’’عہد شریف‘‘ کی ایک سبق آموز داستان

(Shahid Janjua, )
پاکستان آرمی کے 15 ویں سپہ سالار جنرل راحیل شریف کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد توقع الی اﷲ پر یقین رکھتے ہوئے حب الوطنی کا شاندار مظاہرہ کیا اور زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے تمام تر مواقع دستیاب ہونے، سیاسی حالات سازگار ہونے، میڈیا کے برابر اکسائے جانے اور بڑی حدتک عالمی طاقتوں کی خاموش حمایت کے باجود جذبات سے فیصلے نہ کرکے ایک تاریخ رقم کی۔ جنرل راحیل شریف نے بطور سپہ سالار اپنی ذاتی پروموشن کی بجائے اپنے ادارے کو بڑی حدتک مضبوط کیا اور اپنے پیش رو کے برعکس پاک فوج کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط ادارے کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی طورپر روشناس کروانے کیساتھ ثابت کیا کہ اسکے اندرخود احتسابی کی صلاحیت بھی ہے اور وہ اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔

تاریخ گواہ رہے گی کہ قیام پاکستان کے بعد ابتک کسی جرنیل کو اگر مہم جوئی کیلئے سب سے زیادہ اکسایا گیا ہے تو وہ جنرل راحیل شریف ہی تھے مگر انہوں نے عقل و دانش اور ادرارتی مشاورت سے ایسے فیصلے کئے کہ کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا محب وطن تاریخ دان ان پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمدچوہدری کے برعکس جنرل راحیل شریف نے محض اخباری بیانات پر میڈیا میں اپنے نام کی ہیڈ لائنز لگوانے یا محض ہیرو بننے کیلئے چھوٹے پن کا ثبوت نہیں دیا اور نہ ہی عقل کل بننے کی کوشش کی، جنرل راحیل شریف نے ادارے مضبوط کئے ورنہ تاریخ گواہ ہے وطنِ عزیز میں جسکے بھی اختیارات کی لاٹھی آئی ،اـس نے آئین و قانون کی پاسداری کو کبھی درخوئے اعتنا نہیں سمجھا اور دوسرے اداروں کے اتھارٹی کو پاؤں تلے روند ڈالا،جنرل راحیل شریف نے جب پاک فوج کی کمان سنبھالی اسوقت پاکستان کو کئی ایک غیر معمولی چیلنجز کا سامنا تھا جس سے نبٹنے کیلئے انہوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والے شدت پسندوں، عسکریت پسندوں اور انکی پشت پر کھڑی بیرونی ایجنسیوں کے نیٹ ورک کیخلاف ایسا بھرپور آپریشن کیا کہ انکی کمر ٹوٹ گئی اور پاک فوج سمیت دیگر انتظامی اداروں کی ساکھ بھی بحال ہوئی۔

