توقع سے زیادہ

(syed shehroz hassan, karachi)
ہماری زندگی میں جس چیز سے سکون ،خوبصورتی اور اطمینان پیدا ہو سکتا ہے وہ توقع سے زیادہ دینے کا اصول ہے ،اس سے نہ صرف ہماری اہلی ومعاشرتی زندگی سنورتی ہے بلکہ معاشی زندگی کی بہتری کے ساتھ ساتھ روحانی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ کوئی بھی انسان جب اس اصول کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ ہر دل عزیز ہو جاتاہے۔کوئی انسان ایسے انسان کو کھونا نہیں چاہتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توقع سے دینے کا اصول ہے کیا ،وہ کیا چیز ہے جو ایک انسان کوبیٹھے بٹھائے مقبول اور ہر دل عزیزبنا دیتی ہے۔وہ دراصل دینے کا اصول ہے،لوگ جتنا آپ سے امید کرتے ہوں اس سے ذیادہ دینا، مثلاٗ ایک طالب علم استاد کا دیا ہو سبق لکھتا ہے ،جبکہ دوسرا طالب علم استاد کا دیا ہو سبق لکھنے کے ساتھ ساتھ حاشیے لگاتا ہے ،تاریخ لکھتااور خوبصورت بنا کر ہیڈینگ دیتا ہے ،آپ خود سوچیں کہ استاد کو کون سا طالب علم زیادہ متاثر کرئے گا۔ استاد کے دل دماغ میں بہترین طلبا کی جو فہرست ہے اس میں کس طالب علم کو جگہ ملے گی۔

اسی طرح والدین ،بہین بھائی دیگر رشتی دار ،دوست بھی جب امید سے زیادہ پاتے ہیں تو ایسا انسان جو امید سے ذیادہ کوئی بھی مثبت شے عطا کرتا ہے وہ ہر کسی کا منظور نظر بن جاتا ہے۔یہ خدائی صفت ہے ،رب ہمشہ اپنے بندوں کو ان کی طلب پر امید سے ذیادہ ہی دیتا ہے۔

ہم اپنی زندگی میں موجودہ دور میں جو بے چینی دیکھتے ہیں اس کی بڑی وجہ سب کچھ سمیٹ کر رکھ لینے کی خواہش ہے۔ جہاں دے کر منافع نہ ہو وہاں دینے کو نقصان سمجھتے ہیں۔ سمیٹ سمیٹ کر رکھنے کی لالچ دوسرے لوگوں کو کس قدر تکلیف دے رہی ہوتی ہے اس کا اندازہ بھی نہیں کرتے۔یہ ہی وجہ ہے کہ زخیرہ اندوزی سے ممانت کی گئی ،دوسروں کو اپنے جیسا سمجھنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ دنیا کا ہر مزہب محبت کا درس دیتا ہے اور محبت نام ہی توقع سے ذیادہ دینا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed shehroz hassan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2016 Views: 392

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