مودی کی آبی جارحیت۔۔۔۔۔کھلا اعلان جنگ - آخری قسط

(Sami Ullah Malik, )
حیف ہے پاکستان سمیت مسلم دنیا کے امریکی غلام حکمرانوں پرکہ وہ اپنے اقتدارکے مفادات کی وجہ سے آنکھیں بندکیے رہتے ہیں شاید ہی کوئی آوازنکلتی ہے اگرآزادکشمیرکے انتخابات نہ ہوتے اورپاکستان کی سیاست میں پوائنٹ اسکورنگ نہ کرناہوتی تووزیراعظم نواز شریف اور بلاول زرداری کو شائدکشمیریادبھی نہ رہتا۔سیاسی ضرورت کے تحت ایک دوسرے پرالزامات لگائےگئے اورٹانگیں کھینچی گئیں۔نواز شریف حکومت کی مولانافضل الرحمان کی سربراہی میں کشمیرکمیٹی کی وہی کارکردگی ہےجوپی پی زرداری دورمیں تھی۔ حکومت نے کشمیرکازکو اجاگر کرنے کیلئے پوری دنیامیں ایلچی بھیجے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے اقوامتحدہ بلندآہنگ میں کشمیری مظلوم عوام کے حق میں آوازبلندکی جسے پوری قوم نے سراہامگر نریندرمودی کانام نہ جانے کس مصلحت کے تحت وہ زبان پرنہیں لائے جو کہ بھارت میں مسلمانوں کاقاتل اور کشمیریوں کے قتل عام کااس وقت براہِ راست ذمہ دارہے اس سے پی پی کے چئیرمین بلاول زرداری کوموقع ملاکہ وہ نوازشریف کے خلاف’’مودی کاجو یار ہے کے نعرے لگوائیں‘‘،اس پرردّعمل کے اظہار کے بجائے مسلم لیگ ن کواپنی کشمیرپالیسی کاجائزہ لیکر اسے درست کرنا چاہئے۔ہماری فوجی قیادت کھل کر کشمیری مظلوم عوام کے حق خودارادیت کیلئے بات کررہی ہے جوخوش آئندہے، اس سے ضرورکشمیری عوام کوحوصلہ ملے گا۔
پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹونے بھی کشمیرکیلئے ہزارسال تک جنگ لڑنے کانعرہ لگایاتھا مگرعملاًیہ پرفریب سیاسی نعرے کے سواکچھ نہ تھا۔بے نظیربھٹوکے دورمیں ایک میجرجنرل کا اس الزام میں کورٹ مارشل کیاگیاکہ وہ صوبہ سرحد کی درے کی بنی ہوئی بندوقیں اپنی جیپ میں کشمیری حریت پسندوں کوپہنچانے کیلئے جارہے تھے۔یہ مضحکہ خیزالزام تھا جس کے ذریعے فوج اورکشمیریوں دونوں کوبدنام کرنامقصودتھا۔آج پیپلزپارٹی سیاسی مفادات کیلئے کشمیریوں کے حق میں اس طرح آگے بڑھ کربات کررہی ہے جس طرح پرویزمشرف اپنے انٹرویوزمیں کشمیرکاذکرکرتے ہیں مگرتاریخ بڑی بے رحم ہے جوہرلمحے کواپنے دامن میں پورے سیاق وسباق کے ساتھ یادرکھتی ہے۔ پرویزمشرف پرجہاں اوربہت سنگین الزامات ہیں وہیں وہ کشمیریوں کے بھی بہت بڑے مجرم ہیں۔سینیٹ میں موجودحزبِ اختلاف کے لیڈر اعتزازحسن پر الزام ہے کہ جب وہ بے نظیربھٹوکے دورمیں وزیرداخلہ تھے توبھارت کے خلاف جدوجہد کرنے والے سکھ حریت پسندوں کی فہرستیں انہوں نے بھارتی حکومت کو فراہم کی تھیں۔