گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر کی ادبی تقریبات

(Wajid Nawaz, )
گزشتہ شب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر کی معروف ادبی تنظیم بزم فکر و فن کے تحت منعقدہ محفل مشاعرہ کا تفصیلی احوال بیان کرنے سے قبل قارئین کو بزم فکر و فن کے پس منظر سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ قارئین ایک دور تھا جب بھکر کو ادب کے اعتبار سے ’’ تھل کا لکھنؤ ‘‘ کہا جاتا تھا، خلیل رام پوری، حیا رام پوری ، باقر بخاری، ذاکر برنی ، خلش صہبائی جیسے شعراء کرام ، ادیب شخصیات نے صحراء کی تپتی ریت پر ادب و سخن کی ترویج کی ، ملک کے بڑے بڑے شعراء، ادباء، اس دھرتی پر رنجہ آزمائی فرمایا کرتے تھے، باقاعدہ ادبی محافل کا انعقاد کیا جاتا، غزل، شعر ، اور مرثیہ کلام پیش کیا جاتا اور ادبی صف میں شامل ہونے والے ادب نواز ’’ نمازیوں ‘‘ کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، قافیہ اور ردیف کے پُل صراط پر چلتے ہوئے شعراء و ادیب تمام رنگ و ثناء ایک ہی محفل میں بیان کردیتے تھے اور عوام کی طرف سے انہیں دیا جانے والا دادِ تحسین کا تاج بھی نمایاں ہوتا ، داد و تعریف میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا جاتا تھا۔ تھل کے لکھنؤ میں ادب پروان چڑھتا رہا، ادبی محافل ، مشاعرے منعقد کیے جاتے رہے، عوام جرائم سے نفرت اور آپس کا درد بانٹنے والے تھے۔ ایک عرصہ تک ادب و سخن کی محافل کا سلسلہ چلتا رہا ، شعراء اپنے کلام کے ذریعے پیار اور امن کو فروغ دیتے رہے۔

1980 ء سے 1990 کے عشرہ کے دوران ادب و سخن کے ریگزار میں پروفیسر بشیر احمد بشر، موسیٰ کلیم بخاری،پروفیسر اثر ترمذی ،پروفیسر تنویر صہبائی ،استاد شمشاد نظر جیسے پھول اپنی آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ۔ ادب و سخن کے ساتھ ساتھ ان پھولوں نے بھکر کے اندر محبت اور امن کو فروغ دیتے ہوئے ادبی فضاء میں مزید خوشبوئیں بکھیریں ، اور ادب کو نئی جہت عطاء کی۔ ادب شناس ان شخصیات نے مل کر تھل کے لکھنؤ میں ایک پودا لگانے کی سعی شروع کردی ، ادبی محافل کا سلسلہ تو جاری تھا مگر ایک ادبی تنظیم کے قیام کی اشد ضرورت تھی۔ 1998ء میں پروفیسر بشیر احمد بشر کی سربراہی میں پروفیسر اثر ترمذی صاحب نے سوسائٹی بورڈ کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کی جس نے ضلع بھکر کے ادبی لکھنؤ میں مزید جدت پیدا کی۔

