قرضوں میں جکڑا پاکستان……حکومت نے بڑا کشکول اٹھا لیا

(عابد محمود عزام, Lahore)
موجودہ حکومت وقتاً فوقتاً یہ دعویٰ کرتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور وہ جلد معاشی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت نے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی شامل ہے جن کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد معاشی خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو جائے گا، تاہم حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت خاصی مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایک جانب دہشت گردی، توانائی کے بحران، مہنگائی اور بیروزگاری کے چیلنجز درپیش ہیں تو دوسری جانب اندرونی اور بیرونی قرضوں کا ایک پہاڑ ہے جو ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، بلکہ معاشی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ قرضوں کا یہ بوجھ ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ کر اسے کھوکھلا کر رہا ہے۔ معاشی استحکام کے دعوؤں کے باوجود پاکستان قرضوں کے ایک نہ ختم ہونے والے منحوس چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ قرضوں کے کشکول کو توڑ دے گی اور ایسی معاشی پالیسیاں لائے گی کہ اسے غیرملکی قرضے لینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور وہ ملکی وسائل ہی کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر معاشی انقلاب لے آئے گی۔ حکومت معاشی انقلاب لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر ملک کی موجودہ معاشی صورت حال بڑی تلخ حقیقتوں کو عیاں کر رہی ہے۔

