ملک میں حکمرانی کس کی ہے؟

(Ali Raza, )
قانون کا احترام ہر شخص پر فرض ہے چاہے وہ کسی ملک کا سربراہ ہو ملک کا وزیراعظم ہو وہ امیر ہو یا غریب ،حاکم ہو یا محکوم ،بادشاہ ہو یا گدا،آقا ہو یا غلام۔ملک کا نظام چلانے اور ملک کی ترقی کے لیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے۔جب تک امیر اور غریب کے لیے قانون برابر نہ سمجھا جائے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔آپ کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں چلے جائیں وہاں اوپر سے لے کر نیچے تک قانون کا احترام کیا جاتا ہے۔قانون سب کے لیے برابر ہے۔اگر ملک کا کوئی صدر یا وزیر بھی قانون توڑتا ہے تو اس کو سزا ضرور ملتی ہے۔جتنی مرضی کوشش کر لے وہ سزا یا قانون کے شکنجے سے نکل نہیں سکتا ۔ پاکستان میں تو لگتا ہے قانون صرف غریب کے لیے بنایا گیا۔ملک میں ہونی تو قانون کی حکمرانی چاہیے تھی لیکن یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے یہاں وڈیروں کی حکمرانی ہے۔ وڈیرے قانون کے خلاف ورزیاں کرنے کے باوجود قانون کے شکنجے سے نکل جاتے ہیں لیکن غریب بے چارہ قانون کے شکنجے میں پھنس جاتا ہے۔ جو تھوڑا سا امیر اور طاقتور بن جائے وہ وڈیرے کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔وڈیرے بنتے ہی اسے قانون توڑنے اور ناجائز کام کرنے کا لائسنس مل جاتاہے۔ہر کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے ۔لوگ اس کے غلام بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور لوگ بھی اس کی غلامی شروع کر دیتے ہیں۔ان کے خلاف بولنے کا کسی کو اختیار نہیں ہوتا اگر کوئی غریب بے چارہ بولتا ہے تو اس کی آواز دبا دی جاتی ہے ناانصافیاں شروع ہو جاتی ہیں قتل و غارت شروع ہو جاتی ہے لوگوں کا ناحق خون بہایا جاتاہے۔طاقت کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ان وڈیروں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ملک بھی اس کی زد میں آجاتا ہے۔حالانکہ وڈیروں کو چاہیے کو وہ لوگوں کی بھلائی کا سوچیں لوگوں کو ان کے حقوق فراہم کریں انسانیت کی خدمت کریں ۔لیکن یہاں وڈیرے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے یہاں وڈیرے کا مطلب لوگوں کے ساتھ نا انصافیاں کرنا ،ان کا حق چھنناایسے وڈیرے غاصب کہلاتے ہیں یہ غرور اور تکبر میں بھیگے ہوتے ہیں۔وڈیرے غریبوں سے ان کا حق چھننے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔آج بھی ایسے وڈیر موجود ہیں جن کے خلاف کئی جرائم کے مقدمات ہیں وہ معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہیں لیکن ہمارے ادارے ہماری پولیس ان کو کیوں نہیں پکڑتی ؟کیوں کہ یہ جانتے ہیں اگر ہم نے ان کو گرفتار کیا تو ہمیں عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔یہ ان وڈیروں کے غلام ہوتے ہیں اس لیے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔یہ جانتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہم زندگی عیش و عشرت کے ساتھ گزار رہے ہیں۔انہیں عہدہ ان وڈیروں کی غلامی کرنے پر ملتا ہے۔یہ لوگ ان کی غلامی کی زنجیروں میں ایسے جکڑے ہوتے ہیں کہ انہیں انسانیت دکھائی نہیں دیتی۔انہیں صرف غریبوں کو پکڑنے کا حکم صادر ہوتا ہے۔وڈیروں کے آگے یہ جھک جاتے ہیں ۔جس قانون میں غریب اور کمزور طبقے کو انصاف نہیں ملتاجو قانون وڈیروں کے آگے جھکتے ہوں جو قانون امیروں کو بچانے کے لیے بنائے گئے ہوں ہمیں ایسے قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔میرے خیال میں شایدیہ قول ہمارے لیے بنایا گیا ہے۔
’’قانون مکڑی کا وہ جالہ ہے جس میں صرف حشرات(غریب لوگ )ہی پھنستے ہیں جب کہ بڑے جانور(دولت منداور وڈیرے طبقے کے لوگ) اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں‘‘۔

