مسلمانوں کی موجودہ پستی کا سبب دین سے دوری ہے

(عابد محمود عزام, Lahore)
تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر ڈاکٹر حافظ عاکف سعید سے خصوصی گفتگو انٹرویو: عابد محمود عزام ڈاکٹر حافظ عاکف سعید تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد کے فرزند اور تنظیم اسلامی کے موجودہ مرکزی امیر ہیں۔تنظیم اسلامی منہج انقلاب نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مطابق انقلاب کے لیے کوشاں اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں اسلام کے نفاذ کی داعی ہے۔ روزنامہ اسلام نے ڈاکٹر حافظ عاکف سعید سے شام، برما اور عالم اسلام کے مجموعی حالات، پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوششوں، اس حوالے سے مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کی ذمہ داریوں، عہدہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے عالم اسلام پر مرتب ہونے والے اثرات، پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی ذمہ داری اور پاناما لیکس معاملے میں حکومت اور عوام کی ذمہ داری سے متعلق تفصیلی گفتگو کی، جو نذر قارئین ہے۔
 عابد محمود عزام: شام میں کافی عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے۔ ان دنوں شامی عوام کا بے دریغ قتل عام کیا جارہا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شام کی تباہی کا ذمہ دار کون اور شام کو ان حالات تک پہنچانے میں کون سی قوتیں ملوث ہیں؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: شام میں سالوں سے مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ بشار الاسد شام میں مظلوم لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ پہلے اس کا باپ حافظ الاسد بھی شام میں عوام کو قتل کرتا رہا ہے۔بشار الاسد کو اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے، یہ اسلام دشمنوں کا آلہ کار ہے۔ اس کے نزدیک صرف مفادات عزیز ہیں۔ شام میں کئی قوتیں لڑ رہی ہیں۔ شام کا علاقہ کھچڑی بنا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ بارود کا ڈھیر بن چکا ہے۔ داعش بھی ایک بڑا فتنہ ہے، جو اسلام کے نام پر شام میں لڑ رہی ہے۔ روس شام کو تباہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ امریکا گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے اور دور بیٹھا تماشا دیکھ رہا ہے۔ جبکہ اس کا مرکزی منصوبہ ساز اسرائیل ہے۔ جو خود تو اس جنگ میں نہیں کودا، لیکن دور سے بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اسرائیل امریکا کو بھی استعمال کرتا ہے۔ وہ چاہتا کہ جب مسلمانوں کا بہت سا خون بہہ جائے اور حالات سازگار ہوجائیں تو پھر مسجد اقصیٰ پر حملہ کردے۔ اسرائیل یروشلم کی تعمیر کے لیے مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ خدانخواستہ اگر اسرائیل مسجد اقصیٰ پر حملہ کردیتا ہے تو مسجد اقصیٰ کی اہمیت و تقدس تو مسلم ہے، جس کے بعد نہ صرف عرب ممالک، بلکہ پوری مسلم دنیا قابو سے باہر ہوجائے گی اور بڑے پیمانے پر خونریزی ہوگی۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ جو مخلص مسلمان اس کی راہ میں رکاوٹ بنیں، ان کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ عرب اقوام بھی عالمی قوتوں کے زیر اثر ہے، جنہوں نے بادشاہتوں کو پروان چڑھایا ہے۔ عربوں کی نااہلی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ آج آگ کی بھٹی بنا ہوا ہے۔ اگر یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہا تو خدشہ ہے کہ یہ آگ دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہ حالات جن سے ہم گزر رہے ہیں، احادیث میں تفصیل سے بیان کیے جاچکے ہیں کہ اگر مسلمان دین سے دوری اختیار کریں گے تو ایسے حالات سے دو چار ہوں گے۔

