قیامت سے پہلے قیامت

(Sami Ullah Malik, )
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ اورکشمیرکے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کی ابھی تک نہ ہی سنجیدگی سے کوشش کی ہے اورنہ ہی مسقبل قریب میں اس کی کوئی امیدہے کہ اس کی طرف کوئی عملاًتوجہ دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکانے ان مسائل کی آڑ میں اپنے مفادات کے حصول کیلئے فریقین کوخوب استعمال کیاہے اورآئندہ بھی وہ اسی پالیسی پرگامزن رہیں گے۔بظاہر امریکی صدور اپنے بیانات کی حدتک پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ضرورت پرزور دیتے رہتے ہیں لیکن اس خطے میں اپنے مفادات کیلئے انہوں نے بھارت کواستعمال کرنے کیلئے اب نئے سرے سے دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کردی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تنازعات بدستورنہ صرف قائم ہیں بلکہ اس خطے کے امن کیلئے خدشات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔

ادھراسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کوئی بھی باضابطہ اور پائیدار نوعیت کا امن معاہدہ فی الحال کسی بھی ذہن کے افق پر دور دور تک نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان دونوں خطوں میں قیام امن سے متعلق کوششوں کے حوالے سے امریکا نے زیادہ توجہ کے ساتھ کام نہیں کیا۔ سفارت کاری کے میدان میں وہ ٹاپ ڈاون اپروچ کے ساتھ کام کرتا رہا ہے مگر اب تک جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکی پالیسیوں میں وہ بات دکھائی نہیں دی جس کے لیے لوگ ترس رہے ہیں۔

کبھی کبھی تزویراتی معاملات میں دانش اور حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی مسئلے کو محدود کرنے کے بجائے وسعت دی جائے۔ اگر کوئی اتحاد کسی بھی مسئلے کوبلندی پرجاکرکنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتاہوتومعاملات کو(درپردہ)ٹریک ٹوپربھی چلانے کی کوشش کی جاتی ہے اورباٹم اپ اپروچ بھی کارفرمادکھائی دیتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ اورایشیا کے معاملے میں ایساہوتارہاہے۔بعض اوقات فریقین محسوس کرسکتے ہیں اورکرتے ہیں کہ کسی بھی نئے اورحقیقی خطرے کے مقابلے میں ان کی اپنی پوزیشن خاصی غیر اہم ہے۔

دنیابھرمیں ایسے بہت سے تنازعات ہیں جوطویل مدت کے حامل ہوچکےہیں۔پچیس سال یااس سے زائدچلنے والے کسی بھی تنازع کومنہ زورقرار دیاجاتاہے ۔پیٹرکولمین،والمین واکن اوردوسرے بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں اورمفکرین نے طویل مدت سے چلے آرہےتنازعات کوخانہ جنگی سے تعبیرکیاہے۔ امریکاکی مشہورزمانہ رینڈفاونڈیشن کاکہناہے کہ اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان معاملات طے پاجائیں اورسب کچھ نارمل ہو جائے توکم وبیش ١٨٣/ ارب ڈالرکافائدہ پورے خطے کوپہنچ سکتاہے۔اسی طرح اگرپاکستان اوربھارت اپنے تمام تنازعات حل کرنے پرراضی ہو جائیں توپورے خطے کوجوفائدہ پہنچے گا،وہ بھی بِلامبالغہ سیکڑوں ارب ڈالر ہی کاہوگا۔ مشرقی وسطیٰ کاتنازع اگرطے پاجائے یعنی اسرائیل اور فلسطین اس مسئلے کاکوئی پائیدارحل تلاش کرلیں توایک کروڑتیس لاکھ افرادکوبراہِ راست فائدہ پہنچے گاجبکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان معاملات طے پاجانے کی صورت میں عالمی آبادی کے پانچویں حصے کو اس کابراہِ راست فائدہ پہنچے گااورغربت کی لکیرسے نیچے بسنے والی آبادی صرف چندسالوں میں خوشحالی کی جانب لوٹ سکتی ہے ۔

