پاکستان اور افغانستان میں بڑھتے فاصلے ۰۰ آخرکیوں؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
افغانستان کے صدر اشرف غنی لون نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کیا ہیکہ وہ شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کررہا ہے ۔ اشرف غنی لون گذشتہ دنوں ہندوستان کے شہر امرتسر میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، افغانستان کو پانچ سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے بہتر ہوگا کہ وہ اس رقم کا استعمال پاکستان کے اندر انتہا پسندی پر قابو پانے پر صرف کرے۔لون کے مطابق افغانستان کو سب سے بڑا چیالنج دہشت گردی سے ہے جہاں تقریباً تیس (30)دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان تنظیموں کے کارکن اکثر پاکستان میں پناہ لیتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستانی فوج کی جانب سے، دہشت گردی کے خلاف جاری کاررائیوں کی وجہ دہشت گرد سرحدی علاقوں میں پناہ لیتے ہوئے وہاں سرگرم رہتے ہیں۔صدر اشرف غنی لون کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف افغانستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ان سے پورے جنوبی ایشیاء کو خطرہ لاحق ہے، لہذا اب وقت آگیا ہے کہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے نہ صرف دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوسکے بلکہ انہیں پناہ دینے اور انکی پشت پناہی کرنے والوں کو بھی گرفت میں لیا جاسکے۔ افغان صدر اشرف غنی لون کا پاکستان پر الزام اور پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے بیان سے کچھ اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہندوستان کو ایک ایسا پڑوسی ملک مل گیا ہے جو ہندوستان کے لئے کارآمد ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات ان دنوں انتہائی کشیدہ نوعیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ کشمیر کے فوجی کیمپ اڑی پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہندوستان نے جس طرح پاکستان کے خلاف رویہ اپنایا ہوا ہے اس سے عالمی سطح پرپاکستان کے خلاف اثرات مرتب ہورہے ہیں اور افغان صدر کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور پاکستان کی جانب سے افغانستان کو دی جانے والی امداد کو پاکستان ہی میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے استعمال کرنے کا مشہورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو سنگیں بناسکتے ہیں۔
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو واضح پیام دیا کہ دہشت گردی میں اضافہ علاقہ کیلئے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ان تمام کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گردوں کی تائید ، پناہ ، تربیت اور مالیہ فراہم کررہے ہیں انکا کہنا تھا کہ خاموشی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردوں اور انکے آقاؤں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ نریندر مودی نے جس طرح افغانستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے مزید امداد اور تعاون کی بات کی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ہندوستانی رویہ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لانا چاہتے بلکہ پاکستان پر عالمی سطح سے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ امرتسر میں منعقدہ اس دوروزہ کانفرنس میں کم و بیش چالیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔

پاکستان نے بھی اپنی جانب سے اشرف غنی لون کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز نے جو پاکستانی وفد کی قیادت کررہے تھے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان ، افغانستان میں دیرپا امن کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کیلئے تیار ہے تاہم افغان حکومت کو پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ امرتسر میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ ہارٹ آف ایشاء کانفرنس سے قبل ہی سب کی نگاہیں سرتاج عزیز کی طرف تھیں کہ آیا وہ ہندو پاک کے درمیان بگڑتے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر خارجہ امور کو ہندوستان میں سیکیوریٹی مسئلہ پر ایئرپورٹ میں چند گھنٹے انتظار کرنا پڑا یہی نہیں بلکہ انہیں پریس کانفرنس کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلہ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے تیار نہیں ہے بلکہ ہندوستان ،ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ ہندوستانی حکومت کا پاکستانی حکومت سے مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان میں مقیم ان دہشت گردوں کو ہندوستان کے حوالے کریں جو ہندوستان کو مطلوب ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان ، ہندوستان اور افغانستان کے اس رویہ کو جو امرتسر میں منعقدہ دو روزہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے دوران روا رکھا گیا ہے یعنی دہشت گردی کی پشت پناہی سے متعلق اس سلسلہ میں کس قسم کاجواب دیتا ہے ۰۰۰