عابد محمود عزام: برما میں برسوں سے مظلوم مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری ہے، لیکن نہ تو عالمی اداروں نے اپنی زبان کھولی ہے اور نہ ہی مسلم ممالک نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا ہے، آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: برما میں جو کچھ ہورہا ہے، یہ بھی مسلمانوں کی دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہم اس طرف جانے کو تیار نہیں ہیں، ظاہری اسباب ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن خود کو سنوارنے اور اﷲ کے دین پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ہر کوئی دین سے بے وفائی کر رہا ہے۔ آج مسلمانوں پر بنی اسرائیل کی طرح ان کی نااہلیوں کی وجہ سے عذاب مسلط ہے۔ مسلمانوں نے اﷲ کے دین سے بے وفائی کی، جس کا نتیجہ مسلمانوں پر عذاب کی شکل میں سامنے ہے۔ اگر سب انفرادی و اجتماعی طور پر اﷲ سے معافی مانگیں اور اﷲ کے دین سے وفاداری کریں تو حالات سدھر سکتے ہیں۔

عابد محمود عزام: صرف برما و شام ہی نہیں، بلکہ پوری مسلم دنیا خانہ جنگی اور بدامنی کی شکار ہے۔ مسلم ملک ترکی صرف پرامن تھا، لیکن اب وہاں بھی بم دھماکوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عالم اسلام کو ان حالات سے کس طرح اور کون نکال سکتا ہے؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: پوری مسلم دنیا میں یہ حالات عذاب الہیٰ کی شکل ہے۔ پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں، جہاں اﷲ کا دین پوری طرح نافذ ہو۔ اﷲ کے دین اور اس کے قوانین کو پوری طرح دنیا میں نافذ کرنا مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک مسلمان اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کریں گے اور اﷲ کے دین کو پوری طرح نافذ نہیں کریں گے تو ان پر یہ عذاب مسلط رہے گا۔ اﷲ کے دین کے ساتھ وفاداری کرنا پوری امت مسلمہ پر لازم ہے۔ اگر یہ اﷲ کے دین پر پوری طرح عمل کریں اور اس سے وفاداری کریں تو اﷲ تعالیٰ ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان کو مشکل حالات سے نکال لے گا۔ اب بھی جو اﷲ کے نیک بندے دنیا میں پوری طرح اﷲ کے دین پر عمل کر رہے ہیں، اﷲ ان کی مدد کر رہا ہے۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی عزت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دولت تو ہے، لیکن عزت بالکل بھی نہیں ہے۔ ساری امت کا یہی حال ہے، جس کو علامہ اقبال نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
علامہ قبال نے شکوہ جواب شکوہ لکھ کر مسلمانوں کی ٹھیک ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ہماری ہی پٹائی ہورہی ہے۔
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
جواب شکوہ میں انہوں نے صاف صاف سب کچھ بتلایا ہے کہ مسلمان کیوں پٹ رہے ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کے پٹنے کی وجہ دین سے دوری ہے۔ صرف قرآن خوانی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ قرآن پر مکمل طور پر عمل کرنے سے سب کچھ ہوگا، لیکن ہم حقیقت ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔

