اپنا علاج خود کریں

(munawar, London)
انسان اور بیماری
انسان اور بیماری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اگر ہم اپنے ماحول میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی ظاہری یا باطنی بیماری میں مبتلا ہے۔کئی لوگ تو دیکھنے میں بھی بیمار نظر آتے ہیں لیکن کئی لوگ بظاہر شخص سرخ و سفید اورموٹےتازےنظر آتے ہیں۔لیکن اندرون خانہ وہ بھی بہت سی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔
در حقیقت اکثرلوگ بیمار ہوتے ہیں لیکن انکی بیماری کی شکل اور کیفیت جدا جدا ہوتی ہے۔کہتے ہیں محمد علی کلے نے ایک دفعہ کہا تھا۔کہ میں سب سمجھتا تھا کہ میں دنیا میں نمبر ایک ہوں۔لیکن میری باس معذوری کے زریعہ مجھے خدا نے بتا دیا کہ نمبر ایک خدا ہی ہے۔جس کو فنا نہیں ہے۔
اسپتال میں روز وشب
خاکسار ہارٹ سرجری کے سلسلہ میں اسپتال میں زیر علاج تھا۔انگلستان میں کسی بھی اہم سرجری کے لئے بسا اوقات کئی کئی روز تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ روزانہ ہی ایمرجنسی کیس آجاتے ہیں ۔جنہیں فوری فوقیت دی جاتی ہے۔میرے کمرے میں میرے علاوہ پانچ اورمریض بھی تھے۔زیادہ تر انگریز دوست تھے۔
انگریز مریض اسپتال میں بھی نارمل زندگی گزارتے۔صبح اٹھتے،نہا دھو کر مناسب لباس زیب تن کرکے اخبارات،ٹی وی یا ،کتب بینی میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔کھانا ہمیشہ ہی باقاعدہ کرسی پر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔اکثر اوقات آپس میں خوش گپیوں میں لگے رہتے۔حالانکہ ہمارے معاشرہ کے برعکس انہیں ملنے والے عزیز واقارب صرف ہفتہ،اتوار کو ہی آتے تھے۔اس کے باوجود انہین مسکراتے ہوئے ہی دیکھاہے۔
ہمیں بچپن سی چونکہ بستر پر چوکڑی مار کر بیٹھنے کی عادت ہے اور اسی میں استراحت محسوس کرتے ہیں۔اس لئے میں اکثر اوقاتبیڈ پر چوکڑی مار کر بیٹھ جاتا اور بہت سے ممکنہ کام سر انجام دے لیتا۔
انگریز مریض میرے بیٹھنے کےاس انداز پر بڑے حیران ہوتے۔آخر ایک دن ایک مریض نے پوچھ ہی لیا۔مسٹر احمد کیاآپ اس طرح بیٹھ کر یوگا کرتے ہیں؟
تندرستی ہزار نعمت ہے
میرےکمرہ میں ایک سری لنکا کے دوست بھی تھے۔جن کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہو گی۔ہر لمحہ ان کے چہرہ پر اداسی اور پریشانی کے بادل چھایا رہتے۔نہ بروقت لباس بدلتے۔ان عزیز انہیں شام کے وقت ملنے آجایا کرتے تھے۔
ایک دن میں ان کے پاس گیا۔ان کا حال احوال پوچھا۔انہوں نے اپنی بیماری کا حال بتایا ۔کہنے لگے ایک دن کار پر کسی عزیز کو ملنے جارہاتھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میری کار کی بریک نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔لیکن بعد میں احساس ہوا کہ میرا پاؤں کام نہیں کررہا ہے۔میں نے بڑی احتیاط سے کار سڑک کے ایک جانب پارک کی۔یہاں آکر معلوم ہواکہ مجھے توسٹروک ہوگیا ہےجس کی وجہ سے میرا پاؤں مفلوج ہو چکا ہے۔ اہل خانہ سے رابطہ کیا ،انہون نے فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا۔اس لئے میں کافی دنوں سے اسپتال میں اپنی مجوزہ سرجری کے لئے اپنی باری کا انتطار کررہا ہوں۔
