شکریہ راحیل شریف۔خوش آمدید قمر باجوہ

(Qadir Khan, Lahore)
پاکستان میں جہاں فرقہ واریت کے مہیب بادل سایہ فگن ہیں ، وہاں ملک دشمن عناصر وں کی جانب سے عوام میں ایسی افوہیں بھی پھیلا دیں جاتی ہیں ، جس سے عام آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا ۔ پاکستان کے سپہ سالار جرنیل راحیل شریف کی باعزت و احترام پرجوش رخصتی پر جہاں عوام پرجوش تھی ، وہاں سینیٹر ساجد میر کی ایک ویڈیونئے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری کے حوالے ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئی کہ ، وزیر اعظم جن نامزد ناموں میں سے چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کریں گے ۔ ان میں سے ایک کے خاندان کا تعلق احمدی جماعت سے ہے۔ ان کا اشارہ لیفٹینٹ جرنیل اشفاق ندیم کی جانب تھا ۔ جس پر عظیم دینی درسگاہ بنوری ٹاؤن نے واضح کردیا ہے کہ لیفٹینٹ جرنیل اشفاق ندیم اور ان کا خاندان اچھے مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بعد ازاں فوج کے ذرائع نے بھی واضح طور پر کہا کہ" یہ غیر نوشتہ اصول بن چکا ہے کہ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے ولا کوئی بھی شخص لیفٹنینٹ جنرل کے عہدے پر نہیں پہنچ سکتا"۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کو شائد اس بات کا علم نہیں تھا کہ ہر سال ہر مسلم افسر کو ایک فارم پُر کرنا ہوتا ہے ، جس میں اس افسر کو واضح الفاظ میں بتانا ہوتا ہے کہ" وہ ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے اور احمدی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا ۔ـ" ساجد میر نے بعدازاں بات کو گھوما پھرا کر اپنا بیان واپس لے لیا ، لیکن یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ پاک فوج کے خلاف پاکستان مسلم لیگ ن کا سینیٹر ، مذموم سازش کا حصہ کیسے بنا ۔ ایسی سازش کہ مسلح افواج و عوام میں کوئی تقسیم ہو ۔ اس طرح کی سازشی منصوبے میں شریک ہونے کے مقاصد کیا تھے ۔تردید کے بعد اب کیا پروفیسر ساجد میر اس ویڈیو کو دنیا بھر میں چلنے سے روک سکتے ہیں۔ یہاں تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ چار اہم ترین شخصیات جن پر فوج کی صلاحیتوں اور کمان کو اعتماد ہے اس میں ایک ایسا افسر ضرور ہے جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ پروفیسر ساجد میر نے بغیر تحقیق اس قسم کا الزام کیوں لگایا ۔عالمی مجلس ختم نبوت کی جانب سے بھی ایک اعلامیہ سامنے آیا کہ ان کے سامنے بھی یہ بات ساجد میر سے قبل ٓائی تھی لیکن فوج کے وقار کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموش رہے اور ہم نے مولانا فضل الرحمن سے اس معاملے پر بات کی ، جس میں وزیر اعظم تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ فوج کا سپہ سالار ، کسی غیر مسلم کے بجائے مسلم ہونا چاہیے۔یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ پاک فوج میں اعلی ترین عہدوں کے حوالے سے اس قسم کی افواہیں ، عوام میں بے چینی کا سبب بنیں اور بد گمانیاں پیدا ہوں ، جبکہ فوج کے ایک سنیئر افسر واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ہر افسر کو حلفنامہ جمع کرانا ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ غیر نوشتہ اصول بن چکا ہے کہ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے ولا کوئی بھی شخص لیفٹنینٹ جنرل کے عہدے پر نہیں پہنچ سکتا۔ ماضی میں بھی اس قسم کی افوہیں گردش میں رہیں ، جب پرویز مشرف کی بابت کہا گیا کہ ان کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے ۔

پاک فوج اور عوام کے پسندیدہ ترین جرنیل راحیل شریف ایک بہترین مثال قائم کرکے جا رہے ہیں۔ جس سے اداروں میں مضبوط روایات کو دوائم ملے گا ۔ یہاں پاکستان کے جمہوری نظام میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے کہ وزرات اعظمی سمیت صدر ، وزیر اعلی ، گورنر یا وزیر کے بار بار منتخب ہونے پر بھی قانون میں تبدیلی لائی جانا ناگزیر ہے ۔ کیونکہ شخصی نظام کے خاتمے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان میں بھی اس اصول کو قانون کا درجہ دینے کی ضرورت ہے ، کیونکہ پاکستان میں سیاست سے لیکر ایوانوں تک سب عہدے مورثی بن چکے ہیں۔وزیر اعظم کے دو بار سے زیادہ دوبارہ منتخب ہونے کے قانون کو اٹھارویں ترمیم میں ختم کرکے ایک غیر جمہوری اقدام ، مفاہمت کے نام پر کیا گیا تھا ۔ کسی بھی شخصیت کا بار بار حکومت میں شامل ہونا ، اس کے خاندان کی میراث بن جاتی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں مملکت کے کلیدی عہدے پر دو بار سے زائد وزرات اعظمی رکھنے کا رواج نہیں ہے ، یہ’ جمہوری بادشاہت ‘ہے کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہی ملک کے وزیر اعظم ہونگے ۔ سیاسی جماعتوں میں بھی اس عمل کو ختم کردینا چاہیے کہ کسی بھی شخصیت کو تاحیات چیئرمین یا صدر بنا دیا جائے۔ یہ جمہوری نہیں بلکہ آمرانہ اصول ہے۔اس سے سیاسی جماعتوں میں جمود آجاتا ہے اور کارکنان کی تمام تر توجہ شخصیت پرستی کی جانب مائل ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں تو ایسا ہونا بہرحال ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ ایسا کوئی قانون منظور کریں کہ وزرات اعظمی یا وزیر ، رکن اسمبلی کی کوئی مقررہ معیاد کا تعین کیا جا سکے۔ پرویز مشرف نے این آراو واپس لیکر ایک غلطی کی ۔ دوسری غلطی سیاسی جماعتوں نے مفاہمتی پالیسی کے تحت بار بار ، باریاں لینے کیلئے آئین میں تبدیلی کرکے وزرات اعظمی کی معیاد ختم کردی۔