عابد محمود عزام:پاکستان بھی ان دنوں کئی قسم کے مسائل کا شکار ہے، ان مسائل سے کیسے نجات حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے یہاں کے تمام طبقات کس طرح اپنی ذمہ داری ادا کرسکتے ہیں؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: ہم جن بحرانوں سے گزر رہے ہیں، قرآن و حدیث میں وہ سب کھول کھول کر بہت پہلے بیان کردیے گئے تھے۔ علامہ اقبال نے جس کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ
کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز کیا ہے لوح و قلم تیرے ہیں
اگر اﷲ کے دین اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے وفاداری کریں گے تو سب حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔ پاکستان میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم تماشا نہ دیکھیں، کم از کم پاکستا ن میں اﷲ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش تو کریں۔ دستور میں یہ لکھاہے کہ یہاں کوئی بھی قانون سازی خلاف اسلام نہیں ہوسکتی، لیکن اس کے باوجود کتنے ہی قوانین خلاف اسلام بنائے جاتے ہیں اور ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہاں سارے قوانین انگریز کے نافذ کیے ہوئے ہیں، ان پر ہی عمل کیا جارہا ہے۔ کیا ان کو ختم کر کے اسلام کے قوانین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟ یقینا ذمہ داری ہے۔ہم نے پاکستان میں اﷲ کے دین سے بے وفائی کی، ہم نے اﷲ کے دین کو نافذ نہیں کیا، جس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان پر یہ سزا مسلط کی گئی ہے کہ جب پاکستان بنا، اس وقت یہاں صرف ایک قوم تھی، لیکن اب قوم کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے۔ ہر کوئی اپنا ہی راگ آلاپ رہا ہے۔ آج پاکستان فکری طور پر کئی ٹکروں میں بٹا ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں علیحدگی کا نعرہ بھی لگایا جارہا ہے ۔ پاکستا ن میں سیاسی و مذہبی جماعتیں آپس میں دست و گریباں ہیں۔ بھارت، امریکا و اسرائیل وغیرہ کی ایجنسیز کی وجہ سے پورا پاکستان بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ معاشی طور پر بھی ہم غلام بن چکے ہیں۔ پاکستان سر تا پیر تک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پانی کا معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے، ایک تو پانی کی کمی ہے اور اوپر سے بھارت آئے روز روک لیتا ہے۔ یہ سارا عذاب اسی لیے مسلط ہے کہ ہم نے اﷲ کے دین سے بے وفائی کی ہے۔ یہاں جس کا جتنا بس چلتا ہے کرپشن کرتا ہے۔ کیا صرف حکمران ہی کرپشن کر رہے ہیں، نہیں بلکہ ہر کوئی کرپشن میں ملوث ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم کئی قسم کی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

عابد محمود عزام: ان حالات میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: پاکستان میں شریعت کا نفاذ ضروری ہے۔ 2010ء میں جامعہ اشرفیہ میں اکابر علمائے دیوبند کا ایک اجتماع ہوا تھا، جس کے اعلامیے میں یہ لکھا ہے کہ اس ملک میں شریعت کو نافذ نہیں کیا گیا۔ یہاں شریعت کا نفاذ ضروری ہے۔مذہبی جماعتوں کو شکوہ ہوتا ہے کہ ہمیں ووٹ نہیں ملتا، لیکن کیا اسلام کے نفاذ کا راستہ صرف ووٹ ہے؟ لگتا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں خود بھی نفاذ اسلام کے لیے مخلص نہیں ہیں۔ اصل راستہ تو دین کے ساتھ مکمل وفاداری کرنا ہے، اگر دین پر مکمل عمل کرو گے تو ہی اسلام کا نفاذ ہوگا۔ جمہوریت کے زور پر اگر ستر سال میں پاکستان میں اسلام نہیں آسکا تو آئندہ کیسے آسکتا ہے؟، لیکن ہم حقائق ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہم لوگ حقائق کو پس پشت ڈال کر خوابوں کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ آپ سب کے سامنے ہے کہ مذہبی جماعتوں کی پوزیشن مزید کمزور ہوتی جارہی ہے تو پھر جمہوریت کے ذریعے یہ کس طرح اسلام کا نفاذ کرسکتے ہیں؟

