ایک اور غیر شرعی بل

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
پاکستان میں اسلام کو کھلونا بنا کر قیام پاکستان سے ہی کھیلا جا رہا ہے ،آئین میں اسلامی دفعات کو ارادوں اور وعدوں کی حیثیت سے شامل کرکے دینی طبقات کو مطمعٔن کردیا گیا ۔پھر کیا ہوا سب نے دیکھا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام اجنبی ہوتا گیا ۔با خبر لوگ جانتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے کئی ہزارسفارشات پیش کی گئی ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا گیا بلکہ یہ سب سفارشات ردی کی ٹوکری میں پڑی دکھائی دیتی ہیں ۔کیونکہ ہمارے حکمرانوں کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ اسلام کو ملک میں نافذ کرکے قوم کی جذبات کی ترجمانی کر سکیں ،اگر کوئی مخلص لیڈر اسلام کو نافذ کرنے کا ایجنڈا لیکر اٹھتا ہے تو اسے اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی شہید کردیا جاتا ہے۔افسوس کن مقام ہے کہ ہاں ہمارے ارباب اقتدار کے پاس اسلام مخالف بل پاس کرنے کا طویل وقت ہے ایک غیر شرعی بل پاس کرنا ہوتو آنا ً فاناً پاس کروا لیا جاتا ہے جبکہ اسلام اور اہل اسلام حکمرانوں کا منہ دیکھتے ،احتجاج کرتے ہی رہ جاتے ہیں ،ماضی ٰ قریب میں حقوق نسواں بل کے نام پر مردوں کے حقوق جس طرح غصب اور عورتوں کو شطربے مہار کرنے کی کوشش کی گئی ،تب بھی اہل دین نے احتجاج کیا مگر نتیجہ کیانکلا سب جانتے ہیں ۔اسی طرح اب باب الاسلام کی حکومت سندھ نے ایک غیر شرعی بل پاس کیا ہے جس پر دیندار ،جید علمائے کرام کی طرف سے رائے ہی نہیں بلکہ فتوجات بھی آگئے ہیں کہ یہ بل غیر اسلامی،غیر شرعی ہے ،بلکہ اﷲ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ملک کے جید علمائے کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سندھ حکومت کے غیر شرعی بل کے خلاف میدان عمل میں اتریں ۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کریمنل لاء پروٹیکشن آف مینارٹی 2015 ء کی منظوری میں اقلیتوں کو حقوق دینے کے نام پر یہ قدغن لگائی گئی ہے کہ کوئی بھی غیر مسلم 18 سال سے قبل اسلام قبول نہیں کرسکتا اگر ایسا کرے گا تو حکومت اس نابالغ فرد کے قبول اسلام کو قبول نہیں کرے گی۔

دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کوخوش کرنے کیلئے غیر اسلامی قانون سازی قبول نہیں ،18سال سے کم عمر کے افراد پر قبول اسلام کی پابندی لگانا یورپ ومغرب کو خوش کرنے کی سازش ہے ، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کریمنل لاء پروٹیکشن آف مینارٹی 2015 ء کی منظوری مکمل طور پر اﷲ ورسولﷺ اورشریعت سے بغاوت پر مبنی ہے۔حکومت کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر کریمنل لاء پروٹیکشن آف مینارٹی 2015 ء بل کی منظوری جیسے غیر شرعی بل سے پاکستان کاا سلامی تشخص داؤ پر لگ گیا ہے ۔ہر عمر کا انسان رضا مندی سے اسلام قبول کر سکتا ہے اس پر شریعت اسلامیہ میں کوئی پابندی نہیں مگر حکومت پاکستان یورپ ومغرب کو خوش کرنے کیلئے اسلام مخالف بل پاس کرکے اسلامیان پاکستان کی غیرت کو ایک بار پھر للکارا ہے ،حکومت اسلام دشمن اقدام کرکے پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے سے باز رہے ۔قانون سازی کرنے والے لوگ اسلام اور اسلامی اقدار وروایات سے نا بلد لگتے ہیں یا جان بوجھ کرعالم کفر کو خوش کرنے کیلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں دونوں صورتوں کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ،حکومت اپنے اسلام مخالف اقدام پر غور کرتے ہوئے قانون کو کالعدم قرار دے ۔ قبول اسلام کے لئے 18 سال کی حد مقرر کرنا زمین پر فرعون بننے کے مترادف ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے جب انسانوں کو رضامندی سے اسلام قبول کرنے کی ہر عمر میں اجازت دی ہے توپاکستان کے قانون ساز ادارے اﷲ رب العزت کے مقابلے میں قانون سازی کرکے زمین پر خود ساختہ رب بننے کی جسارت کر رہے ہیں جسے شریعت اسلامیہ نے بغاوت کہا ہے حکمران اﷲ کی زمین پر اﷲ کا نظام خلافت قائم نہ کرکے پہلے ہی بغاوت کا ارتکاب کر رہے ہیں جبکہ مزید غیر شرعی قانون سازی مزید عذاب الہٰی کا سبب بنے گی ۔لہٰذا حکومت ا سلام مخالف قانون سازی پر نظر ثانی کرے ورنہ دینی قوتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کو بچانے کیلئے احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گی۔ کسی بھی جماعت کا طالب علم خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ جب اسے اسلام کی حقانیت کا علم ہوجائے تو وہ اسلام قبول کر سکتا ہے حکومت کا یہ قانون اقلیتوں کی نسل نو کو دین فطرت اسلام کی روشنی سے محروم کرنے کی سازش ہے ۔اوچھے ہتھکنڈے غلبہ ٔ اسلام کو نہیں روک سکتے ۔اسلام اور پاکستان سے وفا یہی ہے کہ پاکستان میں قرآن وسنت کو عملاً سپریم لاء تسلیم کیا جائے جسے آج تک تسلیم نہیں کیا گیا۔

