پانامہ کا ہنگامہ اور پاکستان

(Karamat Masih, Lahore)
ملکی فضاء میں آجکل پانامہ کی ہواَ پورے زور سے چل رہی ہے ہر طرف پانامہ کا شور ہے اور ہر طرف پانامہ کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے ملک بھر میں اِس وقت کوئی ایسی جگہ باقی نہیں بچی جس میں پانامہ کا چرچہ نہیں ہو رہا ہے سکول سے لیکر یونیورسٹی تک،محلے کی گلی سے لیکر پارلیمنٹ تک،سیشن کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک ،گھر سے لیکر بازار تک، دفتروں اور تمام پبلک مقامات میں ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ ہے پانامہ لیکس۔ آخر یہ پانامہ لیکس اور پانامہ پییرز ہے کیا؟اور یہ کیوں ہر خاص و عام کی زبان کا موضوع بحث ہے؟ پانامہ دراصل ایک شہر کا نام ہے پانامہ شہر انتہائی خوبصورت ہے یہ سمندر کے کنارے پر واقع ہے۔اور یہ شہر ایک کاروباری شہر ہے یہاں پر تمام دنیا کے بزنس مینوں کی کمپنیاں ہیں یا پھرکمپنیوں میں شیئرز ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیاکی بڑی بڑی شحضیات نے آخر پانامہ کا ہی انتخاب کیوں کیا ؟ اور اپنی انویسٹمنٹ کیوں یہاں کی ہے؟اِن سوالوں کا جواب یہ ہے کہ پانامہ کا قانون اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی کمپنی یہاں پر لگا ئے یا پھر یہاں پرا نوسٹمنٹ کرے اُس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ جس رقم سے کمپنی لگا ر ہے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز اور اِس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی ادائیگی میں بھی چھوٹ دی جاتی ہے بس یہ دل نشین آفرپوری دنیاکے کاروباری لوگوں کو یہاں لے آئی،پھر کیا تھاکہ دھڑا دھڑا یہاں آف شور کمپنیاں بن گئی۔ایک اندازے کے مطابق دنیابھر سے کم وبیش214,488 شحضیات کی آف شور کمپنیاں ہیں مگر جیسے ہی پانامہ نے آفیشل ڈاکومنٹ لیک کئے تو بڑی بڑی کاروباری شحضیات کو جان کے لا لے پڑ گئے کئی ملکوں کے سربراہان کے نام بھی منظرِعام پر آئے ان میں سے کئی ایک نے اپنے عہدوں سے استعفٰے دے دیے۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی بھی تقریبا 259 شحضیات کے نام پانامہ پیپرز کے زریعے سامنے آئے ان میں سے کچھ سیاسی شحضیات اور انکے خاندان کے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ جن میں سے ملک کے وزیراعظم کے خاندان کے افراد سرفہرست ہیں عمران خان کی بھی آف شور کمپنی منطرِعام پر آئی لیکن بقول خان صاحب کے انہوں نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی ختم کر دی تھی۔ ملک میں پانامہ کی فضاء اس لئے بھی گرم ہے کہ وزیراعظم صاحب پہ الزامات ہیں کے انہوں نے اپنے گزشتہ دورِحکومت میں کرپشن کی اور ناجائز طریقوں سے ملک سے باہر دولت ٹرانسفر کی،اور ان کے بچوں نے لوٹ کی دولت سے آف شور کمپنیاں بنائی۔ وزیراعظم صاحب کے بچوں کے نام بھی پانامہ پیپرز میں منظرِعام پر آئے سو اس وجہ سے پانامہ کا قصہ ہر زبان پر ہے آف شور کمپنیاں اور منی لا نڈرنگ کے الزامات کی وجہ سے یہ کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت ،سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اپوزیشن پارٹیاں خوب ڈٹی ہوئی ہیں اس کیس پر، ویسے تو پاکستان میں چیک ا ینڈ بیلنس کے لئے نیب(NAB)کا ادارہ موجودہے لیکن پانامہ کیس کی پیروی پی ٹی آئی سپریم کورٹ ہی سے کروا رہی ہے پانامہ کا کیس اس وقت ملک میں ہاٹ ایشو بناہواہے۔