واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے

(Sami Ullah Malik, )
پاکستان۲۷رمضان کووجودمیں آیا۔میں اپنے درجن سے زائد آرٹیکلزاورکالموں میں تاریخی حوالوں سے تحریرکرچکاہوں کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔اللہ نے اس عظیم ریاست کووجود میں لانے کیلئےسال کی سب سے بہترین رات منتخب کی تھی ۔ بہت سے نیک لوگوں کو یقین ہے کہ جس رات پاکستان وجودمیں آیااس رات لیلۃ القدرتھی۔مستقبل کے حوالے سے حضورﷺ کی کئی احادیث میں سعودی عرب س ے مشرق کی سمت کسی ریاست کاذکرآتاہے جواسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اہم ترین کرداراداکرے گی مثلاًغزوہ ہندکی مشہورحدیث جس کے مطابق ایک اسلامی ملک پہلے ہندوستان فتح کرے گااورپھراہل یہودکے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔
اسی طرح روایات ہے کہ حضورﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکہ میرادین پوری دنیامیں کمزورہوگاتووہاں سے اٹھے گا۔ایک اورموقع پرفرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں جس پرعلامہ اقبال نے قسم کھائی کہ:
میرعرب کوآئی تھی جہاں سے ٹھنڈی ہوائیں
وہی میراوطن ہے وہی میراوطن ہے
اب ذرایہ چیک کرتے ہیں کہ کیاپاکستان کے متعلق واقعی علامہ اقبال کاگمان درست تھااورحضورﷺ کی احادیث میں پاکستان ہی کی طرف اشارہ تھا!
یہ توآپ نے اکثرسناہوگاکہ اسلام کی۱۴۰۰ سالہ تاریخ میں مدینے کے بعدپاکستان دوسری ریاست ہے جواسلام کے نام پربنی ہےلیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدودنہیں۔ مدینے کواس وقت مشرکوں( بت پرستوں) سے خطرہ تھاان مشرکوں کی مددیہودی کررہے تھے۔
پاکستان کوبھی اس وقت دنیاکی سب سے بڑی مشرک(بت پرست)ریاست بھارت سے خطرہ ہے جس کی مدداسرائیل یعنی یہودی کررہے ہیں۔ مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اورچوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کوفتح کرلیاگیاتھا۔پاکستان کی مشرکوں(بھارت) کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہوچکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ فیصلہ کن ہوگی۔
دونوں کے نام کامفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کامطلب ہے"پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ"۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ کوپہلے مدینہ النبی اوربعدمیں مدینہ طیبہ کہاجانے لگا جس کا مطلب ہے"پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ"
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے آج سے ۸۵۰ سال پہلے نہ صرف قیام پاکستان کی پیشن گوئی فرمائی تھی بلکہ اس ملک سے اللہ نے جو کام لینے ہیں ان کے بارے میں بھی بتادیاتھا۔ قیام پاکستان سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی نے فرمایا تھا کہ:
بعدازاں گیردنصارے ملک ہندویاں تمام
تاصدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود
یعنی انگریزوں کی حکومت صرف ایک صدی تک قائم رہے گی۔ نعمت اللہ شاہ کے اس شعرپرلارڈکرزن نے پابندی لگوادی تھی۔
اس کے بعد قیام پاکستان سے متعلق فرماتے ہیں:
دوحصص چوں ہندگردوخون آدم شدرواں
شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شود
یعنی ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہوجائےگا اور بہت زیادہ شورش اور خون خرابہ ہوگا۔
پھرفرماتے ہیں ۔۔۔۔۔
مومناں یابنداماں درخظہ اسلاف خویش
بعدازرنج وعقوب بت بخت شاں پیدا شود
یعنی مسلمان درلاسلام میں امان حاصل کرلیں گے۔ اس شعر میں ان مہاجرین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ہندوؤں کے ظلم ستم سہنے کے بعد پاکستان آکرآمان پائی۔
۶۵ء کی جنگ کابھی ذکرکیاہے کہ ۱۷ دن چلے گی اورمومنوں کواللہ فتح دے گا لیکن ۷۱ء کی جنگ کے حوالے سے دلچسپ شعرکہا کہ:
