وسیم اختر کا اعتراف جرم

(Riaz Aajiz, Karachi)
میئر کراچی وسیم اختر نے ایک مرتبہ پھر اپنے اختیارات کی دھائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیاہے۔ انھوں نے کہا کہ لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ وہی ایم کیو ایم کے رہنما ہیں کہ جنھوں نے اس وقت کبھی اس قسم کی دھائی نہیں دی کہ جب پیپلزپارٹی کی حکومت لوکل باڈیز قوانین میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کر رہی تھی اور اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ ایم کیو ایم سندھ اسمبلی میں عددی اعتبار سے بہت زیادہ طاقت ور جماعت نہیں اور نہ ہی وہ کسی قانون سازی کو روکنے کی طاقت رکھتی ہے لیکن یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم نے اپنے سامنے ہونے والی ایسی کسی قانون سازی کی اس شدت سے مخالفت نہیں کی جس سطح کی مخالفت ہونی چاہیے تھی۔ایم کیو ایم کا یہ ریکارڈ ہے اس نے ماضی میں ہڑتالوں اور پہیہ جام کرکے شہر بند کرانے کے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ لندن سے آنے والی ایک آواز پر شہر بند ہو جاتا تھا اور وہ بھی اس طرح کہ ابھی شہر بند کرنے کی آواز لگائی گئی اور اس آواز کی گونج تک ختم نہیں ہوئی کہ اس سے پہلے ہی شہر بند ہو گیا۔یہ ایک بہت بڑی اور تلخ ترین حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں ہمیشہ نان ایشوز کی سیاست کی اور کئی کئی دن کراچی کو اپنی انا کی خاطر اور ایسے معاملات پر بند رکھا کہ جس پر شہر بندکرنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کی جا سکتا تھا۔ لیکن ایم کیو ایم نے کبھی اس شہر کی اصل مسائل کی حل کرنے کے لئے اور شہر یوں کے حقوق کے لئے تالا بندی یا ہڑتال نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوئی قابل ذ کر احتیاج کیا۔ جب پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی میں بلدیاتی اداروں کو بے اختیار کرنے کے حوالے سے نئی قانون سازی کر رہی تھی اس وقت ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے ظاہری طور پر بل کی مخالفت کی اور اسمبلی کے ہال میں محض خانہ پری کرنے کے لئے احتجاج بھی کیا لیکن اس مسئلے پر کبھی ہڑتال یا شہر کا پہیہ جام نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کیا کہ واک آؤٹ کر کے اسمبلی ہال سے باہر آ گئے اور پھر کوئی منانے آگیا تو تھوڑے سے نخرے کرنے کے بعد واپس اجلاس میں چلے گئے۔ دوسری طرف سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی طر ف سے بھی کسی کراچی مخالف بل پر دستخط کرنے کے حوالے سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی حالانکہ ان کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا اور وہ ایم کیو ایم ہی کے کوٹے پر گورنر سندھ بنے ہوئے تھے۔ یہ تو بعد میں ہوا کہ انھیں پہلے ایم کیو ایم نے مسترد کیا بعد میں ڈاکٹر عشرت العباد نے ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کو مسترد کر دیا۔مجموعی طور پر اگر یہ بات کی جائے کہ ایم کیوایم نے کراچی کے عوام کے ووٹوں پر سیاست کی اور آج تک کر رہے ہیں لیکن انھوں نے کراچی کے عوام کا مقدمہ کبھی نہیں لڑا تو شاید غلط نہ ہو۔ آج ایم کیو ایم پاکستان ہو یا ایم کیو ایم لندن یا پاک سر زمین پارٹی، ان تمام پارٹیوں کی سربراہ یا دیگر قائدین ماضی میں متحد ایم کیوایم ہی کا حصہ رہیں ہیں اور ان سب نے کراچی کے عوام کی حق تلفی اور کراچی کی بربادی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے ۔ ایم کیو ایم کی تاریخ میں صرف جنرل پرویز مشرف کا دور ہے کہ جب اس جماعت نے کراچی کو بہتر بنایا، اس کی بھی شاید وجہ یہ بنی کہ جب جنرل مشرف کے دور میں پہلے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کراچی کے پہلے ناظم اعلی نعمت اﷲ خان نے کام کر کے دکھایا اور بارشوں کے بعد کھنڈر بنے شہر کی از سر نو تعمیر شروع کی اور شہر کی حالت کو بہت حد تک بہتر بنایا۔ اس کے بعد اگلے بلدیاتی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم جیت کر آئی اور مصطفی کمال کو اس شہر کی نظامت ملی۔یہ بات اکثر تبصروں اور تجزیوں میں کہی جاتی ہے کہ نعمت اﷲ خان کے کام کی وجہ سے ایم کیو ایم کو اپنے مزاج کے برخلاف بحالت مجبوری کراچی والوں کے لئے کام کرنا پڑا اور کراچی والوں کا اتفاقی طور پر کچھ بھلا ہوا۔ آج جو میئر کراچی وسیم اختر یہ کہہ رہے ہیں کہ ان پر پھول نچھاور نہ کئے جائیں کیونکہ انھوں نے کوئی ایسے کام نہیں کئے ہیں کہ ان پر پھولوں کی بارش کی جائے۔ یہ ایک طرح سے وسیم اختر کا ایم کیو ایم کی طرف سے اعتراف جرم ہے۔ انھوں نے اور ایم کیو ایم نے واقعی کوئی ایسے کا م نہیں کئے ہیں کہ ان پر پھول نچھاور کئے جائیں بلکہ ان کے کام تو ایسے ہیں کہ جس پر شرمندگی کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں ۔ جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا ہے تو یہ رونا بھی وہ نہ روئیں تو اچھا ہے کیونکہ کسی نے انھیں مجبور نہیں کیا کہ وہ لازمی طور پر میئر رہیں اور بے اختیار ہونے کے باوجود کام کریں ۔ اگر ان سے کام نہیں ہو رہا تو اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بالکل بے اختیار ہیں تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلیں جائیں ، میں انھیں یقین دلاتا ہوں کہ انھیں گھر سے بلانے کوئی نہیں جائے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40690 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Dec, 2016 Views: 253

Comments

آپ کی رائے