الودع راحیل شریف ۔ شکریہ راحیل شریف

(Qadir Khan, )
جنرل موسی خان ، جنرل ییحی خان ، لیفٹنٹ جنرل گل حسن ، جنرل ٹکا خان ، جنرل محمد ضیا الحق ، جنرل مرزا اسلم بیگ ، جنرل آصف نواز ، جنرل عبدالوحید کاکڑ ، جنرل جہانگیر کرامت ، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف پاکستان فوج کے سپہ سالار منتخب ہوئے ۔جنرل راحیل شریف نے گورنمنٹ کالج، لاہور سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے- اکیڈمی کے 54ویں لانگ کورس کے فارغ التحصیل ہیں- 1976 ء میں گریجویشن کے بعد، انہوں نے فرنٹیئر فورس رجمنٹ، کی 6th بٹالین میں کمیشن حاصل کیا- نوجوان افسر کی حیثیت سے انہوں نے انفنٹری بریگیڈ میں گلگت میں فرائض سرانجام دئیے- ایک بریگیڈیئر کے طور پر، انہوں نے دو انفنٹری بریگیڈز کی کمانڈ کی جن میں کشمیر میں چھ فرنٹیئر فورس رجمنٹ اور سیالکوٹ بارڈر پر 26 فرنٹیئر فورس رجمنٹ شامل ہیں۔ زمینی جنگ کا تجربہ نہ رکھنے والے پہلے چیف آف آرمی اسٹاف کا گھرانہ پاکستان کے لئے قیمتی جانوں کا نذارنہ پیش کرچکا ہے ، ان کے خاندان میں ان کے بھائی میجر شبیر بھٹی شریف1971میں شہادت و بہادری کی تاریخ رقم کرکے نشان حیدر حاصل کرچکے ہیں تو میجر عزیز بھٹی، جو راحیل شریف کے بھانجے ہیں ، انھیں بھی 1965کی جنگ میں بہادری کا اعلی ترین اعزاز نشان حیدر ملا۔جنرل راحیل شریف کو عوام میں نہایت مقبولیت حاصل ہے ۔ اور ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے اپیل کی گئی کہ وہ ملازمت میں توسیع لے لیں ، لیکن انھوں نے ایک سال پہلے ہی آئی ایس پی آر کے ذریعے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کردیا کہ "پاکستان فوج ایک عظیم ادارہ ہے ، میں ایکسٹینشن میں یقین نہیں رکھتا۔" اپنے ارادے پر قائم رہے۔موجودہ حالات میں کوئی اس بات کا تصور نہیں کرسکتا تھا کہ ایک جانب ان کے ہاتھ میں پاکستان کا تمام اقتدار بھی آسکتا تھا ، لیکن سیاست میں عدم دلچسپی کی وجہ سے انھوں نے اپنے پیشہ وارانہ فرایض کو فوقیت دی۔ پاک فوج کے بارے میں پاکستان میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ پاک فوج ، پاکستانی سیاسی کرپٹ نظام کو درست کرسکتی ہے ۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ آمریت کا خیر مقدم کیا ، لیکن جب آمر اپنے طے شدہ مقاصد سے ہٹ گیا اور اس نے اپنے اقتدار کو دوائم دینے کیلئے سیاست میں عملی مداخلت شروع کی تو اسی عوام نے کوڑے کھا کر ، جیلیں بھر کر ایسے زبردستی رخصت بھی کیا۔ موجودہ نواز حکومت کے خلاف سیاسی طور پر کئی ایسے مراحل آئے ، جس میں تقریباََ ہر پاکستانی کو یقین ہوگیا تھا کہ جلد ہی فوج حکومت کو ٹیک اوور کرلے گی ، لیکن سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے نواز حکومت کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ، گو کہ حکومت نے وفاق کے انتظام آئینی طور پر فوج کے حوالے کردیا تھا ، اور ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ سول حکومت اپنی رٹ کا جواز کھو چکی تھی ، لیکن اس معاملے کو بڑی فراست سے حل کرلیا گیا ، اور سانحہ پشاور اے اپی ایس نے نواز حکومت کے ساتھ ساتھ ، عمران خان کو بھی بند گلی سے باہر آنے کا موقع فراہم کردیا ۔ جس کا دونوں نے فایدہ اٹھایا۔تاہم عمران خان اپنی عجلت پسند طبیعت کے سبب دوبارہ وہی حالات پیدا کرنے کی کوشش میں اسلام آباد لاک ڈاؤن کی طرف چلے ، لیکن جنرل راحیل شریف کی سیاست میں عدم دلچسپی اور ملک کو درپیش صورتحال کے ادارک کے سبب کسی غیر آئینی اقدام سے گریز کیا۔

