سال 2017ء کشمیریوں کے نام

(Muhammad Attique, )
بھارتی سازشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہے ۔اکھنڈ بھارت کی خواہش نے بھارت کو پاگل کیا ہوا ہے ۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک کتنی ہی سازشیں ایسی ہیں جو طشت ازبام ہوچکی ہیں ۔ پاکستان کو کسی اور ملک سے خطرہ لاحق ہویا نہ ہو لیکن بھارت سے پاکستان کوہمہ وقت کئی خطرات لاحق ہیں ۔کشمیر کے مسئلہ کو لے کر پاک بھارت تعلقات میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے مان کر بھی بھارت اسے کرنے سے انکاری ہے ۔جمہوری وسیکولر ریاست ہونے کی دعویدار بھارتی ریاست میں مسلمانوں ،عیسائیوں اورسکھوں سمیت چھوٹی ذات کے ہندو بھی شدید دباؤ کا شکا رہیں کیونکہ ہندو دہشت گرد تنظیموں نے ان کا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکارحریت پسندوں کی آواز کو دبانے کی خاطر جو ظلم وستم کررہی ہے اور جس طرح سے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اس نے ہٹلر وہلاکوخان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔جدیدترین ٹیکنالوجی سے کشمیریوں کوحق خودارادیت سے روکا جارہاہے ۔بین الاقوامی طور پر مسلمہ اصولوں کو روندھتے ہوئے بھارت کشمیریوں کی حریت کو دبائے ہوئے ہے ۔

پاکستان میں بھارتی مظالم کے خلاف وقتاََفوقتاََ مختلف آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں ان میں سے سب بلند آواز بلاشبہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید کی ہوتی ہے ۔کشمیریوں کے حق میں آواز شاید ہی ان سے پہلے کوئی اٹھاتا ہوْ۔اب بھی پورے پاکستان میں ان کی تنظیم کی طرف سے کشمیر کانفرنسز کا انعقاد کیا جارہاہے ۔ ایسی ہی ایک کانفرنس13جنوری بروزجمعہ کو فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں جماعۃ الدعوہ فیصل آباد کی طرف سے منعقد کی گئی جس میں راقم الحروف کو بھی ترجمان جماعۃ الدعوۃ فیصل آباد ’’عثمان صادق ‘‘ کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا ۔اسی دعوت نامے کی وجہ سے جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ندیم اعوان ، منجھے ہوئے کالم نگار حبیب اﷲ سلفی ،ختم نبوت ﷺ پر لکھنے والے قلم کارومصنف عبیداﷲ لطیف (’مقام رب العالمین اور فتنہ قادیانیت ‘اور ’ مقام قرآن وحدیث اور فتنہ قادیانیت‘ )،کالم نگار محمد شاہدمحمود ،کالم نگار ممتازحیدر اور سائبرٹیم کے سالار اور ان کی ٹیم سے ملاقات بھی ہوگئی ۔ فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ کی اپنی ایک حیثیت ہے جب قائد اعظمؒ محمد علی جناح 1942ء میں لائل پور(فیصل آباد ) تشریف لائے تو انہوں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا ۔جمعہ کے روز اسی گراؤنڈ میں کشمیر یوں کے حق میں ایک عظیم الشان کانفرنس کی گئی جس میں ضلع فیصل آباد کے رہائشی جوق درجوق شریک تھے اور کرسیوں کے بغیر زمین پر بیٹھی لوگوں کی کثیر تعدادکی وجہ سے دھوبی گھاٹ تنگی داماں کا منظر پیش کررہاتھا ۔خواتین کی کثیر تعداد کی موجودگی اس بات کی شاہد ہے کہ فیصل آباد کی خواتین بھی کشمیریوں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہیں ۔کشمیر کانفرنس میں جہاں دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی وہیں بلوچستان سے خصوصی طور پر تشریف لائے جمہوری وطن پارٹی کے رہنمااور نواب اکبربگٹی کے پوتے نواب شاہ زین بگٹی بھی تھے ۔ نواب شاہ زین بگٹی نے کہا کہ ’’اس کانفرنس کا مقصد بھارت کو بتا ناہے کہ کشمیر ی تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔بلوچستان کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ہمارا رشتہ دین کا ہے اور یہ مضبوط ترین رشتہ ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب کہا کہ بلوچ عوام ہمیں بلا رہی ہے تو میں نے کاؤنٹر بیان دیا کہ بلوچ انڈیا کے ساتھ نہیں ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لئے بلوچستان کے پچاس ہزار نوجوان تیار ہیں جو حافظ محمد سعید کے حکم کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوجب بھی ضرورت ہو گی، کشمیرمیں پاک فوج سے بھی پہلے بلوچوں کو ساتھ پائیں گے۔پاکستان کلمہ کے نام پر بنا ہے اور قیامت تک قائم رہے گا‘‘۔

