دیگچہ تہی دامن تھا لوکانہ

(مقصود حسنی, قصور)
بہت پہلے کی ناسہی لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ یہ بات پہلے کی ہے۔ اب کہ دو نمبری کے لیے اتنی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی۔ دو نمبری کا سامان سامی خود اپنے ہاتھ سے فراہم کرتی ہے۔ ہاں یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ دو نمبری کے لیے دو نمبر کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہ چھین لینے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ ہتھیار آکڑ خان کے لیے اٹھانا پڑتا ہے ورنہ قدرے شریف کو آنکھیں دیکھا کر اس کی گرہ صاف کر لی جاتی ہے۔ اسی طرح قدرے شریف‘ شریف سے اونچی یا گلا پھاڑ آواز سے کام لے کر اس کی گرہ خالی کرنے کا ڈھنگ خوب خوب جانتا ہے۔

اس روز ان چاروں کو کافی مشقت سے کام لینا پڑا تب جا کر ڈوموں کی مرغی ہاتھ لگی۔ مرغی پلی پلائی نفیس اور بڑی ںخرے والی تھی۔ جھانسہ دینے میں بھی بڑی طاق تھی۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے جانے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ وہ بھی ہٹ کے پکے تھے۔ ان کا روز کا کام تھا کیسے بچ کر نکل جاتی۔ ساتھ کے گاؤں کے مولوی صاحب سے تکبیر پڑھائی اور اسے ڈکرے ڈکرے کرکے دیگچے کے حوالے کر دیا۔ پکنے کے بعد حسب معاہدہ چوتھائی مولوی صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کر دیا۔ یہ ان کا یقینا بہت بڑا احسان تھا وہ حرام کو حلال میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے آ رہے تھے تاہم حلال کو حرام قرار دینا بھی ان کے لیے قطعا دشوار نہ تھا۔

کھانے لگے تو انہیں ایک انوکھا طور سوجھا۔ ان میں سے ایک کہنے لگا۔ اس پکوان کو کل صبح وہ کھائے جو سب سے اچھا اور بڑھیا خواب دیکھے۔ یہ تجویز سب کو بھائی۔ پھر وہ آرام اور سکون کی نیند سو گئے۔

اگلی صبح اٹھے اور اپنا اپنا خواب سنانے لگے۔
ایک نے اپنا خواب سنایا کہ وہ ساری رات پیرس کے بازاروں میں پھرا اور خوب خریداری کی۔ پیرس کی نخریلی چھوریوں کے ساتھ آنکھ مٹکا کرتا رہا۔ ایک دو تو اس کی بانہوں میں بھی رہیں۔
سب نے واہ واہ کی اور اس کے خواب کی اچھی خاصی داد دی۔

دوسرے نے خواب سنایا کہ اسے خواب میں امریکی صدر کی جانب سے امریکہ آنے کی دعوت ملی۔ وہ خوشی خوشی ہوائی جہاز پر بیٹھ کر امریکہ گیا۔ امریکی صدر اور اس کے اعلی عہدےدار ہوائی اڈے پر اس کا استقبال کرنے آئے۔ اس کے بعد وہ امریکی صدر کے ساتھ بھاری پہرے میں امریکہ کی سیر کرتا رہا۔ ایک دو جگہ پر اسے خطاب کرنے کا موقع بھی ملا۔

خواب کے اچھا نہیں‘ بہت اچھا ہونے میں رائی بھر شک نہ تھا۔ زمینی خدا کے ساتھ ہونا اور پھر اتنی عزت ملنا کوئی عام بات نہ تھی۔

اب تیسرے کی باری تھی۔ اس نے کہا خواب میں آسمانی گھوڑا اسے آسمانوں کی سیر کرانے کے لیے آ گیا۔ اس نے دل بھر کر چاند ستاروں کی سیر کی۔ حوریں اور فرشتے قطار در قطار اس کے ساتھ رہے۔ پھر اس نے جنت کی سیر کی۔ بڑے بڑے بزرگوں سے بھی ملاقات ہوئی۔
یہ خواب پہلے دونوں کو کٹ کر رہا تھا۔ پکوان پر اسی کا حق ٹھہرتا تھا۔

چوتھے نے کہا یار رات کو میرے ساتھ بڑا دھرو ہو گیا۔ سب پریشان ہو گئے اور یک زبان ہو کر بولے کیوں کیا ہوا۔ بولا یار ہونا کیا تھا میں گہری نیند سو رہا تھا کہ ایک حبشی جس کے ہاتھ میں تیز دھار تلوار تھی۔ اس نے مجھے زور سے جھنجھوڑا۔ میں ڈر کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے تلوار دیکھاتے ہوئے کہا: یہ تمہارے دوست ہیں تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر موج مستی کر رہے ہیں۔ چل اٹھ اور تو مرغی کھا کر دیگچہ خالی کر۔ میں نے جب پس وپیش کی تو اس نے مجھے تلوار دیکھاتے ہوئے کہا اگر نہیں کھائے گا تو تمہارا سر اڑا دوں گا۔ زور دبردستی کے سامنے کب کسی کی چلی ہے‘ مجبورا مجھے سارا دیگچہ خالی کرنا پڑا۔ یقین مانیں پریشانی اور بدہضمی کے سبب اس کے بعد مجھے نیند نہ آ سکی۔

تینوں جلدی سے دیگچے کی جانب بڑے‘ دیکھا دیگچہ اپنی تہی دامنی پر خون کے آنسو بہا رہا تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 116361 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jan, 2017 Views: 486

Comments

آپ کی رائے