فلسطین اورکشمیر،دونوں ہی تنازعات اب تقریباًساٹھ سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پرہیں۔ اقوام متحدہ کواپنے قیام کے بعدجن دوبڑے مسائل کا سامناکرنا پڑاوہ یہی توہیں اوراب بھی ان کے حل ہونے کے آثارنہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب ان دونوں ہی مسائل یاتنازعات سے یکسر بیزارہوچکی ہے۔
٢٠٠٣ء میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تحت اسٹیفن پی کوہن کی شائع ہونے والی کتاب شوٹنگ فار اے سینچری میں فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کاحقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کیاگیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس لیے پیچیدہ ہے کہ اس میں فریقین کی اصل پوزیشن تبدیل نہیں ہوتی۔ دیکھا گیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے میں فریقین کسی بھی ایک بات پرقائم نہیں رہتے۔کبھی ایسالگتاہے کہ معاملہ نمٹائے جانے کے بہت نزدیک ہے اور کبھی سب کچھ اچانک تبدیل ہوجاتاہے اورفریقین ایک بارپھرایک دوسرے پربندوق تان لیتے ہیں۔ اسرائیل میں جب انتہاء پسند لکودپارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے،تب معاملات اچانک بگڑجاتے ہیں۔ دوسری طرف حماس کی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے تواسرائیل کے وجودکو برداشت نہ کرنے کی روش پھرزیادہ مقبولیت حاصل کرلیتی ہے۔

معاملات کودرست راہ پرگامزن کرنے کیلئے اعتمادبنیادی عنصرہے۔سابق امریکی صدررونالڈریگن نے خوب کہاتھاکہ بھروسہ ضرورکیجیے،مگرپہلے تصدیق کرلیجیے۔یہ بنیادی طورپرروسی اصطلاح ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ کسی بھی بڑے تنازع یاایشوکوحل کرنے کی طرف قدم بڑھانے کیلئےمختلف اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔عوامی سطح پراورمعیشت کے حوالے سے ایک دوسرے پربھروسہ کرناناگزیرہے اوریوں منڈیوں کے درمیان اعتمادکی فضا قائم ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ مل کرمعاملات کودرست کرنے کی طرف قدم بڑھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔کسی بھی معاملے میں سفارتی کوششیں اسی وقت رنگ لاسکتی ہیں،جب فریقین ایک دوسرے پرکسی نہ کسی حدتک بھروساکرنے کوتیارہوں۔ جب ایک بار بھروساقائم ہوجائے توبہت سے معاملات میں ایک دوسرے کوقابلِ اعتبار سمجھنے کی راہ بھی ہموارہوتی جاتی ہے۔عالمی سطح پرغیرمعمولی اہمیت رکھنے والے یاطویل مدت سے حل طلب چلے آرہے مسائل کے حل کی طرف جانے کیلئےاعتماد بنیادی شرط ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی سطح کے رابطوں اوربازاروں کے درمیان اشتراکِ عمل کے حوالے سے اقدامات ناکام ہوتے رہے ہیں مگر خیر،پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا بھی کبھی کامیابی کی ضمانت نہیں رہا۔

دنیا میں کئی ادارے ایسے ہیں جو کشمیراورفلسطین کے مسئلے کوحل کرنے کے حوالے سے کوشش کرتے رہے ہیں۔ فلسطینیوں اوراسرائیلیوں یاپھر پاکستانیوں اوربھارتیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموارکرنے کی غرض سے بہت سی فاونڈیشنزنے غیرمعمولی فنڈنگ کی ہے۔ یہ امیدآج تک دم نہیں توڑ سکی کہ کبھی نہ کبھی جارح قوتوں کواپنی حماقتوں اور کوتاہیوں کااحساس ہوگااوروہ کسی بین الاقوامی فورم کی ثالثی کے تحت مذاکرات کیلئے تیارہوہی جائیں گے۔فلسطین اورکشمیرکا تنازع حل کرنے سے متعلق کوششیں دم توڑتی رہی ہیں مگر اس کے باوجود امید کادامن کسی نے بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔ سب کی بھرپورکوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طورمعاملات کودرست کیاجائے تاکہ آنے والی نسلیں سکون کاسانس لے سکیں۔