جنرل راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر تھی۔ دسمبر 2013 کو راحیل شریف کو نشان امتیاز(ملٹری) سے نوازا گیا-جنرل پرویز مشرف کے دور میں میجر جنرل راحیل شریف کو گیارہویں انفنٹری بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا گیا- راحیل شریف ایک انفنٹری ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ افسر اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ رہنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں- راحیل شریف نے اکتوبر 2010 سے اکتوبر 2012 تک گوجرانوالہ کور کی قیادت کی- انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں انسپکٹر جنرل تربیت اور تشخیص رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے- نومبر 2013 کو وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں پاکستانی فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا- انہیں دو سینئر جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود پر فوقیت دی گئی- ایک سینئر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم نے اسی وجہ سے فوج سے استعفی دیا-ایک اور سینئر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو بعد ازاں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا گیا-انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اختیارر کیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کی۔اس سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری ہونے لگی اور راحیل شریف ملک میں ایک مقبول آرمی چیف کی حثیت سے ابھرے۔حالیہ ایران سعودیہ کشیدگی میں وہ بھی ملکی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگے کم کرنے کے لیے دورے پر تھے۔ جنرل راحیل شریف کے سامنے بڑے چیلنجز تھے ۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج شمالی وزیر ستا ن میں آپریشن تھا ، جیسے آپریشن ضرب عضب کا نام دیکر بھرپور قوت کے ساتھ شروع کردیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں را ، اور خاد کی پھیلائی ہوئی سازشوں کا قلع قمع کرنے کرنے میں کامیابی ملی ، کراچی جو تین دہائیوں سے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا تھا ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت امن کے اس دور میں ، کراچی کو واپس لے آئے ، اگر سیاسی جماعتیں مکمل تعاون کرتیں تو کراچی میں دہشت گردی کی نرسریاں ، اسٹریٹ کرائمز کا بھی خاتمہ ہوجاتا اور کراچی کے باسی ، ماضی کی طر ح رات گئے تک بلا خوف و خطر کراچی کی سابقہ پہچان کو دوبارہ حاصل کرلیتے۔ جنرل راحیل شریف کے سامنے فرقہ واریت کا ایک ایسا اژدھا بھی پھن پھیلائے کھڑا تھا ، جس نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے بے گناہوں کے خون سے اپنے خوں آشام ارادوں کی آبیاری کرکے پیاس بجھانے کی کوشش کی ۔ شمالی وزیرستان کو دہشت گردی کے گڑھ سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں آئی ڈی پیز کی بحالی اور ان کی ذمے داری بھی فوج کو ہی اٹھانی پڑی ، صوبائی حکومتوں نے کبھی اس کی ذمے داری وفاق پر ڈالی تو کبھی کسی صوبے نے اپنے صوبے کے حدود میں داخلے پر پابندی اور ان کا اندراج ایسا کیا جانے لگا ، جیسے یہ پاکستان کے شہری نہ ہوں ، بلکہ کسی دوسرے ملک سے آئے ہوں، شمالی وزیر ستان کے ساتھ ساتھ ، خیبر ون ، خیبر ٹو کے آپریشن میں قبائلی علاقوں سے باقی ماندہ افغانستان بھاگے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں کامیابی کا سہرا بھی جرنل راحیل شریف اور فوج کے سر جاتا ہے۔

