کیا فاروق ستار مظلوم اور معصوم آدمی ہیں !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال 3 مارچ کو ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین سے اعلانیہ بغاوت کرنے کے بعد سے لے کر آج تک اپنی تقریباً ہر پریس کانفرنس اور تقریر میں ایک بات متواتر کہتے ہوئے چلے آرہے ہیں کہ:’’ فاروق ستار بھائی بہت مظلوم اور معصوم آدمی ہیں وہ اپنی مرضی سے کچھ کرہی نہیں سکتے تو میں ان پر کیا تنقید کروں‘‘۔مصطفی کمال کو ایم کیو ایم سے علیحدہ ہوکر عملی سیاست کا آغاز کیے ہوئے اب تقریباً 6 ماہ ہوچکے ہیں ،انہوں نے اپنے ابتدائی خطاب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین المعروف الطاف بھائی کو الطاف صاحب اور پھر آگے جاکر صرف الطاف کے نام سے پکار کر ببانگ دہل الطاف حسین کی شخصیت اور ان کے طرز سیاست سے بیزاری اور لاتعلقی اخیتار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کا کوئی دوسرا گروپ بنانے کی بجائے اپنی ایک علیحدہ ملک گیر سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے نام سے قائم کرکے کراچی کی روائتی سیاست کا نقشہ ہی بدل کررکھ دیا۔

وہ کراچی جہاں الطاف حسین کے خلاف کھلم کھلا بات کرنے کا کوئی مقامی شخص تصوربھی نہیں کرسکتا تھا اسی کراچی میں مصطفی کمال نے بڑی دلیری کے ساتھ الطاف حسین کے خلاف طبل جنگ بجا کر ان کی سیاسی اور ذاتی زندگی کے حوالے سے وہ کچھ کہہ ڈالا جو پچھلے 30 سال میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے عہدے پر فائزرہنے والے رہنما نے نہیں کہا تھا ۔ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کی ذات اور ان کے ملک دشمن طرز سیاست کے حوالے سے گوکہ ماضی میں عمران خان اور ذوالفقار مرزا نے بھی بہت کچھ کہا لیکن ان دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی بھی طرح ماضی میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہے تھے اس لیئے ان کی باتوں کو کراچی کے باشندوں نے سنا ضرور لیکن لوگوں کی جانب سے وہ ردعمل نہیں سامنے نہیں آیا جو مصطفی کمال کی باتیں سننے کے بعد کراچی میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہنے والے سیاستدانوں اور عوام کی جانب سے سامنے آیا۔ابتدا میں صرف مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے بغاوت کی جس کے بعد ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وسیم آفتاب، افتخار عالم ،رضا ہارون،انیس خان ایڈوکیٹ،ڈاکٹر صغیر،اشفاق منگی ،افتخار رندھاوا،آصف حسنین اور متعدد دیگر رہنماؤں کے علاوہ ایم کیو ایم سے وابستہ 300 سے زائد ذمہ داروں اور کارکنوں نے اعلانیہ طور پرمصطفی کمال کو اپنا قائد تسلیم کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے پہلی بار کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو کھلا چیلنج کیا ۔

ان تمام تر کامیابیوں کے باوجود پاک سرزمین پارٹی کے چیرمین مصطفی کمال نے آرام کی بجائے کام کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا اور نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان میں اپنی نئی سیاسی جماعت کو مقبول بنانے کے لیئے اپنے وفادار ساتھیوں کی مدد سے پاک سرزمین پارٹی کو صرف 6 ماہ کی مختصر مدت میں ایک ملک گیر سیاسی پارٹی بنا دیا جو کہ ان کی اعلی قائدانہ صلاحیتوں کی دلیل ہے۔مصطفی کمال ایک نڈر ،بے باک ،مخلص اور فعال سیاست دان ہونے کے ساتھ ایک سچے پاکستانی بھی ہیں جس کا اظہار ان کے قول وفعل اور پارٹی پالیسیوں سے واضح طور پر عیاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے محبت کرنے والے پاکستانیوں نے ان کی باتوں پر سو فیصد یقین کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور وقت نے بھی عوام کا یہ فیصلہ صحیح ثابت کردیا کہ آج وہ تمام باتیں حرف بہ حرف سچی ثابت ہورہی ہیں جو پچھلے 6 ماہ کے دوران انہوں نے اپنی پریس کانفرنسوں اور تقاریر میں کہی تھیں اور ان کی سچائی اور حقیقت پر مبنی باتوں کی تصدیق خود الطاف حسین نے 22 ،اگست کو کراچی میں پریس کلب میں اپنے ملک دشمن خطاب کے دوران پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگاکر کردی جس کے بعد جو لوگ مصطفی کمال کومائنس ون فارمولا کے لیئے پاکستانی ایجنسیوں کی جانب سے لایا جانے والا ایک مہرہ قرار دے رہے تھے آخر کار تھک ہار کر انہوں نے خود ہی مائنس ون فارمولے پر عمل کر ڈالا اور ایم کیو ایم کے کراچی میں موجود رہنما فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کرکے ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے اپنی پارٹی کو الطاف حسین کے بغیر چلانے کا نہ صرف اعلان کرڈالا بلکہ عملی طور پر بھی ایم کیو ایم کے آئین میں تبدیلی کا عندیہ بھی ظاہر کردیا ،کل تک ایم کیو ایم کا سپریم کمانڈر سمجھا جانے والا ایم کیو ایم قائد الطاف حسین اپنے ہی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پارٹی سے نکال دیا گیا اور یوں مائنس ون فارمولے نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔اور ایم کیو ایم دو واضح دھڑوں میں بٹ گئی ایک ایم کیو ایم پاکستان جس کی قیادت اس وقت فاروق ستار کے ہاتھوں میں ہے اور دوسری ایم کیو ایم لندن جس کی قیادت الطاف حسین کے ہاتھوں میں ہے اور ان کے ہمراہ واسع جلیل ،محمد انور اور دیگر کچھ رہنما ہنوز پاکستان دشمن پالیسیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سیاست میں مصروف ہیں۔