ہم چندسال پہلےبراہِ راست بھی اعتزازحسن سے یہ سوال کرچکے ہیں جس کے جواب میں وہ کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے آئیں شائیں کرتے رہے،اب بھی وہ اس سوال کاجواب دینے کیلئے تیارنہیں ہیں ورنہ الزام لگنے پر وہ کسی بھی وقت سینیٹ میں اپنے مؤقف کی وضاحت کرکے اس الزام کوردکر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس الزام کے ساتھ کچھ حقائق بھی نتھی ہیں،بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی جب اسلام آباد آئے تھے توائیر پورٹ سے وزیراعظم ہاؤس تک راستے میں جہاں بھی کشمیر کے حوالے سے بورڈاور ہورڈنگ تھے ،وہ اتروالئے گئے تھے اوربے نظیربھٹونے اپنے خیرمقدمی تقریرمیں راجیو گاندھی کو جتایاتھاکہ ہم نے بھارت کوکس طرح تعاون فراہم کیاہے اورمددکی ہے۔اس تقریرکا ریکارڈ آج بھی دیکھاجاسکتاہے۔قوم کواس کے بارے میں حقائق کاعلم ہوناچاہئےکیونکہ بھارتی فوج نے گولڈن ٹیمپل پرحملہ کرکے سکھوں کاقتل عام کیاتھا،اس کے نتیجے میں یہ سکھ تحریک شروع ہوئی تھی۔گاندھی خاندان کی دوستی میں بے نظیربھٹوکی حکومت نےاس تحریک کوکچلنے میں انٹیلی جنس سمیت کئی طرح کاتعاون فراہم کیا۔پاکستان کی مددسے تحریک کوکچلنے کے بعد کئی لاکھ بھارتی فوج فارغ ہوگئی جسے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے لگادی جواب تک بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔اس طرح کشمیریوں پرجومظالم ڈھائے جارہے ہیں،اس میں پی پی کاحصہ بھی بنتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام حکمرانوں کا ماضی آلودہ ہے۔سیاسی اوراقتدارکے مفادات کیلئے انہوں نے بڑے بڑی گھناؤنے کھیل کھیلے ہیں۔فوجی اورسول اسٹیبلشمنٹ بھی اس میں برابرکی حصہ دارہے۔اب اگرسب کو احساس ہوگیاہے توذمہ داری اور دیانتداری سے سب کواپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ پاکستانی عوام کابھی بہت خون نچوڑاجاچکاہے اوروہ بے پناہ مسائل کا شکارہیں۔اس لئے اب مفادات اوراقتدارکی جنگ ختم ہونی چاہئے۔ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اورتذلیل کرنے کی بجائے اب کروڑوں اوراربوں کی لوٹ مارکی رقم میں سے رضاکارانہ فلاح وبہبودکیلئے خرچ کرناچاہئے۔کرپشن کاباب ہرسطح پر بندکردیناچاہئے اورباہم مل کرملک وقوم کے مسائل حل کرنے اوراسے ترقی کے سفرپرگامزن کرنے کیلئے جدوجہدکرنی چاہئے۔پاکستان کوحقیقی معنوں میں اسلامی جمہوری فلاحی ترقی یافتہ ریاست بنانے اورانصاف کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے ازبس ضروری ہے ۔سیاستدان،سیاسی جماعتیں حکمران طبقات فوجی اورسول اسٹیبلشمنٹ نے سب ایک صفحے پرکھڑےہوں اورمتفقہ پالیسی اورلائحہ عمل طے کرکے یکساں سمت سفرکریں، اگرایسانہ کیاگیاتوقوم کے صبر کاپیمانہ لبریزہو چکا ہےاب کسی پرفریب نعرے کے ساتھ اسے دھوکانہیں دیاجا سکتا۔