اس جرأت مندانہ بھرپور فوجی آپریشن کے نتیجے میں جہاں ریاست کی رٹ قائم ہوئی وہیں پاکستان کو ایک ناکام اور غیر محفوظ ریاست کہنے والوں کے منہ بند ہوگئے ۔ گو پاکستان کو اب بھی اِکا دُکا شرپسند گروپوں کی طرف سے سیکورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے مگر اسکی وجہ بالاتفاق ملک کا سیاسی و مذہبی فرقہ وارانہ کلچر ،جذباتیت اور مذہبی و لسانی گروہ بندی ہے جسکا ذمہ دار ہرگز، ہرگز کلیتاََ پاک فوج کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نہ اسے ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کسی ملک کے فوجی سربراہ پر ڈالی جاسکتی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی گرتی ہوئی ساکھ اور فوجی ادارے پر عوام کے متزلزل اعتماد کو بحال کیا ورنہ وہ وقت کس کو بھول سکتا ہے جب اس ملک میں فوجی وردی پہن کر سیکورٹی حصار کے بغیر کسی فوجی اعلیٰ آفیسر کا اپنی گاڑی سے باہر نکل کر بازار میں جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ،جس وقت جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی اس سے پہلے جمہوری حکومت اور اعلیٰ عدلیہ ملک میں سیاسی پنڈتوں اور عسکریت پسند دہشت گردوں کو متوازی عدالتی نظام قائم کرکے ان سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا پروانہ جاری کرچکی تھی اور اس جرم میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری، مرکزی و صوبائی حکومت، عوامی نیشنل پارٹی، مولانا فضل الرحمٰن، سمیع الحق گروپ، شیخ رشید، ق لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور ن لیگ برابر کی مجرم ہیں جبکہ علامہ طاہرالقادری نے اس کی بھرپور مخالفت کی جو کہ انکا بروقت اور راست فیصلہ تھا۔ جنرل راحیل شریف کیلئے دوسرا سب سے بڑا چیلنج اس متوازی عدالتی نظام کے نیتجے میں زیرالتوا سنگین جرائم میں پھانسی کی سزا کے حقدار مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانا تھا جس کیلئے سیاسی اور مذہبی قیادت ہرگز تیار نہ تھی ،حکومت پس و پیش سے کام لے رہی تھی اور درپردہ کئی صوبوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ان کالعدم تنظیموں سے مضبوط’’ الائینس‘‘ قائم تھا اوروہ ایسے جرائم پیشہ افراد سے الیکشن سمیت سیاسی مدد لیتے تھے اور یہ بھی ایک وجہ تھی کہ وہ انکے خلاف آپریشن کرنے کے حق میں نہیں تھے ۔سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے پاکستان میں اپنی ٹیمیں نہ بھیجنے کے فیصلے سے پاکستان کی عالمی دنیا میں ساکھ بری طرح مجروح ہوئی اور اسکا سارا فائدہ بھارت اور عرب امارات کو ہوا۔حکومت کے پاس شواہد تھے اور قاتلوں کی نشاندھی ہوچکی تھی مگر انہیں ٹرائل کرکے قرارواقعہ سزا دینے سے وہ بوجہ انکاری تھے ایسے حالات میں جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت پاک فوج کے کورکمانڈرز کی تشویش نے حکومت کو مجبوراً مشکل فیصلے کرنے پڑے اور ان حالات میں فوجی عدالتوں کے قیام اور سنگین وارداتوں میں ملوث مجرم ثابت ہوجانیوالوں کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کا سہرا جنرل راحیل شریف کے سرسجتا ہے اور یہ انکا بہت جرات مندانہ فیصلہ تھا۔

ہمارا یہ ایک قومی المیہ ہے کہ ہم جذباتی قوم واقع ہوئے ہیں اور ہرمعاملے میں سرعت پسندی اور جذباتی فیصلوں پر زور دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ تبدیلی کبھی راتوں رات نہیں آتی اور کسی ایک شخص کو نجات دھندہ سمجھ کر ہر کام کی امید اس سے لگالینا عقلمندی نہیں کہلاتا۔ اسلام تئیس برس میں نازل ہوا اور اسکا مکمل نفاذ اور غلبہ ہادی برحق، نبی آخزالزمان محمد الدرسولؐ اﷲ کی ظاہری حیات کے بعد انکے خلفاء راشدین کے ادوار میں ہوا ، یہ ہے وہ اصل انقلاب جسکی مثال کوئی قوم اور کوئی معاشرہ اس سے قبل کبھی پیش نہیں کرسکتا جبکہ ہمارے ہاں سب کچھ اسکے الٹ ہے۔

جنرل راحیل شریف کا یہ بھی اعزاز ہے کہ وہ سیاسی اور مذہبی قیادت کو حالات کی سنگینی سے برابر خبردار کرتے رہے مگر انہوں نے کبھی آئین و قانون کی حدود و قیود سے تجاوز نہیں کیا ۔گوادر پورٹ منصوبے کی تکمیل سے قبل بے شک حکومت نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اس منصوبے کو کامیابی سے چلانے کیلئے مطلوب ماہرین اور تکنیکی افراد کی کھیپ تیار کرنے پر توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے ڈر ہے کہ منافع بخش اور اہم جابز غیر ملکی لے جائیں گے چائنہ کا ڈر تھا کہ پاک ایران گیس لائن منصوبے کی طرح گوادر پورٹ منصوبہ سے بھی عالمی طاقتوں کے دباؤ پر پاکستان رول بیک کرلے گا جس سے عین ممکن تھا کہ یہ سی پیک اور گوادر منصوبہ اگلی نصف صدی کیلئے کھٹائی میں پڑجاتا اسلئے انکی کوشش تھی کہ جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع لیں اور اگر وہ ہاں کردیتے تو نوازشریف حکومت کبھی نہ نہیں کرسکتی تھی اس موقع پرجنرل راحیل شریف نے اپنے مضبوط فیصلے سے واضح پیغام دیا کہ پاکستان واقعتاً ایک ذمہ دار ملک ہے اور اسکے ادارے بتدریج شخصیات کے سحر سے نکل کر ملکی مفاد کے تحت دور رس فیصلے کرنے کے قابل ہیں۔

