’’ابابیل‘‘کی پرواز

(Muhammad Amjad, )
حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی پیدائش سے پچاس روز قبل کا واقعہ ہے۔ ابرہہ یمن کا گورنر تھا۔ اس نے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عالی شان گرجا گھر تعمیر کرایا۔ وہ چاہتا تھا کہ عرب کے لوگ خانہ کعبہ کی بجائے اسے اپنی عبادت کا مرکز بنائیں۔ جب اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو اس نے نعوذ باﷲ خانہ کعبہ کو تباہ کرنے کی ٹھان لی اور اپنے لشکر کو حملے کا حکم دے دیا۔ اس کی فوج میں پیادہ دستوں کے علاوہ دیوقامت ہاتھی بھی شامل تھے۔ ان پر سوار سپاہی مکمل طور پر آہنی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ ان سپاہیوں نے اپنے سروں کو بھاری دھات کے بنے خود سے ڈھانپ رکھا تھا۔ جونہی ابرہہ کی فوج حملے کے لیے آگے بڑھی۔ اﷲ تعالیٰ نے ننھی ننھی ابابیلوں کا ایک لشکر بھیج دیا جو طاقت کے نشے سے چور فوج کے اوپر پرواز کرنے لگیں۔ ہر ابابیل کے پاس تین کنکریاں تھیں، دو پنجوں میں اور ایک چونچ میں۔ انہوں نے ابرہہ کی فوج پر اس زور کی سنگ باری کی کہ وہ بدحواس ہو کر بھاگنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی کنکریاں جب گرتیں تو ان میں اﷲ تعالی کی ذات اس قدر طاقت اور قوت بھر دیتی کہ پل بھر میں سوار کو ہاتھی سمیت نیست و نابود کردیتی۔ یہ فوجیوں کے فولادی خود کو توڑ کر ان کے جسم کو چیر کرہاتھی کے بدن میں چھید کرتے ہوئے باہر نکل آتیں۔ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جو اس کنکری سے ہلاک کیا گیا۔ اس طرح ابرہہ کا پورا لشکر جاہ و جلال، طاقت اور غرور سمیت ہلاک و برباد ہو گیا اور خانہ کعبہ محفوظ رہ گیا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن پاک کی سورہ فیل میں کیا گیا ہے۔ اس طرح ابابیل طاقت کے نشے اورغرور کو خاک میں ملانے، پہاڑ کو ذرے سے تباہ کرنے اور دشمن کے خلاف اﷲ تعالی کی غیبی مدد اور طاقتور کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرنے کے اظہار کی علامت بن گئی۔

گزشتہ روز پاکستان نے بھی ایٹمی میزائل ابابیل کا تجربہ کرکے بھارتی تکبراور غرور کوایک مرتبہ پھر خاک میں ملا دیا ہے۔ ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے اور یہ بھی پاکستان کے لئے اﷲ کی نصرت کی علامت بن کر بھارت کی طاقت کے زعم کو اس کے اسلحے سمیت نیست و نابود کرنے کی بھرپور صلاحیتوں سے لیس ہے۔ اس میں ’’ملٹی پل، انڈی پنڈنٹ، ری انٹری وہیکل‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس پر نصب متعدد وار ہیڈز ایک مقررہ فاصلے پر پہنچنے کے بعد خود کار طریقہ سے، ایک یا ایک سے زائد اہداف کو خود نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یعنی ابابیل کی طرح اس میزائل کے پنجوں اور چونچ میں بھی کئی ایٹمی ہتھیار سما سکتے ہیں جو بیک وقت داغ کر دشمن کے ایک سے زائدبڑے بڑے سیاہ و سفید ہاتھیوں کو تباہ و برباد کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اس طرح ابابیل نے اینٹی میزائل سسٹم رکھنے کے بھارتی زعم کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔ اینٹی میزائل سسٹم ایک وارہیڈ لے جانے والے میزائل کو تو روک سکتا ہے تاہم ابابیل جیسے میزائل سے داغے گئے متعدد وار ہیڈز کو روکنا ناممکن سمجھا جاتا ہے ۔

