ہماری بلی ہم سے ہی میاؤں

(Sami Ullah Malik, )
آج سے دوماہ قبل سوشل میڈیاپرفوج میں بڑے پیمانے پرتبدیلیوں کاچرچاشروع ہواتھاجس میں ایک خبرکورکمانڈرکراچی جنرل نویدمختار کوآئی ایس آئی کاسربراہ بنانے کاتذکرہ بھی تھا جس پر سندھ حکومت اورپی پی کے کئی رہنماؤں نے اندروں خانہ دبے لفظوں اپنی فتح کے احساس کے ساتھ اپنی آئندہ پالیسی کوآگے بڑھانے کاعندیہ دیاتھالیکن وہ یہ بھول گئے کہ اس ادارہ میں افرادنہیں بلکہ ڈسپلن اورپالیسیوں کو دوام ہے۔آصف زرداری اپنی زہرآلودتقریرکے بعدکئی مرتبہ میڈیاپراس کی صفائیاں بھی پیش کرچکے لیکن باخبرحلقے اس سے آگاہ ہیں کہ ان کواپنے اس رویے اوردہمکی آمیزتقریر کے بعدفوری یہ احساس ہوگیاتھاکہ ان کے اپنے ہاتھوں کی لگائی ہوئی کانٹوں بھری فصل بالآخر خودہی کاٹناہوگی۔انہوں نے فوری طورپرعلاج کے بہانے ملک سے فرارمیں عافیت جانی اورجنرل راحیل کے ریٹائرہونے تک ملک واپس آنے کی جرأت نہیں کی۔

اب جنرل راحیل کی بطورچیف آف آرمی سٹاف ریٹائرمنٹ اورکراچی میں آپریشن ضربِ عضب میں مصروف کورکمانڈر نویدمختارکی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طورپرتبادلہ اورڈی جی رینجرزبلال اکبرکی جگہ نئے ڈی جی رینجرزمیجر جنرل سعید کی کراچی میں تقرری کے بعدکراچی آپریشن میں سمندرجیسی گہری خاموشی کچھ حلقوں میں تشویش اورطبقے میں کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ سمجھی جاتی رہی۔پی پی پی نے اس خاموش ماحول کے چھپے رازاورماضی کے تناؤکوجانچنے کیلئے آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ جواس وقت کے کور کمانڈرنویدمختار اورڈی جی بلال اکبر کے تجویزکنندہ تھے ،کوچھیڑا۔ وفاق کوان کے تبادلے کیلئے کہا،وہاں سے مثبت جواب نہ ملاتوآصف زرداری کے مالی مفادات کے نگراں انور مجیدنے زرداری صاحب کی مجوزہ شوگرملوں کیلئے مقامی کسانوں سے گنے کے جبری حصول کیلئے مقامی پولیس کواستعمال کرنے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی جی پولیس خواجہ کے ساتھ تلخ کلامی کے بعدان کوسبق سکھانے کی دہمکی دے ڈالی جس پرسندھ حکومت نے انہیں جبری رخصت پربھیج دیا۔اس جبری رخصت پربھی جب وفاق خاموش رہا تو پھرسمجھا یہ گیاکہ دورِ خزاں اب رخصت ہوااورموسم بہارکابڑھ کراستقبال کیاجائے۔

پارٹی نے انقلابِ بہارکے استقبال کیلئے آصف زرداری کوپاکستان آنے کاسگنل دیاتاکہ موجودہ حکومت جوپاناماکی وجہ سے دباؤکاشکارہے،اس سے ۲۷دسمبر سے بظاہر چارنکات کی منظوری کیلئے دمادم مست قلندرکی دھمال ڈالی جائے لیکن اندرون خانہ ڈاکٹرعاصم،عذیربلوچ اورایان علی سمیت دیگر مقدمات کے معاملات طے کئے جائیں۔اسی پروگرام کوحتمی شکل دیکربالآخرآصف زرداری صاحب کی ٢٣دسمبرکی آمدکااعلان کردیاگیاجس پرنوازشریف صاحب نے بھی اپنی خوشی کااظہارکرکے مہرثبت کردی۔ایک باخبرصحافی کے مطابق فریال تالپورجنہوں آصف زرداری کی پرویزمشرف سے ۲۰۰۴ء میں ڈیل کروائی تھی،ان کے ذریعے اپنے بھائی کوفی الحال نہ آنے کاپیغام بھجوایا کہ ابھی ماحول سازگار نہیں لیکن آصف زرداری نے ڈاکٹرعاصم کی طرح بات نہ مانی اورپاکستان آنے کافیصلہ برقراررکھا۔