ولولہ انگیز اور حالات حاضرہ سے متعلق خطاب کرتے ہوئے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہا کہ’’ مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر یہ کہا کہ مشرقی پاکستان کو ہم نے توڑا ۔بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر زراعت،صنعت کا خاتمہ کر کے،ہماری معیشت کو تباہ کر کے،سی پیک کے خلاف سازشیں کرے گا اورحافظ سعید چپ رہے گا، ایسا نہیں ہو سکتا۔بھارت سن لے اگرتو پانی بند کرے گاتو پھر دریاؤں میں خون بہے گا۔نواب شاہ زین بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ پچاس ہزار بلوچ جوان کشمیر میں قربانی کیلئے تیار ہیں۔بھارت نے کل بھوشن کو بلوچستان میں بھیجا،اجیت دوول نے علیحدگی کی تحریکیں چلانے کی سازشیں کی۔آج مودی اور اجیت دول کو میں نہیں بلکہ نواب شاہ زین بگٹی جواب دے رہا ہے۔بگٹی قبیلے کے سردار کا کشمیر کانفرنس میں موجود ہونا انڈیا کے لئے موت کاپیغام ہے ۔فیصل آباد والوں کی قسمت میں اﷲ نے اتحاد کے یہ منظر لکھے تھے۔ مجھے جو محبت بلوچستان میں ملی ہے شایدہی کہیں اور ملی ہو۔ہم یہ سفر جاری رکھیں گے،ملک کو متحد کریں گے۔بلوچستان سے سازشوں کا خاتمہ اور ترقیاتی منصوبے،پاکستان کو لاالہ الااﷲ کا پاکستان بنانے کے لئے عملی لائحہ عمل پیش کریں گے۔میں نے بلوچوں سے وعدہ کیا ہے کہ پاکستان کے کونے کونے میں ان کے حقوق کی بات کروں گا۔بلوچستان سے سوئی گیس نکلی ہے تو سب سے پہلا حق بلوچوں کا ہے۔نہیں مل رہا تو غلطی ہوئی،اسلام آباد کے ذمے ازالہ ضروری ہے۔گوادر پورٹ بلوچستان میں بنی،دنیا کے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کرنے والے منصوبے سی پیک پر سب سے زیادہ حق بلوچستان کا ہے۔ہم ان مسئلوں پر خاموش نہیں رہیں گے ۔ ہم تھر پارکر میں گئے وہاں کنویں کھودے،لوگ آباد ہوئے،ہم بلوچستان کی بھی خدمت کریں گے۔ آسیہ اندرابی کے آنسو،حریت رہنما،کشمیری بچے،خواتین کے آنسو ہمارے لئے دباؤ ہیں کہ ہم ان کی عملی مدد کریں،دشمن کو دشمن سمجھا جائے،کشمیر ی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسلام کے رشتے سے پاکستان کشمیر و عالم اسلام سے تعلق کا اظہار کر رہا ہے۔مغرب نے مسلمانوں کے وسائل قبضے میں لئے اورمسلمانوں کو غلامی میں جکڑا ،ان کے باطل نظام ہمارے ملکوں ،معاشروں میں چلے اب یہ دور ختم ہو رہا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے طعنے دیئے جا رہے ہیں اور ہم پرپابندیوں کے پروگرام بنائے جا رہے ہیں۔یہ سلسلہ اب نہیں چلے گا ،جس کے دروازے آسمان سے کھلے ہوں ان کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔اسلامی ممالک کا اتحاد بن رہا ہے اور اس کے بنانے میں پاکستان کا بھی کردار ہے،جنرل (ر)راحیل شریف اگر اس کا سربراہ بن رہے ہیں تومروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں؟یہ قافلہ اب رکنے والا نہیں چلتا رہے گا۔‘‘تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین عبداﷲ گل نے کہا کہ’’ سال کا پہلا تحفہ جنرل حمید گل کی تصاویر سری نگر میں آویزاں ہوناہے جس سے بھارت کو شدید تکلیف ہوئی،تحریک جوانان پاکستان نہ صرف پاکستانیوں بلکہ کشمیریوں کے دلوں میں بھی ہے۔میرے والد جنرل حمید گلؒ بھی مجاہد اسلام تھے اور حافظ محمد سعید بھی مجاہد اسلام ہیں۔ پاکستان کا ہر جوان حرمین کی حفاظت کا دم بھرتا ہے۔عرب ممالک کے ساتھ لڑا کر دوریاں پیدا کرنے کی سازشیں کرنے والوں کو جانتے ہیں۔‘‘عبداﷲ گل نے جماعۃ الدعوۃ کے سائبرٹیم کے کام کوسراہتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر آپ کا کام دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے ۔ ہدیۃ الھادی پاکستان کے چیئرمین پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ ’’نبی کریم ﷺ کو اﷲ نے رحمت بنا کر بھیجا ،طائف کے میدان میں پتھر کھا کر بھی دعائیں کرتے رہے۔جب جہاد کا اعلان ہوا تو ہمیشہ ان کی چھاتیوں نے سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمان کمزور ہو چکا ہے،معاہدوں کی بات کی جاتی ہے،ہم نے یو این،شملہ معاہدہ کیا،اوفا میں کشمیر کی بات کی ۔معاہد ہ شکنی کا مرتکب بھارت ہوا ہے ،پاکستان نہیں۔‘‘

