پنجاب پولیس کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان

(Ahmar Akbar, Burewala)
پولیس کا کام عوام کی جان ومال کی حفاظت اور ان کے حقوق کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے پولیس کے قیام پر اربوں روپے لگائے گئے تاکہ ملک میں لا اینڈ آڈر کو بہتر بنایا جا سکے مگر پورے ملک میں ہم کو پولیس کی کارکردگی صفر نظر آتی ہے بالخصوص کراچی کی پولیس تو جرائم پیشہ عناصر کے سامنے بے بس ہے اس کی وجہ سیاسی بھرتیاں بھی ہو سکتی ہیں مگر پنجاب میں سیاسی بھرتیوں کا شور نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی پولیس کی کارکردگی ناقص اور عملی طور پر صفر ہے ۔

جرائم کی روک تھام کے لیے بناے جانے والی ڈالفن پولیس بھی لاہور میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی ان پر حکومت کی بھاری انویسٹمنٹ اب ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

پنجاب پولیس تو عوام کے لیے ایک ڈر اور خوف کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہیں کر سکی ۔لوگ پولیس سٹیشن جاتے ہوے ڈرتے ہیں جیسے وہاں کوئی اور مخلوق بستی ہے جس کی کچھ وجوہات میں بیان کرتا ہوں ۔

جرائم کی روک تھام کے لیے بناے جانے والی پولیس جرم سے پہلے تو کیا جرم ہونے کے بعد بھی بن بلاے نہیں پہنچتی اور آنے کے بعد فوراً کارروائی کی بجائے وقت کا ضیاع کرتے ہیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر ان کی رسائی سے دور ہو جائیں

چوری ڈکیتی لڑائی جھگڑے کی ایف آئی آر درج کروانا اتنا مشکل ہے جتنا مشکل عمرہ کرنا ہے عمرہ اور حج تو بندہ فیس دے کر کر سکتا ہے مگر ایف آئی آر رشوت دے کر بھی درج نہیں ہو پاتی کیونکہ اس کے بعد تفتیش کے مرحلے میں ماہر سے ماہر انسان توبہ کر لیتا ہے .

پنجاب پولیس کا ایک تفتیشی آفیسر کچھ دنوں میں کار کوٹھی کا مالک کیسے بن جاتا ہے ؟

شاید آپ میں سے کسی کا ان سے پالا پڑا ہو ان کا طریقہ واردات بہت عجیب ہوتا ہے فرض کریں کسی کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی ہے تو آپ کم از کم دس دن تھانے کے چکر لگا لگا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اول تو ایف آئی آر ہی کوئی درج نہیں کرے گا دوم آپ کو سمجھایا جاے گا کہ سارا قصور آپ کا ہے چور اب ہاتھ کہاں آے گا اب آپ آئندہ ایسی لاپرواہی کے مرتکب نہ ہونا جیسے چور ان کا قریبی رشتے دار ہے ۔

غریب آدمی کے خلاف ایک درخواست بھی ہو تو اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا جاتا ہے اور امیر آدمی کے خلاف ایف آئی آر ہی درج نہیں کی جاتی کر بھی لی جاے کوئی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔

لڑائی جھگڑوں کے کیسوں میں تفتیش کے دن دونوں فریقین کو دس دس بندے اپنی صفائی میں لانے کو کہا جاتا ہے اور ان کو ٹائم دے کر خود وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں اور اس طرح دونوں فریقین میں پولیس کے رویے سے تنگ آجاتے ہیں اگر معاملات زیادہ سنجیدہ نہ ہوں تو صلح کروائی جاتی ہے ورنہ تفتیشی صاحب دونوں فریقین سے پیسے وصول کرتے ہیں ایک سے ایف آئی آر درج کرنے کے دوسرے سے گرفتار نا کرنے کے اور عبوری ضمانتیں کروانے کا مشوارہ دیتے ہیں ۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی کورٹ میں بھی جج صاحب پولیس سے رپورٹ مانگتے ہیں اب اس رپورٹ کے لیے مزید دونوں فریقین سے پیسے بٹورے جاتے ہیں سفارشات سن کر ان سنی کر دی جاتی ہیں ۔ دونوں فریقین میں سے جو زیادہ پیسے دے اس کے حق میں رپورٹ کر دی جاتی ہے یوں انصاف جا بھی قتل ہوتا ہے .

پولیس کی ناکامی کی وجہ ٹاوٹ سسٹم کو بھی کہا جاتا ہے پولیس کے ٹاوٹوں میں اکثر سماجی راہنماؤں وکلاء اور شہر کے معزز لوگوں کا نام آتا ہے جن کی مدد سے تفتیشی صاحب کو بھاری رقم کے ساتھ گارنٹی بھی ملتی ہے کہ یہ بندہ رشوت دے کر آپ کے خلاف کارروائی نہیں کرواے گا بس آپ ان کا خاص خیال رکھنا ۔ یوں پولیس کے ٹاوٹ مل کر لوگوں کو بیواقوف بناتے ہیں ۔

رشوت لینے کے لیے سب سے چھوٹے رانک کے پولیس والے کو استعمال کیا جاتا ہے اگر کبھی کوئی کارروائی بھی ہو تو اس کو وقتی طور پر سسپنڈ کر دیا جاتا ہے ۔ اس طرح پولیس کے بڑے آفسران کو منتھلی تو جاتی ہے مگر ان کے نام پر کوئی حرف نہیں آتا سارا ملبہ اس کانسٹیبل پر ڈالا جاتا ہے ۔