اس سے بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا۔اس نے بتایا کہ اس کے دو بیٹے ہیں جودونوں برسر روزگار ہیں۔جن کے لندن اپنے ذاتی مکان ہیں۔بیوی بھی کسی دفتر میں ملازمت کررہی ہے۔
نیز بتایا کہ میں نے اپنے گھر میں بعض ضروری اضافے کرنے ہیں۔جس کے لئے میں نے بنک سے قرض اپلائی کیا ہوا تھا ہے۔اب وہ رقم تو مجھ مل گئی ہے لیکن اتفاق سے اب میں بیمار ہو گیا ہوں اور کئیِ روز سے ہسپتال میں ہوں۔اب وہ رقم میرے لئے خاصی پریشانی کا سبب بن گئی ہے۔
میں نے اسے بتایا،ذرا تصور کرو۔جس طرح آپ کو کار چلاتے ہوئے بھر پور ٹریفک میں سٹروک ہوا تھا۔لگتا ہے اللہ تعالی نے تمہیں بچا لیا ہے۔اس صور حال میں تو بہت کچھ ہو سکتا تھا۔تمہیں تو خدا کا شکر کرنا چاہیےجس نے تمہیں نئیِ زندگی بخشی ہے۔
پیسوں کا کیا ہے اور مل جائیں گے۔تمہارے بیٹوں کے اپنے مکان ہیں۔بیوی بھی کمارہی۔ذرا اپنے ماحول میں تو دیکھو یہاں توکئی لوگ ایک کمرے کو ترس رہے ہیں ۔تمہاری یہ مصنوعی پریشانی تمہارے صحت مند ہونے میں ایک روک بنی ہوئی ہے۔اٹھو بس فریش ہو جاؤ۔کپڑے بدلو پھر اسپتال کے ریسٹورنٹ میں جا کر چائے پیتے ہیں۔اس نے میری بات بخوشی مان لی۔میں نے محسوس کیا کہ اس کے بعد اس کی حالت میں تیزی سے صحت مند تبدیلی پیدا ہوئی۔جس کی وجہ سے وہ صاحب اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ میرے بہت دوستانہ تعلقات بن گئے۔
مریض کی حوصلہ شکنی نہ کریں
ہمارے معاشرہ میں جب کوئی بیمار ہوتا ہے۔خاص طور پر بڑی بوڑھیاں اپنے اپنے انداز میں بڑے دلچسپ خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔۔ہائے بیٹا تمہارا رنگ تو پیلا زرد ہو گیا ہے۔ہائےتمہاری آنکھیں کس طرح اندر دھنس گئی ہیں۔تم تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے ہو۔محبت اور ہمدردی کے اظہار کے لئے قسم قسم کے مایوس کن اور دل شکن کلمات ان کی زبان سے نشتر بن کے نکلتے ہیں۔جو بےچارے مریض کی ہمت بندھانے کے بجائے اس کی بیماری میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
موت کا فرشتہ
بسااوقات تو بعض لوگوں کے رویہ کی وجہ سے ان کے بارے میں عوام الناس میں منفی تاثر بھی سر زدعام ہو جاتا ہے۔اسی قسم کی ایک بڑھیا سرگودھا کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔ان کے بارے میں مشہور ہو گیا تھا۔جس بیمار کے گھر وہ تیمارداری کے لئے جاتی ہیں۔وہ مریض جلد ہی دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ایک دفعہ اس بڑھیا کا ایک بھتیجا سخت بیمار ہوگیا۔کا فی علاج کیا مگر آفاقہ نہ ہوا۔اس کی بڑھیاکو بھی خبر ہو ئی کہ عزیز بیمار ہے۔چلو بیمار پرسی کر آؤں۔جب وہ بڑھیا ان کے گاؤں میں پہنچی۔کسی نے اس نوجوان کو بھی بتادیا کہ آپ کی پھوپھی تیمار داری کے لئے تمہارےگھرآرہی ہے۔مریض نوجوان میں نہ جانے کہاں سے اتنی طاقت آگئی۔ فوراًاٹھا اور گھر کے پچھواڑے سے دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔
بیمار پرسی کا معصومانہ انداز