عابد محمود عزام:آپ کے بقول پاکستان میں اسلام جمہوری طریقے سے نافذ نہیں ہوسکتا تو پھر مذہبی جماعتیں اپنے مقاصد میں کس طرح کامیاب ہوسکتی ہیں؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: مذہبی جماعتیں اگر ملک میں نفاذ اسلام چاہتی ہیں تو پرامن تحریک کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اگر مذہبی جماعتیں خود کو تحریک کے لیے تیار کرلیں تو عوام بھی ان کے ساتھ تیار ہوجائیں گے۔ عوام اسلام کے لیے قربانی دینا جانتے ہیں۔ اگر تمام مذہبی جماعتیں نفاذ اسلام کے لیے اکٹھی ہوجائیں، جیسے نظام مصطفیٰ کے لیے اکٹھی ہوئی تھیں تو نفاذ اسلام ملک کا مقدر ہوگا۔ نفاذ مصطفیٰ میں تو اخلاص نہیں تھا۔ وہ تو بھٹو کے خلاف اتحاد تھا، اس میں نفاذ اسلام مقاصد میں تھا ہی نہیں۔ عنوان نظام مصطفیٰ تھا، لیکن مقاصد کچھ اور تھے۔ اگر صرف دینی جماعتیں مل کر نفاذ اسلام کی تحریک شروع کریں تو سب گھٹنے ٹیک دیں گے۔ اس سے پہلے بھی مذہبی جماعتوں نے کئی تحریکیں شروع کی ہیں، جن میں ان کو کامیابی ملی ہے۔

عابد محمود عزام: جب پاکستان میں مختلف مسالک و مذہبی جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو کس طرح پاکستان میں اسلام کا نفاذ کرسکتے ہیں؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: یہ کہنا بجا کہ یہاں سب میں اختلاف ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مختلف مسالک و مذہبی جماعتوں کے لوگ مل کر اسلام کا نفاذ نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے بہت سا دینی کام مل کرلیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ انگریز کے بنائے گئے قوانین کے متبادل اسلامی قوانین دے اور اسلامی نظریاتی کونسل یہ کام20-25 سال پہلے کرچکی ہے۔ متبادل قوانین دیے جاچکے ہیں۔ تمام مسالک کے چوٹی کے علمائے کرام کے بورڈ نے انتہائی دیانتداری کے ساتھ یہ کام کیا ہے۔ اب پارلیمنٹ کی ذمہ داری تھی کہ جو کام اسلامی نظریاتی کونسل نے کرلیا ہے، اس پر گفتگو کر کے قوانین کی شکل دے، لیکن اس پر کوئی گفتگو پارلیمنٹ میں نہیں کی گئی۔ اسی طرح 1951ء میں علمائے کرام کے متفقہ بائیس نکات پر مشتمل دستور بنا۔ 73 کے دستور کو قبول کرلیا، اس میں کچھ موثر انکات تھے، اس پر یہ طے ہوا تھا کہ اسن پر بحث ہوگی اور قوانین کی شکل دی جائے گی۔ کسی نے بھی پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں کی، کیوں نہیں کی؟ کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی؟ تمام مسالک کے علمائے کرام تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو نفاذ اسلام کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ تمام مسالک کے مفتیان کرام کو آزادی ہو کہ وہ اپنی فقہ کے مطابق عمل کریں۔ اگر سسٹم ٹھیک ہوجائے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ جو لوگ آگے آئیں گے، وہ اپنی سابقہ غلطیوں سے توبہ کر کے سامنے آئیں۔

عابد محمود عزام: ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے عہدہ صدارت کا حلف اٹھانے جارہے ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ میرے آنے تک ڈٹے رہو! اس بیان کے تناظر میں آپ فلسطین کا مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے امت مسلمہ پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: ڈونلڈ ٹرمپ کے اب تک کے بیانات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح اسرائیل کا حامی اور سرپرست ہے۔ یقینا بعد میں بھی اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے درد سر بنے گا۔ جو پہلے ہی کھل کر اسرائیل کو ہلہ شیری دے رہا ہے، اس سے بعد میں بھی خیر کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے سے پہلے اسلام اور مسلمان مخالف بیانات دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی بات کی تو کبھی مسلمانوں پر دہشتگردی کا الزام لگایا۔ یہ خدشہ پہلے سے تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد امریکی مسلمانوں کے لیے زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ امریکی مسلمانوں کے حق میں دعا کرنی چاہیے، اﷲ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک تو اپنا رویہ نہیں بدلا، لیکن ممکن ہے کہ عہدہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد ذمہ داریاں پڑنے سے کچھ تبدیلی آجائے اور اس کے رویے میں کچھ نرمی آجائے۔