اگر بغور دیکھا جائے تو حضرت علی ؓ نے کمسنی میں ا سلام قبول کیا تھا جو کہ ایک زندہ جاوید مثال ہے اسی طرح تاریخ اسلام میں متعدد لوگوں نے اسلام کم عمری میں قبول کیا جو سند ہے ہر دور کے انسانوں کیلئے کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے جب چاہے اسلام میں داخل ہو کر اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے مگر سندھ حکومت کا غیر شرعی بل پاس کرنا ساری قوم کیلئے لمحہ ٔ فکریہ ہے ۔سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے پی پی پی کی سربراہی میں یہ بل پاس گیا ہے پی پی پی کے رہنماء بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو اس بل کے پاس ہونے پر بڑا فخر محسوس کر رہے ہیں اور خوشی میں دوسرے صوبوں کو بھی تلقین کر رہے ہیں کہ سندھ اسمبلی کے پاس کردہ بل کی تقلید میں دوسرے صوبے بھی یہ بل پا س کریں ۔دین سے باخبر جید ، سقہ علمائے کرام کی رائے اور فتوجات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلاول بھٹو اپنے پاس کردہ بل پر شرمندگی کا ظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے بلکہ اس کے برعکس انہوں نے فخر کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام مخالف مہم کا آغاز کرنے کی تبلیغ شروع کردی ۔قارئین کرام ! یہ ہیں ہمارے لیڈر جن کو اسلام کے بنیادی اصولوں کا ہی علم نہیں اور جن سقہ لوگوں کو علم ہے ان کی رائے توشائد یہ سننا پسند ہی نہیں کرتے ۔ ایسی قوتیں ملک میں مسٹر اور ملا کے نام پر طوفان بدتمیزی برپا کرکے نفاذاسلام کا راستہ ہر دور میں روکتی آئی ہیں جو بھی اسلام کا نام لیتا ہے ایسی قوتوں کو وہ ہرگز پسند نہیں ہے کیونکہ یہ خود کو سیکولر(لادین) کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔بہرکیف سندھ حکومت اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر غیر شرعی بل پاس کرکے پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے ۔

مذکورہ بل کے پاس ہونے کے بعد دینی قوتوں کو چاہیے کہ وہ احتجاج برائے احتجاج کی روش ترک کرکے تعمیری انداز میں میدان میں اتریں ،ہم اہل دین ہر دور میں ہم احتجاج سے آگئے نہیں جا سکے ۔کیا دیندار قوتوں کو(اﷲ کی زمین پر اﷲ کا نظام اسلام ،حاکمیت الہٰیہ قائم کرکے) اقتدار میں آنا شرعی اعتبار سے فرض عین نہیں ؟یقینا! ہے تو پھر دیندار قیادت نے اس کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی ہے ؟اگر ہماری دینی قیادت یوں ہی تقسیم رہی تو سیکولر قوتیں ایسے ہی اسلام کی کمر پر چھراگھونپتی رہیں گی۔سیکولر ازم کو شکست فاش دینے کیلئے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ اہل دین ملک پاکستان کی کمان سنبھال کر اسلامیان پاکستان کے جذبات کی ترجمانی کر سکیں ۔اگر ایسا نہ ہوا تو جو اسلام مخالف کام ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ ہوگا ۔اس لئے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر دینی قیادت کو پاکستان کو سیکولر ازم سے بچانے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159102 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2016 Views: 359

Comments

آپ کی رائے