نیشنل ایکشن پلان اور ادارے

(Shahzad Saleem Abbasi, )
اس مسئلے میں پڑھے بغیرکہ کون مسلمان ہے اور کون کافر، کون قادیانی ہے اور کون احمدی ، کون رافضی ہے اور کون خارجی،کون توحیدی ہے اور کون محمدی، کون اقلیت میں ہے اور کون اکثریت میں، کون شیعہ ہے اور کون سنی، کون بریلوی مسلک کا ہے اور کوئی دیوبندی مسلک کا ،کون سا فرقہ اہل سنت والجماعت ہے اور کون سا شیطان کے طریقے پر چل رہا ہے ،کس کی طریقت صحیح ہے اور کس کی پیر ی فقیری قابل مذمت، کون جدت پسند ، اصول پسند اور مثبت سوچ کا حامل ہے اور کون لبرل خیالات کا عکاس ہے ، کون نظام کائنات کو چلانے کے لیے ایک ذات پر یقین رکھتا ہے اور کون دہریا یا زندیق ہے ، کونسی جماعت کالعدم ہے اور کونسی جماعت غیر کالعدم،راجہ بازار میں معصوموں کو تیل چھڑک کر زندہ کس نے جلایا اور رادھا کشن کا ذمہ دار کون ہے؟سانحہ بلدیہ کراچی کا ماسٹر مائنڈ کون ہے اور اے پی ایس جیسے اندوہناک واقعے کے پیچھے کون ہے؟کس سیاسی جماعت میں دہشت گردی کے بت ہیں اور کس اسلامی و مذہبی جماعت میں انتہاپسندی کے مذموم عناصرچھپے بیٹھے ہیں!! ان تمام سوالوں میں ایک بات توطہ ہے کہ ہر مذہب، دھرم،مسلک ،رواج ،روایت ، تہذیب اور طور طریقے میں انسانیت کی جان ہر اک شے سے بالا ہونے کیساتھ ساتھ قابل تعظیم اور قابل تحریم ہے۔تورات ، زبور، انجیل ، مختلف آسمانی صحائف اور پھر قرآن پاک سب میں انسانیت سے محبت ، شفقت اور عفو و درگزر کا درس دیا گیا ہے، لہذانیشنل ایکشن پلان ہر فرد کا انفرادی اور اجتماعی طورپر مثبت کردار کا نام ہے۔

نیشنل ایکشن پلان وہ آئینہ ہے جس میں کوئی اپنی شکل دیکھنے کو تیار نہیں ہے ۔چوہدری نثار علی خان نے بھی NAP پر عمل درآمد نہ ہونے کا رونا رویا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کی کوئی رپورٹ ہو یا کوئی دوسری رپورٹ ، مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں کیونکہ نیشنل ایکشن پلان میں تمام سیاسی قیادت کا کردار ہے ۔چوہدری نثار علی خان نے نیکٹا کو بھی اپنے سر سے اتار پھینکا ہے اور کہا ہے کہ اسکا اختیار صرف وزیراعظم محمد نواز شریف کے پاس ہے اس میں وزارت داخلہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چوہدری نثار نے شہر اقتدار کے انتظامات کو بہتر بنانے، کراچی آپریشن میں رینجرز اور فوج کا بھرپور ساتھ دینے اور نادراکے ریکارڈ کی درستگی سے لے کر اندرونی سطح پردہشت گردی اور بھارتی امن کی جھوٹی آشا کی بیخ کنی کرنے تک اپنی وزارت سے انصاف کیا ہے ۔مجموعی طور پر مختلف ادوار میں شرح قتل کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے

