زرداری اور مصطفیٰ کمال

(Shahzad Saleem Abbasi, )
سابق صدر آصف علی زرداری قسمت کے وہ دھنی شخص ہیں جنہیں کبھی بے نظیر بھٹوجیسی پرخلوص ، محبت کرنے والی اور ایک اپ ٹو ڈیٹ شریک حیات کی وفا ملی تو کبھی میاں محمد نواز شریف جیسا سونے کا تر نوالہ ملا جس نے ہر موقع اور ہر لحظہ اپنے چھوٹے بھائی زرداری سے کیے گئے ہر وعدے کے ایفاء پر داد یار وصول کی۔مری میثاق سے لے کرآصف زرداری کو ہر قسم کے کرائم پر کلین چٹ دینے تک اور جدہ روانگی سے واپسی تک کے سفر میں میاں نواز شریف کی دوستی اور فراخدلی قابل دید ہے۔ بھٹو فیملی میں ذوالفقار علی بھٹو ،بے نظیر بھٹو،مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو، شاہنواز بھٹو، فاطمہ بھٹو، صنم بھٹو، آصفہ ، بختاور ، بلاول بھٹو اورباقی اہل وعیال میں جو عزت و رتبہ اور قابل رشک مقام ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے حصہ میں آیا وہ زرداری تو نہ کما سکے لیکن جو مال و دولت ، جاہ و جلال اور شان و شوکت آصف علی زرداری کے حصے میں آئی یقیناوہ کسی اور کو نصیب نہ ہو سکی۔سانحہ کارساز کے واقعے کے بعد تیر کا چکر چل گیااور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاق و سندھ میں حکومتیں بنالیں اور آصف زرداری کی خواہش اور امنگوں کے عین مطابق حکومت کی بھاگ دوڑ انکے قبضے میں آگئی چونکہ انتظام و انصرام کی تربیت سے زیادہ لوٹ کھسوٹ کی تجربہ تھا اس لیے سارا پیسہ لوٹ کر ملک کا خزانہ خالی کرنے میں عافیت جانی اور اپنی کھوٹی قسمت کو روتے ہوئے جدہ چلے گئے ۔یہ زردار ی کی پست ذہنیت کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے قومی پارٹی کو صوبائی پارٹی بنا کر رکھ دیا ۔

حاکم علی زرداری کے لخت جگر ایک بار پھر اپنی خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان تشریف لائے ہیں اور انکے لیے کراچی میں شاندار استقبال بھی کیا گیا۔ اگر عمومی توقعات اور پی پی پی کے اپنے سطحی دعوؤں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو انکے پاور شو جلسے کی حاضری انتہائی مایوس کن تھی جسکا صاف مطلب ہے کہ شاید کسی پارٹی کو بھی موقع مل سکتاہے۔ زرداری نے کشمیر ایشو پر بات کی حالا نکہ سندھ کے عوام کے سامنے کشمیر کی آزادی و مختاری کا نعرہ لگانا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔ زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایک زرداری سب پر بھاری ہونے کا جو تاثر دیاوہ انکی باڈی لینگوئج، ٹون، لب و لہجے اور چہرے کی رنگت کی وجہ سے کچھ اور ہی منظر کشی کر رہاتھا۔روٹی کپڑااور مکا ن کے نعرے سے لے کر پاکستان کھپے کے نعرے تک لوگوں نے دیکھا کہ اب بھٹو خاندان کی باقیات کہیں نہیں بلکہ زرداری خاندان کے اثرو رسوخ کا سورج طلوع ہو رہا ہے اورجیالے بھٹو جیسے عوامی لیڈر کی قربت سے نکل کر زرداری ہاؤس اور بلاول ہاؤس کے گھر کے باہر رکھے بیرئیرز تک ہی محدود ہو گئے ہیں ۔ زرداری نے اپنے خطاب میں پانامہ ایشو پر کوئی بات نہیں کی اور 2018 ء کو پیپلز پارٹی کا سال قرار دیا۔ لیکن ڈاکٹرعاصم حسین ، ایان علی، شرجیل میمن اور پھر زرداری کی پاکستان آمد سے کچھ دیر پہلے انور مجید کے گھر پر رینجر ز کے چھاپے نے زرداری کو خوب پیغام دیا ہے کہ کو ر کمانڈر کانفرنس سے پہلے زرداری کا آنا کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ہو سکتا ہے زرداری ناسازگار حالت کی وجہ سے کچھ ہی دنوں بعد بیماری یا کسی بیرونی مصرو فیت کا بہانہ بنا کر جدہ کوچ کر جائیں اور پھر کہیں الیکشن کے قریب قریب نظر آئیں اور پھر بقول احمد فراز’’اب کے ہم بچھڑیں تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔جیسے سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں۔ بہرحال زرداری کو پارٹی کے پرانے نعرے’’روٹی کپڑا اور مکان ‘‘ کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہو گا کیونکہ سادہ لوح جیالے اب بھی اسی نعرے کی روح سے پیار کرتے ہیں۔

