کربِ احساس میں مبتلاڈاکٹر مظہر الحق اور’’ تریاق‘‘

(Saleem Sarmad, )
’’علم کسی کی میراث نہیں‘‘ اس معقولے کی حقانیت مختلف الخیال علماء و فضلا ء شاعر ادیب اور دانشوروں کی علمی استعداد ، تخلیقی و فکری قوت اور منفرد اسالیب کی شعوری رفعتوں سے واضح ہوتی ہے۔گکھڑ منڈی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے حساس طبع شاعر،کربِ احساس میں مبتلا سقراطی مزاج و فکر کے مالک جناب ڈاکٹر مظہر الحق صاحب شعر و ادب کا معتبر اور محترم نام ہیں۔اپنی علمی استعداد اور انفرادیت کی بدولت ایک دبستان، ایک حیرت کدہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔خوش اخلاق و خوش شکل نوجوان اور اس پہ مستزاد یہ کہ انتہائی خوبصورت شاعر جن کا قلم حساس موضوعات پر نشتر کی سی تیزی سے چلتا ہے۔
حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ’’ تریاق‘‘ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر شعر و ادب کے اثاثے میں گراں قدر اضافے کا موجب بنا ہے، جسے ملک بھر کے تمام ادبی حلقے، قاریئن، نقاداور دانشور سراہے بغیر نہ رہ سکے۔

’’تریاق‘‘ کا اسلوب حساس موضوعات اور انتہائی کربناک الفاظی تصاویر پر مشتمل ہے۔ڈاکٹر مظہر الحق کا شعری استناد اور توازن اس بات کا شاہد ہے کہ ڈاکٹر صاحب شعری لوازمات اور عروض و قوافی پر مکمل دسترس رکھتے ہیں۔مگر جو خوبی ڈاکٹر مظہر الحق کو دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کے حساس مضامین اور کربناکی اسلوب۔ان کی نظر میں جدیدیت فقط یہ نہیں کہ عشق و محبت کے رجحانات و جذبات کو نئے پیرائے میں ڈھال کر پیش کیا جائے بلکہ جدیدیت یہ ہے کہ تصور و تصوف ،حالاتِ حاضرہ کے مسائل و معاشرتی مصائب ،قومی آلام اور تاریخی ابہام کوایک اچھوتے اور دل لگتی(heart touching)تمثیل و تصویر میں پیش کیا جائے۔

ڈاکٹر مظہر الحق اپنی شعری انفرادیت اورفکر ی سطح کی، حساس موضوعات تک رسائی کی بدولت جہاں پاکستان میں اپنا منفرد اور معتبر نام رکھتے ہیں ،وہیں پاکستان سے باہر بھی ان کا اچھا نام و مقام ہے۔ہمسایہ ملک ،انڈیا کے ادبی حلقوں میں ان کی اچھی پہچان ہے۔