نعرہ اسلام بلند شد بست دسہ ادوارچرخ
بعد ازاں بارد گریک قہر شاں پیدا شود
یعنی اسلام کانعرہ ۲۳سال تک بلندرہے گاجس کے بعد دوسری مرتبہ ان پر قہر ٹوٹے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پربناتھالیکن ٹھیک۲۳سال بعد سازشیوں نے اس میں لسانیت کازہرگھول دیااوربنگالی کانعرہ بلند کیاگیا تب مشرقی پاکستان ٹوٹ کربنگلہ دیش کی شکل میں ہم سے الگ ہوگیا۔ اپنی اس کامیابی پر اندرا گاندھی نے بڑے مغروراندازمیں کہاتھاکہ"آج نظریہ پاکستان کو ہم نے خلیج بنگال میں غرق کردیا"۔۔ یہ وہی نظریہ ہے جس کااوپرشعرمیں ذکر ہے۔
اشعار بہت زیادہ ہیں نیٹ پرباآسانی مل جائیں گے ہم یہاں خلاصہ لکھتے ہیں کہ نعمت اللہ شاہ نے پاکستان کو ایک زبردست جنگجو لیڈر ملنے کی پیش گوئی کی ہے جس کی قیادت میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ ایک آخری اورفیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں ابتداء میں پاکستان اٹک تک خیبرپختونخواہ اورپنجاب کے کئی علاقے کھودے گا۔ لیکن مسلمان جنگ جاری رکھیں گے جس کے بعدبلآخرانڈیا کومکمل طورپرمغلوب کردیاجائےگا۔جہاں تک جنگجوحکمران کی بات ہے تو گمان غالب ہے کہ وہ کوئی سپاہ سالارہی ہوسکتاہے۔ ہم نے پاکستان کی ۶۹سال تاریخ میں دیکھ لیا ہے کہ جرنیل ہمیشہ پاکستان کیلئے بہترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ان اشعار کے حوالے سے دو چیزیں ایسی ہیں جو آج ہمیں نظرآ رہی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے پیشگوئی کی تھی کہ پاکستان کی مدد منگول کریں گے۔ ان کے دورمیں چینی قوم کومنگول بھی کہاجاتاتھا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا کے خلاف چین اورپاکستان متحدہوچکے ہیں۔
دوسری اٹک تک کاعلاقہ کھونے کی بات کواس تناظرمیں دیکھیں کہ افغانستان میں موجود۲لاکھ افغان نیشنل آرمی سخت پاکستان دشمن ہے اوران کی قیادت انڈیا کے زیراثرہے۔ان کاپاکستان میں اٹک تک کے علاقے پردعویٰ بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب پاک فوج انڈیا کے ساتھ مصروف جنگ ہوتوافغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کوموقع مل جائے پاکستان پرمغربی سمت سے حملہ کرنے کااورپاک فوج کی غیرموجودگی میں ان کیلئے ان علاقوں میں پیش قدمی کرنامشکل نہیں ہوگا۔ گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی مدد افغان طالبان کریں گے!
نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشن گوئیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ ہند لڑنے والی جس عظیم فوج کا حضورﷺ نے ذکر کیا ہے وہ پاک فوج ہی ہے۔ اس پر ایک دلیل اوربھی ہے۔غزوہ ہندوالی حدیث میں لڑنے والی فوج اسرائیل کے خلاف بھی جنگ کرے گی یعنی یہودیوں سے۔ آج اس خطے میں جو اسلامی ممالک موجود ہیں ان میں سے صرف پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جس کی بیک وقت اسرائیل اورانڈیا کے ساتھ معاملات خراب ہیں اورکئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ یہ شرط نہ افغانستان پوری کرسکتا ہے نہ بنگلہ دیشں اورنہ ہی ایران۔
اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ آپ کو سناتے ہیں۔
نعمت اللہ شاہ کی پیشن گوئیوں کوسن کر ایک ۲۵سال کاجوان ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا۔ وہ فتح کیلئےپرامیدتھالیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کوایک بزرگ ملے اوراس سے کہاکہ"تم کوجس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی۹۰سال باقی ہیں ۔ایک ملک بنے گاجوعالم اسلام کامرکزبنے گااورتم اس کودیکھوگے۔ یہ سن کروہ نوجوان جنگ چھوڑکر چلاگیااورانتظارکرتارہایہاں تک کہ ٹھیک۹۰سال بعدپاکستان بنا۔وہ پھربھی زندہ رہااورجب اسلام آبادبناتب وہ۱۶۰سال کی عمرمیں فوت ہوااوراسلام آباد کے ایچ ۸ قبرستان میں دفن ہواجہاں اس کی قبرکی تختی پراس معاملے کاذکربھی ہے۔ ان کی قبرقدرت اللہ شہاب کی قبرکے نزدیک ہے۔قبرپران کانام عبداللہ محبوب لکھاہواہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجرمکی تھے۔واللہ اعلم بالصواب۔
