تبدیلی کمان

(Muhammad Amjad, )
جنرل راحیل شریف نے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو علامتی چھڑی سونپ کرپاک فوج کی کمان باضابطہ طور پر ان کے سپرد کر دی ہے۔ اس سلسلے میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی تقریب پاک فوج کی اعلیٰ روایات اور اقدار کا شاندار اظہار تھی۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اور دیگر چیلنجز کے پس منظر میں یہ اس بات کا تاثر بھی لیے ہوئے تھی کہ پاک فوج بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل اور پراعتماد قیادت سے سرشار ہے اور تبدیلی کمان سے اس کے عزم، فرائض اور قومی اور ملکی مفادات اور ترجیحات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تین سال قبل جب جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایسی ہی ایک تقریب میں جنرل راحیل شریف کے سپرد کی تھی تو اس وقت بھی قومی اور عالمی سطح پر ملک کو بہت سے چیلنجز درپیش تھے۔ پاک فوج نے ان کی قیادت میں ان چیلنجز کا نہ صرف بہادری سے مقابلہ کیا بلکہ کافی حد تک ان پر قابو پا کر ایک مثال قائم کردی۔ پاک فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آہنی رویہ اپنایا۔ انہوں نے سول ملٹری تعلقات کو پروان چڑھایا اور اپنی حدود میں رہتے ہوئے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیاں، بلوچستان اور کراچی میں شرپسندوں کیخلاف موثر کارروائیاں، سی پیک کی حفاظت و تکمیل اور سب سے بڑھ کر ازلی دشمن بھارت کے جارحانہ عزائم کا منہ توڑ جواب ان کے عزم اور لگن کا واضح اظہار ہے۔

تبدیلی کمان کے موقع پر جنرل راحیل کی تقریر دوستوں اور دشمنوں کے لیے واضح پیغامات لیے ہوئے تھی۔ ان کے ایک ایک لفظ نے جہاں پاکستانی عوام کے دلوں کو گرما دیا وہاں دشمنوں کے دلوں پر بھی ہیبت طاری کرکے رکھ دی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں ازلی دشمن بھارت کو پیغام دیا کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا خود اس کے لیے خطرنا ک ثابت ہو گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیا کی ترکی ناگزیر قراردیتے ہوئے عالمی برادری پر اس کے حل میں تعاون پر زوردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کے بارے میں نا پاک عزائم رکھنے والوں کے خلاف پاک فوج ایک مضبوط ترین دفاعی قوت ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلا ف کامیاب جنگ لڑ کر تاریخ کے دھارے کو موڑا اور اس خطے کو امن کی ایک نئی امید دی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سیکورٹی کے حالات پیچیدہ ہیں اور ہمارے ملک کو در پیش چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اس صورتحال میں پوری قوم اور ادارے یکسوئی کے ساتھ صورتحال کا ادراک کریں اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی کمزوریوں خصوصاً جرائم ،کرپشن اور شدت پسندی کا خاتمہ کرنے کے لیے ڈٹ جائیں۔ خاص طور پر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد لازم ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مکمل امن کے حصول کی جانب ہمارا سفر قدم بہ قدم جاری ہے اور ہم نے بتدریج دنوں سے ہفتوں اور مہینوں کا استحکام حاصل کرلیا ہے۔ اب ہمار ی منزل دور نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دی اور ان کو حاصل کرنے کے لیے اپنی اور پاک فوج کی بھرپور توانائیاں استعمال کیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاک فوج عوام کے اعتماد پر ہمیشہ پورا اترے گی۔ انہوں نے عوام، دیگر سیکورٹی اداروں، خفیہ ایجنسیوں، رائے عامہ اور میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مسلح افواج کے باہمی ربط اور تعاون کو قومی اثاثہ قراردیتے ہوئے اس پر فخر کا اظہار کیا۔ سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں اور اداروں کا تعاون اور مضبوطی ہی ملک کے استحکام کا باعث ہے۔

جنرل راحیل شریف کا خطاب انتہائی مختصر مگر ملکی مفادات اور ترجیحات کا بھرپور انداز سے اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے درست فرمایا کہ پاکستان کے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر دہشت گردی اور بھارتی عزائم ملکی سلامتی کے لیے ابھی بھی شدید خطرات ہیں۔ پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ان خطرات سے پوری طرح آگاہ اور ان سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ وہ دہشت گردی کے خلاف بھی پیش پیش رہے۔ وہ پاک فوج کی سب سے بڑی 10 ویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔اس طرح انہیں کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے۔ ان کی قیادت میں جہاں پاک فوج دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی وہیں بھارتی عزائم کا بھی موثر اور منہ توڑ جواب دیتی رہے گی۔ سول ملٹری تعلقات کے فروغ، سی پیک ، کراچی اور بلوچستان میں بھی اپنی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان ہی قوم کی امیدوں اور امنگوں کا محور ہیں۔ مشکل کی ہر گھڑی میں وہ ان کے اعتماد پر پورا اتری ہیں۔ اس تقریب سے ایک روز قبل جائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں جنرل راشد محمود نے چیئر مین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی ذمہ داری جنرل زبیر محمود حیات کے سپرد کیں۔ جنرل راشد محمودنے بھی اپنے فرائض کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز سے ادا کیا ہے۔ اس طرح سبکدوش ہونے والے دونوں جرنیلوں نے افواج پاکستان کی نیک نامی اور عزت میں جو اضافہ کیا اور اپنی صلاحیتوں اور کردار کا جواثاثہ چھوڑا ہے جنرل زبیر محمود حیات اورجنرل قمرجاوید باجوہ بھرپور انداز سے ان کی پاسداری کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 43179 views »
Columnist/Journalist.. View More
30 Nov, 2016 Views: 366

Comments

آپ کی رائے