جہاں تک ہماری معلومات کاتعلق ہے،جامعہ کراچی کے سواکہیں بھی پروگرام کی سطح پرپاک بھارت تنازعات پرکام نہیں کیاگیا۔پاکستان اوربھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہے۔ یہ بات بل کلنٹن اور اوباما دونوں نے تسلیم کی مگرسچ یہ ہے کہ یہ محض زمین کاتنازع نہیں ہے اورپھراس میں چین بھی کسی نہ کسی طورجڑاہواہے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی کشمیر کے مسئلے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں اوریہودیوں کیلئے شناخت کامسئلہ بھی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہرفریق اپنے آپ کوہدف سمجھتا ہے۔ اس کایہ دعویٰ ہے کہ اس سے انصاف نہیں کیاگیا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمدہوا ہے کہ لوگ معاملات کودرست کرنے کی طرف جانے کیلئےتیارہی نہیں۔ سیاسی ہڑبونگ میں اسے بری طرح الجھادیاگیاہے لیکن بہرحال یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ فلسطین اورکشمیر میں قابض حکمرانوں نے وہاں کی عوام کے بنیادی حقوق کوبری طرح سلب کرکے ان کاجینادوبھرکررکھاہے۔

فلسطین اورکشمیر کے اشوزنے معاملات کواس قدرالجھا دیاہے کہ اب ثقافتی اورمعاشرتی روابط بھی یکسرناکام ہوکررہ گئے ہیں۔ ایسے زمانے گزرے ہیں کہ جب ان خطوں میں لوگوں کی نقل مکانی بڑے پیمانے پرہواکرتی تھی۔مغلوں کے دورمیں جنوبی ایشیاایساخطہ تھاجس میں لوگ بڑے پیمانے پراِدھرسے ادھرہوجایاکرتے تھے۔جن علاقوں میں آج پاکستان ہے،وہاں بھی پورے موجودہ بھارت سے لوگ آیاکرتے تھے اور صنعت وحرفت کے فروغ میں اپناکردار اداکرتے تھے۔ یہی حال فلسطین کا بھی تھا۔وہاں بھی پورے خطے کے لوگ آتے تھے اورمعاشی امورکے ساتھ ساتھ سماجی اورثقافتی امورکوبھی تقویت بہم پہنچاتے تھے۔فلسطین مذہبی اعتبارسے بھی مسلمانوں،یہودیوں اورعیسائیوں کیلئےانتہائی اہم تھا۔

فلسطین اورکشمیرپرکئی مرتبہ امن عمل کیلئے مذاکرات کسی نہ کسی شکل میں ہوتے رہے، تجارت بڑھاکر،جنگ کاخطرہ کم کرکے معاملات کو درستی کی راہ پرلانے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن درپردہ ایسے لوگ موجودہیں جوکسی حال میں مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے۔ان کی خواہش ہے کہ معاملات جوں کے توں رہیں اورکوئی بھی پائیدارحل سامنے نہ آئے،کوئی تصفیہ نہ ہو۔انہیں اچھی طرح اندازہ کہ کسی پائیدارحل کے سامنے آنے سے یاکوئی تصفیہ طے پاجانے سے ان کے مفادات کوضرب لگے گی۔اس کانتیجہ یہ برآمدہواہے کہ اب کشمیراور فلسطین کے اشوزکےفریقین کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے کے بارے میں شدید خدشات پالتے رہتے ہیں اور ہر بات پر شک بھی کرتے ہیں۔بھارت میں گاندھی جی کے سواکسی نے بھی پاکستان پربھروسانہیں کیا۔