ان کی تصنیف ’’تریاق‘‘ میں انڈیا کی شہرہء آفاق ادبی شخصیت ’’گلزار‘‘ ڈاکٹر مظہر الحق اور ان کی شاعری کے بارے میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:
’’مظہر صاحب!تریاق کی نظمیں تو بہت پہلے پڑھ لیں تھیں۔مگر ان پر رائے دینا بڑا مشکل کام تھا میرے لئے۔اچھا نہ لگے تا منہ پھیر لینا آسان ہوتا ہے مگر جب اچھالگے تووہ بار بار نظر آتا ہے۔نظم ہو تو گونجتی رہتی ہے ذہن میں۔ اور گاہے گاہے سامنے آکر بیٹھ جاتی ہے جب بہت اچھی لگنے لگتی ہے۔شاعری نشے کی طرح چڑھتی ہے آہستہ آہستہ ۔اور میں نے بہت آہستہ آہستہ آپ کی نظمیں پڑھی ہیں، سب سر چڑھی ہیں۔مظہر صاحب! سب سے پہلے تو آپ کے موضوعات حیران کر دیتے ہیں۔ کتنے پختہ شعور کے ساتھ آپ جیتے ہیں ان نظموں میں۔ اس طرح کی consciousness کو لے کر جینا آسان نہیں ہے۔آپ تو نظم کہہ کر ہلکے ہو گئے لیکن پڑھنے اور سننے والوں کو ان آبلوں پر بہت بہت سنبھل کر چلنا پڑتا ہے‘‘۔ گلزار(ممبئی انڈیا)
اسی طرح ’’ تریاق‘‘ میں ،ڈاکٹر مظہر الحق کے بارے میں وحید احمد(اسلام آباد) اپنی رائے کا اظہار ان الٖفاظ میں فرماتے ہیں:
’’نوجوان شاعروں میں مظہر الحق کا تعلق اس قبیلے سے ہے جو اپنے عہد کی داستان لکھتا ہے۔اس لیے وہ دیانت دار شاعر ہے۔وہ اس زہر کی نشان دہی کرتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے رگ و ریشے میں سرایت کر رہا ہے۔یہ تشخیص کرتے ہوئے اس کا لہجہ احتجاجی رنگ اختیارکرتا ہے ، جذبے کی سان پر لفظ رگڑ کھاتے ہیں تو اظہار میں کاٹ شامل ہوتی ہے۔وہ معاشرے کی جراحت کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں لرزش نہیں آتی۔ اس کے بعد وہ بقولِ غالب پرسشِ جراحتِ دل بھی اہتمام کرتا ہے یعنی’’سامانِ صد ہزار نمک داں کیے ہوئے‘‘وہ سقراطی رستے پر چلتا ہے ۔ زہر کا تریاق بھی زہر میں تلاش کرتا ہے یوں علاجِ بالمثل کرتا ہے‘‘ وحید احمد(اسلام آباد)

’’تریاق‘‘ میں گو کہ غزلوں کی نسبت نظموں کا پلڑا بلحاظِ تعداد بھاری ہے مگر مجموعی طور پر موضوعات و مضامین کے حوالے سے غزلوں اور نظموں دونوں میں ایک توازن قائم ہے۔عمدگی کے ساتھ غزل لکھنے کا ملکہ رکھنے والے ڈاکٹر مظہر الحق نے اپنے دکھ درد ، فکری کرب اورمعاشرتی المیوں کواپنی نظموں میں عیاں کیا ہے۔ معاشرتی ،اخلاقی،سیاسی وسماجی مسائل او رتفریق، خوف و ہراس،موت و حیات، بھوک ، مفلوک الحالی، کسمپرسی، الغرض تمام تلخ دنیاوی حقائق اپنی نظموں میں خصوصیت کے ساتھ نا صرف بیان کیے ہیں بلکہ ان کے محسوسات میں کڑھتے رہتے ہیں، مثلاَ ان کی ایک نظم’’ خبطی ‘‘ملاحظہ فرمائیے:

روٹی کی راہ تکتے تکتے
سارے بچے بھوک لبوں پر رکھ کر اپنے
نیند سے اب پھر ہار گئے ہیں
سب سے چھوٹا بچہ، ایک برس کا
اپنی ماں کی چھاتی سے پھر
فاقہ چوس رہا ہے
کچھ دن پہلے سانس چلی تھی چولھے کی
تین دنوں سے راکھ اُگلتا رہتا ہے
دیواروں سے لگ کے اُپلے روتے ہیں
صحن میں وحشت ناچ رہی ہے
دیوار و در سے ویرانی سی رستی ہے
ماتم رقص کناں ہے گھر میں
وقت کی جلتی نبض بھی جیسے ڈوب رہی ہے
زندگی جیسے اُوب رہی ہے
کچھ دن پہلے
خود کش بم دھماکے میں
شیدا( بچوں کا ابا)اور ساتھ کئی مزدور بچارے
دھجی دھجی ہو کے بکھرے
اک حوروں کے بیوپاری نے
جنت کے اک خبطی نے
اپنی اک جنت کی خاطر
کتنے گھر دوزخ کر ڈالے
٭
خدا تعالیٰ نے تو انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اپنانائب مقرر کیا۔مگر اس اشرف المخلوقات نے اپنی عظمت و معرفت کو روندتے ہوئے وحشت اور درندگی اختیار کر لی اور ایسے ایسے کام کیے کہ خدا کی پناہ۔انسان نے انسانیت کا چہرہ نوچ لیا ،اس خدا کے نائب نے انسانوں کا لہو پیا، ماس کھایا،حق داروں کے حقوق غصب کیے، بے کسوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ،انسان نے انسان کو زندہ زمین میں گاڑھا، جلایا، بنتِ حوا کی آبرو ریزی کی، ایک جنس سمجھ کر اسکی خرید و فروخت کی۔یہ اشرف المخلوقات فساد ،گناہ اور سر کشی کا ایسا مظاہرہ کر رہی ہے کہ تا قیامت انسان کو راہِ راست سے بہکانے اور بھٹکانے کا عہد کرنے والے ابلیس نے انسان کو سر کشی اور انسانیت کجا ابلیسیت سے تجاوز کرتے دیکھا توتو خدا سے یوں ہمکلام ہوا:
(ابلیس کی ہرزہ سرائی)
مرے مولا
بشر کو، رہ سے بھٹکانے کا جو اک کار تھا
بے کارٹھہرا ہے
کہ برسوں سے زمیں پر اب
کوئی انساں نہیں دیکھا، کوئی آدم نہیں اترا
مجھے اب موت دے دے تُو
٭