جرنل راحیل شریف کی سب سے بڑی کامیابی اقتصادی راہدری منصوبے کو ملک دشمن عناصر کی ناپاک نظروں اور ارادوں سے بچانا تھا ۔ یہاں بھی وہ سرخرو ہوئے اور باقاعدہ پہلا اقتصادی قافلہ کا افتتاح گذشتہ ہفتے پاکستان میں ہوگیا ۔اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے فوج کو امن کے قیام اور دیگر اہم امور سے توجہ ہٹانے کیلئے مقبوضہ کشمیر سمیت ، ایل او سی پر بے گناہ شہریوں پر مسلسل گولہ باری شروع کردی تو کبھی سرجیکل اسٹرئک کا ڈرامہ کیا ۔ بھارت کی اشتعال انگیز کاروائیوں پر بڑے پیشہ وارانہ انداز میں بھرپور جواب دیا ۔اور ایک شہری کے شہادت کے بدلے دو بھارتی فوجیوں کو جہنم وصل کر جواب دیا اور ساتھ ہی علی اعلان کہا بھی کہ بزدل دشمن اپنے فوجیوں کی موت کو چھپاتا ہے جبکہ ہم شہادت پر فخر کرتے ہیں ، مردانگی کے اس طعنے پر بھارت میں غیرت اتنی جاگی کہ جب ساتھ پاکستانیوں کے جواب میں 40-بھارتی جہنم وصل ہوئے تو شرمندگی سے صرف 13فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کرلیا ۔ بھارت کی مکمل کوشش ہے کہ کسی طرح بھی پاکستان اشتعال میں آجائے اور محدود جنگ ، ملکی جنگ میں تبدیل ہوجائے ، کیونکہ اس عمل سے پاکستان کے تمام وسائل جنگ میں خرچ ہوجائیں گے ، پاک ، چائنا اقتصادی راہدری کا منصوبہ رک جائے گا ، لیکن جب پاکستانی فوج نے موٹر وے پر اپنے شاہین کھڑے کردیئے اور جنرل راحیل شریف نے واضح طور پر کہا کہ بھارت جانتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ، تو بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے اور بھارتی عوام اور بھارتی سیاسی جماعتیں سرجیکل اسٹرئک کے جھوٹے ڈرامے پر مودی سرکار کااحتساب کرنے کیلئے کھڑی ہوگئی تو ، بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے کرنسی کی تبدیلی کا حکم دے دیا۔جس پر وزرات خزانہ اور کابینہ سے بھی مشاورت کو ضروری نہیں سمجھا گیا ۔ اب بھارتی عوام جنھیں بھارتی میڈیا نے پاکستان فوبیا میں مبتلا کردیا تھا آج کل نوٹ نہ ملنے کی وجہ سے مرنے والوں کی لاشیں دیکھا رہا ہے ، اور عالمی توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی حکومت مسلسل تین مہینے سے جبر و ظلم کا جو بازار مقبوضہ کشمیر میں گرم کئے بیٹھی ہے ، اس سے توجہ ہٹانے کیلئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔

احتساب کا عمل اگرچہ براہ راست فوج کے دائرہ عمل میں نہیں آتا مگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام سیاسی پارٹیوں کی منظوری سے راحیل شریف نے اس عمل کا بھی بیڑہ اٹھایا اور اس عمل کا آغاز فوج ہی سے کیا اور کئی حاضر فوجیوں کو کرپشن کے الزام کے تحت نہ صرف معطل کیا بلکہ ان کے خلاف کاروائی کا آغاز بھی کیا جو کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ اس کے بعد اس عمل کا دائرہ تمام شہری اور سیاسی حلقوں تک بڑھا دیا گیا جس کے نتیجے میں بڑی سیاسی شخصیات کے اہم رفقا کی گرفتاری بھی ہوئیں جیسے کہ ڈاکٹر عاصم، عزیر بلوچ، قادر پٹیل وغیرہ کی گرفتاری ہے ,چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی جانب سے الوداعی ملاقاتیں شروع کرنے کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں صورتحال واضح ہو گئی ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اس معاملہ پر مکمل ’’خاموشی‘‘ اختیار کئے رکھی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف‘ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع دینا چاہتے تھے تاہم 21 نومبر تک سسپنس برقرار رہا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں ہوا بلکہ اس بارے میں آئی ایس پی آر نے قوم کو خبر دی۔ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف کیلئے سعودی عرب کے قائم کردہ 34 ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی اور سعودی عرب کے ملٹری ایڈوائزر کی پیشکش موجود ہے۔

امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھاہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف گزشتہ دودھائیوں میں پاکستان کے واحدجرنیل ہیں جنہوں نے خود اپنی ریٹائرمنٹ کااعلان ایک سال قبل کیاتھااوراب مقررہ مدت میں ریٹائرڈہوجائیں گے۔امریکی اخبارنے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنی دورملازمت کے دوران جوکہاوہ کردکھایا۔اخبارنے مزیدلکھاہے کہ جنرل راحیل کو اپنے تین سالہ دور میں دہشت گرد مخالف کارروائیوں کے نمایاں معمار ہونے کا کریڈٹ جاتاہیاوران کے فوج کے سربراہ ہونے کے وقت پاکستان میں دہشتگردوں کی کا رروائیوں میں نمایاں کمی ہوئی اورکراچی جیسے دنیاکے بڑے شہروں میں سے ایک شہرمیں انہوں نے کامیاب آپریشن کرکے پاکستان کی معیشت کومضبوط بنانے میں اہم کرداراداکیاہے۔اوراس سلسلے میں کسی بھی سیاسی جماعت کے جنگجوونگز کے خلاف کارروائی کی گئی جس کی وجہ سے کراچی میں امن بحال ہواہے۔امریکی اخبارنے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھاہے کہ پاکستان میں فوج کے سربراہ سب سے زیادہ طاقتورعہد ہ ہے اورجنرل راحیل شریف کی وجہ سے سول اورملٹری تعلقات بہترہوئے کیونکہ پاکستان میں کئی بارمارشل لالگنے کی وجہ سے پاکستان میں سول حکومتوں اورفوج میں کشیدگی کی ایک تاریخ موجود ہے لیکن جنرل راحیل شریف نے سول اورملٹری تعلقات کوبہترین سطح پرلانے میں اہم کرداراداکیااورجنرل راحیل شریف کی طرف سے مقررہ مدت میں ملازمت سے سبکدوش ہوجاناایک سنگ میل ثابت ہوگااورپاکستان میں جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔

