قسمت

(Kanwal Naveed, Karachi)
قسمت کیا ہوتی ہے؟اس کے متعلق ہر معاشرے میں مختلف سوچیں پنپتی ہیں ۔ہمارے ہاں قسمت سے متعلق سوچ دو طرح کی ہے ۔ایک تو یہ کہ ہر کسی کا اپنا مقدر ہے نصیب کو قسمت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ خوشحال لوگوں کے خوشحال ہونے کی وجہ ان کی قسمت کا اچھا ہونا ہے ،اس کی وجہ رب کی طرف سے خاص مہربانی ہے۔دوسری سوچ جو ہمارے ہاں پائی جاتی ہے کہ محنت کی جائے اور پھل کی فکر نہ کی جائے رب کی ذات بے نیاز ہے ۔ وہ محنت کا صلہ ضرور دیتا ہے لیکن کچھ کو زیادہ دیتا ہے اور کچھ کو کم لہذا قسمت اچھی ہونے کا دارو مدار محنت پر کم اور رب پر ذیادہ ڈال دیا گیا ہے مگر دوسری سوچ میں کسی حد تک لچک ہے کہ انسان خود بھی کسی قابل ہے وہ بھی اپنی قسمت کے سلسلے میں کچھ حصہ ڈالتا ہے۔

ہمارا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم بنی بنائی چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو جیسا مل جائے وہ ہی اچھا ۔میٹھا میٹھا اچھا ہپ ہپ بچہ۔جبکہ صحت کا دارومدار کڑوے کو بھی شامل کرنے پر ہے۔کوئی اگر یہ کہہ دے کہ تمہارا تو کنبہ ہی نااہل لوگوں کا ہے تو ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے گویا کہ ہمارے والدین یا ہمارا کنبہ عقل کل ہوں۔یہ خون تب بھی کھولتا ہے جب ہم اندر سے جانتے ہوں کہ اگلا بندہ سچ کہہ رہا ہے۔یہ مضیحکہ خیز بات ہے کہ ہم اندر سے جو بات تسلیم کرتے ہیں اس کا اقرار نہیں کرتے۔ہم اقرار نہیں کرتے اس لیے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ،بدلنے کی کوشش نہیں کرتے تو سب کا سب ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے جیسا کہ وہ ہے۔پھر ہم اسے قسمت کا نام دے کر خود کو اطمینان دے لیتے ہیں ۔

تاریخ گواہ ہے کہ لوگ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے قسمت کا نام استمعال کرتے ہیں۔یزید بن معاویہ کی مثال لیجیٗے جب حضرت حسینؓ شہید ہو گئے تو اس نے خود کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے کہا رب کی تقدیر یہی تھی۔بڑے بڑے عالموں نے اس کے اس مسلہ تقدیر کے حق میں فتویٰ دیےاور اُسے بری الزمہ قرار دیا۔
ہم بھی عام زندگی میں ایسا ہی کرتے ہیں۔کام چوری کا معمول ہوتا ہے ۔محنت ہوتی نہیں کہتے ہیں کہ یار میری قسمت ہی ایسی ہے سونے کو ہاتھ لگاتا ہوں پیتل بن جاتا ہے۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ملنا وہی ہے جو مقدر ہے پھر کیوں خود کو کپانا،جس رزق نے میرے پاس آنا ہے وہ ضرور آئے گا۔ایک دفعہ ایک صوفی جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔تو اچانک ایک بلی پر بڑا سا لکڑی کا ٹکرا گرا اور وہ اپنی ٹانگوں سے معذور ہو گئی ۔وہ بہت دکھی ہو کہ یہ بلی اب شکار کیسے کرئے گی۔ اس نے بھی سنا تھا کہ رازق تو رب ہے لہذا اس نے مشاہدہ کا سوچا کہ کیا یہ بلی بھوکی مر جائے گی ۔اس نے دو دن کے بعد دیکھا کہ ایک شیر کہیں سے آیا اپنا بچہ شکار بلی کے سامنے پھینکا اور چلا گیا، چوتھے دن پھر یہ ہی ہوا ،اس نے سوچا کہ جو رب بلی کے لیے انتظام کرتا ہے وہ میرے لیے بھی کرے گا ۔ اس نے ایک پہار میں بسیراکیا اور عبادت میں مگن ہو گیا جب تین دن گزر گئے کوئی خوراک نہ آئی تو بھوک پیاس کی شدت سے عبادت کا خیال بھی ذہین سےنکل گیا ۔ پہاڑ سے باہر نکل اور جلدی جلدی کھانے کے لیے کچھ حاصل کرنے کو بھاگا۔ ایک آدمی نے جب اسے اونٹ کی طرح پانی پیتے دیکھا تو پوچھا بھائی کیا ہوا۔ اس نے کچھ سکون پایا تو ساری کہانی اس کو سنا دی ۔اس عقلمند آدمی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے بعد کہا کہ تم نے شیر بننے کی کیوں نہیں سوچی ،اپائج بلی بننے پر کیوں ترجیح دی؟