کشمیر کانفرنس میں سید ضیا ء اﷲ شاہ بخاری،عبداﷲ گل’’چیئرمین تحریک جوانان پاکستان‘‘،پیر سید ہارون علی گیلانی’’گدی نشین حضرت میاں میر لاہور‘‘،مولانا عبدالعزیز علوی ، قاری یعقوب شیخ ،مولانا سیف اﷲ خالد،ڈاکٹر عبدالغفور راشد،سردار ظفر حسین،مولانا محمد یوسف انور،ڈاکٹر طفیل محمد،متحدہ علماء پاکستان کے چیئرمین مولانا محمد ضیا مدنی،مولاناعبدالستار نورانی،پیپلز پارٹی فیصل آباد کے رہنما ملک محمد سعید ساجد،جمعیت اہلحدیث پنجاب کے امیر مولانا سلیم الرحمان،مولانا محمد یونس خلیل،مولانا عبدالرزاق،قاری حنیف بھٹی،مولانا عبدالصمد مظفر،قاری جاوید اختر صدیقی،حافظ فیاض احمد’’مسؤل جماعۃ الدعوۃ فیصل آباد‘‘ سمیت دیگراہم مذہبی وسیاسی شخصیات نے شرکت کی ۔کانفرنس کا مکمل انتظام جماعۃ الدعوۃ فیصل آباد کے پاس تھا، جس نے تمام انتظامات کو بہترین طریقے سے سر انجام دیاتھا ۔ جماعۃ الدعوہ کی اپنی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ پولیس کے جوان بھی تعینات تھے ۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی ایمبولینسیں اور طبی عملہ بھی گراؤنڈ میں سارا وقت موجود رہا۔نماز جمعہ کے وقت جگہ کی کمی کے باعث باہر مین روڈ پر بھی نماز اداکی گئی ۔جماعۃ الدعوہ کی سائبر ٹیم کشمیر کانفرنس کی کارروائی کو سوشل میڈیاکے ٹولز پر اپ ڈیٹ کرتی رہی ۔پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی بھرپور نمائندگی دیکھنے کو ملی جس کی وجہ سے دلی خوشی ہوئی کہ ہم قومی ایشوز پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں اور باقاعدہ اس کی روایت ڈالی جاچکی ہے ۔سٹیج پر تمام مکاتب فکر کی موجودگی سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ ملک پاکستان کے علماء کرام بھارتی سازش کو ناکام بناچکے ہیں اور فرقہ واریت کی آڑ میں جو گھناؤنا کھیل بھارت کھیلنا چاہتا تھا اسے کشمیر کانفرنسز کی شکل میں مکمل طور پر الٹ چکے ہیں ۔علماء کرام کی کثیرتعدادمیں سٹیج وپنڈال میں موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دینی طبقہ مساجدومدارس کے ساتھ ساتھ اب ملکی حالات وواقعات اور پروپیگنڈہ وار پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے حل کے لئے جہد مسلسل پرکاربندنظر آرہاہے،یہ بات ہمارے لئے خوش آئند ہے۔اس طرح کی کانفرنسز جن میں مذہبی رواداری دیکھنے کو ملے اور ملکی وعالمی حالات زیربحث آئیں وقت کی اہم ضرورت ہے ۔