اشرف غنی اور زہریلی چائے

(Wisal Khan, Karachi)
فقیرنے گلی میں صدالگائی’’ ملنگ بھوکاہے باباکچھ کھانے کودو‘‘مکان سے پانچ سالہ بچہ برآمدہوا اورپوچھا’’چائے پئیوگے بابا؟ فقیرنے اثبات میں جواب دیاتوبچہ گھرسے ایک بڑاپیالہ بھرکرلایافقیرنے چائے پی توبچے نے پوچھا’’بابااورپئیوگے ؟ فقیرنے کہا’’بیٹاکچھ کھانے کوبھی لاؤ‘‘بچہ ڈبل روٹی اورچائے کاایک مزید بھراہواپیالہ لے آیااسی طرح دوچارپیالے پینے کے بعدفقیرنے پوچھا’’بیٹاتمہارے گھرمیں اورکوئی نہیں جوتم نے ساری چائے مجھے پلائی ‘‘بچے نے کہا’’کیوں نہیں بابامگراس چائے میں چھپکلی گرگئی تھی اورڈبل روٹی میرے ’’ڈوگی ‘‘کی بچی ہوئی تھی‘‘ فقیرنے یہ سن کرغصے میں پیالہ زمین پر دے مارابچہ رونے لگافقیرنے کہا’’اب روتے کیوں ہو؟ بچہ روتے ہوئے بولا’’آپ نے میرے ڈوگی کاپیالہ توڑدیااب میں اسے دودھ کیسے پلاؤں گا؟‘‘ بھارت کے شہرامرتسرمیں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی ہاٹ ایشیاکانفرنس میں ایک مرتبہ پھرافغان صدراشرف غنی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اس سے پہلے بھی اکثرانٹرنیشنل فورمزپرافغان صدرپاکستان کے خلاف اپنے خبث باطن کامظاہرہ کرچکے ہیں افغان صدر جس کی صدرات کابل کے صدارتی محل تک محدودہے اوروہ اپنے شہریوں کوامن دینے میں مسلسل ناکام چلے آرہے ہیں اپنی ناکامیوں کاملبہ پاکستان پرڈال کر برالذمہ ہوناچاہتے ہیں انہیں جب بھی کسی اہم انٹرنیشنل فورم پرخطاب کاموقع ملتاہے وہ افغان عوام کے مسائل اجاگرکرنے کی بجائے پاکستان پرالزمات کی بوچھاڑکردیتے ہیں جو انکی احسان فراموشی اورمحسن کشی کامظہرہے افغان صدر اپنے پیشروصدر حامدکرزئی کی طرح افغان عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں اورغیرملکی آقاؤں کے ذریعے اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں انکے ساتھ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیوعبداﷲ عبداﷲ بھی اکثروبیشترپاکستان پرالزمات لگاکرآسمان پرتھوکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگرجب سے بھارت میں نریندرمودی برسراقتدارآئے ہیں تب سے اشرف غنی مودی کی یاری میں مکررعبداﷲ پربازی لے جانے کی تگ ودودمیں مصروف عمل نظرآرہے ہیں مکررعبداﷲ کی پاکستان دشمنی تواس حوالے سے سمجھ میں آتی ہے کہ وہ سابقہ شمالی اتحادکے نمائندے کی حیثیت سے بزوربازوآدھی حکومت پرقابض ہیں مگراشرف غنی جوکہ بزعم خودافغان عوام کانمائندہ ہونے کے دعویدارہیں نجانے کس ترنگ میں پاکستان دشمنی پہ اترآئے ہیں وہ اگر افغان عوام کے حقیقی غمخوارہوتے اورانکی نمائندگی کاحق اداکرتے توپاکستان کی قربانیاں اوراحسانات یادرکھتے ان کاحمایت یافتہ ایک ٹولہ پاکستان کے خلاف نفرتوں کوہوادینے کیلئے سرگرم عمل ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ناتوپاکستان کی قربانیوں کاعلم ہے اورناہی انہیں یہ احساس ہے کہ پاکستان نے اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دل کے دروازے کھول کرافغان عوام کاکس قدرساتھ دیاہے اشرف غنی کے حمایت یافتہ چندچھچھورے قسم کے لوگ جوپاکستان کی گندم کھاکھاکراپنے توندوں کوتندوروں میں تبدیل کرچکے ہیں اسی پاکستان کے خلاف دنرات ہرزہ سرائی میں جتے ہوئے ہیں یہ قلیل ٹولہ پاکستان کے خلاف اخلاقیات کی تمام حدودپھلانگ چکاہے اس ٹولے کاکہناہے کہ پاکستان نے امریکہ کوسٹریٹجک سہولیات فراہم کرکے افغانستان کے ساتھ دشمنی کی ہے حالانکہ اسی امریکہ سے اشرف غنی اوراس کاحمایت یافتہ ٹولہ درخواستیں کرتاپھررہاہے کہ خداراافغانستان سے نہ جاؤاگرامریکہ کوسہولیات فراہم کرکے پاکستان نے افغانستان کے ساتھ عداوت کی ہے توامریکہ اور اسکی افواج کوواپس جانے سے روکنے کیلئے ترلے منتیں کرنے کی کیاضرورت ہے؟ پاکستان نے دشمنی کی ہے تواشرف غنی وطن دوستی کاحق اداکرکے امریکہ کو واپس جانے کیلئے الٹی میٹم دے دے اﷲ اﷲ خیرصلا۔