سرحد پر مسلسل بھارتی جارحیت……جنگی جنون خطے کے لیے خطرناک

(عابد محمود عزام, Lahore)
بھارت کا انتہا کو پہنچا ہوا جنگی جنون اور بلااشتعال جنگی کارروائیاں ہر اعتبار سے قابل مذمت ہیں۔ مودی سرکار مسلسل پاکستانی سرحد پر جارحیت کا ارتکاب کر کے خطے کو آتش فشاں بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ بھارتی پاگل پن اس قدر عروج پر پہنچ چکا ہے کہ بھارتی درندوں نے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو بھی نہ بخشا۔ بھارتی فورسز نے جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے قریب وادی نیلم میں ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 15 افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے، جبکہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دشمن کے 7 اہلکار مارے گئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بدھ کی صبح لائن آف کنٹرول پر بھمبر، کوٹلی اور راولاکوٹ کے مقام پر بھی فائرنگ کی گئی، جبکہ کھو ئی رٹہ کے مقام پر ایک گھر پر گولہ پھینکا گیا جس کے نتیجے ایک ہی گھر کے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی حملے میں متعدد مکانات اور دکانیں تباہ ہوگئیں۔ بھارت روزانہ کی بنیاد پر جس سفاکی کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ملحقہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، وہ پاکستان پر ننگی جارحیت مسلط کرنے کے اس کے عزائم کا ہی غماز ہے۔ بھارت کا پاکستان کی شہری آبادی پر حملہ کرنا انسانی و عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف گزشتہ روز ملک گیر احتجاج کیا گیا اور حکومت سے عالمی عدالت میں بھارتی درندگی کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسافر بس پر حملہ کھلی دہشتگردی ہے، جس پر نریندر مودی کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ نریندر مودی پہلے گجرات کا قصائی تھا اب کشمیر کا قصائی بنا ہوا ہے۔ ہندوستان جنیوا کنونشن ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے، اس وقت بین الاقوامی ضمیر خوابیدہ ہے، انڈیا کے معاملہ پر عالمی برادری کے دہرے معیارات ہیں،انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے ممالک کے معاشی اور اسٹریٹجک کی بات آتی ہے تو یہ ہر ظلم پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ انڈیا کشمیر میں ایک عرصے سے مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، جس سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے اس لیے کنٹرول لائن پر گولا باری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی مبصرین دیکھ چکے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔انڈیا نے کامیابی سے دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹا کر لائن آف کنٹرول پر مبذول کرادی ہے۔کشمیر ی عوام کے حوصلے و ہمت کے سامنے پسپا ہونے کے بعد بھارت کا جنگی جنون انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بھارت توجہ ہٹانے اور الیکشن کے لیے معاملات بگاڑ رہا ہے۔بھارت نے چھوٹے پیمانے پر جنگ مسلط کر دی ہے، لیکن تنازع بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اگر پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی تو دونوں ممالک میں کوئی نہیں بچے گا۔ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کا ایڈونچرازم بڑھ گیا ہے۔پاکستان عالمی برادری کی توجہ بھارتی جارحانہ اقدامات پر مبذول کروائے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے مسافر بس پر گولہ باری کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور بھارت کی جانب سے مسافر بسوں اور ایمبولینسوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ایمبولینسز پر حملہ انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جارحیت کے باوجود بھارت کشمیر میں صورتحال پر قابو نہیں پا سکا، اس لیے وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری اپنے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ تاہم پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری اپنی حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور عالمی برادری نہتے شہریوں پر حملوں کا نوٹس لے۔ عالمی برادری صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے باور کرایا کہ بھارتی فوج کا جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔ آرمی چیف نے ہدایت کی کہ کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور موثر جواب دیا جائے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان کے ڈی جی ایم او نے مزید کہاکہ پاکستان اپنا یہ حق محفوظ رکھتا ہے، وہ کسی بھی مقام اور کسی بھی وقت بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے مسافر بس کو نشانہ بنانا انتہائی ظالمانہ فعل ہے، ہم اس کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں اور ایک دو روز میں سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کو شواہد دینے کا پروگرام بھی بنا رہے ہیں، سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث امن کو لاحق خطرات سے برطانوی وزیر کارجہ کو آگاہ کردیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کریں۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بھی اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان ایلیاسن اور سیکرٹری جنرل کے نمائندے ایڈمنڈ مولٹ سے ملاقات کر کے کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت سے آگاہ کردیا ہے۔ ملیحہ لودھی نے مسافر بس اور ایمبولینس پر بھارتی حملے کو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی اور گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن کی صورت حال بین الاقوامی امن کے لیے شدید خطرہ ہے، جب کہ ایل او سی پر کشیدگی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کا بھارتی حربہ ہے۔ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، لہٰذا اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ کو صورتحال کی مانیٹرنگ کے لیے متحرک کرے۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے بھارت کو کئی مرتبہ کشیدگی میں کمی کا انتباہ جاری کیا، لیکن بھارت انتباہ کو بھی مسلسل نظر انداز کررہا ہے۔

