آپ کی سیاسی پالیسی آدم خور ہے صاحب

(Muhammad Altamash Khan, )
قوم کے بڑے کہتے ہیں ملک امن و امان کی طرف جارہا ہے وہ ایسا کہ گزشتہ حکومت میں دھماکوں میں اتنا وقفہ نہیں ہوتا تھا اب اﷲ کا فضل ہے دھماکے ہورہے ہیں مگر وقفے وقفے کے ساتھ ۔حکومتی اور سیاسی اصطلاح میں اب دو دھماکوں کے بیچ وقفے کا نام امن ہوگیا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم لاشعوری طور پر من حیث القوم انسانیت سے حیوانیت تک کا فاصلہ طے کررہے ہیں۔ سربراہان قوم و ملت کے ہاں چار چھ لوگوں کا مرجانا کوئی حادثہ نہیں ،وہ تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوئے تھے ۔ان کی ماؤں نے انہیں اس پرسکون وطن میں اس مقصد کے عوض جنا تھا کہ بعد کو یہ لقمہ اجل بن جائیں گے اور موت پہ تسلی کے دو لفظ سننے کو ملیں گے۔

بادل گھر کر جائے گا، آندھی اٹھے گی ،چمکتا سورج شعلوں کے تازیانے برساتا گزر جائے گا اور ایک مشت خاک نصیب نہ ہوگی، قبر ہوگی مگر کوئی جھاڑا نہ ہوگا ۔کاش ! ضمیر زندہ ہوتے ایک آدمی جو ہمارے سربراہوں کے نزدیک انسانیت کی گنتی میں نہیں آتا کتنے رشتوں سے بندھا ہوتا ہے ۔کسی کا بیٹا ہے تو کسی کا باپ ،کسی کا ماموں ہے تو کسی کا چچا سو یہ رشتے کٹ جاتے ہیں تمنائیں مرجھا جاتی ہیں مگر ہم پھر بھی ایک زندہ قوم ہیں اس لیے کہ ہم موت اور موت کھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ کسی دھماکے یا سانحے کی خبر اسکرین پہ آتی ہے لوگ پوچھتے ہیں کتنے مرگئے جواب آتا ہے دس۔۔۔۔۔ خیر ہے دس کوئی بڑی تعداد نہیں قسمت ہی ایسی تھی۔

میت کے سرہانے ڈھول پیٹنے کے مترادف ہے ہمارے سیاسی بیانیے۔ ہر دھماکے کے بعد مکرر جو جملہ سننے کو ملتا ہے ،یہ را کی کارروائی ہے صورت حال یہ ہے کہ را کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ۔ہم مظلوم قوم ہیں؟ نہیں نہیں!! ہم بے حس ہیں وجہ صاف ظاہر ہے چالیس پچاس مردوں کے سرہانے کھڑے ہو کر ایک سیاسی لیڈر بیان داغتا ہے یہ ہماری پارٹی کے خلاف سازش ہے۔ اس دھماکے سے دشمن ہماری فلاں سیاسی پالیسی کو ہدف بنانا چاہتے ہیں ۔کسی کی تعزیت کے لیے کیا کلمات ادا کیے جاتے ہیں ہمیں یہ تک نہیں معلوم پھر بھی ہم اپنا مورال گرنے نہیں دیتے کیوں کہ ہم نے خود کو خود سے ہی بہادر منوایا ہوا ہے۔ سوال ہے کہ کسی بھی قومی مفاد کو ٹارگٹ کرنے کے نتیجے میں ہمارا اجتماعی بیانیہ کیوں نہیں بنتا؟ اگر را ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں تو "ضرب عضب" کی کامیابی پر مبارکباد وصول کرنا چہ معنی دارد؟ اگر حساس اداروں کا کام صرف اطلاع ہی دینا ہے تو روک تھام کے لیے پیشگی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
کبھی اپنے آنگن میں چار لاشیں گرتے دیکھو گے تب احساس ہوگا!!

کیا کوئی اس سانحے کے جزئیات پر بحث کرنا چاہے گا یہ ایک فطری امر ہے سارے انسان ایک طرح نہیں ہوتے۔ ہر انسان کی زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔کوئی پورے گھر کا اکیلا کفیل ہوتا ہے ۔کوئی چراغ شب کی آخری چمک، کسی کے گھر فاقے ہوتے ہیں ،لوگ مرتے ہیں مگر طریقے سے۔ قوم کو شعور آگیا یہ سیاسی خوشنما بیانات کس کام کے؟ بدلے میں مردے نے واپس اٹھ کر ان کی پارٹی جوائن کرنی نہیں وہ تو جن کے ہاں گزرتی ہے انہیں معلوم کس شدت اور درد سے گزرتی ہے۔ نوحے ہوتے ہیں دکھ اور غم مل کر فضا کو گلوگیر بناتے ہیں ۔ہماری آہیں آسمانوں تک جاتی ہیں، بکھری لاشیں ہیں، گھر نہیں ویرانے ہیں ،آگ ہے جو ہنوز جل رہی ہے، انسان ہیں کہ اس میں دھکیلے جارہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ایک خلیفہ ہوا کرتے تھے دریا کے کنارے بھوک سے مرے ایک بکری کے بچے کے لیے خود کو جوابدہ قرار دیتے ۔یہاں روٹی کا سوال نہیں، کپڑے کا سوال نہیں، مکان بھی تم نے ہمارے گھرا دیے ہم راکھ ہوتے آشیانوں پر سے صرف انسانوں کے دائرے بناتے سائے دیکھتے ہیں جیسے کوئی گدھ کسی مرے انسان کا ایک عضو کھا کر ہوا میں دائرہ بناتا ہو جب بھوک لگے پھر آتا ہو اور ایک چکر ہمارے ساتھ یوں ہورہا ہے ہمارا خون ہے ہمارے جسم کے چھیتڑے ہیں انسان ہی چکر کاٹتے ہیں اور بھوک لگنے پر ایک چکر اور۔

تم اپنے خدا کے حضور کیا جواب دو گے جس نے مخلوق کو اپنا کنبہ قرار دیا پوچھیں گے میرے کنبے کو جلا کر آرہے ہو میرے کنبے کو خاک وخون کر کے آرہے ہو مگر یہ بتاؤ کس شان سے آرہے ہو؟ ہماری ترستی نگاہیں ہیں بند کرو اب بس کرو ہم تھک چکے ہیں آپ کی سیاسی پالیسی ایسی آدم خور ہوتی ہے صاحب!! نہیں چاہیے ہمیں ایسی سیاست اور ایسی پالیسی بس ہماری ایک تمنا ہے ہمیں چین سے رہنے دو ہم بھوک سے مریں گے تو اچھا ہے دھرتی کا پیٹ تو ہمیں ملے گا ناں یہاں جس کے بال و پر نہیں ملتے کسی کا ایک ہاتھ ملتا ہے کوئی ملبے تلے دب رہا ہے کوئی راکھ ہورہا ہے کسی کی صرف ایک انگلی ملتی ہے ہم دنیا سے روٹھے روٹھے قبر کی گود میں آرام تو کرلیں گے مگر کاش اے کاش کہ تم ہمارے خون سے کھیلنا بند کرو!!
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Altamash Khan

Read More Articles by Muhammad Altamash Khan: 3 Articles with 1866 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Dec, 2016 Views: 494

Comments

آپ کی رائے