مصطفی کمال جو گزشتہ 8ماہ سے فاروق ستار کو مظلوم اور معصوم قرار دیتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ فاروق ستار اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کر ہی نہیں کرسکتے ،وہ فاروق ستار کی اس نئی سیاسی قلابازی کو الطاف حسین اور فاروق ستار کی ملی بھگت قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں’’ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو کوئی بھی الگ نہیں کرسکتا کہ ایم کیو ایم نام ہی الطاف حسین کا ہے اور لوگوں نے ماضی میں ایم کیو ایم کو جو بھی مینڈیٹ دیا وہ الطاف حسین کی وجہ سے دیا اور چونکہ اب فاروق ستار نے ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بچانے کے لیئے سیاسی قلابازی لگاکر ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے جھنڈے سے الطاف حسین کی تصویر ہٹاکر اس کی جگہ انتخابی نشان پتنگ کا نشان چسپاں کردیا ہے لہذا یہ سب ان الطاف حسین اور فاروق ستار کی ملی بھگت اور ٹوپی ڈرامہ ہے ‘‘ ۔

ایم کیو ایم کے نئے پاکستانی روپ اور فاروق ستار کو درپردہ الطاف حسین کا ساتھ دے کر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو بچانے کے لیئے سیاسی تماشے کرنے کا طعنہ دینے کے باوجود مصطفی کمال آج بھی اکثر فاروق ستار کو مظلوم اور معصوم آدمی قرار دیتے ہیں اور ان کو اپنی تقریبا ً ہر پریس کانفرنس اور تقریر میں فاروق بھائی کہہ کر مخاطب کررہے ہیں تو سوچنے والے یہ بات ضرور سوچ رہے ہیں کہ آخر تما م تر اختلافات اورتنقید کے باوجود مصطفی کمال اب تک فاروق ستار کے لیئے نرم گوشہ کیو ں رکھتے ہیں؟ اس حوالے سے لوگ دو طرح کی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ایک حلقے کا موقف یہ ہے کہ شاید مصطفی کمال کو یہ امید ہے کہ فاروق ستار کا ضمیر جاگ جائے اور وہ راہ راست پر آکر حقیقی معنوں میں الطاف حسین کا ساتھ چھوڑ کر ان کے ساتھ آ کھڑے ہوں۔ دوسرے حلقے کا اندازہ یہ ہے کہ چونکہ مصطفی کمال نے 3 مارچ کو کراچی واپس آکر ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف جو اعلانیہ بغاوت کرکے جس طرح الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے لاتعلقی اور علیحدگی اختیار کی تھی وہ ایسا طرز سیاست تھا جس کی ان کو فاروق ستار سے امید نہ تھی اور ان کا اندازہ یہ تھا کہ چند ماہ بعد فاروق ستار بھی ان کے ساتھ آملیں گے لیکن 22 اگست کو ایم کیو ایم کے ایک اجتماع میں الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے جانے اور ٹی وی چینلز پر حملہ کرنے جیسے اقدامات نے وہ کچھ کرڈالا جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھااور یہی وہ واقعہ ہے جس کے رونما ہونے کے چند روز بعد فاروق ستار نے بھی تقریباًً وہی سیاسی لائین اخیتار کرلی جو 8 ماہ پہلے مصطفی کمال نے اختیار کی تھی لیکن فاروق ستار اور مصطفی کمال کی سیاست میں ایک بڑا فرق جو آج بھی موجود ہے وہ یہ ہے کہ فاروق ستار نے ایم کیو ایم نہیں چھوڑی بلکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو پارٹی سے نکالنے کا ناقابل یقین طرز عمل اختیار کر کے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو حیران اور پریشان کرکے رکھ دیا جبکہ مصطفی کمال نے ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم قائد الطاف حسین نے علیحدگی اورلاتعلقی اخیتار کرکے اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے قائم کرکے اپنی دھواں دار سیاست کا آغاز کیا جسے بلاشبہ بہت زیادہ پذیرا ئی بھی حاصل ہوئی ۔