بھارت کا جنگی جنون اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اس کی جانب سے ایل او سی پر مسلسل اشتعال انگیزی جاری ہے۔ اڑھائی ماہ کے دوران 200 سے زائد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، جس میں 44 پاکستانی شہید اور 135 زخمی ہوچکے ہیں اور رواں سال بھارت 300 سے زاید مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کو 15 مرتبہ دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان نے تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے سفیروں کو بھی بلا کر بریفنگ دی۔ امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس کے سفیروں کو بتایا کہ بھارت مسلسل سول آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے، جس میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن سے بھی ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، لیکن بھارت کا پاگل پن بڑھتا ہی جارہا ہے، بلکہ اب تو مودی سرکار جنگی جنون میں اس قدراندھی ہوچکی ہے کہ اس نے مقامی آبادی کے علاوہ مسافربسوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی)اور ورکنگ باؤنڈری پر ہندوستانی افواج کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں۔ رواں ماہ 19 نومبر کو بھی ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر ہندوستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 پاکستانی شہری جاں بحق، جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔ رواں ماہ 18 نومبر کو بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔ 14 نومبر کو بھی لائن آف کنٹرول پر ہندوستان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔ بھارت اپنے جنگی جنوں میں اندھا ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو اشتعال دلا رہا ہے۔ بھارت سفارتی سطح پر ہمارے بار بار احتجاج اور اپنے ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کی بار بار دفتر خارجہ طلبی پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا تو ہمیں اس کی نیت کے بارے میں اب کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے، بھارت اس کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔جہاں کہیں اسے موقع ملتا ہے پاکستان کو زک پہنچانے سے باز نہیں آتا۔ اب تک کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر بھارتی لیڈر پاکستان کے خلاف عداوت اور پاکستان دشمنی گھٹی میں لے کر اقتدار تک پہنچا۔ ہر بھارتی لیڈر نے پاکستان توڑنے اور پاکستان کو زیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تو پاکستان دشمنی میں اپنے تمام سابقہ پیشروؤں پر بازی لے گیا ہے۔ مودی تو پاکستان دشمن نعروں پر ہی اقتدار میں آیا۔ جس دن سے اقتدار سنبھالا ہے پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ مودی سرکار تو پاکستان دشمنی میں اندھی ہو چکی ہے اور اس نے بیک وقت پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔بھارت جاسوسوں، تخریب کاروں اور دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں تخریبی اور دہشتگردی کی کاروائیاں کروارہا ہے۔ بھارت دشمنی کا اگلا محاذ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنا ہے۔’’سی پیک‘‘ منصوبہ پاکستان کے لیے آب حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ بھارت قطعاً یہ نہیں چاہتا کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو۔اس کے ساتھ بھارت نے ہماری معاشی تباہی کے لیے پاکستانی زراعت کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔ زراعت پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا بھارت نے معاہدہ سندھ طاس کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائے راوی اور چناب پر بند بنا کر پانی تقریباً سارا بند کر لیا ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفروانی کی 8 جولائی 2016 کو شہادت کے بعد سے جس شدت سے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے آزادی اور پاکستان سے الحاق کے لیے مظاہرے اور ہڑتالیں شروع ہوئیں، اس نے بھارتی حکومت اور فوج کو مفلوج کر رکھا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اندرونی صورتحال روز بروز بگڑتی جارہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطے کو آگ اور خون کے دریا میں ڈبونے کے لیے مودی حکومت کسی بڑے سانحہ کی تیاری میں ہے۔ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوکچلنے کی افسوس ناک بربریت کا تسلسل جاری رکھا ہوا ہے، اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے صریحاً انحراف کیا ہے اور اب اس کے عزائم انتہائی جارحانہ ہوگئے ہیں، تاہم پیدا کردہ ہیجانی حالات پھر بھارت کے بھی بس میں نہیں رہیں گے۔ عسکری ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے کشمیر میں قتل و غارت کے بھارتی ظلم کو نہ روکا تو خطے میں بھارتی جنگی جنون سے کروڑوں انسانی زندگیوں کے چراغ گل نہ ہوجائیں۔ پاکستانی حکومت اور سیاست دان بھارت کی جارحیت کے خلاف بیانات تو بہت دیتے ہیں، لیکن ایک دن بعد ہی بھول جاتے ہیں۔ اب محض زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، بلکہ حکومتی سطح پر دفاع وطن کے معاملہ میں عملیت پسندی سے کام لینا ہو گا۔ آج بلاشبہ قومی یکجہتی کی زیادہ ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے تمام قائدین نے بے لوث کردار ادا کرنا ہے۔ اس وقت بھارت ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر مستعد نظر آتا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں آج جغرافیائی اور سفارتی محاذ پر مستعد و چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ جب بھارت امن کی زبان میں بات کرنا ہی نہیں چاہتا اور وہ کنٹرول لائن پر ہماری سلامتی پر مسلسل وار کیے جارہا ہے تو اب پاکستان کو بھی بھارتی منافقت کو سمجھ جانا چاہیے اور اسے اسی کی زبان میں جواب دینا چاہیے۔سب سے زیادہ ضرورت اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کی ہے، لیکن حکومت اور اپوزیشن اپنے ہی معاملے میں الجھی نظر آتی ہیں۔ بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم، حکومت اور اپوزیشن کو فوج کے ساتھ مل کر ڈٹ جانا ضروری ہے، بصورت دیگر بھارت یوں ہی جارحیت کا ارتکاب کرتا رہے گا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417182 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2016 Views: 531

Comments

آپ کی رائے