاحات کا نفاذکیا گیا،1973 کا آئین پاکستا ن بھی بھٹوصاحب کی کوششوں سے ہی بنا اورپاکستان کے اس واحد متفقہ آئین کی تخلیق اور اس کا نفاذ بھی بھٹو صاحب کا ہی کارنامہ ہے ،شراب نوشی پر پابندی اورقادیانیوں کو کافر قرار دینے کے انقلابی اقدامات بھی بھٹو صاحب نے ہی کیئے ،1973 کے آئین میں پہلی بار اردو کوپاکستان کی قومی اور سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا،بھٹوصاحب نے ہی پاکستانی قوم کو قومی لباس شلوار قمیض سے روشناس کروایاجو دنیا بھر میں پاکستانیوں کی پہچان بن چکا ہے ،سستی روٹی اور سستے کپڑے کے پلانٹ بھی سب سے پہلے بھٹو صاحب ہی نے لگائے ۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیئے بنیادی کوششوں کا آغاز بھی بھٹو صاحب کے ہی دور میں شروع ہوا اور بھٹو صاحب نے ہی پاکستان کا سب سے پہلاایٹمی پلانٹ اور ری ایکٹر فرانس کے تعاون سے لگایا جس کے نتیجے میں آج ہمار ملک عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے دشمن اب تک ہمار اکچھ نہیں بگاڑ سکے۔ افسوس کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے مقبول ترین محب وطن سیاسی رہنما ’’بھٹو‘‘کو فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے امریکی اشارے پر اقتدار پر قابض ہوکر ایک نام نہادقتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے نہایت بے دردی اوربزدلی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں پھانسی پر لٹکادیا۔ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے مفادپرست معاشرے میں ذوالفقارعلی بھٹوا جیسے محب وطن رہنما نے جنم لیاجس نے اپنی ساری زندگی عوامی حقوق کی سر بلندی اور پاسداری کے لیئے وقف کردی ۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر سیاست اور حکومت کرناہرکسی کے بس کی بات نہیں او ر اصل سیاسی ہیرو وہی سیاستدان کہلاتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں بستا ہو ۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے عظیم سیاسی لیڈر،بین الاقوامی شہرت یافتہ قد آور سیاسی شخصیت، عالم اسلام کے عظیم رہنما،پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم،قائد عوام ، ذوالفقار علی بھٹو شہید5 جنوری1928 کولاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور4 ،اپریل1979 کو انہیں ایک فوجی آمر نے پھانسی دے کر شہید کردیا۔ آج جبکہ ملک بھر میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی یاد میں یوم تکبیر منایا جارہا ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہپاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے محب وطن سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے طرز سیاست اورانداز حکمرانی کو اپنا کر ملک وقوم کی حقیقی خدمت کی جائے کہ اب ہماری قوم بہت باشعور ہوچکی ہے اور صرف نعروں یا باتوں سے بہلنے والی نہیں ہے۔

ذوالفقار علی بھٹونے14 ، اگست1973 کوپاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے نظام حکومت سنبھالا جبکہ 5 جولائی1977 کوفوجی جنرل محمد ضیاالحق نے امریکی سازش کا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی عوامی حکومت کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرکے ان کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرتے ہوئے مارشل لا لگادیا اور پھرکچھ ہی عرصے بعد قتل کے ایک پرانے مقدمے میں کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ملوث کرکے انتہائی متنازعہ عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر جنرل ضیا نے امریکی اشارے پر4 ، اپریل 1979کوبھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا حکم جاری کر کے ہماری قوم کو ایک عظیم دماغ اورقابل فخرسیاسی رہنماسے ہمیشہ کے لیئے محروم کردیا ۔

پاکستان میں قائد اعظم محمدعلی جناح کے بعد سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے قابل فخر سیاسی لیڈرذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے فلسفے کی بنیاد رکھی جو ان کی موت کے38 برس بعد بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ قائداعظم کے انتقال کے بعدپاکستان میں عظیم سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو پیدا ہوئے جنہوں نے ملک وقوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ اگر مرکزی قیادت محب وطن ہو تو عوام کے لیئے بہت کچھ ایسا کر جاتی ہے کہ لوگ اسے مرنے کے بعد بھی یاد رکھتے ہیں۔ہماری سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بھٹو کو شہید کرکے راستے سے ہٹانے والے خود بے نام ونشان ہوگئے لیکن وہ بھٹو کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ مردہ بھٹو ،زندہ بھٹو سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوااور آج بھی پاکستانی سیاست میں بھٹو اپنی قبر سے بیٹھ کر حکومت کررہا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت بھٹو کا ووٹ بینک ہے جو آج بھی برقرار ہے اوردوسرا ثبوت ہر سال بھٹوصاحب کے یوم شہادت کے موقع پران کے مزار پر جمع ہوکر فاتح خوانی کرنے والی عوام کا ہجوم ہے ،ہر سال 4 ۔اپریل کو بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر لوگوں کا ایک میلا سا لگا ہوتا ہے۔اسے کہتے ہیں حیات جاوداں جو زوالفقارعلی بھٹو شہید کو نصیب ہوئی۔