مصطفی کمال کو فاروق ستار کے اس نئے سیاسی طرز عمل میں الطاف حسین اور فاروق ستار کی ملی بھگت نظر آتی ہے اور وہ اسے عوام کو بے وقوف بنانے کا ایک نیا ٹوپی ڈرامہ قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی اگر وہ اب بھی فاروق ستار کو ایک مظلوم اور معصوم آدمی سمجھتے ہیں تو اسے سوائے خوش فہمی ،حسن ظن یا موہوم امید کے سوائے اور کیا قرار دیا جاسکتاہے ۔فاروق ستار نے 22 ،اگست کے’’پاکستان مردہ بعد ‘‘ والے واقعے کے بعد جس ہوشیاری ،چالاکی ،حکمت عملی اور عقلمندی کے ساتھ ایم کیو ایم کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھال کر دوبارہ کھڑا کیا ہے اس سے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ فاروق ستار مظلوم اور معصوم آدمی نہیں بلکہ ایک نہایت زیرک سیاستدان ہیں جنہوں نے سیاسی قلابازی لگاکر نہ صرف ایم کیو ایم پر لگنے والی متوقع پابندی سے اپنی پارٹی کو بچایا بلکہ اگر یہ بات سچ مان لی جائے کہ وہ الطاف حسین سے ملے ہوئے ہیں تو انہوں نے الطاف حسین کو بھی بچانے کی کوشش کی کہ جب ایم کیو ایم سے الطاف حسین کو نکال دیاگیا ہے تو ایم کیو ایم پاکستان نے اعلانیہ طور پر پاکستان زندہ باد سے وابستگی اور پاکستان مردہ باد کی سیاست سے لاتعلقی کا اظہار کرکے بڑی کامیاب سیاسی چال چلی ہے جس کی وجہ سے کم سے کم ایم کیو ایم کی کراچی کی قیادت کو پیش آنے والی مشکلات سے بچا لیا گیا ہے اور ایم کیو ایم کا ایک سیاسی پارٹی کے طور پرپاکستان میں وجود برقرار رکھنے کے لیئے فاروق ستار نے اپنی ذہانت ،چالاکی اور سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ کام کرڈالا جو ایم کیو ایم میں اس وقت موجود کوئی دوسرا رہنما شاید ہی کرپاتاکہ ایم کیو ایم پر 22 ،اگست کے موقع پر الطاف حسین نے پاکستان مخالف خطاب کرکے جو خود کش حملہ کیا تھا اس کے بعد ایم کیو ایم کا وجود ہی خطرے میں نظر آرہا تھا لیکن فاروق ستار جنہیں مصطفی کمال مظلوم اور معصوم آدمی سمجھتے ہیں نے جس طرح ایم کیو ایم کو اس گھمبیر صورتحال سے نکالا وہ یہ بات ثابت کرنے کے لیئے کافی ہے کہ فاروق ستار مظلوم اور معصوم آدمی نہیں بلکہ ایک نہایت زیرک سیاستدان ہیں جن کے طرز سیاست سے اختلاف کرتے ہوئے اسے مفاد پرستی اور منافقت پر مبنی سیاست تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن فاروق ستار کی صلاحیت،اہلیت اور سیاست پر ان کی مظبوط گرفت کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی ۔ویسے بھی فاروق ستار کا شمار ان خوش نصیب سیاستدانوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران مصطفی کمال نے کہا کہ فاروق بھائی کو معصوم نہ کہوں تو کیا کہوں اور ساتھ ہی پروگرام کے ہوسٹ کے سوال کے جواب میں اس بات کی بھی تصدیق کردی کہ فاروق ستار بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ نہیں ہیں۔

فاروق ستار سے مصطفی کمال کا حسن زن اگر اس امید پر ہے کہ کسی نہ کسی وقت فاروق ستار ایم کیو ایم کو خیرباد کہہ کر ان کی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوجائیں گے تو یہ ان کی ایک بہت بڑی غلط فہمی اور سیاسی غلطی ہوگی کہ اگر فاروق ستار کو مصطفی کمال کے ساتھ آنا ہوتا تو وہ اب تک آچکے ہوتے ،فاروق ستار ایم کیو ایم کا نیا قائد بننے کا جو خواب دیکھ رہے ہیں اور وہ جس طرح پرامید ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے نئے قائد کے طور پر عوام میں قبول کرلیئے جائیں گے اور اگلے الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان کی حیثیت سے ایک بار پھر وہ انتخابی دنگل جیت کر اسمبلیوں کا حصہ بن جائیں گے اس کے بعد بھی فاروق ستار کو مظلوم اور معصوم سمجھنے والوں کی معصومیت پر قربان ہوجانے کو دل کرتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71725 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
05 Dec, 2016 Views: 267

Comments

آپ کی رائے