بھارت کی جانب سے میزائل شکن نظام ’’ ایس۔ 300‘‘ کے حصول اور اسرائیل کے اشتراک سے میزائل شکن نظام ’’باراک‘‘ کی تیاری کے آغاز کے پیش نظر ابابیل میزائل کی تیاری پاکستان کے لیے از حد ضروری تھی۔ بھارت نے دو حفاظتی حصاروں پر مشتمل ایسے میزائل شکن نظام کے تجربات بھی شروع کئے تھے جن میں پرتھوی اور ایڈوانس ائرڈیفنس کے ’’ایشون‘‘ نامی میزائل استعمال کئے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت نے کارگل کی جنگ کے بعد بیلسٹک میزائل کے شعبے میں سرمایہ کاری شروع کر دی تھی تاہم اس کے ماہرین خبردار کرتے رہے کہ میزائل ڈیفنس ایک دھوکہ ہے۔ دنیا کا بہترین میزائل ڈنفنس ضمانت نہیں دے سکتا ہے کہ دشمن کے ایٹمی وارہیڈ کے حامل میزائل کو روک لیا جائے گا لیکن بھارت نے بہرحال اس نظام کی تیاری جاری رکھی۔ ماہرین کے مطابق میزائل شکن نظام تحفظ کا غلط تاثر دیتا ہے جو اس اعتبار سے نہایت خطرناک ہے کہ بھارت جیسے ملک میزائل شکن نظام پر بھروسہ کر کے دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کا میزائل شکن نظام خطہ میں سٹرٹیجک توازن کو بگاڑ رہا ہے تاہم بیلسٹک میزائل ابابیل کے کامیاب تجربہ نے اس عدم توازن کو درست کر دیا ہے۔

ابابیل کے کامیاب تجربہ کے ذریعہ پاکستان نے ایک بار پھر میزائل ٹیکنالوجی میں بھارت پر برتری ثابت کرتے ہوئے اس کے میزائل شکن نظام کوہی ناکارہ نہیں بنایا بلکہ اپنی سیکنڈ سٹرائیک صلاحیت کو بھی مستحکم کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کامیاب آزمائش کے بعد پاکستانی قوم مطمئن جبکہ بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا پر ایک شور برپا ہے۔ وہ اس میزائل کی صلاحیتوں اور طاقت کو اس انداز سے پیش کررہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں اور افواج کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ بھارت نے ہی شروع کی تھی۔ وہ عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف اسلحے اور گولہ بارود کے انبار لگا رہا ہے۔ اس نے ایٹمی دھماکوں میں بھی پہل کی تھی اور ایک ایسا جارحانہ رویہ اپنایا تھا کہ پاکستان کو بھی جوابی ایٹمی دھماکے کرنے پڑے جس سے خطے میں ایک ایسا دفاعی توازن پیدا ہوا ہے کہ جس نے بھارتی جارحیت کے طوفان کو مستقل طور پر روک رکھا ہے۔ تاہم بھارت پاکستان کو دہشت گردوں کی پشت پناہی، بلوچستان میں تخریب کاری اور مختلف ریشہ دوانیوں کے ذریعے کمزور کررہا ہے۔ اسی طرح مختلف ہتھکنڈوں اور الزام تراشیوں کے ذریعے عالمی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ یقینا جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے بادلوں کے چھائے رہنے کی بڑی وجہ ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے ایٹمی و میزائل تجربات اس کے بقا اور خطے میں دفاعی توازن کی پالیسی کے عکاس ہیں۔بھارت کے اگنی۔ 4 بیلسٹک میزائل کے جواب میں پاکستان نے ’’ابابیل‘‘ پرواز کے ذریعے بھارت کو جواب دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع سے غافل نہیں اوراپنی سلامتی اور آزادی کے تحفظ کیلئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر طاقت کے زعم میں مبتلا ہو کرکبھی اس نے کسی مہم جوئی کی کوشش کی تواسے معلوم ہونا چاہئے کہ ’’ابابیل‘‘ کے وارہیڈز پر اسی کا نام درج ہے جو پل بھر میں اسے ابرہہ کی فوج اور اس کے ہاتھیوں جیسے انجام سے دوچار کرسکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 44117 views »
Columnist/Journalist.. View More
27 Jan, 2017 Views: 1020

Comments

آپ کی رائے