جب بھی 4 ،اپریل کادن آتاہے پاکستانی عوام کے ذہنوں اور لبوں پر صرف بھٹو صاحب کا نام ہوتا ہے کہ پاکستان کے تحفظ اور عوامی حقوق وفلاح وبہبود کے جو بڑے بڑے کام قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے دور حکومت میں کیئے وہ کو ئی دوسرا لیڈر آج تک نہیں کرسکا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بھٹو صاحب اور بھٹو خاندان کا نام آج بھی زندہ جاوید ہے۔ذوالففقارعلی بھٹو جیسے عظیم سیاسی رہنما کی شہادت پاکستانی سیاست کا ایک ایسا المناک واقعہ تھا جس نے ہر پاکستانی کے دل ودماغ کو متاثر کیا جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے ، ایک قلمکار اور شاعر کے طور پرآج سے برسوں پہلے بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر سن کرراقم کے ذہن میں بے اختیار جن اشعار کی آمد ہوئی وہ میں آج بھٹو صاحب کے شیدائیوں اور قارئین کے مطالعے کے لیئے اس کالم میں تحریر کررہا ہوں جوکہ پاکستانی سیاست میں ذوالفقارعلی بھٹو کے نام ،کام اور مقام کا بخوبی احاطہ کرتے ہیں۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرگیا بھٹو
دار پر چڑھ کر دلوں میں اتر گیا بھٹو
یوں تو لیڈر بہت سے آئے ،گئے اور آئیں گے
قائد اعظم کے بعد ہے لیکن سب سے بڑا بھٹو

یہ حقیقت ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے بعدقائدعوام ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ دوسری شخصیت تھے جن کو پاکستانی قوم نے سب سے زیادہ محبت ،عزت اور مقام دیا ،باقی تما م سیاسی لیڈروں کا نمبر ان کے بعد ہی آتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو اعلیٰ سیاسی سوجھ بوجھ،قائدانہ صلاحیت اورولولہ انگیز شخصیت کی بدولت پاکستان اور بیرونی دنیا میں ایک متحرک اورباعمل بہادر سیاسی رہنما کے طور پرزبردست شہرت حاصل ہوئی لیکن ملک دشمن، مفادپرست سیاست دانوں،سازشی عناصر اور سامراجی طاقتوں کو بھٹوصاحب کی یہ زبردست عوامی مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی اور ان کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سازشیں شروع کردی گئیں لیکن جس شان اور بہادری سے انہوں نے سامراجی قوتوں،فوجی آمروں اور ان کے زرخریدچمچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارااور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرپاکستانی عوام کے حقوق کی خاطرجس مہارت کے ساتھ صاحب اقتدار اور بادشاہ گر قوتوں کو ہر میدان میں چت کرکے اپنی غیرمعمولی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایاوہ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جس پر پوری پاکستانی قوم کو فخر کرنا چاہیئے ۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹوکی زندگی اور موت دونوں قابل رشک ہیں کیونکہ ان جیسی متحرک اور فعال زندگی اوردلیرانہ شہادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ تاریخ کے صفحات اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے عوامی حققوق کی بالا دستی اور پاکستان کو ایٹی طاقت بنانے کی پاداش میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر جام شہادت نوش کیالیکن اپنے اصولوں اور نظر یات پرسمجھوتا نہیں کیا،انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ذاتی مفاد کی بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ ملکی مفادات اور عوامی خواہشات کو مقدم رکھ کر نظام حکومت کو چلایایہی وجہ ہے کہ ملکی اورعالمی سطح پر ذوالفقارعلی بھٹو کا نام بہت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے ۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہراقائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہیدکے سر ہے !
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73503 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
25 Nov, 2016 Views: 826

Comments

آپ کی رائے