سوال یہ ہے کہ وہ آناکیوں چاہتے تھے؟اس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کی پارٹی کاایک مؤثرگروپ ان کے خلاف پارٹی میں تیارہورہاہے جس میں مبینہ طورپراعتزازحسن،شیری رحمان، پرویز اشرف سمیت کئی اورلوگ شامل ہیں۔ان کوبتاناوقت کی ضرورت سمجھاگیاکہ وہ ہی پارٹی کے ان داتاہیں اور ان کی مرضی ہی چلے گا۔دبئی سے آصف زرداری ابھی طیارے میں سواربھی نہیں ہوئے تھے کہ آپریشن ضرب میں سمندر جیسی خاموشی نے خطرناک طوفان کاجواربھاٹااٹھا اوررینجرزکے دستوں نے انورمجیدجن کی نارااضگی پرآئی جی پولیس اے ڈی خواجہ چھٹی پر بجھوائے گئے اوریہ کہہ کران کی حیثیت منوائی گئی کہ ''ہماری بلی ہم ہی سے میاؤں'' ۔اسی طاقتورانورمجیدکے اومنی گروپ کے دفاتر پرچھاپے پڑے، خفیہ خانوں سے۱۷ کلاشنکوف،۴پستول،۹بال بم،۳۲۲۵گولیاں برآمد کرکے انورمجیدکے خاص دست راست افرادشہزادشاہد،رجب علی راجپر،اجمل خان،کامران منیرانصاری اورکاشف حسین کوحراست میں لے لیاگیاتوکہنے والوں نے کہاکہ''بدلتاہے رنگ آسماں کیسے کیسے''۔رینجرزکی آئی آئی چندریگرروڈ، میٹروول ،ہاکی اسٹیڈیم سے منسلک دفاترمیں چھاپہ مارکاروائی ایک گھنٹے جاری رہیں۔

کامران منیرجواومنی گروپ کااہم فردایڈمن منیجراورکاشف شاہ کوسندھ کے وزیر اعلیٰ سیدمرادعلی شاہ کے اس شکوے کے ساتھ کہ چھاپہ کیلئے مناسب وقت کا انتخاب نہیں کیاگیا،ان دونوں کوچھوڑدیاگیا۔ان چھاپوں کے ساتھ خودوزیر اعظم نوازشریف جوآصف زرداری کی پاکستان آمدکو خوش آئندقراردے رہے تھے انہیں بھی حیرانی لاحق ہوئی۔ان سے آئی ایس آئی کے سربراہ نویدمختاراوروفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارنے ملاقاتیں کیں۔چوہدری نثارکوہدفِ تنقید بنانے والے پی پی کے جیالے رہنماءچوہدری نثارکے ترپ کے پتے سے بازی سیاست کے میدان میں بری طرح ہارگئے اورہاری ہوئی بازی کونبھاتے ہوئے دیکھے گئے۔جو ڈاکٹرعاصم اورایان علی کے معاملے کوسلجھانے چلے تھے مزیدالجھن کا شکار ہوگئے۔ آصف زرداری کیلئے یہ اہم مرحلہ تھا،وہ پروگرام ملتوی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔آپریشن اورآمد کے درمیان چندگھنٹوں کافاصلہ رہا۔وہی یوسف رضاگیلانی کوعدالت عظمیٰ کی طرف کا برخواست سزاکاحکم اوراس لمحہ عدالت برخواست کے معاملے نے سزایافتہ بھی کردیااورحکومت کی طرف سے معافی کامرحلہ بھی نہ آنے دیا۔اس لئے آصف زرداری نے وطن لوٹنے کے فیصلے کوبرقراررکھا،ان کاشائدیہ خیال تھاکہ ان کااستقبال کراچی ائیرپورٹ پر اتناہی شاندارہوگاجتنا۲۰۰۷ء میں بے نظیر بھٹوکاہواتھاتووہ اس عوامی ہجوم کواس نئے دباؤ کوکم کرنے کیلئے استعمال کرسکیں گے مگر ایساہجوم بھرپورکوششوں اورتجوریوں کے منہ کھولنے کے باوجودنہ ہوسکااورزرداری صاحب کایہ پلان بری طرح فلاپ ہوگیا۔