دوسری جانب وزیراعظم صاحب اور انکے بچوں نے ٹیلی ویژن میں اپنے بزنس کے بارے میں جو بیانات دیے ہیں ان میں واضح تضاد ہے جس کی بناء پر پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب نے فلور آف دی ہاؤس (پارلیمنٹ)میں غلط بیانی کی ہے لہذٰا ان وجوہات کی بناء پر وزیراعظم صاحب کو استعفیٰ دے دینا چاہیے مگرپانامہ کیس کے حوالے سے عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرپائے۔ جبکہ وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ اس کیس میں خاص طور پر پانامہ کے حوالے سے میرے خلاف نہ تو کوئی ڈاکومنٹ اور نہ ہی کوئی آف شور کمپنی ہے اس کے باوجود سپریم کورٹ میں تین سے چار وکیل تبدیل کر چُکے ہیں اُدھر عدالت تاریخ پہ تاریخ دئیے جا رہی ہے جبکہ عدالت کی جانب سے کمیشن بنانے کا حکم دیاگیا مگر پی ٹی آئی والوں نے مسترد کر دیا.حاصلِ بحث یہ ہے کہ اب عدالت پرا نحصار ہے کہ کتنی اور تاریخوں میں فیصلہ سنائے گی.مگر تمام سیاسی جماعتوں سمیت ،پی ٹی آئی اور ن لیگ اس بات پہ متفق ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ پر پورا بھروسہ ہے ۔یہاں پر ایک بات تو طے ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی وہ مثالی ہوگا۔عدالت دونوں فریقوں سے کوئی رعایت نہ برتے اور بغیر کوئی امتیاز کئے انصاف کرے.تاکہ سب کا اعتماد برقرار رہے . یہاں عمران خان صاحب سے درخواست ہے جوکہ ایک بہت اچھے سپورٹس مین ہیں اور ایڈمنسٹریٹر ہیں وہ اس کیس کی پیروی کے ساتھ ساتھ ملک اور خاص طور پر کے.پی.کے کے مسائل پہ خصوصی توجہ دیں وہاں کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کریں تاکہ یہ صوبہ باقی صوبوں سے زیادہ ترقی والا صوبہ اور زیادہ خوشحال صوبہ نظر آئے اور آپ پانامہ کیس کے حوالے سے بھی اپنی جنگ جاری رکھیں باقی سب خداتعالیٰ اور عدالت پہ چھوڑ دیں . اور وزیراعظم صاحب سے بھی التماس ہے کہ آپ اپنی ساری توانائی اس کیس پر ہی ضائع مت کریں اگر آپ سچے ہیں تو پُر امید رہیں کیونکہ" سانچ کو آنچ نہیں" آپکو ملکی صورتحال پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے.ملک میں سی پیک کا منصوبہ زیرِ تعمیرہے جو کہ آنے والے وقت میں ملکی ترقی کے لئے بہت فائدہ مند ہوگا اس منصوبہ پر توجہ دیں،ملک میں ضربِ عضب آپریشن جاری ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ دہشت گردی سے نجات حاصل کی جائے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ،ایجوکشن ڈیپارٹمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے دیگر شعبہ جات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے خاص طور پر نشے کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے پی.آئی.اے میں بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں ٹریفک کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،بجلی بحران،بے روز گاری ،چوری ،تشدد اور دیگر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ان سب مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اپنی توجہ پانامہ تک محدود نہ رکھیں تصویر کا دوسرا رخُ بھی دیکھیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب پانامہ کے ہنگامے میں سب کچھ بہہ جائے گا۔ سب سے پہلے پاکستان اور اسکی عوام کی فلاح و بہبود ،باقی سب بعد میں۔
پاکستان زندہ آباد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Karamat Masih

Read More Articles by Karamat Masih: 30 Articles with 10827 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2017 Views: 275

Comments

آپ کی رائے