مصطفی کمال کا حیدر آباد کا جلسہ پی ایس پی کے لیے تاریخی حیثیت کا حامل ہے کم از کم زرداری کی آمد کے موقع پر جیالوں سے زیادہ پاک سرزمین پارٹی کے وطن پرست امنڈ آئے ۔ پی ایس پی کی یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسز ، جلسے اور اب حیدرآباد کے جلسے میں لوگوں کا جم غفیر اس بات کی شہادت ہے کہ مصطفی کمال اگر کراچی کے لوگوں کامزاج سمجھنا سیکھ گئے تو پھر کراچی میں انہیں ایک اچھا شئیر مل سکتا ہے۔ بہرحال یہ آنے والے دنوں پر منحصر ہے کہ آصف زرداری باہر جاتے ہیں یا مستقل سکونت اختیار کر کے حالات اور چیلنجز کو فیس کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کو مسلم لیگ (ن) تھوڑا ڈھیلا چھورٹی ہے یاپھر کور کمانڈر کانفرنس کے بعد نیشنل ایکشن پلان اور اپیکس فیصلوں کی صورت میں رینجرز کی جانب سے مزید کاروائیاں کروا کر پی پی پی کو دباؤ میں رکھتی ہے اگر پی پی پی کو ڈرا دھمکا کر ہی رکھا جائے اور ایم کیو ایم کو کھل کر کام کرنے نہ دیا جا ئے تو عین ممکن ہے کہ مصطفی کمال کی پارٹی اندرون سندھ اور کراچی میں سیکنڈ آپشن کے طو ر پر سامنے آ ئے۔

اہم بات یہ ہے کہ مصطفی کمال اپنے خطاب کے دوران پہلے سے زیاد ہ سنجیدہ، پرا مید اور بااعتما د نظر آئے۔مصطفی کمال نے چاروں صوبوں کو بھی بھاشن دیا، تمام حکومتوں کو للکا ر کر میاں نواز شریف ، زرداری سمیت الطاف حسین کی فرعونیت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے نیب پر بھی خوب ہاتھ صاف کیے ۔قوم پرستی کے سفر کے بعد وطن پرستی کے سفر کو اپنی منزل بنانے والے مصطفی کمال نے بھی احتجاجی سیاست کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اب ہمیں مزید انتظار نہیں کرنا بلکہ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گلیوں، چوکوں، چوراہوں میں نکلنا ہے اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا ہے۔دو باتیں بڑی اہم ہیں کہ انہوں نے پہلی بار نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے سندھ سے انصاف کرنے کا پیغام دیا۔ دوسرا سندھ کے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب جب تمہارے مسائل حل نہ ہوں تو تم ایم این اے، ایم پی اے، چئیرمین، یوسی، وزیر کے گھر کا گھراؤ کرو۔ الطاف حسین سے ملتے جلتے نعروں، مشرف سے ملتے جلتے خیالات اورلوگوں کو قرآنی آیات اورنبی ﷺ کی احادیث کے حوالے دے کر وعظ ونصیحت کرنے والا مصطفی کمال کل کس موڑ پر کھڑا ہو گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Saleem Abbasi

Read More Articles by Shahzad Saleem Abbasi: 141 Articles with 54240 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2016 Views: 315

Comments

آپ کی رائے