سابق بھارتی وزیراعظم آنجہانی مسزاندرا گاندھی نے بھی پاکستان کودو ٹکڑے کرنے میں مرکزی کرداراداکیااوروہ پاکستان کے نیوکلیرپروگرام کوناکام بنانے کی کوشش کرنے والوں میں بھی نمایاں تھیں اورموجودہ حکومت نے تودشمنی کے سارے سابقہ ریکارڈتوڑدیئے ہیں جس کی بناء پراب دوسری طرف بھارت پربھروسا نہ کرنے والوں کی بھی پاکستان میں کوئی کمی نہیں۔ادھر فلسطین اوراسرائیل میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو بدگمانیوں کو ہوا دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔چاروں ممالک یاعلاقوں کے خفیہ ادارے ہروقت شکوک وشبہات پربھی پوری توجہ دیتے ہیں،دراصل چاروں ممالک تقسیم کے عذاب سے گزرے ہیں۔ ایسے میں یہ بات زیادہ عجیب نہیں کہ ایک دوسرے پرشک کیا جائے اور معاملات کو یقین کی منزل تک لے جانے سے روکا جائے۔ کچھ بیرونی طاقتیں بھی ان دونوں قضیوں کوجوں کاتوں رہنے دیناچاہتے ہیں۔ ایسا کرنے ہی میں ان کابھلاہے یعنی ان کی روزی روٹی چلتی رہے گی۔اگریہ دیرینہ مسائل حل ہوگئے توان کاتوپورادھنداہی چوپٹ ہوجائے گا۔

امریکااوردیگریورپی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیراورفلسطین دونوں کے حوالے سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی آدرش اورنظریات بھی کام نہیں کرتے۔دونوں قضیوں میں جمہوریت اب تک اپناکردارعمدگی سے ادا نہیں کرپائی۔اسی طورنظریات بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔امریکایایورپ کا سیکولراِزم اب تک پاکستان، بھارت ،اسرائیل اورفلسطین چاروں میں زیادہ کارگرثابت نہیں ہواکیونکہ لوگوں نے اسے اپنایاہی نہیں۔امریکاکاکردار ملا جلارہاہے۔،وہ صرف اب تک ان قضیوں کوحل کرنے سے اس بات کیلئے کوشاں رہاہے کہ کوئی بڑاتصادم نہ ہویعنی جنوبی ایشیا اورمشرقِ وسطی میں وسیع پیمانے پرتباہی کاسلسلہ شروع نہ ہو۔ایک بنیادی مقصد ایٹمی جنگ کوروکنابھی ہے۔ امریکالاکھ کوشش کے باوجود لائن آف کنٹرول کو پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ سرحد کا درجہ دلانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہی حال فلسطین کے اشو کا بھی ہے۔امریکااب تک اپنی کوئی بھی بات منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔بل کلنٹن نے کشمیرکودنیاکا خطرناک ترین خطہ قراردیا تھامگرباراک اوبامانے جب بھی ایسی کوئی بات کہنی چاہی ہے، مشیروں نے کچھ اورہی سجھایاہے۔ایسے میں بہتری کی زیادہ امیدنہیں رکھی جاسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی اب تک مسائل حل کرنے کی ایسی کوئی کوشش بھی توسامنے نہیں آئی جس سے کوئی ایسا نتیجہ برآمدہو جسے بہتر اورقابلِ رشک قراردیا جاسکے۔