منشیات اور شراب کا جتنا بھی مال پکڑا جاتا ہے اس کو بھی ایک منصوبے کے تحت ردوبدل کیا جاتا ہے ویسے تو منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کم ہی ہوتا ہے اگر ہو جاے اور 50 من شراب پکڑی جاے تب اس مال کو 49 من شراب کو الگ مقام پر شفٹ کیا جاتا ہے اور 49 من پانی ڈال کر سب میں شراب کی ایک من مقدار شامل کر دی جاتی ہے اور اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جس میں شراب ظاہر ہوتی ہے یوں ایک بہت زیادہ مقدار شراب پھر ان ٹاوٹوں کے ہاتھ مارکیٹ میں بھیج دی جاتی ہے اس طرح جرم کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے مگر کہانی پس پردہ کچھ اور ہوتی ہے ۔

کوئی شک نہیں نئی نسل کے پولیس میں آنے سے رشوت میں کمی آئی ہے مگر پرانے بڑے پیٹ والے اے ایس آئی بھی نئے ڈی پی او سے زیادہ کماتے ہیں یہی وجہ ہے ایماندار پولیس والا جلدی ڈسمس کر دیا جاتا ہے ان کو پچاس سالہ کرپشن کے خاتمے کے لیے دو مہینے کا وقت دیا جاتا ہے اور پھر سیاسی لیڈروں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے تبادلہ کروا دیا جاتا ہے ۔

پولیس والوں کے ذاتی مسائل بھی بہت اہم ہیں ۔ان کو مکمل طور پر کام کرنے نہیں دیا جاتا ان کو سیاسی لوگ اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور آفیسر اپنا رعب جھاڑتے ہیں ۔شہر میں کہیں کوئی قتل ہو کوئی بھی واردات ہو اگر اس کا شکار کوئی سیاست دان ہو تو ان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یہ کلچر ان کو جرائم کی روک تھام میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔

گورنمنٹ پہلے بہت خطیر رقم لگا کر ایک فورس بناتی ہے اور اگلی گورنمنٹ اس فورس کو محض اس لیے ختم کرنا چاہتی ہے کہ ان کا کریڈٹ دوسری پارٹی کو جاتا ہے۔یہ اقدام بھی فورس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے -

محکمہ پولیس کو ٹریننگ کے دوران ہی یہ بات حفظ کروائی جاتی ہے کہ ان کو اپنا لہجہ سخت رکھنا ہے اور بات کرتے وقت گرجنا ہے تاکہ لوگ آپ سے دہل جائیں اس کا اثر آپ کو بڑے پیٹ والے سب افسران کے لہجے اور ان کے بات کرنے کے انداز سے ظاہر ہو جاے گا ان کی اکثریت تو گالی کے بناء بات کر ہی نہیں پاتے یہ ان کی خاصہ ہے -

پنجاب بھر کی انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ایڈمن جج جسٹس عبدالسمیع خان کے روبرو پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کی طرف سے دہشت گردی مقدمات میں اشتہاریوں کی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث 1002 اشتہاری تاحال مفرور ہیں اور وہ گرفتارنہیں ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق لاہور ریجن میں دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث 187، شیخوپورہ میں 116، گوجرانوالہ ریجن میں 233، راولپنڈی ریجن میں 119، سرگودھا ریجن میں 8، فیصل آباد میں 97، ساہیوال ریجن میں 6، ملتان میں 16، ڈی جی خان میں 176 اور بہاولپور میں 44 اشتہاری ایسے ہیں جو دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث ہیں لیکن محکمہ سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس ان اشتہاریوں کو گرفتار نہیں کر سکی۔ایک ماہ میں صرف 57 اشتہاریوں کو گرفتار کیا گیا ہےجبکہ 41 ملزمان ایسے ہیں جو اداروں کی نااہلی کی وجہ سے گرفتار نہیں ہو پائے اور انہیں بھی نیا اشتہاری قرار دیا گیا اب آپ خود فیصلہ کریں اس نااہلی کا ذمہ دار کون ہے ؟

پولیس کے افسران، انتظامیہ ،اہلکار یا بیورو کریٹس جو ان اداروں کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔؟

پولیس کی کارکردگی دن بہ دن تنزلی کا شکار ہو رہی ہے اور پولیس والے خود انفرادی طور پر ترقی کر رہے ہیں ۔

پولیس کی اس قدر ناکامی کے بعد کراچی کی طرح پنجاب میں بھی جرائم پیشہ عناصر نے کمر کس لی ہے روز کی بنیادوں پر وارداتیں کی جاتی ہیں اور کاروائی شروع ہونے سے قبل ہی ان عناصر کو مطلع کردیا جاتا ہےتاکہ ان کی گرفتاری عمل میں نہ آ سکے ۔

جرائم پیشہ عناصر کا نیٹورک پولیس سے زیادہ مضبوط کیوں ہے اور ان کو ہونے والی کاروائی کی پیشگی اطلاع کون دیتا ہے ؟ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ان کالی بھیڑوں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے ورنہ پولیس بھی ایک سوال بن رہ جائے گی -
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahmar Akbar

Read More Articles by Ahmar Akbar: 21 Articles with 9131 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2016 Views: 349

Comments

آپ کی رائے