ہماری عوام ان باتوں پر تو بڑی توجہ دیتی ہے کہ بغیر تحقیق کوکسی بھی افواہ پر من و عن یقین کرلیتی ہے ۔ لیکن کبھی پاکستانی عوام اس بارے میں غور و فکر کی کوشش بھی نہیں کرتی کہ کہیں یہ کسی ملک دشمن کی سازش تو نہیں ، کیا اس میں کوئی خاص مفاد تو کوئی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا ۔ جمہوریت کے نظام پر یقین رکھنے والے ، ہماری عوام یہ کیوں نہیں سوچتی کہ تخت اقتدار ، مخصوص خاندانوں تک ہی محدود کیوں ہو گیا ہے ۔ اس سے بُری مثال کیا ہوگی کہ پاکستان کے تین بار وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کے پاس وزرات خارجہ کیلئے موزوں شخصیت ہی نہیں ہے۔سندھ کی عدلیہ نے مشیروں پر پابندی کے حوالے سے ایک فیصلہ دیا ، لیکن وفاق اور دیگر صوبوں میں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ۔ کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں ہے کہ اسمبلیوں میں ان کی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر ایوانوں میں جانے والے اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ کسی ادارے کا چارج سنبھال سکیں ۔ مشیر ہونے کیلئے اسمبلی ممبر کا ہونا ضروری ہے ۔ لیکن یہ بھی جمہوری روایت بن چکی ہے ، معاون خصوصی ، مشیر ، محکمہ ، وزیر ، محکمہ بے وزیر کی نئی نئی پوسٹ بناکر ایسے لوگوں کو منتخب کرلیا جاتا ہے ، جنھوں نے عوام سے ووٹ ہی نہیں لیا ہوتا ، بلکہ اپنے شخصی تعلقات کی بنیاد پر اہم محکموں کے وزیر بن جاتے ہیں ، جب کابینہ غیر منتخب شدہ افراد سے ہی بنانی ہے تو پھر انتخابات کرانے کی کیا ضرورت ہے۔

دراصل یہ سب عوام کے اجتہادی جمود ہے ۔ بھیٹر بکری کے ریوڑ کی طرح جہاں چاہیں ہانکتے چلے جاتے ہیں ۔ ہمیں اس نظام کے ساتھ اپنی خامیوں کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ اہم سرکاری عہدے پر ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی انھیں کسی دوسری اہم پوسٹ پر تعینات کردیا جاتا ہے ، جب یہی سب کچھ کرنا ہے تو اداروں سے ریٹارمنٹ حاصل کرنے والوں کو ہی تعینات کرتے رہیں ، ان ریٹائرڈ ہونے والوں کو ہی تعینات کردیا کریں ۔ دراصل ان سب باتوں کا واحد مقصد جرنیل راحیل شریف کی جانب سے ایک ایسی روایت کو فروغ دینا ہے کہ آپ جس ادارے میں کام کرتے ہوں ، اس کے تقدس و وقار کی سربلندی کیلئے اپنے مفاد سے بالاتر ہوکر سوچیں اور اداروں کو مضبوط بنائیں ۔ یہ مذموم عناصروں کے مفادات ہی ہوتے ہیں جو اداروں کو کمزور کرنے کیلئے عوام میں بد ظنی پیدا کرکے اداروں کی پالیسیوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ راحیل شریف نے اپنی شخصیت سے ایک مثال بنا کر عوام و تمام سیاسی جماعتوں سمیت تمام سرکاری اداروں کے سامنے رکھی ہے کہ پاکستان کی مضبوطی شخصیات کو مضبوط بنانے میں نہیں ، بلکہ اداروں کو مضبوط بنانے میں ہیں ۔ راحیل شریف کے کارناموں پر ان گنت تعریفیں لکھی ، کہی جا چکی ہیں ، لیکن یہاں جب نئے چیف آر آرمی اسٹاف حلف اٹھا رہے ہونگے ، تو من الحیثت القوم ہمیں اس تصور کو اپنانا چاہیے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے ان اداروں کی جانب دیکھنا چاہیے ، جو عوام کیلئے قائم ہیں ۔ جس ادارے کا جو کام ہے ، اس کو وہی کام کرنے چاہیے ۔ مسلح افواج نے سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی کو مضبوط کیا ، سیاسی جماعتوں کو بھی ان اہم اداروں کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کے بجائے ان اداروں کی جانب دیکھنا چاہیے ، جہاں وہ اصل و جعلی ، جھوٹے سچے وعدے کرکے آئے ہیں۔ شکریہ راحیل شریف۔خوش آمدید قمر باجوہ۔۔۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 296803 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2016 Views: 356

Comments

آپ کی رائے