کب ہوگا جنرل باجوہ کا ایکشن؟

(Syed Fawad Ali Shah, )
پاکستان دُنیا کا واحد ملک ہے جہاں وزیر اعظم یا صدر کی بجائے فوجی سربراہ توجہ کا مرکز بنا ہوتا ہے۔دُنیا بھی فوجی سربراہ کے ماضی کو کھنگال کر مستقبل کی قیاس آرائیوں میں اُلجھ جاتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کی لگام فوجی سربراہ کے ہاتھوں میں ہے ۔ اس مرتبہ سابق جنرل راحیل شریف کی رُخصتی کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کے ظہور کے بعد ایک بار پھر قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے کہ جنرل باجوہ اب کیا رنگ دِکھائیں گے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو جنرل راحیل شریف سے نجات حاصل ہو گئی مگر کیا جنرل باجوہ اپنا رنگ نہیں دِکھائیں گے؟ کیا سابق جنرل راحیل شریف کی رُخصتی نواز شریف کے لیئے چار دنوں کی چاندنی ثابت ہو گی؟ جنرل باجوہ نے جب فوجی سربراہ کی کرسی سنبھالی تو اُنہوں نے چار سینئر فوجی افسران کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، جو اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ ملک کی فوج پر پنجاب کا دَبدبہ برقرار ہے ۔2007ء سے لگاتار تیسرے پنجابی فوجی سربراہ ہیں جنرل باجوہ جنہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جہاں فوج میں بڑے پیمانے پر رَد و بدل کی وہیں لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ملک کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسنز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا سربراہ مقرر کیا ، جو ایک تجربہ کار اور بہادر افسر ہیں ، جو اب افغانستان سمیت ہندوستان سے پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی کے خلاف بھی اقدام کرنے کی تیاری کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنرل باجوہ ماضی کے فوجی سربراہوں کی طرح منتخب حکومت پر فوجی شکنجہ کسیں گے یا پھر نواز شریف حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دیں گے، جو اس وقت عالمی برادری میں سفارتی داؤ پیچ میں پھنس کر ہاتھ پیر مار رہی ہے۔جب جنرل باجوہ نے فوجی سربراہ کا چارج لیا تو میڈیا نے ان کے جمہوریت نواز ہونے کو ہی ان کی شہرت اور مقبولیت کا سبب قرار دیا تھااور کہا تھا کہ اب ملک میں حکومت اور فوج کے درمیان توازن بہتر ہو گا۔ملک کی 70سالہ تاریخ میں نصب مدت تک فوج نے حکومت کی ہے ، مگر جنرل باجوہ کو اعتدال پسند اور جمہوریت نواز مانا گیا ہے۔ جنرل باجوہ نے ماضی میں یہ کہا تھا کہ دہشت گردی ملک کے لیئے سب سے بڑا خطرہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ کا نشانہ صرف ہندوستان ہی نہیں ۔ وہ دہشت گردی کے خاتمہ پر وعدہ کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا ، یعنی جنگجو افغانستان کی سرحد پر ہوں یا پھر ہندوستان کی ان کے خلاف دست آہن استعمال ہو گا،سوال یہ ہے کہ جنرل باجوہ موجودہ حالات میں کب تک اس مؤقف پر قائم رہتے ہیں، کیا وہ سرجیکل اسٹرائک کا زخم بھلا سکیں گے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ نومبر2014ء میں جب نواز شریف نے سابق جنرل راحیل شریف کو فوجی سربراہ کے لیئے چنا تھا تو اس کا سبب یہی تھا کہ اُن میں سیاسی عزائم نہیں تھے جیسا کہ اب جنرل باجوہ میں ہے،مگر تما م تر اختیارات کے باوجود سابق جنرل راحیل شریف کے ساتھ جمہوری حکومت کے کپتان کے ساتھ تناؤ اور ٹکراؤ دن بدن بڑھتا چلا گیا تھا۔ اب جنرل باجوہ نئے سربراہ بنے ہیں تو اُمید ہے کہ حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونگے اور فوج کا دَخل کم ہو گا۔ جنرل باجوہ نے اب تک جو اقدامات اُٹھائے ہیں اُن میں سب سے اہم لیفٹیننٹ جنرل نوید مختیار کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ آئی ایس آئی پر فوج کا کنٹرول ہو گا ۔ فوج میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں جس سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اب فوج کو جنرل باجوہ اپنی حکمت عملی کے تحت نئی شکل دے رہے ہیں۔ اب تک میڈیا نے اُنہیں اﷲ میاں کی گائے بنا کر پیش کیا ہے، مگر دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ بن کر اِرادے اور نیت کیسے بدل جاتی ہے ۔ نواز شریف نے جنرل باجوہ کو چار سینئرز پر ترجیح دی ہے ، کیونکہ اُنہیں لگتا ہے کہ جنرل باجوہ ایک پروفیشنل کمانڈر کی حیثیت سے فوج پر توجہ دیں گے اور جمہوری حکومت کی پست پناہی کریں گے نہ کہ ٹانگ کھنچیں گے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شہری دائرے میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتے ۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی تسلیم کریں گے۔2014ء میں جب حکومت پاکستان کے خلاف اپوزیشن کا دھرنا اور مارچ جاری تھا تو اُس وقت بڑے جمہوری بحران کو دور کرنے میں جنرل باجوہ نے بہت ہی مثبت کردار نبھایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے اُ ن کو چھٹی سب سے بڑی فوج کی کمان سونپی۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ ایک ایسا چہرہ سامنے آئے جو ملک کی فوج کو منعظم کرے اور جمہوری حکومت میں مداخلت نہ کرے۔ جس کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہ ہو ۔ اب نواز شریف کو اُن کے من پسند فوجی سربراہ تو مل گئے ہیں مگر ایک سوال سب کو پریشان کر رہا ہے کہ آخر کب تک یہ گاڑی چلے گی۔ کب تک جنرل باجوہ نواز شریف کے لیئے دوستانہ کردار میں رہتے ہیں ۔کب اور کہاں فوج اور حکومت میں ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔نواز شریف کو فی الحال پورا یقین ہے کہ جنرل باجوہ ماضی کے تجربات کو طول نہیں دیں گے اور حکومت کو موقع دیں گے کہ خارجی اُمور کو نپٹا سکے۔ بہرحال یہ پاکستان ہے پیارے جہاں گرگٹ سے پہلے فوج رنگ بدلتی ہے ، اس لیئے جنرل باجوہ سے خوش اور مطمیئن ہونے کے باوجود نواز شریف کے کانوں میں رات کو جاگتے رہو کی صدا گونجتی رہتی ہو گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Fawad Ali Shah

Read More Articles by Syed Fawad Ali Shah: 80 Articles with 43270 views »
i am a humble person... View More
02 Jan, 2017 Views: 848

Comments

آپ کی رائے