ایسے ہوتے ہیں حکمران

(Sohail Aazmi, )
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے پاس زکوۃ کا کچھ مال آیا انہوں نے حکم دیا کہ غریبوں میں بانٹ دو، انہیں بتلایا گیا کہ اسلامی سلطنت میں کوئی غریب نہیں ہے فرمایا کہ اسلامی لشکر تیار کرو ، بتلایا گیا کہ اسلامی لشکر ساری دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ فرمایا نوجوانوں کی شادیاں کرو بتلایا گیا کہ شادی کے خواہش مندوں کی شادیوں کے بعد بھی مال بچ گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر کسی کے ذمہ قرض ہے تو ادا کردو قرض اداکرنے کے بعد بھی مال بچ جاتاہے۔ فرمایا کہ اگر یہودیوں اور عیسائیوں میں سے کسی کاقرض ہے تو وہ ادا کردو، یہ کام بھی کردیا گیاپھر بھی مال بچ گیا۔ فرمایا اہل علم کو مال دیدیاجائے ان کو دینے کے بعد بھی مال بچ گیا۔ فرمایا کہ اسکی گندم خرید کر پہاڑوں پر ڈال دو کہ مسلم سلطنت میں کوئی پرندہ بھی بھوکا نہ رہے ۔ یہ تھا ہمارے اسلاف کی حکمرانی کا معیار اور سوچ کیوں کہ وہ اﷲ کو ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ اسلئے اﷲ کی مدد اور نصرت ان کے ساتھ تھی ۔ عمر بن عبدالعزیز کی 3براعظموں کے 65لاکھ مربع میل پر حکومت تھی لیکن گھر میں بچوں کے عید کے کپڑوں کیلئے پیسے نہ تھے۔ اپنے تمام لڑکوں کو دین کی تعلیم دی جو بعد میں تمام مختلف ملکوں کے گورنر و حکمران بنے۔ وہ ملکی خزانے، زکوۃ، فدیہ، مال غنیمت کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر اپنوں میں اڑانے اور غبن کرنے کی بجائے غریبوں، بیواؤں پر خرچ کرتے تھے۔ ہمارے حکمران تمام دنیا سے امداد، قرض لیکر اسے ہڑپ کرجاتے ہیں۔ اپنی فیکٹریوں ، جائیدادوں، محلات، بینک اکاؤنٹس میں اضافہ کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن غریب ، بے روزگار، بیمار، مقروض ، کنواروں، یتیم و مسکین، بیواؤں کی داد رسی کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ گذشتہ دنوں ایک بیمار دوست ملا جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے ۔ ڈاکٹروں نے بائی پاس تجویز کیا لیکن غربت آڑے آگئی۔ بیت المال اورزکوۃ کے دفتر سے اپنی غربت ثابت کرنے کیلئے عرصہ دو سال سے دھکے کھا رہاہے لیکن اسکے کاغذات یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ زکوۃ کا مستحق ہے کوئی تیا رنہیں ہے۔ ہمارے ان اداروں سے ان کو زکوۃ کی امداد ملتی ہے جن میں سے اکثر اسکے مستحق نہیں ہوتے۔ سیاسی بنیادوں پر زکوۃ اور دیگر امداد تقسیم کرنے کا سلسلہ عرصہ کئی حکمرانوں کے دور سے جاری و ساری ہے۔ بے نظیر سپورٹ پروگرام میں ماہانہ ہزاروں روپے ملکوں، سیاسی پنڈتوں، نمبرداروں، کونسلروں کی جیب میں باقاعدگی سے جارہے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر اکثرساز و سامان، رقوم ہم خرد کرلیتے ہیں۔ تعلیم ، صحت، صفائی، پینے کا صاف پانی کی فراہمی، بجلی و گیس کے نام پر ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز کام کررہی ہیں لیکن مذکورہ تمام سہولیات ملک میں ناپید ہیں۔ ہمارے حکمران تک اپنا علاج بیرون ملک سے کراتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا معیار گراوٹ کی آخری حدوں کو چھو رہاہے۔ پیسے دو ڈگری لو کا سلسلہ عروج پر ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہوں گی تو پھر تعلیم کا معیار کیسا رہے گا۔ دنیا کو تو چھوڑیں ایشیاء کی 100بہترین یونیورسٹیوں میں پاکستان کی کسی یونیورسٹی کا نام شامل نہیں ہے۔ ملک کے کئی نوجوان تعلیمی سہولیات نہ ہونے یا پھر سیٹیں کم ہونے کے باعث تعلیم کے زیور سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کتنے مریض بروقت علاج ، صحیح تشخیص نہ ہونے کے باعث اﷲ کو پیارے ہوجاتے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں نومولود بچے دوران زچگی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران سب ٹھیک ہے ، خزانہ بھرا پڑ اہے کی ڈگڈگی بجارہے ہیں۔ 