ہالینڈ کی نیشنل لائبریری میں ہاتھ لکھی ہوئی ایک دستاویزموجودہے جوحضرت بری امام سے منسوب ہے۔ اس میں انہوں نے لکھاہے کہ"ایک دن ہمارایہ شہر تمام عالم اسلام کامرکزبنے گا"( بری امام صاحب اسلام آباد میں دفن ہیں) وہ آج سے ۳۰۰ سال پہلے گزرے ہیں۔
شیخ الہند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ"اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے اوراس کی حفاظت فرض ہے "۔
مولانا اشرف علی تھانوی نے قیام پاکستان سے غالباً۶سال پہلے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ"پاکستان بن جائےگاتم وہاں چلی جانا "۔
خان آف قلات کوحضورﷺ خواب میں آئے تھے کہ" پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاؤ"
صوفی برکت علی نے فرمایاتھاکہ"ایک دن پاکستان کی ہاں اورناں میں دنیاکی ہاں اورناں ہوگی۔اگرایسانہ ہواتومیری قبرپرآکرتھوک دینا"۔۔۔
بات صرف ہمارے بزرگوں تک محدودنہیں۔ کفارکے بڑوں نے بھی اس حوالے سے پیشن گوئیاں کررکھی ہیں مثلاًہندوہربڑاکام کرنے سےپہلے حساب کتاب کرتے،زائچے بناتے اورمہورتیں نکلواتے ہیں۔ کہاجاتاہے کہ قیام پاکستان کے بعد گاندھی نے پنڈت ونجومی بلواکرحساب کتاب کیااورپھراعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا میں۴جنگیں ہوں گی اورچوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایاکہ جنگ کا فاتح کون ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد اس نے انڈیا کو پاکستان کے خلاف جنگ سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی یہاں تک کے پاکستان کواس کاحق دلوانے کے لیے مرن بھرت یابھوک ہڑتال کردی تھی جس پراس کوقتل کردیاگیا۔
اسی طرح ڈیوڈبن گوریان جوکہ اسرائیل کے بانیوں میں سے تھااس نے پاکستان کے حوالے سے پیشن گوئی کی تھی کہ"بین الاقوامی صہیونی تحریک کوکسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کاشکارنہیں ہوناچاہئے۔ پاکستان درحقیقت ہمارااصلی اورحقیقی نظریاتی جواب ہے۔پاکستان کاذہنی وفکری سرمایہ اورجنگی وعسکری قوت وکیفیت آگے چل کرکسی بھی وقت ہمارے لیے باعث مصیبت بن سکتی ہے،ہمیں اچھی طرح سوچ لیناچاہئے۔بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری بلکہ مفیدبھی ہے ہمیں اس تاریخی عنادسے لازماً فائدہ اٹھاناچاہئےجوہندوپاکستان اوراس میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لیے زبردست سرمایہ ہےلیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہئے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں"{یروشلم پوسٹ ۹اگست ۱۹۶۷}
عالم کفرکوچارحصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔
عیسائیت،یہودیت،مشرکین اورملحدین!
بہت کم لوگوں کواحساس ہوگاکہ پاکستان اس وقت بھی ان چاروں سے بیک وقت برسرپیکارہے اوران سب کیلئے درد سربناہواہے۔ مشرکین کی نمائندہ ریاست انڈیا ہے جبکہ یہودیوں کی اسرائیل۔ ان کے خلاف پاکستان کی جنگ سے ہم سب واقف ہیں۔
جدید الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست روس ہے جواپنے وقت کی سپرپاور تھی۔ جب وہ اپنے الحادی نظریات کوپوری طاقت سے دنیابھرمیں پھیلا رہی تھی تب پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔
امریکابظاہرپاکستان کااتحادی ہے لیکن اب دنیاجان چکی ہے کہ افغانستان میں امریکاکودرحقیقت کس کے ہاتھوں شکست کاسامنا ہے۔
