بلوٹوتھ ٹیکنالوجی

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: عاصمہ عزیز، روالپنڈی
موجودہ دور میں سمارٹ فونز سمیت تقریبا تمام الیکٹرونک کے آلات میں استعمال ہونے والی'' بلو ٹوتھ ٹیکنالوجی '' کو استعمال کرنے کا اتفاق سب کو ہی ہو اہوگا۔لیکن درحقیقت بلوٹوتھ کیا ہے اور اسکو یہ نام کیوں دیا گیا اکثر ہمارے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے ۔تو جانتے ہیں کچھ معلومات اور حقائق موجودہ دور میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی بلوٹوتھ کے بارے میں۔

بلوٹوتھ ایک عالمی وائرلیس موصلات کا ذریعہ ہے جو محدود فاصلے پر واقع ڈیواسز کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔یہ ایک لو پاورکمیونیکیشن ہے جو محدود رینج پر واقع سمارٹ فونز ،سمارٹ ٹی وی ،لیپ ٹاپ،ٹیبلٹس وغیرہ کے درمیان مختلف ڈیٹا کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہے ۔یہ بالکل وائی فائی کیطرح کا م کرتا ہے کیونکہ اس میں ڈیٹا کی منتقلی کے لیے کسی کیبل کی ہمیں ضرورت نہیں پڑتی۔لیکن بلوٹوتھ ٹیکنالوجی Radio waves استعمال کرتی ہے جسکی فریکونسی10khzاور 300,000megahz کے درمیان ہوتی ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹی وی اور اے سی کے لیے استعمال ہونے والے ریموٹس تب تک کام نہیں کرتے جب تک انکی سمت ٹی وی یا اے سی کی طرف نہ کی جائے کیونکہ یہ ریموٹس انفرا ریڈ ریڈیشن کا استعمال کرتے ہیں جو کہ محض transparent space یعنی خالی جگہ سے گزرتی ہیں۔اسکے برعکس بلوٹوتھ فریکونسی جو کہ ریڈیو ویوز کا استعمال کرتی ہے وہ مختلف اشیاء سے گزر سکتی ہیں۔بلوٹوتھ ٹیکنالوجی ۴۹۹۱ میں ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ڈیٹا کیبلز کے متبادل کے طور پر بنائی گئی تھی۔اس کا نام بلوٹوتھ ۰۱ صدی کے بادشاہ ہیرلڈ بلوٹوتھ (Harold Bluetooth) کے نام پر رکھا گیاجس نے ڈینمارک اور نوروے کو متحد کیا تھا۔کمیونیکیشن پروٹوکالز کے بنانے والے jim kardach نے اس ٹیکنالوجی کو یہ نام دیا ۔ موجودہ دور کی بہت سی ٹیکنالوجیز کی طرح بلوٹوتھ کے بارے میں بھی عجیب معلومات پھیلائی گئیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بلوٹوتھ سردرد کا باعث بنتا ہے ۔کہا یہ جاتا ہے کہ بوٹوتھ میں استعمال ہونے والی رایف لہریں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت ابھی تک نہیں مل سکا۔بلوٹوتھ ہیڈسیٹ میں ایک مخصوص جذب کرنے کی شرحSAR) (ہوتی ہے جو کہ تقریبا .001watt/kg ہے۔

بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ رابطہ قائم کرنے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ایک پروٹوکال کی ریسرچ کی گئی ہے جو کہ ایک بہت بڑے ایڈہاک نیٹ ورک(وائرلیس ا یل اے این میں سٹیشنز یا کمپیوٹر کے رابطے کے باعث تشکیل پانے والا وقتی نیٹ ورک) کی حمایت کرے گا۔اسکے علاوہ بلوٹوتھ کے تازہ ترین ورژن میں سکیورٹی اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بہتری لائی گئی ہے۔بلوٹوتھ ٹیکنالوجی والوں کی جانب سے بلوٹوتھ میں UWB (الٹرا وائیڈ بینڈ) کا استعمال بلوٹوتھ کے مستقبل کے لیے مثبت ثابت ہو گا۔الٹرا وائیڈ بینڈٹٰٰیکنالوجی کے بہت سے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے جن میں ہائی ڈیٹا ٹرانسمشن بھی ہے ۔الٹرا وائیڈ بینڈ ٹیکنالوجی کو بلوٹوتھ سمیت وائرلیس یوایس بی میں بھی کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔موجودہ دور میں بہت سی کمپنیاں بلوٹوتھ کی متا ثرکن ایمپلیکیشنز بنا رہی ہیں۔اسکے علاوہ ڈیٹا کی شرح،پاور کی کمی اور رینج میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521767 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2016 Views: 731

Comments

آپ کی رائے