کراچی میں دہشت گردی' بھتہ خوری ' اغواء برائے تاوان ' سنگین جرائم ' کرپشن اس قدر عروج پر تھے کہ انتظامیہ بے بس تھی۔ سپریم کورٹ حالانکہ نشان دہی کر چکی تھی کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس متشدد گروپ ہیں لیکن اہل سیاست اور حکومتیں بے بس تھیں۔ بھارتی خفیہ کار ایجنسی را کو مدد کے لیے پکارا جا رہا تھا۔ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جس میں مضمر چیلنج واضح طور پر نظر آتا تھا۔ کراچی ہاتھ سے نکلتا نظر آتا تھا۔ جنرل راحیل شریف کے دور قیادت میں رینجرز نے برسرزمین وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے کہ آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ کراچی کی روشنیاں بحال ہو رہی ہیں۔ آج کے کراچی اور تین سال پہلے کے کراچی کو دیکھا جائے تو فرق صاف نظرآ تا ہے۔ کراچی میں تشدد پسندوں کی سرکوبی انٹیلی جنس کے اداروں کے کمال کارکردگی کا مظہر ہے۔ آج تک کراچی میں جگہ جگہ چھپائے ہوئے بھاری اسلحہ کے ذخائر دریافت ہو رہے ہیں۔ ابھی پتہ نہیں اور کتنے اسلحہ کے ذخائر ہیں جن تک رسائی نہیں ہوئی۔

جنرل راحیل شریف کے بعد آنے والے چیف آف آرمی سٹاف کے لیے کراچی کے امن کو ممکن بنانے کی شروعات کے اس عمل کو آگے بڑھانے کا چیلنج ایک اہم چیلنج ہوگا۔ بلوچستان کی صورت حال ساری قوم کے لیے باعث تشویش تھی۔ جنرل راحیل شریف نے خود ایک عرصہ بلوچستان میں گزارا تھا۔ ان کی قیادت میں پاک فوج اور ایف سی نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور ان کے فریب میں آنے والے قبائلیوں کے گرد گھیرا اس مہارت سے تنگ کیا ان کے ساتھ رابطوں کے ذریعے انہیں اس خوبصورتی سے قائل کیا کہ وہ لاحاصل اور وطن دشمن کارروائیوں میں شریک ہو رہے ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے سرداروں سمیت حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور پرامن زندگی گزارنے کی ترجیح کے اعلانات کیے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ طے ہوا تو بھارت کے ذمہ دار وزیروں تک نے بیان دیے کہ وہ اس منصوبے کو مکمل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے لیے بھارت نے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کی اور خاص طور پر بلوچستان میں خفیہ کاری کے جال پھیلائے۔ لیکن پاک فوج کے اداروں نے اس قدر مستعدی سے اپنے فرائض انجام دیے کہ کلبھوشن یادیو ایسے بھارت کے حاضر سروس انٹیلی جنس کے سینئر افسر کو گرفتار کیا۔ یہ شاید دنیا میں ایک مثال ہے۔جنرل راحیل شریف نہایت باعزت طریقے سے رخصت ہو رہے ہیں ، لہذا ان کی اس روایت کو آنے والے فوجی سربراہوں کو بھی جاری رکھنا چاہیے ۔ لیکن اس کے لئے ییہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی حکمران جماعت اپنے مفادات کے بجائے ملکی مفادات کو سامنے رکھے اور ملکی مفاد کے خاطر مناسب فیصلے کرے ۔ پاکستان کی تاریخ کو یاد رکھے کہ جن کے لئے قوانین کو بائی پاس کیا گیا انھوں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی عوام جرنل راحیل شریف کے بعد آنے والے نئے چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ بھی پاکستان کی ترقی و دنیا میں عظیم طاقت بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے ۔ الودع راحیل شریف ۔ شکریہ راحیل شریف
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 726 Articles with 295037 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2016 Views: 370

Comments

آپ کی رائے