مسلم دنیا کا نیٹو اتحاد،جنرل راحیل شریف کی کمان

(Ali Imran Shaheen, )
کوئی ایک سال قبل دسمبر 2015ء میں مسلم دنیا کے مرکز و محور سعودی عرب میں تشکیل پانے والے ’’دہشت گردی مخالف مسلم عسکری اتحاد ‘‘میں توسیع اور تنظیم اب بھی جاری ہے جسے اب ممتاز برطانوی اخبار گارجین نے مسلم دنیاکا نیٹو اتحادقرار دیا ہے۔ ابتداً اس اتحاد میں 34مسلم ممالک شامل تھے لیکن بعد میں 5مزید ممالک کی شمولیت سے یہ اتحاد 39 رکنی اور پھر عمان کی شمولیت سے40رکنی ہو گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے سابق سپاہ سالار جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی سعودی عرب نے اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس اتحاد کا سربراہ انہیں ہی مقرر کیا جائے گا، سو سعودی عرب کہ جس کے پاس اتحاد کی کمان ہے اور جس کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان اس اتحاد کے سربراہ ہیں، نے جنرل (ر) راحیل شریف کو پاک فوج سے سبکدوشی اختیار کرتے ہی انتہائی عزت و تکریم سے اپنے ہاں مدعو کیا اور پھر اس اتحاد کی کمان انہیں سونپ دی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ حکومت پاکستان اور عوام پاکستان دونوں کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انہیں مسلم دنیا کے اتنے بڑے اتحاد کی یوں رہبری و رہنمائی کا موقع ملا ہے۔ اس عسکری اتحاد کی تشکیل کے وقت ہی اس فیصلے کا اعلان کیا گیا تھا کہ یہ اتحاد مسلم دنیا کو عالمی دہشت گردی سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے بنایا گیا ہے اس لئے اس کا نام بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا۔ اس وقت کچھ لوگوں نے یہ بات کی تھی کہ آخر اس اتحاد میں ایران، عراق اور شام شامل کیوں نہیں؟ یہی بات اب بھی کچھ حلقوں کی جانب سے آتی ہے جنہیں حیران کن طور پر شاید اس بات کا علم ہی نہیں کہ جن مقاصد و اہداف کو سامنے رکھ کر یہ اتحاد تشکیل دیا گیا ہے، مذکورہ تینوں ممالک اس کھاتے میں کسی طرح نہیں آتے۔ یہ اتحاد چونکہ دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے اور ایران وہ ملک ہے جسے کسی قسم کی دہشت گردی سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہاں عرصہ دراز سے کبھی کوئی معمولی دہشت گردی کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا، حتیٰ کہ داعش جیسی تنظیم نے بھی ایران میں کبھی کوئی کارروائی نہیں کی، اور تو اور وہ کرد باغی جو اس وقت امریکی شہہ اور مدد سے ترکی جیسے عظیم مسلم ملک میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات بپا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی ایران میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کا مطلوبہ کردستان صرف ترکی ہی نہیں عراق، شام، آذربائیجان کے ساتھ ایران کے اندر بھی موجود ہے، وہ باقی ممالک میں تو عسکری اور تخریبی کارروائیاں انجام دیتے ہیں لیکن ایران مکمل محفوظ ہے سو اس اتحاد میں ایران ہو نہ ہو فرق بھی نہیں پڑنے والا اور نہ ایران کو اس کی ضرورت دکھائی دیتی ہے۔ دوسری طرف شام و عراق کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ملک و عوام کا جو حشر نشر کیا ہے، وہ اب تو کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ بشار الاسد کی حکومت مکمل خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی کہ ایران کے ساتھ روس نے بہت بڑے پیمانے پر مداخلت اور گولہ باری کر کے اسے بچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس دن روس نے بشار الاسد سے ہاتھ کھینچا، اس کی حکومت اس کے بعد شاید ایک دن بھی قائم نہ رہ سکے۔ شام کا سارا ملک مکمل کھنڈر بن چکا ہے۔ سوا 2کروڑ کے لگ بھگ آبادی رکھنے والے اس ملک کے 10لاکھ لوگ 5سال میں قتل، 20لاکھ زخمی، سوا کروڑ سے زائد بے گھر اور 50لاکھ سے زائد ملک سے ہی فرار ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت دمشق کے محدود سے علاقے کے علاوہ ملک کا کوئی حصہ سلامت اور محفوظ نہیں۔ معمولی بستیاں اور دور دراز کے گاؤں بھی ملیامیٹ ہو چکے ہیں اور بشار الاسد کی اپنی فوج اور فوجی قوت کب کی سرے سے ختم ہو چکی ہے۔ ملک کے 100فیصد نہیں تو 95فیصد عوام بشار الاسد سے اب بھی نجات کے لئے سرگرداں اور دست بدعا ہیں۔ ایسی ہی صورت حال عراق کی ہے جہاں کی حکومت امریکی اور یورپی طاقتوں کی مد دسے اپنے مخالف طبقات کو بڑے پیمانے پر کچل رہی ہے۔ عراق کا بڑا حصہ بھی کھنڈر بنا ہوا ہے اور عراق کی بغداد پر قابض حکومت نے اپنے ہی عوام پر ظلم و ستم کی جو انتہا کر رکھی ہے وہ بھی تاریخ عالم کا ایک دردناک باب ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہے اور باقی اپنی حکومت کی مخالف اور اس سے نالاں ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد و چھتر چھایہ کی وجہ سے کمزور عوام کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ مسلم دنیا کے اس فوجی اتحاد سے مسلمانوں کے دشمنوں میں شدید بے چینی اور اضطراب ہے اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ عالم اسلام نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا کوئی اقدام اٹھایا ہے جس سے ان کے مذموم مقاصد کی راہ میں کوئی رکاوٹ اور مسلمانوں کی بقا و نجات کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ امریکہ، یورپ اور سارا مغرب جس فساد کو آج بھی ’’بہار عرب‘‘ کا نام دیتا ہے اس نے مسلم دنیا کے کتنے ملکوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ شام اور یمن امریکہ و مغرب کی اس بہار عرب کے نام پر لگائی آگ میں مسلسل جل کر بھسم ہو رہے ہیں۔ ان طاقتوں کی کوشش یہ تھی کہ اس اندھے فساد کو اب سعودی عرب، خلیجی ملکوں اور دیگر مسلم دنیا تک پھیلا دیا جائے۔ پاکستان تو بہت پہلے سے ہی ان کے نشانے پر تھا۔ مسلم دنیا کے اس دہشت گردی مخالفت اتحاد سے یہ فضا بن رہی ہے کہ یہ فساد اب مزید نہیں پھیلے گا۔ پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے یہ عظیم اعزاز عطا کیا ہے کہ اس نے امریکی دہشت گردی اور امریکہ کی شہ اور ہلہ شیری پر پاکستان کو دن رات ختم کرنے کے لئے سرگرم بھارت کی ہر سازش کو نامراد کر دیا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے عرصہ قیادت میں جس سختی سے دہشت گرد طاقتوں کا قلع قمع کیا، کراچی کو پھر سے امن کی راہ دکھائی، بلوچستان کے حالات میں سدھار لایا۔ فاٹا میں دہشت گردی کے اڈوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیشہ بات کی اور اسے ’’سیدھا‘‘ کئے رکھا، اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ان کی یہ تزویراتی صلاحیت اور تجربات اب پاکستان کے بعد مسلم دنیا کے دفاع و رہنمائی کے کام آئیں گے۔ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی فلاح و بہبود اور دفاع کے بڑے بڑے کام لئے ہیں جس کا سارا عالم معترف ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک دنیا میں سب سے زیادہ مسلم مہاجرین کی میزبانی و خدمت کی اور اب اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو سارے عالم اسلام کی نگہبانی و حفاظت کے لئے میدان میں اتارا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ساری مسلم دنیا اپنی صلاحیت سمجھتی ہے۔ پاکستان کی فوجی و عسکری قوت کو مسلم دنیا اپنی قوت سمجھتی ہے۔ اگر یورپ، یورپین یونین، نیٹو اور باقی دنیا کے ساتھ نان نیٹو اتحاد بنا کر اپنے دفاع اور اپنی ترقی کو بام عروج تک پہنچا سکتے ہیں تو مسلم دنیا کو اﷲ تعالیٰ نے یہ جو عظیم موقع عطا کیا ہے اسے کسی صورت کھونا نہیں چاہئے۔ اگر یہ اتحاد مزید منظم ہوتا اور نئی جہتیں تلاش کر کے آگے بڑھتا ہے تو کشمیر،فلسطین، برما سمیت مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لئے یہاں سے راہیں بآسانی نکل سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے چند ہفتے پہلے سعودی اتحاد کو یمن میں کارروائی پر بلیک لسٹ کر ڈالا تھا لیکن سعودی عرب کے ایک ہی ردعمل نے یہ منظر دکھایا کہ اگلے ہی لمحے نام بلیک لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آ چکا تھا۔ وگرنہ اقوام متحدہ کی شیطانی حرکات سے کون واقف نہیں کہ وہ کیا کرتی رہی ہے، اگر ایک سعودی عرب کے سامنے اقوام متحدہ یوں سیدھی ہو سکتی ہے تو مسلم دنیا کے مضبوط و منظم اتحاد سے بات کیا بہت آگے نہیں پہنچے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Imran Shaheen

Read More Articles by Ali Imran Shaheen: 189 Articles with 81777 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jan, 2017 Views: 529

Comments

آپ کی رائے