افغانستان میں ریلوے
افغانستان اور پاکستان میں بڑھتے فاصلوں کے پس پردہ، افغانستان کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت ہے۔ 28؍ نومبر کو ترکمانستان سے مال بردار ٹرین افغان پہنچ گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو زبردست استحکام حاصل ہوگا۔ یاد رہے کہ افغانستان دنیا کا ایک ایسا ملک تھا جہاں ریلوئے لائن نہیں تھی۔ تاہم 26؍ اگسٹ 2016کو چین کے مشرقی شہر نان ٹونگ سے پہلی کارگو ٹرین افغانستان کیلئے روانہ ہوئی تھی۔ پندرہ روزہ سفر کے دوران اس ٹرین نے چین ، کرغستان سرحد کو عبور کیا ، ازبکستان اور ٹرمیز سے گزرتی ہوئی، دوشانبے کو پہنچی۔ ترکمانستان سے افغانسان کے درمیان ریلوے رابطہ کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانی سرحد واگھا کھولی جائے۔ اشرف غنی نے پاکستان سے کہا ہے کہ یا تو واگھا سرحد کھولدی جائے یا پھر تجارتی راہداری سے محروم ہوا جائے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہیکہ صدر افغانستان نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ درشت لب و لہجہ اختیار کیا تھا، وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ دوسری طرف وسطی ایشیاء ممالک، کرغرستان اور دوسرے ممالک نے افغانستان سے تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ ترکمانستان ، ہندو پاک کو دس بلین ڈالرس کی مالیت کی پائپ لائن سے گیس کی سربراہی کرنا چاہتی ہے۔

شاہ سلمان کے لیے امارات کا سب سے بڑا شہری اعزاز
متحدہ عرب امارات نے مملکت سعودی عرب کے فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے شہری اعزاز’’ آرڈر آف زاید‘‘ سے نوازا ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو یہ اعزاز ابوظبی کے ولیعہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے دیا گیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پرابوظبی کے قصرِ مشرف میں خادم حرمین شریفین کے اعزاز میں عشائیہ ترتیب دیا گیاتھا ۔اس موقع پر شاہ سلمان کے استقبال کے لیے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان موجود تھے۔عشایے سے قبل خادم حرمین شریفین نے متحدہ عرب امارات کی سپریم کونسل کے ارکان سے مصافحہ کیا۔شاہ سلمان کا یہ دورہ مشرقِ وسطیٰ کئی ایک اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔ مشرقِ وسطی کے حالات جس طرح ہر روز کشیدہ صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں یہ بھی اس دورے کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار اور مستحکم تعلقات میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ منتخبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ ماہ امریکی صدر کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے متعلق ان حکمرانوں کی امریکہ کے تئیں پالیسی کے سلسلہ میں بھی شاہ سلمان کا یہ دورہ اہمیت رکھتا ہے۔ خیر دیکھنا ہے کہ منتخبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے سلسلہ میں کیا اقدامات بجالاتے ہیں۔

