جنرل راحیل شریف کا زبردست آخری خطاب

(Safia Ishaq, )
جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے آرمی چیف کا عہدہ سنبھال لیا ، سبکدوش ہونے والے سپہ سالار راحیل شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو روایتی کمانڈ کین پیش کی۔ تبدیلی کمان کی تقریب جی ایچ کیو ہاکی سٹیڈیم راولپنڈی میں ہوئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈ کین لینے کے بعد سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل کو سلامی دی اور ہاتھ ملایا۔ اعزازی گارڈ لہو کو گرما دینے والی دھن کے ساتھ سلامی دیتا ہوا چبوترے کے سامنے سے گزرا۔ تقریب کے بعد سابق جنرل راحیل شریف فوجی افسران اور وفاقی وزرا کے درمیان گھل مل گئے۔ اس سے قبل تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ جب سٹیڈیم میں پہنچے تو ان کا بھرپور انداز میں استقبال کیا گیا۔ نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ٹین کور کی کمانڈ بھی کر چکے ہیں۔ تقریب میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، خواجہ آصف ، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ، اشفاق پرویز کیانی ، عبدالقادر بلوچ ، ایئر چیف مارشل سہیل امان سمیت ارکان کابینہ و زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ سبکدوش آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ میں قوم کو یقین دلا تا ہوں کہ اب ہماری منزل دور نہیں ،خطرات اندرونی ہو یا بیرونی ،پاک فوج ان سے نمٹنے کے لیے کام کرتی رہے گی۔ بھارت کو واضح کردوں کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا خود اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے میں ترقی آئے گی ،گواد ر پورٹ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی نے ثابت کردیا کہ اب یہ سفر نہیں رک سکتا ،سی پیک کے دشمن اپنی کوششیں ترک کر کے اس کے ثمرات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آج کے دن کی وساطت سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سیاسی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کا تعاون ہماری کوششوں میں شامل رہا۔ آج کمان کی تبدیلی فوج کے اعلیٰ اقدار کی علامت ہے ،خوش قسمتی ہے کہ نئے سپہ سالار مضبوط قوت فیصلہ کے حامل ہیں۔انہوں نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا خود اس کے لیے خطرنا ک ثابت ہو گا ،مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا کی ترکی ممکن نہیں ہے ،عالمی برادری کو اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔آرمی چیف نے کہا کہ خطے میں سیکیورٹی کے حالات پیچھیدہ ہیں اور ہمارے ملک کو در پیش چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے ،حالیہ سالوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ قوم کے شہدا کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اور ادارے یکسوئی کے ساتھ صورتحال کا ادراک کریں ،بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی کمزوریوں خصوصاً جرائم ،کرپشن اور شدت پسندی کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہو گا ،اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد لازم ہے۔جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مکمل امن کے حصول کی جانب ہمارا سفر قدم بہ قدم جاری ہے اور ہم نے بتدریج دنوں سے ہفتو ں اور مہینوں کا استحکام حاصل کرلیا ہے۔انہو ں نے یقین دلا یا اب ہمار ی منزل دور نہیں ہے ،خطرات اندرونی ہو یا بیرونی ،پاک فوج ان کے مکمل سد باب تک مصرو ف عمل رہے گی۔ بد قسمتی سے حالیہ مہینوں میں مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی اور بھارت کے جارحانہ اقدامات نے خطے کے امن خطرے میں ڈال دیا ہے ،بھارت کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا خود اس کے لیے خطرناک ثابت ہو گا۔ وطن عزیز کے بارے میں نا پاک عزائم رکھنے والوں کے خلاف پاک فوج ایک مضبوط ترین دفاعی قوت ہے ،ہم نے دہشت گردی کے خلا ف کامیاب جنگ لڑ کر تاریخ کے دھارے کو موڑا اور اس خطے کو امن کی ایک نئی امید دی۔ بلوچستان میں امن کا قیام،آپریشن ضرب عضب یا ملک کی ترقی کے لیے سی پیک پراجیکٹ ،ہرمیدان میں کامیابی کے ثمرات نظر آرہے ہیں۔ آج میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے دنیا کی بہترین فوج میں خدمات سرانجام دینے کا اعزاز دیا ،ایک سپاہی کیلیے ایسی بہادر فرض شناس اور با صلاحیت فوج کے ساتھ وابستگی سے بڑھ کر زندگی میں کوئی سعادت نہیں ہو سکتی۔ میں اس لیے بھی اﷲ کا مشکور ہوں کہ اس نے مجھے بحثیت سپہ سالار اپنی صلاحیتوں کے بھر پور اظہار اور اپنے منصب کے تقاضے پر پورا اترنے کا موقع دیا۔ میں نے اپنے تمام فیصلے کرتے ہوئے قومی مفاد کو اولین ترجیح دی ،مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی اور پاک فوج کی پوری توانائی استعمال کی۔ اس سفر میں مجھے قوم کا مکمل تعاون حاصل رہا جس کے لیے پاک آرمی اور قوم کا مشکور ہوں۔ پاک فوج کے ساتھ ملک و ملت کا مضبوط رشتہ اور اس سے وابسطہ امیدیں مشکل سے مشکل وقت میں بھی ہمارے حوصلے بلند کرتی رہی ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ پاک فوج عوام کے اعتماد پر ہمیشہ پورا اترے گی ،کامیابیوں کے اس لمبے سفر میں فوج کے ساتھ دیگر سیکیورٹی اداروں نے بھی قربانیاں پیش کی ہیں ،خصوصاً انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے ،تمام اداروں کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے آپریشن ضرب عضب کے دوران حب الوطنی اور شجاعت کا ثبوت دیا۔ دفاع وطن کے لیے ہماری بہادر افواج اور شہریوں بشمول خواتین بچوں اور بزرگوں نے قربانیاں پیش کیں ، شہدا اور ان کے لواحقین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام کوششوں کو رائے عامہ کا بھی مکمل اعتمادحاصل رہا ،اس قومی اتفاق رائے کے لیے میڈ یا نے ایک مثبت کردار ادا کیا جس پر تمام صحافتی حلقوں کا مشکور ہوں۔ پاک فضائیہ اور نیوی کے ہم منصبوں اور سپہ کا بھی شکر گزار ہوں ،ہماری تمام کامیابیوں میں مجھے ہمیشہ ان کی سپورٹ حاصل رہی ہے ،مسلح افواج کا یہ باہمی ربط اور تعاون ہمارا بیش قیمتی اثاثہ ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ ہم نے افغانستان میں قیام امن کے لئے سنجیدہ اور مخلصانہ کوشیشں کیں ہیں ‘افغانستان میں امن کے قیام کے لئے لازم ہے کہ سیاسی مفاہمت کے لئے کام کیا جائے‘امن کے لئے ہماری کوششوں اور خلوص کودنیا بھر نے سراہا ہے ہم اس پر عالمی برادری کے شکرگذار ہیں ۔ خطے میں امن اور خوشحالی کی ضمانت سی پیک ہے ‘ یہ منصوبہ چین ‘پاکستان ‘وسطی ایشیاء اور دیگر ممالک کے باہمی تعاون اور خوشحالی کو فروغ دیگا ‘گوادر سے پہلے قافلے کی روانگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ سفر رکنے والا نہیں ہے ‘وقت آگیا ہے کہ سی پیک کی دشمنی میں کوششیں کرنے والے بھی اس کی کامیابی کے ثمرات میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کا روشن مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان آگے بڑھیں اور ملکی خوشحالی کے سفر میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس مشن کو آگے بڑھائیں ۔ آج پاک فوج سے رخصت ہوتے ہوئے مجھے فخر ہے کہ میری زندگی ایک عظیم مقصد کے لئے صرف ہوئی ہے ‘اس ادارے کا مستقبل روشن اور تابناک ہے ۔ ہم اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں ‘اس ضمن میں ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ تمام ادارے ملکر ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے کام کریں ‘پا ک فوج مضبوط اور اعلی روایات کی حامل ہے ‘کمانڈ کی تبدیلی اعلی اقدار کے تسلسل کی علامت ہے ‘پاک فوج خوش قستمی سے اعلی پیشہ وارانہ مہارت اور مضبوط قوت فیصلہ کی حامل ہے۔ پاک فوج اعلی پیشہ وارانہ معیار کو ہر طور پر برقرار ‘قربانی کی روایات اور جذبے کے ساتھ وطن کی خدمت مقدم رکھے گی ‘صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ‘اﷲ کی نصرت پر یقین ہے ‘انشاء اﷲ فتح و کامرانی ہمارا مقدر بنے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safia Ishaq

Read More Articles by Safia Ishaq: 23 Articles with 7898 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2016 Views: 398

Comments

آپ کی رائے