میں سکول میں تدریسی خدمات سر انجام دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں خاصا بیمار ہوگیا۔جس کی وجہ کافی دن سکول نہ جاسکا۔اس دوران حسب دستور،میرے کئی ملنے والے عزیز واقارب ،یار دوست اور بعض طلبہ بھی میری عیادت کے لئے تشریف لاتے رہے۔ ہمارے ہاں حسب عادت ہر آنے والا اپنی عقل و سوچ کے مطابق حال احوال پوچھنے کے بعد اپنے طبی مشورے اور کئی قسم کی ہدایات اور احتیاطوں سے ضرورنوازتا ہے۔
ایک روز میرا ایک شاگرد بھی میری بیمارپرسی کے لئے آیا۔ بیمار پرسی کی۔پھر کہنے لگا۔ چند ماہ قبل میرے بڑے بھائی کو بھی یہی بیماری لگی تھی ۔وہ بے چارہ توایک ہفتہ کے اندر ہی فوت ہوگیا تھا۔اس طالب علم کا انداز ایسا معصومانہ تھا کہ آپ سوائے صبر کے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔
بیماری کی خبر پر مریض کی نفسیاتی کیفیت
2012 میں خاکسار کو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گردے جواب دے چکے ہیں۔جس کی وجہ سے اب ڈیالیسز ہونگے۔اس وقت اس کے کلینک میں میڈیکل کے کچھ طلبہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ڈاکٹر نے انہیں میری بیماری تفاصیل ،اسباب اور بعدازاں خطر ناک نتائج کے بارے میں کافی تفصیل سے بتایا۔ڈاکٹر کی اس گفتگو نے کافی پریشانی پیدا کردی۔ خبر کافی تشویش ناک تھی۔جس کسی سے بھی بات کی۔اس نے سخت پریشانی کا اظہار کیا۔ہر کسی کو میری حالت پر ترس آرہا تھا جو ان کی باتوں سے عیاں ہورہا تھا۔
مثبت اور منفی انداز کے اثرات
آدھا گلاس خالی ہے یا آدھا اگلاس بھرا ہوا۔مطلب تو ایک ہی ہوتا ہے۔مگر انداز بیان میں بہت فرق آجاتا ہے۔اس خبر پربظاہر تو میں نارمل ہی تھا۔لیکن میرے دل میں بے شمار وساوس پیدا ہو گئے۔اور ساتھ ہی مجھے نفسیاتی طور پر کمزوری کا احساس پیدا ہونا شروع ہوگیا۔میرے محلہ میں دو دوست اس موذی مرض کا شکار تھے۔ ان سے علیک سلیک تھی۔لیکن اس بیماری کے حوالے سےکبھی تفصیل سے بات چیت نہیں ہوئی تھی۔یہ دوست ہفتہ میں تین بار قریبی ہسپتال میں ڈیالیسز کے لئے جایا کرتے تھے۔ان سے معلومات کے لئے رابطہ قائم کیا۔تاکہ اس بیماری کے بارے میں کچھ تفاصیل حاصل کروں۔
منفی سوچ کے اثرات
ایک دوست کے گھر گیا۔اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا۔اس کے چہرہ پر سخت پریشانی ہویدا ہو گئی۔اس نے مجھے اس بیماری کی کیفیات کے بارے میں بہت ڈرایا۔اس کی بیان کردہ تفاصیل کے ہر جملہ پر مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ بڑی ہی مایوسی کی حالت میں گھر واپس آیا۔اب تو چلنا بھی دشوار محسوس ہورہا تھا۔شام کھانا پیش کیا گیا۔لیکن بھوک کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔اہل خانہ کے اصرار پر چند لقمے زہر مار کئے۔رات بھر بہت سارے پریشان کن خیالات دل ودماغ پر چھائے رہے۔
مثبت سوچ کے اثرات