امریکی پالیسی اور عالمِ اسلام
امریکہ ایک طرف ایران پر دس سال تک مزید معاشی پابندیاں عائد کرکے عالمِ اسلام کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب عالمِ اسلام کو کمزور کرتا جارہا ہے، سعودی عرب، عرب امارات، قطر، بحرین، کویت وغیرہ کے حکمراں کروڑوں ڈالرس کے فوجی سازو سامان حاصل کرکے اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے کی سعی کررہے ہیں لیکن ان کی یہ کوششیں ثمرآور ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں ۔ شدت پسندوں کی جانب سے خطے میں حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں، امریکہ اور اتحادی ممالک شدت پسندوں کو ختم کرنے کے نام پر جس قسم کی کارروائیاں کررہے ہیں اس سے ان ممالک کی معیشت تباہ و برباد ہورہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق عالم اسلام کی معیشت عراق، شام ، یمن کے حالات کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہوچکی ہے اور مستقبل میں مزید خراب ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب میں گذشتہ چند ماہ کے دوران مختلف ممالک سے ہزاروں تارکین وطن اپنے روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ لگارتار جاری ہے ،ہزاروں تارکین وطن اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہوچکے ہیں انہیں کئی کئی ماہ کی تنخواہیں باقی ہیں ۔یہاں تک کہ ان تارکین وطن کو اپنے ملک واپس ہونے کے لئے پریشان کن صورتحال سے دور ہونا پڑرہا ہے ۔ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تارکین وطن جن مصائب سے دوچار ہیں اس کی رپورٹس آئے دن میڈیا کے ذریعہ منظرعام پر آرہی ہے ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جس طرح روزگار سے محروم کئے جانے والے تارکین وطن کے ساتھ رویہ اپنایا ہوا ہے اس سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی ساکھ متاثر ہورہی ہے کیونکہ سعودی عرب عالمی سطح پر آفات سماوی و ارضی اور دیگر مصائب سے دوچار مظلومین کی مدد کرتا رہا ہے اوراب وہ خود مشرقِ وسطی کے حالات کی نذر ہوچکا ہے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی معیشت کے استحکام اور خطے میں امن و آمان کی فضاء قائم کرنے کے لئے عالمی سطح پر مؤثر مذاکرات کریں ۔

حلب سے اپوزیشن کے انخلاء کیلئے امریکہ اور روس کے درمیان بات چیت
نومنتخبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورروس کے صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان بات چیت عالمی سطح پر ہلچل پیدا کردی ہے ایک طرف ٹرمپ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا عندیہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بگڑتے نظر آرہے ہیں۔ شام میں ایک طرف روس شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب امریکہ اور دیگر اتحادی فورسس شام میں بشارالاسد اور روس کی جانب سے معصوم اور بے گناہ شہریوں پرکئے جانے والے ظالمانہ کارروائیوں کوختم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور شدت پسندوں کے خاتمہ کے لئے انکے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں جس میں عام شہری علاقے بھی آرہے ہیں ۔ تیسری جانب داعش و دیگر شدت پسند تنظیمیں عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں اس طرح شام میں سہ طرفہ کارروائیوں میں بے قصور ، معصوم افراد بشمول معصوم بچے و خواتین بھی نشانہ بن رہے ہیں۔جنوری 2017میں ٹرمپ امریکی صدارت پر فائز ہونے کے بعد شام کے حالات میں بدلاؤ آسکتا ہے ، موجودہ امریکی پالیسی میں ٹرمپ کس قسم کا بدلاؤ لاتے ہیں اس تعلق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اتنا ضرور ہیکہ روسی صدر ولادیمیرپوتن اپنے ہم منصب امریکی صدر کو شام میں بشارالاسد کے اقتدار کیلئے کوشش کریں گے۔شام کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستوراکے مطابق رواں برس کے اختتام پر مشرقی حلب شامی حکومت کے ہاتھوں میں جاسکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ کسی بھی خوفناک معرکے سے اجتناب کیا جائے گا۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقی حلب سے اپوزیشن کے تمام گروپوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے روس اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے تاہم شامی اپوزیشن نے کہاہے کہ ایسا کرنا ترکی کے زیر نگرانی روس کے ساتھ اس کے مذاکرات میں طے پانے والے نتائج سے پیچھے ہٹ جانا ہو گا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے شہرانقرہ میں شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں چار نکات پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی تاہم لاؤروف نے سب چیزوں پر پانی پھیر دیا اور انقرہ بات چیت بے فیض ہوگئی ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرقی حلب کے 60% علاقوں کا شامی حکومت کے ہاتھ میں چلا جانا اور تقریبا 2 لاکھ محصور افراد کا انسانی المیے سے دوچار ہونا یہ عوامل شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کو حلب سے نکلنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔تاہم یورپی یونین خارجہ پالیسی کی ذمہ دار فیڈریکا موگرینی کے مطابق حلب سے اپوزیشن کے نکل جانے اور شہر کا بشارالاسد حکومت کے ہاتھوں میں چلے جانے کے نتیجے میں شام کی جنگ ختم نہیں ہوجائیگی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Dec, 2016 Views: 369

Comments

آپ کی رائے