پروفیسر بشیر احمد بشر ناصرف اچھے ماہر تعلیم تھے بلکہ ادب، تحقیق، شاعری، انگلش لٹریچر کے حوالے سے اپنے وقت کے ’’ گُرو ‘‘ کہلاتے تھے ۔ بشر صاحب نے عمر بھر قلم اور کتاب سے اپنا رشتہ استوار رکھا ، انہیں بلاشبہ اردو ادب کے میدانِ تحقیق و تخلیق کا ’’ جری سپاہی ‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اہل قلم و کتب کا ایک وسیع حلقہ اُن کا گرویدہ تھا۔ مرحوم حقیقی معنوں میں ایک سچے ادیب اور محقق و تخلیق کار تھے۔راقم کی تحقیق کے مطابق 1998 میں بشر صاحب نے جنابِ ترمذی کے ساتھ مل کر سوسائٹی بورڈ کے پلیٹ فارم سے ادبی محافل کا انعقاد کروایا، ان کے رفیق کاروں میں پروفیسر رانا شبیر ، پروفیسر نذیر احمد شبلی شامل تھے۔ اسی سال کے آخر میں بزم فکر و فن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد ناصرف تھل کے لکھنؤ میں نئی خوشبوئیں بکھیرنا تھا بلکہ ادب اور فن کے ساتھ ساتھ ’’ فکر ‘‘ کو لے کر اس قوم کے اندر جذبہ حب الوطنی، ادب سے لگاؤ اور ایک اچھا و کارامد شہری بنانے کی سعی تھی۔ بزم فکر و فن کے بانیوں میں بشر صاحب کے ساتھ ساتھ پروفیسر اثر ترمذی صاحب کا نامِ گرامی صف اول میں شمار ہوتا ہے۔ بزم فکر و فن کے پہلے صدر جناب اثر ترمذی صاحب جبکہ جنرل سیکرٹری کے لیے خوبصورت لب و لہجے کے مالک اور اپنی تحریروں کے ذریعے ہر باشعور کا دل گردہ ہلا دینے والی شخصیت جناب پروفیسر منیر بلوچ صاحب کا نام سامنے آتا ہے۔ وقت کے نشیب و فراز سے مقابلہ کرتے ہوئے دونوں ادب نواز ، ادب شناس شخصیات نے ناصرف ادب بلکہ فن کے فروغ کے لیے بھی کارہائے نمایاں پیش کیں۔ یہ دنوں کی حسین یادیں ہیں جبکہ بھکر کی تپی ریت پر ملک کے نامور شعراء ، ادیب ان محافل میں شرکت کرتے تھے ، ان میں انور مسعود، منو بھائی،عزیز اکبر شاہد کے علاوہ پڑوسی اضلاع کے نامی گرامی شعراء رنجہ آزمائی فرمایا کرتے تھے۔ ڈرامہ، ادبی محافل، مقابلہ جات، مشاعرے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا۔ اس کارواں میں پروفیسر نذیر احمد شبلی بھی شامل تھے۔

سال 2003 میں بزم فکر و فن کی ٹیم عزم نو کے ساتھ میدان میں اتری تو اس قافلہ میں کئی نئے سالار بھی شامل ہوگئے۔ شعبہ اردو کے پروفیسر حبیب اﷲ خان نیازی کو صدارت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ،اس قافلہ میں نیازی صاحب کے ہمراہ منیر بلوچ ، ڈاکٹر قمر عباس، پروفیسر حضر حیات، پروفیسر امان اﷲ کلیم، ساجد بخاری، پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال جیسے انمول ہیرے بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے۔ ان دنوں ’’ بزم فکر و فن ‘‘ اپنے جوبن پر تھی، بام عروج اپنی حدوں کو چھو رہا تھا، ہر ادبی محفل میں اگر بزم فکر و فن کا ذکر ’’ فرض ‘‘ سمجھ کر کیا جاتا تھا، ادبی تقاریب، ڈرامے، ادبی مقابلہ جات، مشاعروں کے ذریعے امن اور پیار کا پیغام عام کیا جاتا رہا۔ انور مسعود، منو بھائی، زاہد فخری، سلیمان گیلانی، مصطفی خادم، عزیز اکبر شاہد، مظہر نیازی،محمد محمود احمد ہاشمی، سعید عاصم جیسے ملکی سطح کے شعراء ان محافل کی زینت بنتے رہے ۔ مجروح سلطان پُوری نے کیا خوب کہا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

گزشتہ شب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر کے عالیشان ملٹی پرپز ہال میں سالانہ محفل مشاعرہ منعقد ہوئی جس میں ملک کے نامور شعراء نے امن و رواداری اور غربت اور مزاح کے موضوع پر اپنا کلام پیش کیا۔ محفل مشاعرہ کی صدارت اسلام آباد کے نامور شاعر ادیب پرائیڈ آف پرفارمنس جناب سرفراز شاہد نے کی جبکہ مہمان شعراء جناب واجد امیر، جناب ڈاکٹر تیمور حسن تیمور ، جناب احسان محسن، اور جناب احمد فرید، جناب جاوید راز نے اپنا شعری کلام سنا کر خوب داد وصول کی۔بھکر کے مقامی شعراء بھی اس محفل کی زینت بنے،سٹیج پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز پروفیسر ملک محمد اسد ، ای ڈی او کمیونٹی ڈویلپمنٹ محمد شاہد رانا ، پرنسپل ادارہ پروفیسر دلدار حیدر خان لغاری ، ضلعی فوکل پرسن کالجز ایسوسی ایٹ پروفیسر نسیم حیدر خان شہانی ، پروفیسر منیر بلوچ ( پرنسپل دریاخان کالج ) سٹیج کی زینت بنے رہے۔ یہاں اگر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر نسیم حیدر خان شہانی کا ذکر نہ کروں تو میرے یہ الفاظ شاید قارئین کے ذوق پر پورا نہ اتریں، کالج کے جملہ پروگرامز ، تقاریب کے انتظامات، مہمانوں کو سلیقہ ءِ حسن و شادابی اورعزت و تکریم سے معطر کرنے میں اُن کا کوئی ثانی نہ ہے۔ بزم فکر و فن کے جملہ پروگرامز اُن کے بغیر ادھورے تصور کیے جاتے ہیں، الفاظ کو کوزے میں بند کروں گا کہ ’’ بزم فکر و فن اور نسیم حیدر خان شہانی دونوں کالج کے لیے لازم و ملزم ہیں ‘‘ ۔
تذکرہ میر کا غالب کی زباں تک آیا
اعترافِ ہنر ، اربابِ ہُنر کرتے ہیں