مغرب اورامریکی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات کومعمول پرلانے کی کوئی بھی کوشش اسی وقت کامیابی سے ہمکنارہوسکتی ہے،جب فریقین ایک دوسرے کوقبول کرنے کیلئےتیارہوں اوراس حوالے سے اقدامات بھی کریں۔ چاروں معاشروں کوایک دوسرے کیلئےاوپن اپ کی پالیسی اپناناہوگی،ایک دوسرے کوقبول کرناہوگا۔ پاکستان اوربھارت کواگر جنوبی ایشیامیں پائیدارامن یقینی بناناہے توایک دوسرے کوکھلے دل سے قبول کرنے کی راہ پرگامزن ہوناہی پڑے گا۔ اسی طورفلسطینیوں اور اسرائیلیوں کیلئےبھی ایک دوسرے کواپنائے بغیرآگے بڑھنے کاآپشن اب تک تودکھائی نہیں دیتا۔ چاروں معاشرے ایک دوسرے سے خائف ہیں۔ جہاں شدیدخوف پایاجاتاہو،وہاں کسی بھی بہتری کی توقع بھلاکیسے رکھی جاسکتی ہے؟

معاملات کومعمول پرلانے کی تمام مساعی اب تک شدید خوف کے سائے میں جاری رہی ہیں۔ جب ایک دوسرے پربھروساہی نہیں ہوگاتوخیرکی کوئی صورت بھلاکیسے نکل پائے گی؟حقیقت یہ ہے کہ خوف نسلوں کو منتقل ہوتارہا ۔اس وقت پاکستان اوربھارت کے لوگ ایک دوسرے کوشک کی نظرسے دیکھتے ہیں تواس کابنیادی سبب یہ ہے کہ ہرمعاملے میں صرف شک ہی پایاجاتا ہے،اعتمادیااعتبارکہیں ہے ہی نہیں۔
کبھی کبھی بیرونی فریق بھی تصفیہ کراسکتے ہیں۔١٩٦٠ء میں پاکستان اوربھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک نے کرایاتھا۔ ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری ہیں مگر فی الحال بھارت کسی بھی ثالث کوقبول کرنے کیلئےتیارنہیں۔بظاہر اپنی برترعلاقائی حیثیت بھی اس کیلئے اناکامسئلہ بن گئی ہے۔ وہ کسی ثالث کوقبول کرکے کمزورہونے کاتاثرنہیں دیناچاہتاحالانکہ عسکری لحاظ سے پاکستان ناقابل یقین حدتک بھارت کو کہیں پیچھے چھوڑچکاہےلیکن مشرقِ وسطی میں فریقین اپنے اپنے موقف پریوں اڑے ہوئے ہیں کہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کوتیارنہیں۔ جب تک لچک پیدانہیں ہوگی،کوئی تصفیہ بھی ممکن نہ بنایا جاسکے گا۔ فلسطین کا مسئلہ بھی دن بہ دن الجھتاہی جارہا ہے۔ثالثی کی کوششیں بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ ہرباریہی ہوا ہے کہ فریقین زیادہ ہٹ دھرمی کے ساتھ پیچھے ہٹے ہیں اوراپنے اپنے موقف کومزیدغیرلچکداربنالیاہے۔

فلسطین اورکشمیرکامسئلہ اب عالمی تناظرمیں دیکھناہو گا کہیں یہ آگ بھڑک کرساری دنیاکوبھسم نہ کردے اور فریقین کوبھی سمجھناہوگا کہ اگرانہوں نے جلدکوئی قابلِ قبول اورپائیدارحل تلاش نہ کیاتوان کامسئلہ پورے خطے کی ترقی اوراستحکام کیلئےانتہائی خطرناک ثابت ہوکردم لے گا۔ پاکستان اوربھارت کیلئےبدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظرمیں سوچنااوربہتراندازسے لچک پیداکرکے معاملات درست کرنالازم ہے۔ دوسری طرف فلسطینیوں اوراسرائیلیوں کیلئےناگزیرہوچکاہے کہ اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کریں اوربدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں فلسطین کے قضیے کاکوئی ایساحل تلاش کریں توترقی اوراستحکام کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