کشکول توڑنے کا دعویٰ کر نے والے حکمرانوں نے ملک کو ’’کشکولستان ‘‘بنا دیا ہے اورہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کے ہر شہری پر مزید قر ضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، کیونکہ موجودہ حکومت قرضوں پر قرضے لیے جارہی ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ملک میں قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے 30جون 2018ء تک 12ارب 53کروڑ ڈالر کا مزید غیر ملکی قرض لینے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت رواں مالی سال 6 ارب 63کروڑ ڈالر اور آئندہ مالی سال 5ارب 89کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لیا جائے گا، جبکہ موجودہ دورہ حکومت کے پہلے تین سال میں 20کھرب 500ارب روپے کا ریکارڈ غیر ملکی قرض پہلے ہی لیا جاچکا ہے۔ برآمدات میں کمی اور غیر ملکی ادائیگیوں کے توازن پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے کے لیے حکومت کا ہر گزرتے دن کے ساتھ غیر ملکی قرضوں پر انحصار مزید بڑھ رہا ہے۔ آن لائن کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کی وسط مدتی ڈیٹ مینجمنٹ اسٹریٹیجی کے تحت رواں مالی سال 2016-17ء کے دوران 6ارب 63کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف منصوبوں کے لیے 2ارب 85کروڑ ڈالر، عالمی بینک سے 50کروڑ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 35کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا جائے گا۔ اسی طرح رواں مالی سال سیف چائنہ ڈپازٹ سے 1ارب ڈالر، یور و بانڈز سے50کروڑ ڈالر، کمرشل بینکوں سے30کروڑ ڈالر، جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن سے 1ارب 13کروڑ ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال 2017-18 میں مجموعی طور پر 5ارب 89کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ 2018-19 میں 5ارب 95کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت اپنے پہلے تین سال میں 20کھرب 500ارب روپے کا غیر ملکی قرضہ لے چکی ہے، جس کے تحت 2013-14 میں آٹھ ارب ڈالر، 2014-15 میں7 ارب 92 کروڑ ڈالر اور 2015-16 میں 8 ارب 92 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت پر تین سال میں لیے گئے غیر ملکی قرضوں پر 2ارب 74کروڑ ڈالر سود کا بوجھ الگ سے چڑھ گیا ہے، جبکہ تین سال قبل ملک پر غیر ملکی قرضوں کا مجموعی بوجھ 0 4کھرب 800ارب روپے تھا، مگر ان میں 30جون 2016 تک مزید 20کھرب 500ارب روپے کا اضافہ ہونے کے بعد غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 0 7کھرب 300ارب روپے کی رکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں اور یہ بوجھ نئی آنے والی حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ موجودہ حکومت میں ملکی قرضوں میں 5 ہزار ارب روپے سے زاید اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زاید کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدا دو شمار کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوگیا تھا، جس میں طویل المدت قرضے 7ہزار 904ارب روپے اور قلیل المدت قرضوں کا حجم 6ہزار 482ارب روپے تک پہنچ چکا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318 ارب روپے تھا، جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق 1999 میں قرضوں کا مجموعی حجم 2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار 389ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے۔اسی طرح 2008 تک قرضوں کا مجموعی حجم 6ہزار 126ارب روپے ہوگیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 2ہزار 852ارب روپے تھے۔ حکومت کو ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ کرنا پڑتا ہے جس سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کار حکومت کی بے تحاشہ قرضے لینے کی پالیسی کو ملکی معیشت کے لیے زہر قاتل قرار دے رہے ہیں۔ ایک مسئلے سے نجات کے لیے نیا قرض لینے اور پھر اس کی ادائیگی کے لیے پہلے سے بھی زیادہ مقروض ہونے کی روش کچھ اس تیزی سے جاری ہے کہ ملک کا ہر باشندہ ایک لاکھ سے زیادہ روپوں کا مقروض ہے۔ ستم ظریقی دیکھئے کہ یہ قرضے عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہیں، بلکہ حکومتی عیاشیوں کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں۔ مالی مشکلات کم کرنے کے لیے بے تحاشا نوٹ چھاپنے سے جہاں افراط زر کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہے، وہاں مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ رہی ہے، لیکن حکومت ان حالات پر پردہ ڈالنے کے لیے قرضوں پر قرضے لے رہی ہے۔معاشی ماہرین تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کشکول توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور حکومت اپنی معاشی پالیسیاں چلانے کے لیے مزید قرضوں پر قرضے لینے پر مجبور ہے۔ اربوں ڈالر کے یہ لیے گئے قرضے کہاں خرچ ہو رہے ہیں اور ان سے معاشی صورت حال میں کیا تبدیلی آ رہی ہے، عوام کو اس کے ثمرات نظر نہیں آ رہے۔ عام آدمی کی حالت تو یہ ہے کہ وہ آج بھی کسمپرسی کا شکار ہے اور ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ غیر ملکی اور ملکی قرضوں سے ارباب حکومت اور خاص طبقے ہی مستفید ہوتے ہیں جب کہ ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے اور وہ مہنگائی اور غربت کی چکی میں مسلسل پستا چلا جاتا ہے۔ حکومت ناقابل تردید حقائق کے باوجود عوامی بہتری کا راگ الاپتے نہیں تھکتی، لیکن افراط زر اور بے تحاشا قرضوں کے حصول کے نتیجہ میں عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف خزانہ خالی ہے، دوسری طرف حکومت کے اللے تللوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی اور کمال ڈھٹائی ان اللوں تللوں کو ملکی ترقی کے لیے انتہائی ناگزیر قرار دے کر انہیں جاری رکھنے کے جواز پیدا کرنا ایسا حکومتی وطیر بن چکا ہے کہ جلد ہی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات (خدانخواستہ) واقعی حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ بین الاقوامی پروگرام برائے خوراک کے چیئرمین وولف گینگ کے مطابق پاکستان میں معاشی بدحالی کے سبب ہونے والی مہنگائی، گرانی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے نتیجہ میں لوگوں کی قوت خرید اِس حد تک کم ہوگئی ہے کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد دو وقت کی روٹی خریدنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ پاکستان کی 48.6 فیصد آبادی خوراک کی شدید قلت کا شکار ہے، جبکہ دیگر بنیادی ضروریات کا حصول اور سانس کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے سہی جانے والی مصیبتیں اس کے علاوہ ہیں اور یہ سب حکمرانوں ہی کی عیاشیوں کا کیا دھرا ہے۔