دیکھا جائے تو نیشنل ایکشن پلان، ضرب عضب، خیبر ون ٹو، نیکٹا، پولیس، رینجرز،آئی ایس آئی، ایف آئی اے اورایم آئی وغیرہ کے ہوتے ہوئے بھی موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ قیمتی جانوں کے ضیاع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔ مسئلہ Collective wisdom کا ہے جو کہ بد قسمتی سے ناپید ہے ۔ ہر پارٹی میں دھڑے بندیاں ہیں، پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف وغیرہ میں بھی ہیں لیکن مسلم لیگ ن میں دھڑا بندی سوچ سے بالا تر ہے کہ ملک کو چلانے والی پارٹی بھی اندرونی خلفشارکا شکار ہے ۔ عدلیہ نے بھی ہتھار ڈالے ہوئے ہیں اور اب رہی سہی کسر آصف علی زرداری ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی کیس میں مفاہمت کی صورت میں نکال دیں گے ۔اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا ہرسیاسی اور فوجی حکومت نے کالعدم تنظیموں Banned outfits کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور کبھی انکی اصلاح احوال کا نہیں سوچا جیسے کہ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ایک خاص جماعت پر میڈیا اور اپوزیشن کیطرف سے کالعدم پارٹی ہونے کے الزامات کو سختی سے ریجیکٹ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی سرگرمیاں اور عوامی جلسے سب کا بنیادی حق ہے ۔

وزارت مذہبی امور پاکستان کا ایک سرکاری ادارہ ہے۔ وزارت مذہبی امور کے کام کی انجام دہی کے لیے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، وفاقی سیکرٹری،ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈائریکٹرزسمیت کل 68 افرادکی فوج ظفر موج تعینات ہے۔ ایڈمن ونگ،دعوۃو زیارت ونگ،حج ونگ،ریسرچ اور ریفرنس ونگ کیساتھ ساتھ ڈائریکٹوریٹ آفس اور دو خود مختار ادارے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈاوراویکیوٹرسٹ پراپرٹی بورڈ بھی اسکا حسن ہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور رؤیت حلال کمیٹی بھی وزارت مذہبی امور کے گلدستے میں شامل ہے اور بدقسمتی سے ان پھولوں کی خوشبواب مانند پڑھ رہی ہے ۔وزارت کی ویب سائٹ اور اسکی جاری سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو یہ وزارت، وزارت حج لگتی ہے ۔ وزارت میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کوئی کمپلینٹ مانیٹرنگ سسٹم نہیں ہے۔وزارت مذہبی اموردینی معاملات کا ذمہ دار ہونے کے ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی کی بھی نگہبان ہے۔وزارت مذہبی امور کے سردار محمد یوسف کے نزدیک زیارت ،حج وعمرہ کی ادائیگی ، اذان کے اوقات مقرر کرنااور سال میں ایک آدھ بار کچھ معتدل لوگون کو بلا کر سیمینار یا کانفرنس قرار دینا ہی اس وزارت کا کام ہے تو یہ سراسر زیادتی ہے۔69ء سال سے اس قدر ضخیم وزارت مذہبی امور اگر صدق دل سے کوشش کرتی تو شاید یہ پاکستان آج امن کا گہوارہ ہوتا۔بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے جس پر عمل درآمد کے لیے ہر قسم کے خوف وڈر، تعصب کی عینک اور اندونی و بیرونی دباؤ کو پس پشت ڈال کرہی قانون کاسر فخر سے بلند ہوسکتا ہے۔ووٹوں اور حلقہ جاتی سیاست سے ہٹ ملک و قوم کی فلاح وبہبود کے لیے بننے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان، نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی اور وزارت مذہبی امور بشمول مدرسہ بورڈ، چاروں مسالک کے مدارس کے بورڈز اور قادیانیوں کے مبلغین سمیت ہرادارے کو فعال بنانے اور ملک سے فتنہ فساد اور دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو نرمی یا سختی سے نمٹنا ہوگا۔

اگر ملک میں عدالتی نظام فعال کردیا جائے اور تمام ادارے عدلیہ کے ماتحت اور جواب دہ ہو کر کام شروع کر دیں تو وہ دن دور نہیں کہ نہ کوئی حملہ آور پیدا ہو گا ، نہ دہشت گردی ہو گی،نہ ہی کوئی انتہا پسندی کی تعلیم دیگا اور نہ کوئی نفرت اور دشمنی کا بیج بو سکے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Saleem Abbasi

Read More Articles by Shahzad Saleem Abbasi: 139 Articles with 52321 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2016 Views: 396

Comments

آپ کی رائے