بزم فکر و فن کے سہ روزہ پروگراموں میں نظامت کی کنجی پروفیسر امان اﷲ کلیم، پروفیسر افتخار طیب، پروفیسر مسعود انجم ، پروفیسر حافظ مہربان ، پروفیسر عطاء اﷲ شاہ بخاری کے حصے میں آئی جبکہ محفل مشاعرہ میں حسب سابق پروفیسر قلب عباس عابس نے اپنی زعفرانی گفتگو اور شعروں سے پنڈال کو گرمائے رکھا۔ سہ روزہ تقریبات میں پنجاب بھر کے کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء نے ادبی مقابلہ جات میں حصہ لیا، اُردو ، پنجابی اور انگریزی مباحثے ، اُردو نظم ’’ ماں ‘‘ پر طلباء کے درمیان مقابلہ ہوا ، سہ روزہ تقریبات میں ڈی پی او بھکر، ڈی سی او بھکر ، ڈی او سی سمیت مختلف آفیسران ، ریٹائرڈ پرنسپل صاحبان ، پروفیسرز ، وکلاء ، پرائیویٹ کالجز کے پرنسپلز ، سٹاف ، تاجران نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ محفل مشاعرہ میں ضلع کے طول و عرض سے شخصیات اور شعراء حضرات نے شرکت کی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بزم فکر و فن کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ ’’ ادب ‘‘ اور ’’ فن ‘‘ دونوں پروموٹ ہوتے رہے، نوجوان ہیروں کو پالش کیا جاتا رہا، ان محافل میں صرف اور ادب اور فن ہی نہیں بلکہ اخلاقیات ( کردار سازی ) کی ترجمانی بھی کی جاتی رہی، امن کی صدائیں گونجتی رہیں، محبت کا پیغام عام ہوتا رہا۔ بے زباں طائر سرمستِ نواہوتے رہے ۔
لالہ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہ
بے زباں طائر کو سرمتِ نوا کرتی ہے یہ

پروفیسر بشیر احمد بشر سے لے کر پروفیسردلدار حیدر خان لغاری ( پرنسپل ) تک ، ادارہ کے ہر سربراہ نے اس ’’ ادبی منافع بخش ‘‘ تنظیم کے فروغ کے لیے ہمیشہ ساتھ دیا ہے اور ہر حوالے سے معاونت میں پیش پیش رہے ہیں۔
؂ ہمیں تشہیر کی خواہش نہیں بس روشنی کی ہے
کسی کو مت بتانا یہ دیے ہم نے جلائے ہیں

آخر پر دعا ہے کہ خدا وند کریم ہماری اس علمی و ادبی درسگاہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے ، یہاں اسی طرح کے پروگرامز ، محافل منعقد ہوتی رہیں، یہاں جو پھول کھلیں، بس ہمیشہ ہی کھلتے رہیں، یہاں کی بہاروں میں کبھی خزاں نہ آئے، یہاں پتے بھی نہ مرجھائیں، سرمست و سرور کی انجمن میں رہنے والوں کے ہر لفظ سے امن ، بھائی چارے ، اور انسانیت کی خوشبوئیں بکھرتی رہیں۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، پاکستان زندہ باد پاک فوج پائند باد۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 42104 views »
i like those who love humanity.. View More
07 Dec, 2016 Views: 647

Comments

آپ کی رائے