یہ پہلوسب سے اہم ہے کہ کشمیری عوام پہلے ڈوگرہ راج،انگریزاوربھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کوئی سواصدی سے بھی زیادہ عرصے سے قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔تحریک آزادی مختلف مراحل سے گزری ہے اوراب کشمیریوں کی تیسری نسل قربانیاں دے رہی ہے۔اس کے اندرغداراوربکاؤپیداکرنے سمیت تمام گھناؤنے حربے استعمال کرنے کے باوجود بھارتی ان کے حوصلے پست نہیں کرسکے۔سیدعلی گیلانی جیسے بزرگ سمیت تمام حریت رہنمااور کارکن اپناکام کرچکے۔ کشمیریوں کی قربانیوں کاکوئی شمارنہیں،شائدیہ تعدادلاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ کشمیری نوجوانوں نے’’اب نہیں توکبھی نہیں‘‘کے عزم کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مقابلہ شروع کررکھاہے۔اب اگرکشمیری مظلوم حق خودارادیت اورآزادی سے محروم رہتے ہیں توجہاں اقوام متحدہ، اوآئی سی سمیت عالمی برادری، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس کے ذمہ دارہوں گے وہاں سب سے بڑھ کرپاکستان اس کاذمہ دارہوگا جوکہ مسئلہ کشمیرکاتسلیم شدہ فریق ہے اورخوداس کی شہ رگ بھارت جیسے مکارظالم اور متعصب ازلی دشمن کے شکنجے میں ہے ۔تمام قومی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ لیناچاہئے کہ بھارت اب دہشتگردی،تخریب کاری کرانے سمیت ہرسازش کرے گا۔آبی جارحیت اس کے پاس پاکستان کے خلاف سب سے بڑا ہتھیارہے وہ جس کے ذریعے پاکستان کے چاروں صوبوں کوجب چاہے بنجربناسکتاہے اور جب چاہے سیلابی طوفان میں ڈبوکربربادکرسکتاہے۔اس ہولناک خطرے سے مستقل نجات کاایک ہی ذریعہ بھارت کاکشمیرپرٖغاصبانہ ختم ہوااور کشمیری مظلوم عوام کومظلوم عوام کوآزادی ملے،اگرایسانہ ہواتویہ محلات اورایوان محفوظ نہ رہیں گے۔اس لئے پوری قوم اور ملک کے تمام اداروں کواپنی پوری قوت کے ساتھ متحدہوکرکھڑاہوناچاہئے۔بھارت بنئے کو پسندیدہ ملک کی حیثیت سے سبزیوں کی تجارت،فلموں،ڈراموں کی درآمداوراس کے کلچرکوفروغ دینے کامذاق اب ختم ہوجاناچاہئے اوربھارت کے ہرشعبے سے اس وقت تک کھلے دشمنوں کاساسلوک کرناچاہئے کہ جب تک وہ جارحیت اورکشمیریوں پرظلم وستم کوختم کرکے ان کوحق خودارادیت نہیں دیتااورپاکستان کی شہ رگ دشمن کے شکنجے سے چھٹکارانہیں پالیتی۔ بھارت ہماراپڑوسی ملک ہے اوراس سے اچھے تعلقات معاشرتی تقاضہ بھی ہے اوراسلام نے بھی ہمیں پڑوسیوں سے بہتر سلوک کاحکم دیاہے لیکن اگرپڑوسی ظلم وستم کی ساری سرحدیں عبورکرتے ہوئے درندگی کامظاہرہ کرے تواس کے ظلم کوروکنا اوردرندگی کامقابلہ کرنااسلامی تعلیمات کاتقاضہ ہے۔یادرکھیں جب بھیڑئیے کوانسانی خون کی چاٹ لگ جائے تو پھرانسانیت کوبچانے کیلئے راست قدم اٹھاناضروری ہوجاتاہے اوروہ لمحہ اب آن پہنچاہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231818 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Dec, 2016 Views: 311

Comments

آپ کی رائے