انتہاءپسندی اوربنیادپرستی خطرے کی صورت میں موجودہیں مگریہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پرقابونہ پایاجاسکے۔سیاسی قیادت کیلئےلازم ہے کہ زیادہ سے زیادہ لچکداررویہ اپنائے تاکہ معاملات درستی کی طرف گامزن ہوں۔ بنیادپرستوں اورانتہاپسندوں کوزیادہ اہمیت نہ دینا ہی بہترآپشن ہے۔ اگراس معاملے میں تاخیریاکوتاہی سے کام لیاگیاتو معاملات مزیدخرابی کی طرف جائیں گے۔اس وقت کوئی بھی ملک یاخطہ خودکوحالات کے شکنجے میں جکڑاہوانہیں دیکھناچاہتا۔یہ بات تمام قضیوں کے تمام فریقوں کوسمجھنی ہوگی۔
پاک بھارت تنازع ہویافلسطین اسرائیل قضیہ،دونوں میں امریکی کردار اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک خاص حدتک ہے۔ امریکادونوں جوڑوں کے قضیوں میں بظاہراس لیے دلچسپی لے رہاہے کہ معاملات بے قابونہ ہوں اورنوبت جوہری ہتھیاروں کے استعمال تک نہ جاپہنچے۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان اور اسرائیل نے جوہری تجربات کیے توامریکانے انہیں کسی نہ کسی طورقبول کیا اورچین کی بڑھتی ہوئی معاشی وفوجی ترقی کے آگے بندباندھنے کیلئے بھارت سے بھی معاملات کوایک خاص تناظر میں استعمال کرنے کیلئے دوستی کی پینگیں خاصی بڑھائی ہیں۔امریکا چاہتاہے کہ معاملات اگرکسی جامع تصفیے کی طرف نہ بھی جاسکیں تو اتناضرورہوکہ معاملات بگڑتے بگڑتے کسی بڑی لڑائی یاجنگ کی طرف نہ چلے جائیں۔ امریکانے کشمیراورفلسطین دونوں تنازع کے حل کیلئےباٹم اپ اورباٹم ڈاؤن دونوں ہی طریقے اختیار کردیکھے ہیں۔ باٹم ڈاون طریقہ یہ ہے کہ فریقین کی مرکزی حکومتیں اپنے اپنے اہداف یاترجیحات طے کریں،کسی نہ کسی طورایک دوسرے کوقبول کریں اورپھرمعاملات عوام تک پہنچیں۔ یعنی پہلے قیادتیں مل بیٹھیں اورایک دوسرے کوقبول کرنے کی طرف گامزن ہوں۔ باٹم اپ طریقہ یہ ہے کہ پہلے فریقین یعنی قضیے کے فریق ممالک کے باشندوں کے درمیان رابطے قائم ہوں،ثقافتی روابط کوبھی اہمیت دی جائے اورتجارت کوبھی۔ تجارت کادائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاملات درست ہونے لگتے ہیں۔ یہ کام راتوں رات نہیں ہوتا۔اعتمادکی فضاقائم یابحال ہونے میں دیر لگتی ہے۔ امریکانے دونوں طریقے آزماکردیکھے مگراب تک خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ معاملہ کشمیرکاہویا فلسطین کا،فریقین فی الحال کسی جامع تصفیے کے موڈمیں نہیں ۔

سیاسی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ اب ان دیرینہ تنازعات کے حل کی ایک ہی صورت ہے کہ اب ان مسائل کے حل کیلئے تمام فریقوں کومذاکرات کی میزپر لاکرفریقین کویقین دلایاجائے کہ تنازع کاکوئی پائیداراورمنصفانہ حل تلاش نہ کرنے پردوسروں کے ساتھ ساتھ خودانہیں بھی شدیدنقصان سے دوچارہوناپڑے گا اور امریکا، مغرب سمیت روس اورچین کوبھی اپنامثبت کرداراداکرنے پرمجبورکیاجائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی مرتبہ بھارت میں ہندوانتہاپسندی کو باقاعدہ حکومتی حمائت حاصل ہے اوربعض معاملات میں حکومت بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے جبکہ خودبھارتی سیاسی تجزیہ نگار اس بات کی دہائی دے رہے ہیں اس ہندوانتہاء پسندی کواگر فوری طورپر کنٹرول نہ کیاگیا تو ملک میں جاری تین درجن علیحدگی کی تحریکیں مزید مضبوط ہوکراپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیں گی جبکہ اسی انتہاء پسندی نے معاملات کواس نہج تک پہنچادیاہے کہ اب اسرائیل اورسعودی عرب میں فاصلے کم ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے معاملے میں چین نے اپناکردارکھل کراداکرنے کاتہیہ کر رکھاہے۔