یہ پیشن گوئی قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کے مطابق جب وہ ۱۹۵۹ء میں یونیسکوکے ایگزیکٹیوبورڈکے ممبرتھے تواس وقت ان کے تعلقات ایک یورپی باشندے سے ہوئے جس نے قدرت اللہ شہاب کوبتایاکہ"اگرچہ امریکا اورروس ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن پاکستان کودونوں اپنادشمن سمجھتے ہیں"پھراس نے وضاحت کی کہ"یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کاشماردنیاکی اعلیٰ ترین افواج میں ہوتاہے اوریہ حقیقت نہ روس کو پسندہے نہ امریکاکو۔روس کی نظریں افغانستان اورپھربحیرہ عرب پر ہیں جن کو قابوکرناپاک فوج کی موجودگی میں ناممکن ہے"(جنرل ضیاء نے اس کوبعدمیں سچ ثابت کردیا) جبکہ امریکہ اسرائیل کاحلیف ہے اورجانتاہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف عالم اسلام کی جانب سے عالمی طورپرجہاد کااعلان تو پاکستان کی افوج اورنہتی آبادی بھی کسی حکم کاانتظار کیے بغیراسرائیل پرچڑھ دوڑے گی"(یہ پیشن گوئی غزوہ ہند والی حدیث میں بھی ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی نے بھی یہی بات کی ہے)"۔
اکھنڈ بھارت،گریٹراسرائیل اور صہیونی تحریک کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔انڈیاپاکستان کی وجہ سے اب تک صرف کشمیرپرقابونہیں پا سکا۔اسرائیل نے دوبارآگے بڑھنے کی کوشش کی توپاکستان کے ہاتھوں رسواہوا۔ روس پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کوپہنچا۔ امریکی جنگی ماہرین کے مطابق امریکاکی افغانستان میں ناکامی کی وجہ پاکستان ہے۔
پاکستان کے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی عجیب وغریب ہے کہ پاکستان کونقصان پہنچانے والوں کواللہ زمین میں ہی نشان عبرت بنادیتاہے۔ مثلاً سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دارسارے کردارجنہوں نے پاکستان کوتوڑاتھااللہ نے ان کوان کے خاندانوں سمیت مٹادیا۔
ذولفقارعلی بھٹوکاساراخاندان غیرطبعی موت مرااورآج درحقیقت اس کاکوئی نام لیواموجود نہیں۔ بلاول بھٹوحقیقت میں بلاول زرداری ہے۔
شیخ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت ماراگیا صرف اس کی ایک بیٹی باقی بچی۔
اسی طرح اندراگاندھی نہ صرف خودقتل ہوئی بلکہ اس کابیٹاراجیوگاندھی بھی قتل ہوااوردوسرے بیٹے سنجے گاندھی کا۳۳ سال کی عمرمیں جہازکریش ہوگیا یوں اس کاپوراخاندان ختم ہوگیا۔
دنیابھرمیں اس وقت عالم اسلام کے خلاف آپریشن ہارنسٹ کے نام سے ایک پراکسی جنگ جاری ہے جس میں خوارج کے ذریعے اسلامی ملکوں کو بہت تیزی سے تباہ کیاجارہاہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس جنگ میں عالمی قوتوں کوشکست ہوئی ہے اورخوارج کوعملی اورنظریاتی دنوں محاذوں پر پسپائی کاسامناہے۔ اب یہ بھی دیکھئے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کاکیا حال ہوتا ہے!
طاہریلد شیف کوروس نے"شیطان"کانام دے رکھاتھاکیونکہ ان کاخیال تھاکہ یہ مرتانہیں ہے۔اس کوامریکاازبکستان میں روس کے خلاف سالہاسال تک استعمال کرتارہالیکن اس شخص کوجب پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا توکچھ ہی عرصے بعد یہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے بدترین انجام کو پہنچا۔
اسی طرح سری لنکا کے خلاف لڑنے والی بھارتی حمائت یافتہ تامل تحریک کے لیڈر"پربھاکرن"کو لوگ سورج دیوتاکہتے تھے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کوموت نہیں آتی لیکن جب ان تاملز نے پاکستان پرلاہورمیں حملہ کیاتو جواباًپاک فوج نے سری لنکن فوج کے ساتھ مل کران تاملزکے خلاف آپریشن کیا جس میں نہ صرف وہ سورج دیوتاماراگیابلکہ یہ دہشتگردتنظیم بھی اپنے انجام بد کوپہنچ گئی۔عجیب بات ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے اکثرخارجیوں کو تین چارسال سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی۔ ذراان اتفاقات پربھی غورفرمائیے!