عابد محمود عزام: بھارت کا رویہ پاکستان کے ساتھ ہمیشہ سے جارحانہ رہا ہے۔ کبھی سرحدی خلاف ورزی تو کبھی آبی دہشتگردی اور کشمیر میں بھی بھارت نے ایک عرصے سے مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، ایسے میں پاکستان حکومت کی کیا ذمہ داری ہے؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: بھارت کے حوالے سے پاکستان کو عالمی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع تو نہیں کہ عالمی برادری کچھ کرے گی، لیکن جن ممالک نے گارنٹی دلوائی ہوئی ہے، ان سے بات کرنی چاہیے۔ پاکستان کو دوست ممالک سے بات کرنی چاہیے۔ پاکستان خود اس پوزیشن میں نہیں کہ اس معاملے کو حل کرے، جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے ہیں، ان کو ساتھ ملا کر عالمی سطح پر آواز اٹھائے۔ چین اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے عالمی برادری کی توجہ بھارت کی آبی و سرحدی دہشتگردی کی جانب دلوائے۔ بھارت نے ایک جانب کشمیر میں مظالم کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تو دوسری جانب آبی دہشتگردی شروع کی ہوئی ہے۔ دراصل یہ پاکستان کا قصور ہے کہ بھارت کو موقع دیا ہوا ہے۔ پاکستان کو اپنی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ڈیمز بنانے چاہیے تھے۔ کالا باغ ڈیم ضرور بنانا چاہیے تھا، لیکن یہ پاکستان کی حکومتوں کی نااہلی ہے کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکیں۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ کالا باغ ڈیم کو بھی اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ یہ سب تو ظاہری اسباب ہیں۔ اصل بات تو وہی ہے کہ یہ حالات اﷲ کے دین سے دوری کا نتیجہ ہیں، اگر اﷲ کے دین سے وفاداری کریں تو اﷲ سب حالات بہتر کرسکتے ہیں، لیکن ہم سب اﷲ کے دین کے ساتھ وفاداری کرنے کی بجائے بے وفائی کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

عابد محمود عزام: پاکستان میں کئی ماہ سے پاناما لیکس کا معاملہ چل رہا ہے، ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ حکومت اور اپوزیشن کی اس چپقلش میں عوام کے مسائل کہیں پیچھے رہ گئے ہیں، ان پر کوئی بات ہی نہیں کرتا، تو عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر حافظ عاکف سعید: تمام سیاست دانوں نے مل کر پورا ملک گروی رکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ جمہوری ادارہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیصلے افراد ہی کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو صرف دکھانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ سیاست دان عوام کو جب چاہتے ہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اﷲ کے دین سے بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں، اس کی سزا ہم سب کو مل رہی ہے، عوام بھی اﷲ کے دین سے بے وفائی کر رہے ہیں تو ان کو بھی یہ سزا مل رہی ہے۔ ہم نے اﷲ کے دین پر عمل نہیں کیا ہے۔ کسی بھی شعبے میں دین مکمل پور پر نافذ العمل نہیں ہے۔ پاکستان میں کوئی ایک بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جس کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہو۔ ہم بحیثیت مجموعی اﷲ کے مجرم ہیں۔ سب ظاہر ی اسباب کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اﷲ کے دین کے ساتھ وفاداری کرنے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر ہم لوگ اﷲ کے دین پر پوری طرح عمل کریں اور اﷲ کے دین کے ساتھ وفاداری کریں تو اﷲ ہمیں ضرور کامیاب کرے گا۔ ہمیں اجتماعی و انفرادی طور پر اﷲ کے دین کے ساتھ وفاداری کرنے کی ضرورت ہے۔ اﷲ ضرور ہماری مدد و نصرت کرے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427722 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jan, 2017 Views: 1505

Comments

آپ کی رائے