ارکان حکومت، افسر شاہی اور عام آدمی کے معیار زندگی کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں اور غیر ملکی قرضوں سے کن کی زندگی میں خوشحالی کا انقلاب آ رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کی لوٹ مار کے باعث اپنے معاشی اہداف حاصل نہیں کر پا رہا۔ خزانہ خالی ہونے پر حکومت خسارے کا رونا شروع کر دیتی ہے کہ ملک چلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور اس کا واحد حل آئی ایم ایف اور عالمی بنک جیسے مالیاتی اداروں سے مزید قرض حاصل کرنا ہے۔ یہ ادارے کڑی شرائط پر پاکستان کو قرض فراہم کرتے ہیں اور حکومت کو ’’مشورہ‘‘ دیتے ہیں کہ قرض کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے عوام پر نئے نئے ٹیکسز لگانے جائیں ، سبسڈ یز ختم کردی جائیں اور منافع بخش قومی اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر دیا جائے۔ حکمران ٹیکس کی رقم کو ملک وقوم کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے اسے اپنی عیاشیوں اور سیاست کی نذر کر دیتے ہیں۔ ایک جانب یہ خود ٹیکس نہیں دیتے تو دوسری جانب یہ عوام کے ٹیکس کی رقم کو کرپشن کی نذر کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 180 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ جب حکومت غیر ملکی قرضے لیتی ہے تو اس سلسلے میں عائد کردہ شرائط کے مطابق عوامی ضروریات کی اشیا کو مہنگا کر دیتی ہے۔ مختلف قسم کے ٹیکس عائد ہوتے ہیں جن کا بوجھ بھی نچلے طبقات پر منتقل ہو جاتا ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ ملکی بجٹ کا وہ حصہ جو عوام کی زندگیوں میں انقلاب لا سکتا ہے، قرضوں اور سود کی مد میں ادائیگیوں پر صرف ہو جاتا ہے اور حکومت مزید قرضوں کے حصول کے لیے غیر ملکی اداروں کی ہر شرط کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ جس سے عوام برارہ راست متاثر ہوتے ہیں۔اگر حکمران ملک کو ان حالات سے نجات دلانے چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پالسیوں کو ترک کر نا ہوگا، ورنہ یونہی ملک قرضوں میں جکڑا رہے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427464 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2016 Views: 485

Comments

آپ کی رائے
برادرِ محترم، آپ پر اللہ کی سلامتی ہو۔ آپ کے کالم میرے پسندیدہ کالموں میں شامل ہیں۔ اللہ آپ کی تحریری صلاحیتوں کو قائم و دائم رکھے اور آپ کی شہادتِ حق کی کاوشوں کو شرفِ باریابی بخشے۔ آپ کے اس کالم پر اپنا حقِ تبصرہ استعمال کرتے ہوئے گذارش کرنا چاہوں گا کہ ہم کو اپنی ایک غلط العام قسم کی غلط فہمی کا علم ہونا بیت ضروری ہے اور وہ ہے “ نوٹ چھاپنے سے افراطِ زر کا پیدا ہونا“ یہ در اصل بہت بڑی سازش کرکے جان بوجھ کر پروپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ “جھوٹ کو اس طرح بار بار بولا گیا ہے کہ اس پر سچ کا گمان ہوتا ہے“ جن لوگوں نے عالمی معیشت کو اپنے کنٹرول میں لےکر دنیا بھر میں فساد و غارتگری کا فتنہ کھڑا کیا ہؤا ہے وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ملک ترقی کر کے خود سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ بلکہ اس کی باگیں ان ساہوکاروں کے ہاتھ میں ھوں تاکہ وہ دنیا کو گلوبل ویلیج بناکر اپنی بادشاہت میں جس کو چاہیں تباہ کریں اور جس کو چاہیں عطا کریں
وہ زمانہ اب ختم ہو چکا ہے جب سونے کی ورتھ پر نوٹ چھاپے جاتے تھے۔ اب ملک میں قدرتی وسائل اور متعلقہ ملک کی اس وسائل کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو دیکھ کر اس کی معیشت کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے حسبِ ضرورت نوٹ چھاپ کر اپنے ملک میں اقتصادی، جغرافیائی، معدنیاتی، سیاحتی،سمندری، الغرض پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ تمام وسائل کو ترقی دے اور ملکی معیشت کو بامِ عروج پر لے جائے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیئے کہ نوٹ چھاپ کر ہمارے ملک کے با صلاحیت نوجوانوں کے گروپس کو انتہائی آسان شرائط پر بلا سود قرضے دے اور ان پر کڑی نظر رکھے کہ وہ رقم ترقیاتی کاموں میں ہی استعمال ہو۔ پھر آپ دیکھنا کہ اس ملک میں کس تیز رفتاری سے ترقی و خوشحالی آتی ہے انشاء اللہ۔
By: Zafar Khan, Karachi on Jan, 12 2017
Reply Reply
0 Like