بلوچستان میں بھارتی سازشی عناصر اپنے پاؤں جمانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ، پاکستانی سیاسی قیادت کو اس بات کو محسوس کرتے ہوئے بلوچستان کے مسائل کو جلد سے جلد حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا ۔بلوچی سردار نواب شاہ زین بگٹی کی پنجاب میں آمد، مانچسٹر آف پاکستان کے دھوبی گھاٹ میں جلسہ عام سے خطاب اور اس میں بھارتی حکمرانوں کو للکارنا ظاہر کرتا ہے کہ بلوچی پاکستان کے ساتھ کس حد تک مخلص ہیں ۔امیر جماعۃ الدعوہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی جانب سے سال 2017ء کو کشمیریوں کی آزادی کے نام کرنا نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے ۔جس کا کشمیری قیادت کی طرف سے خیر مقدم بھی کیا جارہا ہے ۔حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کے چیئرمین سید علی گیلانی ،فریڈم پارٹی جموں کشمیر کے سربراہ شبیر احمد شاہ ،دختران ملت کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی ، مسلم دینی محاذ کے سربراہ ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، مسلم لیگ مقبوضہ کشمیر کے مرکزی رہنما فیروزاحمد خان،مسلم خواتین مرکز جموں کشمیر کی چیئرمین یاسمین راجہ ،کنوئنیر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمافاروق احمد رحمانی، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین عبدالعزیز علوی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما ظہور بٹ، جموں کشمیر مسلم لیگ کے رہنما اشتیاق احمد حمیداورپیپلز لیگ جموں کشمیر کے رہنماشیخ محمد یعقوب نے امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید کی جانب سے سال 2017کو کشمیر کے نام کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ’’ پاکستان میں عوامی بیداری اور حکومتوں کو احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے یہ پہلا عملی قدم ہے، وہ کشمیریوں کے دل کی آواز بنے ان کا یہ اعلان قابل تحسین ہے۔‘‘فیصل آباد میں بلوچی سردار کی آمد اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ 50ہزار بلوچی نوجوانو ں کی تیاری سے بھارت جیسے مکار دشمن کی صفوں میں شدیداضطراب پیداہوچکا ہے ،جس کا احوال پھر کبھی !
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Atiq Ur Rhman

Read More Articles by Muhammad Atiq Ur Rhman: 72 Articles with 35411 views »
Master in Islamic Studies... View More
19 Jan, 2017 Views: 227

Comments

آپ کی رائے