انسان کی’’ عظمت‘‘ کا ایک حوالہ دیکھیے کہ ڈاکٹر مظہرالحق صاحب نے کتنی فکری مہارت کے ساتھ انفرادی اور مجموعی طور انسانیت کی نقاب کشائی کی ہے:
؂ کتنی صدیوں کی عبادت ہو گئی تھی رائیگاں
آج تک افسوس ہے یہ، تھا سبب میرا وجود
٭
ڈاکٹر مظہر الحق جہاں اپنی نظموں میں struggleکرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہیں ان کی غزلوں میں بھرپور climaxنظر آتا ہے۔ان کی نظموں کی کچھ لائنیں اور غزلوں کے چند اشعار دیکھتے ہیں:
معصوم(نظم)
اور آج کل وہ غریب مزدور کا اکیلا یتیم بچہ
میں روز مسجد میں دیکھتا تھا جسے اکیلا
اب اس کو سڑکوں پہ دیکھتا ہوں
اسے دعا مانگ مانگ کر مانگنے کی عادت سی ہو گئی ہے
سو آج کل دوہتھیلیوں سے وہ اک ہتھیلی پہ آ گیا ہے
٭
غزلوں کے چنداشعار:
یاد ہیں آنکھوں کو بھی لہجے کی ساری تلخیاں
کان بھی بھولے نہیں اب تک صدا کے ذائقے
مفلسی کے دیوتا جن لڑکیوں کو دیکھ لیں
ان کے ہاتھوں کو نہیں ملتے حنا کے ذائقے
٭
یہ محض اک دل نہیں میرے بدن میں
کوئی کوہِ گراں رکھا ہوا ہے
٭
تمھاری ذات میں اترا ،تو اترا رب کے باطن میں
وگرنہ یہ طہارت تو نہیں ہے سب کے باطن میں
٭
مجھے دائماََ رہی حسرتیں اسی بات پر
وہ جو میرے دل کا قرار تھے مجھے کھا گئے
ترے واقعہ میں عدو کا ذکر ہے جا بجا
مرا سانحہ مرے یار تھے مجھے کھا گئے
٭
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر مظہر الحق کے افکار کورفعتیں اور ان کے قلم کو مزید لکھنے کی طاقت عطا فرمائے۔ ڈاکٹر مظہر الحق جیسے حساس طبع لوگ ہمارے معاشرے کے جراح ہیں ان کے افکار میں گندھی ان کی شاعری زندگی میں زہر گھولتی تلخیوں کے لیے ’’ تریاق‘‘ کی تاثیر رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مظہر الحق کو اپنے عمدہ شعری مجموعے’’تریاق‘‘ کی اشاعت پر دلی مبارکباد۔
٭٭٭٭
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Sarmad

Read More Articles by Saleem Sarmad: 14 Articles with 13416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2017 Views: 559

Comments

آپ کی رائے