ایک چیز شاہد جنرل راحیل شریف کبھی نہ کہہ سکیں وہ میں کہہ دیتا ہوں کہ دھرنے کے دوران ان سے ملاقات کرنیوالی شخصیات اور میڈیا نے بعض باتوں کو جسطرح ان سے منصوب کرنیکی کوشش کی کہ شاید ضرب عضب اور معاشی دہشت گردی کے خلاف ایکشن شاید ان شخصیات کی ’’بریفنگ‘‘ پر کیا جا رہا ہے ،اس سے میڈیا کے ذریعے عوام کو غلط تاثر ملا،حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ میری معلومات کے مطابق تیسرے فریق نے ایک تجویز دی تھی اگر وہ قبول کرلی جاتی تو آج پاکستان میں اس سے بہت بہتر حالات ہوتے مگر وہ جس ایک شرط پر بضد رہے اس نے انکی ساری توقعات پر پانی پھیر دیا اور وہ خود بھی انتہاء پسندی ختم کرنے کیلئے ایک ہزار سنٹر قائم کرنے کے اپنے وعدے پر پانچ فیصد بھی عمل نہیں کرسکے ۔

آج ضرورت اس بات کی ہے ہم جانیوالوں کو عزت سے رخصت کریں اور انکے خلاف کسی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے پرہیز کریں کیونکہ جنرل راحیل شریف کو پیشکش کی گئی کہ کہ سروسز چیفس کے عہدے کی معیاد چار سال کر دی جائے۔ راحیل شریف نے کہا کہ ضرور کریں لیکن میرے جانے کے بعد، پھر یہ افواہیں پھیلیں کہ ان کو ملازمت میں توسیع دی جا رہی ہے۔ انہوں نے جنوری 2016 میں اس کی دو ٹوک تردید کر دی۔ لیکن ان کے خلاف گھناؤنا پراپیگنڈا نواز لیگ کی ایک خاتون رہنما کی ایما پر جاری رہا۔ نجی مجالس میں کہا گیا کہ یہ توسیع لینے کا اعلان بھی دراصل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کیا گیا۔