آصف زرداری نے دبئی واپسی سے قبل جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق کو فون کرکے سندھ کے متنازعہ بل جس میں اسلام کی قبولیت پرعمرکی پابندی لگائی گئی ہے،کوواپس لینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔یادرہے کہ جماعت اسلامی کاسندھ اسمبلی میں ایک بھی ممبرنہیں ہے ۔یہ اسی قسم کی ایک چال ہے جس طرح ذوالفقاربھٹونے اپنے اقتدارکی ڈوبتی ناؤکوبچانے کیلئے سیدابواعلیٰ مودودی سے ملاقات کے دوران انہیں بعض یقین دہانیاں کرائی تھیں۔کیاآصف زرداری کی بھی ناؤ بھی خطرے سے دوچارہوچلی ہے،آصف زرداری ناخدا ہیں وہ بہترسمجھتے ہیں۔جب استقبال کیلئے بھرپور ہجوم جمع نہ ہوسکا تو مجوزہ جلسے سے موصوف صرف تیرہ منٹ خطاب کرسکے۔ان کاخطاب کشمیر اورفوج کی حمائت کے گردگھومتارہا۔ چار نکات کی منظوری ،لانگ مارچ کاتذکرہ خارج از تقریر رہا۔مقتدرحلقے کے بارے میں آصف زرداری کی تلخ کلامی اورنازیبا کلمات کے بعدسے مقتدر حلقوں کایہ بھی کہنا باخبر حلقوں کے مطابق رہاکہ جس طرح اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بات مجمع عام میں کہی گئی،اسی طرح مجمع عام میں اس جملے پرمعذرت بھی کی جانی چاہئے تھی۔

آصف زرداری نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہاکہ وہ بھاگنے والے نہیں،وہ گڑھی بخش میں دفن ہوں گے،یہ ان کامعنی خیز جملہ تھا۔آصف زرداری کی آمدکوئی تلاطم نہ اٹھاسکی،ان جیسازیرک یہ کیوں بھول گیاکہ کراچی میں تعینات کورکمانڈرنویدمختارجونگراں آپریشن ضربِ عضب تھے،اب ڈی جی آئی ایس آئی بنا دیئے گئے ہیں۔آصف زرداری کے کسی وقت میں انتہائی قریبی دوست جوضلع نظیرآبادکے ہیں،انہوں نے کئی ماہ پہلے صحافیوں کواپنے بنگلے پرچائے پارٹی پربلاکریہ تذکرہ کیاتھاکہ کراچی کے کورکمانڈرجلدہی آئی ایس آئی کے سربراہ بن جائیں گے اوران کے بعد ضربِ عضب میں تیزی آئے گی اورپھرایساہی ہوا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گرینڈ الائنس کے پتے کاکھیل اب پراناہوگیا ہے،اب سیاست دورکمرشل ہے،ہرپارٹی اپنافائدہ دیکھ کرفیصلہ کرتی ہے۔ بلاول،آصف زرداری کے استقبال کیلئے سیکورٹی رسک کی وجہ سے موجودنہیں تھے مگرکتنے ہی نامورپارٹی کے غم گساربھی تو استقبال کیلئے نہیں آئے۔کیوں کیا خطرہ تھاانہیں؟ سندھ کی سیاست میں مرنے والے کی فاتحہ میں دیکھاجاتاہے کہ کون کب آیااور کون نہیں آیا؟سیاسی حلقوں کے مطابق یہ شومکمل طورپرفلاپ رہا۔

اب پی پی کے کرپٹ وزاراء اوردوسرے لٹیرے منظورکاکاجن کے بیرونِ ملک میں پانچ ارب ڈالراکاؤنٹ میں بتائے گئے ہیں،ان کوعبدالرحمٰن بھولا کی طرح ملک میں لانے کیلئے انٹرپول سے رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔سندھ میں اسلام دشمن قانون کی منظوری جوپی پی کے دامن پربدترین داغ ہے،اس کایہ عذاب ہے کہ بات سنبھل کرنہیں دے رہی۔ آصف زرداری سمیت پوری پیپلزپارٹی توبہ تائب ہوکرشریعت کے خلاف فیصلہ فوری واپس لے کہیں دیرنہ ہو جائے اور سب کچھ ڈھیرنہ ہوجائے۔شنیدہے کہ چوہدری نثارکے پاس درجن بھرفائلیں قیامت ڈھانے والی اب بھی موجود ہیں۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231207 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2017 Views: 497

Comments

آپ کی رائے