حقیقت حال یہ ہے کہ اشرف غنی بھارت کی نئی دوستی میں اس قدر دیوانگی کامظاہرہ کررہے ہیں کہ انہیں پختون روایات کابھی پاس نہیں جس پاکستان کے خلاف وہ بھارتی سرزمین پربیٹھ کرہرزہ سرائی فرماتے ہیں اسی پاکستان میں رجسٹرڈ پندر ہ لاکھ افغان مہاجرین موجودہیں جبکہ غیررجسٹرڈ کی تعدادپاکستانی حکومت کوبھی معلوم نہیں تواشرف غنی کوکیامعلوم ہوگی ؟ لنڈی کوتل سے لاہوراوررحیمیارخان تک، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان اورچمن سے کراچی تک افغان مہاجرین کی ایک کثیرتعداداس ملک کی سرزمین پرناصرف بس رہی ہے بلکہ یہاں کھلے عام اوربلاخوف وخطراپناکاروباربھی کررہی ہے اگرپاکستان اتناہی برا اور اشرف غنی کی آنکھوں کاکانٹاہے تووہ غیرتِ ملی کامظاہرہ کرکے اپنے عوام کواپنے ملک واپس کیوں نہیں بلاتے ؟ اگرپاکستان افغانستان میں دہشت گردگروپوں یابقول اشرف غنی طالبان کی مددکررہاہے توبارڈرمنیجمنٹ سے اشرف غنی کوچڑکیوں ہے؟ پاک فوج کی جانب سے بارڈرمنیجمنٹ پروہ سیخ پاکیوں ہوجاتے ہیں باڑلگانے یاسیکیورٹی کی صورتحال بہتربنانے کی کوششوں پرپانی کیوں پھیراجاتاہے پاکستان کی بارہادرخواستوں اورپیشکشوں کے باوجوداشرف غنی دہشت گردی کے خلاف تعاون پہ آمادہ کیوں نہیں ہورہے؟ پاکستان کے مطلوب مشہورزمانہ دہشت گردوں کوافغانستان میں کیاپاکستان نے پال رکھا ہے؟ ہٹ دھرمی اوربیوقوفی کی بھی حدہوتی ہے اشرف غنی یہ تمام حدودپھلانگ چکے ہیں انہیں نریندرمودی کے ڈالرتونظرآرہے ہیں مگرپاکستان کی وہ قربانیاں انکی نظروں سے اوجھل ہیں جووہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے ساٹھ ہزارافرادشہیدکرواکردے چکاہے وہ آج پاکستان کی امدادتوٹھکرارہاہے مگرہندوبنئے کی امدادکیلئے کشکول درازکئے ہوئے ہیں پاکستان کواشرف غنی حکومت کے ساتھ ہرقسم کے تعاون سے دستبردارہوناچاہئے انکے اس نارواطرزعمل سے پاکستانی عوام میں اشتعال پھیل رہاہے اوروہ سمجھتی ہے کہ آستین کے سانپوں کومزیددودھ نہیں پلایاجاسکتا پاکستانی حکومت افغان مہاجرین کوجلدازجلداپنے وطن واپس بھیجنے کے انتظامات کرے یہ مہاجرین پاکستانی عوام کے معاشی قتل کاباعث بن رہے ہیں انکی وجہ سے پاکستان معاشرتی عدم توازن کے ساتھ ساتھ سالانہ کم ازکم دس ارب ڈالرکانقصان بھی اٹھارہاہے لنڈی کوتل سے کراچی تک جتنابھی غیرملکی اورسمگل شدہ سامان کاکاروبارہورہاہے یہ تمام افغانیوں کاہے جس سے پاکستانی معیشیت کاٹھپہ بیٹھ چکاہے دنیامیں کہیں مہاجرین کواس طرح کھلم کھلاغیرقانونی کاروبارکرنے کی اجازت نہیں پاکستان دنیاکاواحدملک ہے جس نے اپنے ہاں رہنے والے مہاجرین کو ناصرف رہنے کی اجازت دے رکھی ہے بلکہ یہ دھڑلے سے غیرقانونی کاروبارکرکے پاکستان کی معیشیت کا کباڑاکرنے میں بھی مصروف عمل ہیں کسی قسم کے شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ افغانیوں کی اکثریت پاکستانی قانون نافذکرنیوالے اداروں کیلئے الگ سے دردسربنی ہوئی ہے مگرپاکستان اوراسکے عوام پھربھی افغانی بھائی افغانی بھائی کی رٹ لگائے ہوئے ہیں جبکہ اشرف غنی جیسے لوگ اسی پاکستان کے ازلی دشمن کے ساتھ ناصرف اپنی ناجائزاوربے جوڑمحبت کی پینگیں بڑھارہے ہیں بلکہ کھلی دشمنی کااظہاربھی کیاجارہاہے پاکستان یااسکے عوام کوبھارت افغان دوستی پرکوئی اعتراض نہیں مگریہ دوستی پاکستان کی قیمت پرکیوں ؟ اشرف غنی کواتنی توحیاہونی چاہئے کہ جس ہارٹ آف ایشیاکانفرنس میں وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں یہ وہی تنظیم ہے جسکی بنیادپاکستان نے برادرملک ترکی کے ساتھ مل کررکھی تھی بھارت اورنریندرمودی کوافغان صدر یاعوام کے ساتھ کوئی ہمدردی اورمحبت نہیں اشرف غنی درحقیقت’’چائے والے ‘‘کی زہریلی چائے اور’’ڈوگی‘‘ کی بچی ہوئی ڈبل روٹی سے بے خبرہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 33597 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2016 Views: 353

Comments

آپ کی رائے