سارا معاملہ ہی ہماری سوچوں اور عمل کا ہے یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ترقی کرنے والی قوموں میں مسمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔وہ مالک جس نے پیدا کیا ہے وہ وہی کچھ عطا کرتا ہے جس کا انسان اہل ہوتا ہے ،اہلیت سے ذیادہ کچھ نہیں ملتا ۔اہم بات یہ ہے کہ قسمت کی مہربانی کچھ نہیں ہوتی بلکہ قسمت مجبور ہو جاتی ہے اس شخص کے سامنے جو اسے بدلنے کے لیے اپنا سب کچھ داو پر لگانے کو تیار ہو۔کچھ بھی پانے کے لیے ایک قیمت دینی ہوتی ہے ۔وہ سب کے لیے ایک ہے کوئی بھی جب وہ قیمت لے کر دوکان پر جاتا ہے تو دوکاندار ہر گرزانکار نہیں کر سکتا۔بس یہی وجہ ہے کہ رب ہر اس انسان کو نوازتا ہے جو قیمت دینے کا اہل ہو ۔ وہ قیمت کیا ہو یہ اس چیز کا معیار طے کرتا ہے۔ غیر معیار کانچ کے برتن میں گرم گرم چائے نہیں ڈالی جا سکتی وہ ٹوٹ جاتا ہے۔مرتبہ خاصیت و اہلیت دیکھ کر دیا جاتا ہے ترقیاں خوش قسمتیاں سب کچھ یہاں تک کہ جہنم و جنت سب کی قیمت طے ہے جو قیمت کے ساتھ مالک کے پاس جاتا ہے رب اسے نوازتا ہے۔
قسمت طے کرنے والی شے مانگنا ہے انسان کیا مانگتا ہے اور کس یقین کے ساتھ مانگتا ہے۔ اگر یقین کے ساتھ مانگتاہے تو اسے خواب میں اس کے مسلے کا حل بتانے والے گول میز کانفرنس کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنے سوال کا جواب پا لیتا ہے۔ کہتے ہیں سلائی مشین بنانے والے نے جب مشین بنا لی تو سوئی چونکہ ہاتھ والی اپنی سوراخ اوپر کی طرف رکھتی تھی تو اس نے مشین کی سوئی بھی ایسی ہی بنائی ہزار محنت کے باوجود مسلے کا حل نہیں نکل رہا تھا چونکہ اس کی محنت سچی تھی دن رات اُسی سے متعلق سوچتا رہتا تھا۔ اس نے خواب میں سلائی مشین دیکھی جو وہ سلائی کرتے استعمال کر رہا تھا ۔اس کی سوئی کا سوراخ نیچے کی طرف تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کی محنت اسکے وجود کے ہر حصے سے پھوٹنے لگتی ہے وہ سوتے جاگتے اپنے مقصد کو پانا چاہتا ہے تو اس دنیا ہی ہر شے اس کے لیے راستہ چھور دیتی ہے کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ،جب وہ منزل پا لیتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ خوش قسمت ہے کاش کہ ہماری قسمت ایسی ہوتی ،وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ إس کی قسمت محض بھیک نہیں بلکہ وہ تو ایک تحفہ خداوندی ہے جو مزہب یا شکل و صورت دیکھ کر نہیں دیا جاتا ۔نبیﷺ کو بھی رب قرآن پاک میں کہتا ہے کہ اے نبی ﷺ سب جان لینے کے بعد بھی آپ نے اگر ان لوگوں کی پیروی کی تو آپ بھی گمراہ ہو جائیں گئے۔یعنی رب کے نزدیک معیار طے ہیں ۔کوئی بھی ان کے تحت قسمت کو بدل سکتا ہے اور حالات کو اپنی خواہش کے مطابق ترتیب دے سکتا ہے۔

سوچنا شروع کرئے کہ آپ کے نزدیک خوشحالی کیا ہے ،آپ جو چاہیں پا سکتے ہیں ۔رب سب کا ہے ،سب کا ساتھ دیتا ہے۔دائرے مختلف ہیں ۔مثلا ایک عورت نے سوال کیا کہ میں سمجھتی ہوں عورت ہونا بد قسمتی ہے میں کیسے خوش قسمت بن سکتی ہوں ۔ناکام لوگوں کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو گا کہ وہ بہترین بہانہ ساز ہوتے ہیں ۔وہ ہرسیدھی سے سیدھی چیز کو بھی اُلٹا کر لیتے ہیں۔رابعہ بصریؒ بھی عورت تھیِ۔کام خراب ہونے کا الزام بلی پر لگا دیتے ہیں کہ کالی بلی راستہ کاٹ گئی تھی ،خود کو نااہل نہیں کہتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تم عمر نااہل اور بدقسمت بن کر گزار دیتے ہیں۔کاش پر ان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ خوش قسمت ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ کون ہیں کہاں ہیں اور کیا ہیں؟خوش قسمت بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں اس چاہت کےلیے کیا کر سکتے ہیں ۔آپ کی نیت کیسی ہے۔ کیونکہ بہت سےلوگ غلط مقاصد اور خواہشات کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں اپنی بربادی کو خود دعوت دیتے لہذا یہ بھی لازمی ہے کہ غلط اور درست کی پہچان کھلے زہین اور سوچ سے کی جائے ۔تب ہی ہم اپنی قسمت کو اپنی مرضی سے تخلیق دے سکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 184619 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
10 Dec, 2016 Views: 450

Comments

آپ کی رائے