مشہورامریکی تجزیہ نگاروں اسٹیفن کوہن اورمایان مالٹرکی ایک مشترکہ مشہورتحقیق کے مطابق'' اسرائیل، فلسطین،یورپ،بھارت،ایران اورامریکی براعظم میں کوئی بھی ملک نہیں چاہتاکہ مشرقِ وسطی میں سنی انتہاپسنداقتدار میں آئیں۔ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش)کے معاملے میں جوکچھ بھی ہوا ہے،وہ ہمارے سامنے ہے۔

افغانستان میں عوام نہیں چاہتے کہ افغان سرزمین سے تعلق رکھنے والے طالبان کی جگہ داعش کے جنگجو لے لیں۔سنی انتہاء پسندوں کوکنٹرول کرنے کے معاملے میں ایران نہایت اہم کردار اداکر سکتا ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ امریکا اپنی سرزمین،یورپ اورخود ایران کوسنی انتہا پسندی سے لاحق خطرات کے پیش نظر ایران کے ساتھ مل کرکام کرسکے گایانہیں۔امریکاایساپہلے بھی کرچکا ہے ۔دوسری جنگ عظیم میں امریکانے نازی جرمنی کوشکست سے دوچارکرنے کیلئےسابق سوویت یونین کے ساتھ مل کرکام کیاتھا۔
اب وقت آگیاہے کہ امریکادیرینہ تنازعات کےحل کی کوئی صورت نکالے۔ پہلے مرحلے میں توفریقین کویہ بتاناپڑے گاکہ ان کیلئےنچلی سطح سے رابطے شروع کرنے کے سواچارہ نہیں۔ یہ بات بھی فریقین کے ذہن نشین کراناہوگی کہ اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں۔انہیں فوری طورپرکوئی فیصلہ کرناہوگا۔ ایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ ہرملک میں غیرمعمولی ترقی پسند یعنی لبرل عناصر اوررجعت پسندوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے۔ اگررجعت پسندکوئی قدم اٹھاتے ہیں تولبرل عناصرچونک اٹھتے ہیں اوراگرلبرل کچھ کرناچاہیں تومذہبی انتہاپسند انہیں قبول نہیں کرتے۔ پاکستان،بھارت،فلسطین اسرائیل،ہرایک کوزمینی حقائق قبول کرتے ہوئے اپنی بے جاضداوراناکوختم کرتے ہوئے عقل اورہوش کے ناخن لیناہوں گے۔مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیامیں ایسے حالات موجود ہیں جن پرزیادہ غورکرنے سے انہیں دورکرنے کی تحریک ملنی ہی چاہیے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا،مغرب،روس اورچین اپناتمام اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے کشمیر اور فلسطین کے چاروں فریقین کوانسانیت کی بقاء کیلئے ایک ایسے پائیدارمنصفانہ حل پرآمادہ کریں جس سے متاثرہ مظلوم عوام کی نہ صرف اشک شوئی ہوبلکہ ان کی ازسرنوآبادکاری کیلئے پورا تعاون بھی فراہم کیاجائے اگرکشمیر اورفلسطین کے مسائل کی منصفانہ حل کی طرف توجہ نہ دی گئی تو توپھرایک ایسی خوفناک جنگ کاامکان ہے جس کے نتیجے میں قیامت سے پہلے قیامت برپا ہوجائے گی اوراس قیامت کی تاریخ مرتب کرنے کیلئے بھی کوئی باقی نہ بچے گا''۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226306 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2017 Views: 441

Comments

آپ کی رائے