جہاں جنرل راحیل شریف کے مثبت کردار کو قوم نے پذیرائی بخشی وہیں کچھ کرداروں نے ان کی نیک نامی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنیکی کی بھی کوشش کی۔ان میں قابل ذکر وہ دو کردار بھی شامل تھے جن کو جنرل صاحب نے اکتیس اگست کی رات ملاقات کا شرف بخشا تھا،جن میں سے ایک صاحب نے تو ملاقات کے فورا بعد میڈیا میں آکر کہا تھا کہ جنرل صاحب کو ان نے بڑا ویژنری اور جنٹلمین سپہ سالار پایا ہے۔انھوں نے انکی باتوں کو بڑے تحمل اور انہماک سے پورے تین گھنٹے سنا(گو اس واقعے کے واحد راوی بھی وہ اکیلے خود ہیں)، پھر اس ملاقات کے بعدتک وہ کردار اپنے عقیدت مندوں سے جنرل صاحب کے کئی اقدامات کا کریڈٹ اس طرح لیتے رہے کہ فلاں آپریشن اور فلاں اقدام ہماری رائے اور ہمارے مشورے پر پاک فوج نے شروع کئے تھے،یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ ون مین شو کردارعقل کل ہو اور اتنا بڑا فوجی ادارہ فقط ان کے مشورے کا مرہون منت ہو۔اور آج شومئی قسمت دیکھیں اس کردار کا دائیاں بازو بلکہ ان کا مستقبل کا نائب ناظم اعلی جنرل راحیل شریف کی خدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں یوں رقمطراز ہیں’’راحیل شریف نے جسطرح سے شریف خاندان کی خدمت کی ہے اسکی مثال فلموں میں بھی ملنا ممکن نہیں۔۔۔واقفان حال بہت پہلے واضح کر چکے تھے کہ راحیل شریف اندر سے کھوکھلا انسان ہے اور اسکا گرو جنرل عبدالقادر بلوچ ہے جو کہ نواز لیگ کا ملعون ہے۔۔۔متعدد اطلاعات آئیں کہ کچھ کور کمانڈرز نے مطالبہ کیا کہ نواز لیگی ارکان کو بھی گرفتار کیا جائے مگر راحیل شریف نے انہیں روک دیا۔پھر جنرل ظہیرالسلام اور ان کے ساتھ چار پانچ جنرلز کو بھی اس لئے فارغ کر دیا گیا جن کا مطالبہ تھا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک طرح سے ڈیل کیا جائے،مگر نواز لیگ کا ملعون راحیل شریف اپنی پروفیشنل ڈیوٹی سے نہ پھرا اور انھیں ریٹائرڈ کروا دیا،جنرل راحیل شریف کی پروفیشنل ازم یہی تھی کہ جو کام اسے ملا، اس نے نواز لیگ کی معاونت اور بچاؤ کے لئے کیا۔راحیل شریف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا بھی باپ ہے۔۔۔‘‘ یہ مضمون پڑھ کر فقط اتنا کہوں گا کہ پاک فوج جیسے مقدس ادارے پر جو الزامات الطاف حسین نے سُر اور راگ میں لگائے تھے ، اس سے ہزار گنا سنگین الزامات ،بلکہ پاک فوج کے عظیم سپہ سالار اور اس کے ساتھیوں کو کسی سازش میں ملوث کرنے کا جو سنگین الزام سیماب صفت آنجناب شیخ الانقلاب کے دست راست اور ان کا مرکزی میڈیا سیل لگا رہا ہے اسکا جواب آنا اب لازم ہو گیا ہے۔قطعہ نظر اس کے، کہ ان کی شدید ناراضگی اور برہمی کا سبب فقط یہی ہے کہ ماورائے آئین اقدام اٹھا کر ان کے ’’قبلہ حضور‘‘ کو وزیراعظم یا صدرِ پاکستان نہ بنا کر جنرل راحیل شریف نے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیا (یاد رہے کہ ’’قبلہ حضور‘‘ کے اپنے بیان کردہ خوابوں،جن سے اب وہ مکھ موڑ چکے ہیں ، کے مطابق ان کی عمر مبارک تریسٹھ سال سے اوپر ہو چکی ہے)اور یہی ان کا ناقابل معافی جرم ٹھہرا۔لیکن ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہوا تھا،سابق چیف آف آرمی سٹاف اور صدر پرویز مشرف سے بھی یہی منصوب تھا کہ انھوں نے آنجناب کو وزیراعظم بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا،بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شیروانیاں بھی سل چکی تھیں۔کیونکہ ریفرنڈم میں پاکستان سے لیکر برطانیہ و یورپ تک انکی حمائت میں مہم چلائی گئی جس میں راقم کا بھی بہت رول تھا۔ہیلی فیکس (برطانیہ کا شہر جہاں راقم الحروف رہائش پذیر ہے)میں پاکستانی تارکین وطن اس طرح قطار اندر قطار ووٹ ڈالنے آئے جیسے اگلی صبح انقلاب کی نوید ملنے والی ہو۔پھر جب ایسا نہ ہو سکا تو ڈاکٹر معید پیرزادہ کیساتھ ایک انٹرویو میں سیاستدانوں کو بے قصور اور پاک فوج کو تمام تر تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا، وہ انٹرویو آج بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔قبل ازیں جنرل ضیاء الحق مرحوم اور جنرل مرزا اسلم بیگ پر بھی ایسے ہی الزامات عوامی تحریک کی اعلیٰ قیادت سرِعام ہر پلیٹ فارم اور میڈیا پر لگا چکی ہے۔ابھی پچھلے سال آنجناب کے منجھلے بیٹے جو منہاج القرآن کے مرکزی صدر ہیں،نے اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف پر پاکستانی نیشنلز امریکہ کو بیچنے پر پیسے کمانے جیسے الزامات عائد کئے تھے۔اب منہاج القرآن کی ذیلی تنظیم مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے سابق صدر کے جنرل راحیل شریف پر سنگین الزامات اُسی پرانی سوچ کا تسلسل ہے جو متعلقہ اداروں اور نئے آرمی چیف کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

ان جیسی ہی دوسری سازشی تھیوریوں کی حامل ذہنیت نے سرل المیڈا والی سازشی سٹوری میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن جسے اﷲ عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اور جسے اﷲ ذلیل کرنے پر آئے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ کے بعد شہدا کے ورثاء کی کفالت اور دیکھ بھال کے عظیم کام کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتے تو نوازشریف کا تختہ الٹ کر پاکستان پر حکومت کرتے لیکن انہوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کو ترجیح دی۔ جن کے دل ان کی مقبولیت سے جلتے رہے وہ اب بھی جلتے ہی رہیں گے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف پاکستان کے وہ مقبول ترین آرمی چیف ہیں جنہوں نے آئینی دائرے میں رہ کر اپنی مدت ملازمت پوری کی۔اور ثابت کیا کہ ’’عہد شریف‘‘ خالصتا شریف تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Janjua

Read More Articles by Shahid Janjua: 19 Articles with 8584 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2016 Views: 355

Comments

آپ کی رائے