اب اس مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑااسلامی ملک نہیں لیکن اس کے باوجود دنیامیں سب سے زیادہ نمازی،روزے دار،زکوٰۃ دینے والے،مساجد،علماء،حفاظ اورحاجی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان دنیا میں دعوت وتبلیغ کاسب سے بڑامرکزہے۔
پاکستان دنیامیں جہادکاسب سے بڑامرکزہے۔
پاکستان کواللہ نے دنیا میں سب سے اہم سٹرٹیجک لوکیشن دی ہے اوردنیا کی کئی بڑی سپرطاقتیں بیک وقت کسی نہ کسی طرح پاکستان پرانحصارکرتی ہیں۔ یہی حال پاکستانی سمندر کابھی ہے خاص کرگوادرکا۔
پاکستان کواللہ نے پانچ موسم دئیے ہیں اوردنیا کا سب سے بڑانہری نظام۔ کہاجاتا ہے کہ اگرپاکستان صحیح معنوں میں اپنی زمینوں سے پیداوارلے توپورے برّاعظم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس بے پناہ معدنی وسائل ہیں جن میں صرف تھرکاکوئلہ ہی سعودی عرب کے کل تیل کے ذخائرسے زیادہ مالیت کاہے۔
پاکستان سوئی نہیں بناسکتاتھالیکن دنیاکے جدیدترین میزائل بناچکاہے۔ پاکستان کے نیوکلئرمیزائل پروگرام کامقابلہ اس وقت دنیامیں صرف امریکااورچین کر سکتاہے۔ باقی ممالک کواس معاملے میں پاکستان پیچھے چھوڑچکاہے۔ کیا یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں ؟؟؟
پاکستان کے خلاف بے پناہ سازشیں ہونے کے باوجود اب تک اللہ نے اس کوبچایا ہے،کیسے کیسے؟ اس پراگرلکھاجائے توشائدایک پوری کتاب کی ضرورت پڑے ۔ یہاں آج تک ایمانداری کے ساتھ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے واقعات بھی نہیں لکھے جا سکے لیکن خودبھارتی فوجی کمانڈروں نے اپنی کتابوں میں کئی ایسے واقعات کا بڑی حیرت سے ذکرکیاہے جس کوپڑھ کریقین آتاہے کہ اللہ نے پاکستان کی بالکل ویسے ہی مدد فرمائی تھی جیسے اصحاب بدر کی فرمائی تھی۔
واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے،یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔اس کے ساتھ آنے والے وقت کے بہت سے اہم ترین معاملات وابستہ ہیں۔ جوشخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائے گا۔جس نے پاکستان کی قومی دولت کولوٹاہے یااپنے اقتدارکے دوام کیلئے اللہ کے دشمنوں کی اعانت کاطلب گاررہاہے،وہ بھی یقیناًاللہ کے عذاب سے بچ نہیں پائے گااوراسی دنیامیں اسے بھی باعث عبرت بنادیاجائے گا۔ہم نے قیامِ پاکستان کی جدوجہدمیں اپنے رب سے یہ عہدکیاتھاکہ ہم اس معجزاتی ریاست میں مکمل قرآن کونافذ کریں گے تاکہ بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں داخل کیاجائے لیکن ہم آج تک اپنے رب سے عہدشکنی کے جرم عظیم میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ہم دنیامیں خوارہورہے ہیں۔یادرکھیں کہ میرے مخبرصادق کی غزوہ ہندکی پیشگوئی کی تکمیل کیلئے پاکستانی ریاست میں قرآن توہرحال میں نافذہوکررہے گالیکن خوش نصیب ہوگاوہ حکمران جو عملی طورپرمکمل قرآن کونافذکرے گا۔
علامہ اقبال جس کوایک دنیا اللہ کاولی مانتی ہے،نے اپنی عمرکاآخری حصہ اس پاکستان کے بارے میں لوگوں کوآگہی دیتے گزاردیا۔صرف ایک مضمون میں پاکستان کے حوالے سے سب کچھ نہیں سمیٹاجاسکتا۔ کوشش کی ہے کہ کچھ چیدہ چیدہ معاملات پرلکھاجائے۔ جس جس ساتھی تک یہ پیغام پہنچ رہا ہے وہ اس کو آگے پہنچاکراپناپاکستانی ہونے کاحق اداکرے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231057 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Dec, 2016 Views: 2314

Comments

آپ کی رائے
PAKISTAN ZINDABAD...
By: zai,, karachi., on Jan, 05 2017
Reply Reply
2 Like
بہت اچھا کالم ہے - ایک فوج کے ریٹائرڈ میجر سے بات چیت ہوئی - وہ جسڑ کے محاذ کی کمنڈ ١٩٧١ کی جنگ میں کر رہے تھے - انہوں نے اپنی کم نفری کے ساتھ دشمن کے ٹنکوں کو روکے رکھا - نیز دشمن کے جہاز کو بھی گرا دیا حالان کہ ان کے پاس طیارہ شکن توپ نہیں تھی - انہوں نے اپنے انٹرویو میں ان کامیابیوں کو اللہ کی عطا قرار دیا -ملاحظہ کیجئے اسی “ہماری ویب “ پر جسڑ محاذ کے کمانڈنٹ کا انٹرویو
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=85346


By: Munir Bin Bashir, Karachi on Dec, 29 2016
Reply Reply
3 Like