قانون سے طاقتور یہ وڈیرے سمجھے جاتے ہیں۔قانون کے شکنجے میں ہمیشہ کمزور اور غریب طبقے کے لوگ ہی کیوں آتے ہیں۔ہم مسلمان آج انگریزوں کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم اسلام کے لیے اپنی جانیں تو قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن اسلام کی دی گئی تعلیمات پرعمل پیرا نہیں ہو رہے۔اسلام کسی کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہوتا دیکھ نہیں سکتا ۔اسلام ہمیں کسی کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔جواسلام ہمیں کسی غیرمسلم کا بھی ناجائز قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا وہ اسلام مسلمانوں کا خون بہانے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ہمارے یہاں خود مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیاں کی جارہی ہیں ان کا خون بہایا جاتا ہے۔غریب لوگوں کو لوٹا جاتا ہے ۔اور پھر حرام مال پر الحمد اﷲ کہنے سے وہ مال حلال نہیں ہو جاتاحرام ہی رہتا ہے۔اسلام میں تو امیر غریب،آقا و غلام سب برابر ہیں لیکن یہاں کیوں ان میں امتیاز پایا جاتا ہے۔ہم نے وطن اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ ہم اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام قائم کر سکیں۔اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں لیکن افسوس ہے کہ یہاں سب اس کے برعکس چل رہا ہے۔ہم اسلام کی تعلیمات بھول رہے ہیں جس کی وجہ آج ہم زوال کا شکار ہیں اور مسلسل پستی کی جانب گامزن ہیں۔ہمیں نبی کریمﷺکی زندگی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ہمیں سیرت مصطفیﷺپر عمل کرنا ہوگا۔نبی کریم ﷺ کے نزدیک امیر و غریب ،آقا و غلام سب برابر تھے۔اس کی ایک بڑی مثال اس واقعہ سے ملتی ہے۔جب قبیلہ بنی مخزوم کی فاطمہ نامی خاتون نے چوری کی تو اس کی سزا معافی کی سفارش آئی لیکن آپ ﷺ نے فرمایا ــ ’’تم سے پہلے قومیں اسی وجہ سے برباد ہوئیں کہ ان کے چھوٹوں کو سزا دی جاتی تھی اور بڑوں کو معاف کردیا جاتا تھا۔اﷲ کی قسم اگرفاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔اس واقعہ میں نبی کریمﷺنے واضح فرما دیا ہے کہ وہ قومیں برباد ہو چکی ہیں جہاں غریب لوگوں کو سزا دی جاتی ہے اور امیروں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ہمارے بھی یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھوٹوں کو سزا ددی جاتی ہے لیکن بڑوں کو نہیں۔ایسی قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔شاید اس لیے آج ہم تباہی کی جانب گامزن ہیں کیونکہ یہاں قانون کی برابری نہیں ہے۔یہاں امیر و غریب میں فرق پایاجاتا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ ہے کہ یہاں قانون تو بنائے جاتے ہیں لیکن اس پر عمل درامد نہیں ہوتا۔یہاں لوگ سرِعام قانون کیوں توڑتے ہیں؟۔کیوں کہ یہاں لوگوں میں قانون کے احترام کا کوئی جذبہ نہیں پایا جاتا ہے۔لوگ سر عام قانون کے خلاف ورزیاں کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ ہمارے بڑے قانون کا احترام نہیں کرتے قانون سے زیادہ طاقتور خود کو سمجھ لیتے ہیں۔اگر کسی ملک کے سربراہ چور ہوں تو اس کی عوام بھی چور ہوگی۔جب تک کوئی اوپر سے قانون کا احترام نہیں کرتا تو نیچے سے بھی کوئی قانون کا احترام نہیں کرے گا۔جب تک اوپر سے تبدیلی نہیں آئے اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا۔ وڈیرطبقہ قانون کی پیروی قانون کا احترام نہیں کرتا اس لیے ہمارے لوگوں میں بھی قانون کا جذبہ نہیں پایا جاتا۔

قانون کی حکمرانی جانچنے کے لیے ایک ادارے ’’دی ورلڈ جسٹس پراجیکٹ‘‘ نے رپورٹ شائع کی ہے ۔جس میں 113ملکوں کی قانون کی حکمرانی کے حوالے سے درجہ بندی کی گئی ہے ان 113ملکوں میں پاکستان کا نمبر106ہے۔جب کہ ایشیائی ممالک جن میں نیپال 63،سری لنکا68،بھارت66 اور بنگلہ دیش 103نمبر پر ہے۔دیگر ممالک میں ملائیشیا56،انڈونیشیا61ایران86،نائجیریا96اور ترکی99نمبر پر ہے۔ہمارا پڑوسی ملک بھارت اس لحاظ سے ہم سے کافی بہتر ہے۔جب کہ ٹاپ پر ڈنمارک ،ناروے ،فن لینڈ،سویڈن ،نیدرلینڈاور جرمنی ہے۔ہمارے بعد جن ممالک کا نام آتا ہے اس میں زمبابوے ،افغانستان ،کیمرون،ایتھوپیا،کیمرون اور وینزیلا جیسے ملک ہیں۔یہ پاکستان کے لیے لمحہ فکر ہے۔ہم مسلمان سب ممالک سے پیچھے ہیں۔اگر آج بھی ہم اسلام کے مطابق زندگی گزاریں اسلام کی دی ہوئی تعلیمات ہر عمل کرنا شروع کردیں توکیوں نہ ہمارا شمار ڈنمارک ،ناروے،فن لینڈ جیسے ممالک میں ہو۔

قانون کی حکمرانی میں تو ہم پیچھے ہیں اگر یہاں آج بھی وڈیروں کی حکمرانی کی درجہ بندی کی جائے تو یقیناہم سب ممالک سے آگے ہوں گے۔اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں وڈیروں کی حکمرانی ختم کر کے قانون کی حکمرانی لانی ہوگی۔وڈیروسسٹم جب تک ختم نہیں ہوتا جب تک امیر اور غریب کا فرق ختم نہیں ہوتا ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔افسوس ہے کہ ہمارے وڈیر طبقے نے ابھی تک کچھ سبق نہیں سیکھا۔انہیں فرعون اور نمرود کی طرف دیکھ لینا چاہیے کہ غرور کرنے والوں کا کیا انجام ہوا تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Raza

Read More Articles by Ali Raza: 18 Articles with 7252 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2016 Views: 502

Comments

آپ کی رائے