پاکستان پیپلز پارٹی کا 49 واں یومِ تاسیس

(Sajid Habib, )
تحریر: رضیہ کامران

آج سے 49 برس قبل لاہور میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے سربراہی میں ڈاکٹر مبشر حسین کے گھرپر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سامراجی نظام کے خاتمہ اور عوام کو آمروں اور کرپٹ حکمرانوں کے جبرو استحصال سے بچانے کے لئے عوامی سیاسی پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں اس وقت کے سیاسی پنڈتوں میں سے کوئی بھی شامل نہ تھا ۔ اجلاس کے دوران شرکاء میں سے جن باقاعدہ مندوبین کا اعلان کیا گیا ان میں میر رسول بخش تالپور، شیخ رشید، جے اے رحیم، بیگم آباد احمد خاں، معراج محمد خاں، خورشید حسن میر، ملک حامد سرفراز خاں، امان اﷲ خاں اور راجہ منور سمیت دیگر ایسے بہت سے نام ہیں جن کا اس سے پہلے کوئی نمایاں سیاسی پس منظر نہیں تھا لیکن انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سٹیٹس کو کے متصادم نئے سیاسی کلچر کی بنیاد رکھ دی۔ کم و بیش اڑھائی سو کے قریب کارکنوں، رہنماؤں، ادیبوں اور شاعروں نے اس تاریخی کنونشن میں شرکت کی۔ 30 نومبر سے یکم دسمبر مندوبین اور دیگر شرکاء کے اجلاس ہوئے جن میں اس نئی پارٹی کی تشکیل و ساخت کے خدوخال طے کئے گئے اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سال 30 نومبر سے 6 دسمبر تک 49 ویں یومِ تاسیس کے حوالے سے ہفتہ روزہ تقریبات کا اعلان کیا ہے جو کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں بلاول ہاؤس لاہور میں ہو رہی ہیں۔ یہ تقریبات بڑی پروقار ہوں گی اور اس میں کراچی سے لے کر آزاد کشمیر تک کے کارکنان قافلوں کی صورت میں لاہور میں پہنچیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایک سوشلسٹ پارٹی ہے۔ یہ مزدوروں، کسانوں اور غریبوں کی پارٹی ہے۔ یہ پارٹی سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کے خاتمہ کے لئے بنائی گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ وہ واحد پارٹی ہے کہ جسے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں بنایا۔ جس کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہیں تھا ۔ یہ صرف ایک عوامی انقلابی پارٹی ہے۔ ہمیشہ سے اس کی طاقت معاشرے کے غریب، محنت کش، مزدور اور کسان رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی اپنے قیام کے ایک سال کے اندر اندر ایک ملک گیر تحریک بن گئی۔ 6 نومبر 1968ء سے لے کر 25 مارچ 1969ء تک کے 139 دنوں میں عملی طور پر طاقت حکمران ایوانوں سے نکل کر گلیوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، کھیتوں اور فیکٹریوں میں امڈ آئی۔ اس نقلابی تحریک کی تمام تر توانائی طلبہ، نوجوانوں اور محنت کشوں پر مشتمل تھی۔ عوام کی پکار کو سیاسی اظہار دینے والے پیپلز پارٹی کی تاسیسی دستاویز کے انقلابی نکات ہی تھے جن کی بنیاد پر تحریک کی قیادت پارٹی کے ہاتھ آئی۔ پیپلز پارٹی کا تاسیسی منشور ایک انقلابی دستاویز ہے جس نے 1968-69ء کا انقلاب جیت کر ذوالفقار علی بھٹو کی جھولی ڈال دیا اور پیپلز پارٹی کو راتوں رات ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت میں تبدیل کر دیا، اسکے چند کلیدی نکات مندرجہ ذیل ہیں:
٭ اس منشور میں دیا گیا ہے کہ معیشت میں بنیادی تبدیلی لائی جائے جس سے استحصال کا خاتمہ ہو اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سرمایہ دارانہ مداخلت کے بغیر ملک کو ترقی دی جائے۔ ٭ ’’پہلا قدم لازمی طور پر سامراج کے چنگل سے رہائی پانا ہے ۔ دوسری اقوام کے ساتھ مل کر ایشیا کی سرزمین کو امریکہ اور دوسری مغربی سامراجی طاقتوں کے قبضے سے چھڑانے کی جدوجہد کریں گے ۔‘‘٭ ’’تمام دولت انسانی محنت سے پیدا ہوتی ہے ۔ تمام بڑی صنعتیں قومی تحویل میں لی جائیں گی۔ مالیاتی اداروں کی نجی تحویل استحصال کا ماخذ ہے ۔ جب تک ریاست تمام بینکوں کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں قومی ملکیت نہیں بناتی وہ افراط زر پر قابو نہیں پا سکتی۔ ایک سوشلسٹ نظام اس بنیاد کو تبدیل کرے گا جو دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کا باعث ہے ۔‘‘ ٭ ’’جاگیر داروں کی طاقت کے خاتمہ کے لئے جاگیروں کی تقسیم ایک قومی ضرورت ہے ۔ پارٹی جاگیر داری کا خاتمہ اور سوشلسٹ اصولوں کے مطابق کسانوں کے مفادات کا تحفظ چاہتی ہے۔‘‘٭ ’’کارخانوں کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے مزدوروں اور تکنیکی ماہرین کی شمولیت کو بتدریج متعارف کروایا جائے گا۔ محنت کشوں کوذرائع آمدو رفت، چھٹیاں اور تفریحی کیمپ فراہم کئے جائیں گے۔ مفت طبی سہولیات کو محنت کشوں کے لئے فلاحی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ عمر رسیدہ اور معذور افراد کے لئے پنشن اور رہائش گاہوں کا انتظام کیا جائے گا۔‘‘ ٭ ’’سوشلسٹ حکومت کو انتظامیہ کا ایک مختلف ڈھانچہ درکار ہو گااور سوشلسٹ سماج اپنے قیام کے ساتھ ان ڈھانچوں کو خود ہی پیدا کرے گا۔‘‘٭ ’’ہر شہری کو بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہبی عقیدہ مساوی سیاسی حقوق، قانون کا تحفظ، حکومتی عہدوں تک رسائی حاصل ہو گی اور روزگار کے لئے کسی بھی قسم کا تعصب نہیں ہو گا‘‘ ٭ یونیورسٹوں اور کالجوں کے نصاب پر بھرپور طریقے سے نظر ثانی ہو گی اور یونیورسٹیوں کی سماجی زندگی سے علیحدگی کو ختم کرنا ہوگا۔ ایک پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا جائے گا جس کے ذریعے تمام ضروری سکول تعمیر کئے جائیں گے اور اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔‘‘ ٭ ؂ ’’ملک کے تمام علاقوں میں ایک ’’عوامی فوج‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ عوامی فوج ہی بیرونی جارحیت کے خلاف بہترین ہتھیار ہے ۔‘‘ ٭ ’’آئین کا قانونی ڈھانچہ اگر حکمران طبقے کے مفادات کے لئے بنایا جائے تو ترقی کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ موجودہ انتخابی نظام ملکیت والے طبقات کو پارلیمان میں بالادستی دینے کا نہایت کارگر طریقہ ہے ۔ الیکشن لڑنے کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی غریب امیدوار برداشت نہیں کر سکتا جب تک اس کو امیر سرپرستوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ پیپلز پارٹی سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچوں میں ایک انقلابی تبدیلی کا منصوبہ پیش کر رہی ہے ۔ پاکستان کے عوام اور صرف پاکستان کے عوام ہی اس انقلاب کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ اس لئے پارٹی کا نعرہ ہے : طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ (پیراگراف: اقتباس کالم لال خان)
ان 49 سالوں میں پیپلز پارٹی کو تین مرتبہ محنت کش عوام نے اقتدار دلوایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی اور انقلابی شخصیت کی کشش سے عوام جوق در جوق انقلاب کا نعرہ لگاتے ہوئے پیپلز پارٹی کی طاقت بنتے رہے اور یہ طاقت آج تک قائم ہے۔ جمہوریت کے لئے پیپلز پارٹی کی قربانیاں بے مثال ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو، ان کی لختِ جگر شہید بے نظیر بھٹو، شاہ نواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور بے شمار کارکنان نے بھٹوکی پارٹی کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔انہی قربانیوں کی بدولت پارٹی آج بھی محنت کشوں کی امنگوں کی ترجمان ہے۔ آج بھی زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس ملک کے غریب عوام کے جبری استحصال کے خلاف آواز اٹھائی، آمروں کی جارحیت کے آگے سینہ سپر رہی۔ سب سے بڑھ کراسلامی جمہوریہ پاکستان کو دو ایسے تحفے دیے کہ جس کی بنیاد پر آج پاکستان قائم و دائم ہے اور ان کا کریڈٹ صرف پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے۔ ایک چیز جس کا نام ہے آئینِ پاکستان ، جس کی بنیاد پر ملک کا اندرونی ڈھانچہ قائم ہے اور دوسری چڑیا کا نام ہے ایٹم بم، جس کے خوف سے دشمن ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ اگر آج پاکستان قائم ہے تو پیپلز پارٹی کے انہی دو کارناموں کی بدولت قائم ہے وگرنہ دشمن کب کا ہمارا وجود مٹا چکا ہوتا۔
وقت کڑا امتحان لیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔آمروں سے بھی مصالحت کرنی پڑ جاتی ہے۔ مشرف دور میں ملک سے آمریت کے خاتمہ کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ نے میثاقِ جمہوریت کے ذریعے مفاہمت کا آغاز کیا اور آج اسی مفاہمت کی بدولت جمہوریت کا شجر قائم ہے۔ اسی مفاہمت کی پالیسی کو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت آگے لے کر چل رہی ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کا نعرہ ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔ آصف علی زرداری کی بطور ایک سیاست دان قابلیت کو پوری دنیا مان چکی ہے جبکہ نوجوان بلاول اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جن کے پاس ان کے نانا کی قربانیوں کی وراثت اور ایک نیا وژن ہے۔ امید ہے کہ وہ پارٹی کو دوبارہ ملک بھر میں فعال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajid Habib

Read More Articles by Sajid Habib: 3 Articles with 1119 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2016 Views: 390

Comments

آپ کی رائے