اگلے روز میں دوسرے دوست کے پاس گیا۔اسے اپنی بیماری کے بارے بتایا۔وہ کہنے لگا۔آپ پریشان نہ ہوں۔آجکل تو اس بیماری کے علاج کے سلسلہ میں بہت ساری سہولیات پیدا ہو گئی ہیں۔آپ بالکل فکر نہ کریں۔جونہی آپ کا ڈیا لسز شروع ہوگا۔آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔آپ کی رنگت ٹھیک ہوجائے گی اورپاؤں اور چہرہ کی سوج انشاء اللہ ٹھیک ہو جائے گی۔آپ بالکل فکر نہ کریں۔آپ دیکھ لیں میں بالکل ٹھیک ہوں اورنارمل زندگی بسر کررہا ہوں۔بس آپ نے اپنے رویہ کو بدلیں اورصحت مند خوراک اور بیماری کے حوالے سےمثبت سوچ پیدا کرلیں ۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کہنے لگے۔آپ مجھے بتائیں۔دنیا میں کون ہے جو ہ کہہ سکے کہ مکمل صحت مند ہوں ۔ہر کوئی کسی نہ کسی مرض کا شکار ہے۔ہمیں اگریہ تکلیف ہے باقی لوگوں کی بیماریاں مختلف ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں اب بیماری لگ تو گئی ہے۔اب اس سے مقابلہ ہے۔اس کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دینا ہے بلکہ اس کو دبا کر رکھنا ہے۔اس محترم دوست کی باتوں نے میری ہمت بڑھادی اور میں اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگا۔
بہادر خاتون
مجھے بتایا گیا کہ ہفتہ میں تین روز ڈیالیسز ہونگے۔ہر سیشن کا دورانیہ چار گھنٹے اورپانچ منٹ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ آمد ورفت اور اپنی باری کے انتظار میں کم از کم دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی ہدایت پر مجھے ایک ڈیا لیسز سنٹر میں بھیج دیا گیا۔میری وارڈ میں چار مریض تھے۔یہ سارے مریض کا فی عرصہ سے ڈیالیسز کرا رہے تھے۔اس لئے اس میدان میں کافی صاحب تجربہ تھے۔ان مریضوں سے علیک سلیک ہو ئی۔ہر نووارد کی طرح بہت سے سوالات کے جوابات چاہے۔
میرے بیڈ کےقریب ہی ایک انگریز خاتون جس کی عمر پینسٹھ سال کے قریب تھی۔اس نے بتایا کہ وہ ایک قریبی شہر میں کسی دفتر میں پراجیکٹ مینیجر ہے۔پہلےپہر آفس میں کام کرتی ہے۔شام کو ڈیالسز کے لئے آتی ہے اور پھر رات بارہ بجے اپنے گھر خود اپنی کار چلا کر آتی ہے
میرے لئے اس کی باتیں عجیب تھیں۔اس نے بتایا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جو یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔میں تو یہ سب کچھ اسی کے لئےکررہی ہوں کیونکہ میں اپنے بیٹے کو ایک بیمار ماں نہیں دینا چاہتی۔
اس بہادر خاتون کی باتوں نے مجھ پر بہت اثر کیا۔میں نے سوچا یہ خاتون جو مجھ سے عمر میں بڑی ہیں اور عرصہ بارہ سال سے ڈیالیسز کرارہی ہیں۔لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کررہی ہے۔میں تو ایک مرد ہوں اور میں ایک مایوسی کی زندگی گزاررہا ہوں۔اسوقت میں نے فیصلہ کرلیا کہ جو بھی ہو میں سارے اپنے کام خود ہی کروں گا۔اگلے روز میں نے اپنی گاڑی جو میری بیماری کے باعث کافی دنوں سے پارک تھی۔اس کونکالا اور دوستوں کو ملنے چل نکلا۔اہل خانہ نے کافی مخالفت کی۔بہت ڈرایا۔لیکن بفضلہ تعالی عرصہ چار سال سے کار چلا رہا ہوں۔ اپنے سارے کام خود انجام دیتا ہوں اور یہ بیماری کبھی بھی میرے لئے روک نہیں بنی ہے۔
ہمت مرداں مدد خدا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: munawar

Read More Articles by munawar: 35 Articles with 22611 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2016 Views: 752

Comments

آپ کی رائے