20کروڑ کی آبادی میں 51فیصد لڑکیاں ہیں جبکہ 65فیصد نوجوان ہیں بدقسمتی سے جہیز کی لعنت، بے روزگاری، غربت اور اتباع دین نہ ہونے کے باعث 4کروڑ کے قریب صرف بالغ لڑکیاں گھروں میں شادی کی منتظر ہیں۔ جبکہ کنوارے لڑکوں کی تعداد اسکے علاوہ ہے لیکن ہمارے حکمران ، امراء اپنی شادیو ں پر اربوں اڑا دیتے ہیں۔ دیگر کنواروں کا انہیں کوئی خیال نہیں ہے۔ جہیز کی لعنت کے خلاف قانون موجود ہے لیکن عمل درآمد کرانے والا کوئی موجود نہیں ہے۔ شادی بیاہ پر ون ڈش کا قانون مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ امیروں کی شادی و جہیز کو دیکھ کر غریبوں کی شادی کی جرائت نہیں ہوتی۔ جسکے باعث ملک میں فحاشی و عریانی، زنا پھیل رہاہے کیونکہ شادی کو مشکل بنائیں گے تو زنا عام ہوگا۔ ملک کا ہر شہری ایک لاکھ سے اوپر کا مقروض ہے ۔ کھربوں روپے حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کیلئے قرض لے رکھے ہیں جو سود پر لئے گئے ہیں۔ پورا نظام سودی قرضوں پر چل رہاہے۔ مسلمان حکمران جو کبھی اپنے اچھے اعمالوں کے باعث اتنے خوشحال تھے کہ اپنوں کو تو چھوڑیں یہود و نصاری کو بھی زکوۃ امداد دیتے تھے لیکن آج ہم ان کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں جو اپنی مادر پدر آزادپالیسیاں ہم پر مسلط کرکے ہمیں قرضے دیتے ہیں اور پھر ہمارے اسباق، تعلیم سے ہمارے اسلاف کے اسلامی واقعات نکلواتے ہیں۔ ہماری عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرکے ہمارے برسوں پرانے خاندانی سسٹم، روایات معاشرتی اقدار، تہذیب و تمدن کو ختم کرنے کے در پہ ہیں۔ ہمارے حکمران جن کا کھاتے ہیں انہی کے گن جاتے ہیں۔ انہیں نہ تو اسلام سے محبت ہے او رنہ ہی اپنی عوام سے ۔ سرے محل ، پانامہ لیکس، سوئس بینک جیسے کھربوں روپوں کے سکینڈلز میں ملوث یہ صاحب اقتدار یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اقتدار ہی سب کچھ ہے حکمرانی ہے تو سب کچھ ہے وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ہر منفی حربہ استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ ان کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث آج صرف ہوا، نیند ایسی نعمت خداوندی باقی بچی ہے جس پر ٹیکس لاگو نہیں ہے لیکن تمام اشیاء ضرورت، پانی، بجلی، گیس، دودھ، آٹا، گھی، پیٹرول، مٹی کا تیل، ڈیزل، ادویات، تعلیم، سفر، دیگر اشیائے خوردنی، حج و عمرہ پر ٹیکس عائد کرنے کے باوجود کہاجاتاہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ عوام کیا کریں او رکہا ں جائیں۔ بھاری ٹیکسوں ، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی، دہشت گردی، نسلی فسادات و امتیاز، سیاسی رسہ کشی، لوڈشیڈنگ، بینکوں کے نظام پر غیر ضروری قدغن نے انہیں پریشانیوں اور اضطراب میں مبتلا کررکھاہے لیکن ہمارے حکمرانوں کا تو VIPکلچر ختم ہوتاہے نہ ہی ان کی ہوس اقتدار اور کرپشن ، بڑ ے سیاستدان مختلف روپ دھار کر اور چندماہ کے بعد نئے داؤ اپنا کر میدان سیاست میں ہوس اقتدار کے باعث آتے جاتے رہتے ہیں لیکن عوام کا المیہ ہے کہ وہ اشیائے خوردنی کی خریداری میں تو بھاؤ تاؤ، شادی بیاہ میں جانچ پڑتال کرتی ہے لیکن حکمرانو ں کو ووٹ دیتے وقت یہ نہیں دیکھتی کہ حکمران متقی وپرہیزگار ہے کہ نہیں کیونکہ وہ خود دنیاداری کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں۔ اسلئے ہمارا معیار حکمرانی بھی ہمارے جیسا ہی ہوتاہے۔ ایسے حالات میں اپنی پریشانیوں کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ہمارے حکمران او رملکی حالات اس وقت تک درست نہ ہوں گے جب تک ہم اپنے اعمالوں کو درست نہیں کرتے۔ ہمارے اعمالوں ہی کے موافق ہمارے اوپر حکمران مسلط کئے جاتے ہیں۔ ہمارے جیسے اعمال اوپر جاتے ہیں ویسے ہی فیصلے برے حکمرانوں، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی کی صورت میں ہم پر مسلط ہوتے ہیں ۔ اﷲ کرے ہمیں اپنے مسائل کے حل کا صحیح ادراک ہوجائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 74097 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2017 Views: 662

Comments

آپ کی رائے